ممبران کی بورڈ

مولانا محمد خالد ندوی غازی پوری

مولانا محمد خالد ندوی غازیپوری’ غازیپور کے ایک صدیقی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنا خاندانی انتساب سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف کرتا ہے۔ مدرسہ عربیہ ، ہتھورا، باندہ میں حفظ کی تعلیم حضرت مولانا قاری صدیق احمد باندوی کی سر پرستی میں حاصل کی، اور عالمیت کی تعلیم دار العلوم، ندوۃ العلماء مکمل کرکے فقہ میں دار العلوم سے ہی تخصص کیا اور حدیث شریف سے شغف رکھا، جس میں ان کے استاد مولانا عبد الستار اعظمی مرحوم تھے۔


تدریسی زندگی کا آغاز جامعہ اسلامیہ ، بھٹکل، کرناٹک سے کیا، جہاں حدیث کی اونچی کتابیں ترمذی شریف اور بخاری شریف بھی پڑھائیں، پھر کچھ وقت کے لئے جامعۃ الہدایت، جے پور اس کے بانی حضر ت مولانا شاہ عبد الرحیم مجددی جے پوری کی دعوت پر تشریف لے گئے، وہاں سے دار العلوم، ندوۃ العلماء بلائے گئےجہاںحدیث کے استاد کی حیثیت سے ان کے ذمہ ترمذی شریف، مسلم شریف اور پھر بعد میں بخاری شریف کے اسباق ان کے ذمہ کئے گئے۔ اس وقت سے مولانا اپنی اعلی صلاحیتوں کے ذریعہ ایک معروف عالمِ دین کی حیثیت سے ندوۃ العلماء کی ملک و بیرونِ ملک میں ترجمانی کر رہے ہیں۔‘‘ تعمیرِ حیات’’ سے ان کی وابستگی’ ندوۃ العلماء میں تدریسی وابستگی کے ساتھ رہی، وہ اس کے قدیم رکنِ مشاورت ہیں۔


محمد اصطفاءالحسن کاندھلوی ندوی

موصوف ۱۸؍اپریل ۱۹۷۵ء کو پیداہوئے، علی گڑھ ، دہلی اور کاندھلہ میں تربیت پائی اور حفظ قرآن کی تعلیم حاصل کی۔ نظام الدین ، دہلی میں فارسی اور عربی درجات کی تعلیم کے بعدموقوف علیہ کا سال مدرسہ اسلامیہ، علی گڑھ میں گذارا۔ اس کے بعد دار العلوم ندوۃ العلماء میں داخلہ لیا اور عالمیت مکمل کرکے مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ سے شعبۂ عربی میں ایم اے کیا۔ پھر کچھ عرصہ سعودی عرب میں تدریسی مشغولیت اختیار کرنے کے بعد ۲۰۰۵ء سے ندوۃ العلماء سے منسلک ہوئے؛ دو سال عربی پندرہ روزہ رسالہ ‘‘الرائد’’ سے وابستگی کے بعدتدریسی خدمت پر مامور ہوئے۔ ۲۰۱۶ء میں تعمیرِ حیات کی مجلسِ مشاورت کے رکن نامزد کئے جانے کے ساتھ ساتھ تحریکِ پیامِ انسانیت کے علاقائی مسؤول بھی بنائے گئے۔