شانِ رحمت و مغفرت
اگست 18, 2025قرآن اور صاحب ِقرآنؐ
اگست 25, 2025فہمِ قرآن
حضرت مولانا سید بلال عبدالحی حسنی ندوی
اللہ نے یہ کلام جو نازل فرمایا‘ یہ دین وشریعت کی بنیاد اور اصل اول ہے، اس سے ہٹ کر آدمی دین کا تصور نہیں کرسکتا، لیکن اس کے ساتھ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اللہ نے اس کلام کے اصل فہم کو اپنے نبی ﷺ پر کھولا ہے اور اس کا بھی ذکر قرآن مجید میں درجنوں جگہ ہے، ارشاد ہے:
{وَأَنزَلْنَا إِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَیْہِمْ وَلَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُونَ}(النحل: ۴۴)
(اور ہم نے (کتاب) نصیحت آپ پر اس لیے اتاری تاکہ آپ لوگوں کے لیے ان چیزوں کو کھول دیں جو ان کی طرف اتاری گئی ہیں اور شاید وہ غور کریں۔)
آپ ﷺکا کام تلاوتِ آیات ہے، یہ آپ ﷺ کا منصب ِجلیل اور منصب ِنبوت بھی، ارشاد الٰہی ہے:
{ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِیْ الْأُمِّیِّیْنَ رَسُولاً مِّنْہُمْ یَتْلُو عَلَیْہِمْ آیَاتِہِ}(الجمعۃ: ۲)
(وہی ذات ہے جس نے اَن پڑھ لوگوں میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے۔)
لیکن تلاوتِ آیات کے ساتھ آپ ﷺکا یہ بھی مقام ہے کہ آپ ﷺمُبیِّن قرآن ہیں:
{وَأَنزَلْنَا إِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَیْہِمْ}
(اور ہم نے (کتاب) نصیحت آپ پر اس لیے اتاری تاکہ آپ لوگوں کے لیے ان چیزوں کو کھول دیں جو ان کی طرف اتاری گئی ہیں۔)
آپ مفسر قرآن ہیں، آپ شارح قرآن ہیں اور آپ عامل بالقرآن ہیں، جس طرح آنحضرت ﷺنے قرآن مجید کی تشریح فرمائی‘ وہی تشریح معتبر ہے، اگر کوئی شخص اس سے ہٹ کر اپنی طرف سے نئی بات پیش کرتا ہے تو گمراہی ہے۔ اگر وہ اپنی بات قرآن مجید سے نکالتا ہے اور اس سے استنباط کرتا ہے، لیکن اس کا وہ عمل موافق سنت نہیں ہے اور اللہ ک نبی ﷺ کے بتائے ہوئے فہم کے مطابق نہیں ہے تو یہ گمراہی ہے، قرآن مجید کو ہمیں ویسے ہی سمجھنا ہے جیسے ہمیں اللہ کے نبیﷺ نے سمجھایا ہے، جس طرح صحابہؓ نے آپ ﷺسے سمجھا اور امت کو سمجھایا ہے، پھر جس طرح سلف نے اس کو لیا اور امت تک پہنچایا ہے، یہ ہماری ذمہ داری ہے۔
صحیح روایات میں یہ بات آتی ہے کہ
’’من قال فی القرآن برأیہ فأصاب فقد أخطأ۔‘‘(سنن الترمذی: ۳۲۰۶)
(جس نے قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے کی اور بات درست بھی کہہ دی تو بھی اس نے غلطی کی)
اگر کوئی آدمی قرآن مجید میں اپنی رائے زنی کرتا ہے اور صحیح بات بھی کہتا ہے تو اس کی یہ غلطی ہے کہ اس نے اپنی طرف سے رائے دی۔ وہ تحقیق کرتا، اگر اس کو قرآن مجید کی تشریح کہیں مل جاتی‘ اس کو پیش کرتا تو صحیح تھا۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس بات کا تعلق احکام دین و شریعت سے ہے، وہ آیتیں جن میں ہمیں غور وفکر کا حکم دیا گیا کہ ہم انفس وآفاق میں غور وفکر کریں تاکہ اس کے ذریعہ سے اللہ کی معرفت حاصل ہو، اللہ کی قدرت کی نشانیوں کا ادراک ہو اور پھر آدمی اللہ تک پہنچے، اس کی قدرت تک پہنچے، اس کی خلاقیت کا پوری طرح سے اس کو یقین پیدا ہو، اس کی ہمیں اجازت ہی نہیں بلکہ حکم ہے کہ ہم اپنی عقل کو دوڑائیں اور اس کا استعمال کریں، اللہ کی نشانیوں پر غور وفکر کریں اور قرآن مجید میں جو ایسی آیات ہیں جن میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی قدرت اور اس کی خلاقیت کا ذکر ہے، اس پر غور وفکر کریں تاکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے حق ہونے کا یقین پیدا ہو، قرآن مجید کی آیت ہے:
{سَنُرِیْہِمْ آیَاتِنَا فِیْ الْآفَاقِ وَفِیْ أَنفُسِہِمْ حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ}(فصلت: ۵۳)
(آگے ہم ان کو اطرافِ عالم میں اور خود ان کے اندر اپنی نشانیاں دکھادیں گے یہاں تک کہ یہ بات ان کے سامنے کھل کر آجائے گی کہ یقینا یہی سچ ہے)
آفاق پر غور کرنا اور اپنی ذات پر غور کرنا‘ یہ اللہ کا حکم ہے۔ ہمیں تدبر فی القرآن کا جو حکم دیا گیا ہے، اس میں بھی خاص طور سے جو آیتیں ایسی ہیں جن میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں کا تذکرہ ہے، اگر ہم ان میں غور کریں تو بڑا نفع ہو، اگر پورے قرآن مجید کا جائزہ لیا جائے تو آیتیں بھری ہوئی ہیں، جگہ جگہ فرمایا گیا کہ دیکھو ہم نے کیسی بارش نازل کی اور کس طرح سے سبزہ اگایا اور کس طرح سے ہم نے مردہ زمین کو زندہ کیا۔ اس طرح کی آیات قرآن مجید میں بھری پڑی ہیں، اب ظاہر ہے کہ ان آیتوں پر غور کرنا ہوگا، موجودہ دور کی سائنسی تحقیقات بھی اس کے تابع ہیں، وہ تحقیقات بدلتی رہتی ہیں، لیکن اگر کبھی ان سے مدد لی جاسکے تو اس میں بھی کوئی حرج کی بات نہیں، تاہم اس پر مدار نہیں ہونا چاہیے۔ہمارے بعض قدیم مفسرین نے سائنسی تحقیقات کی روشنی میں قرآن مجید کی تشریح کی، حالانکہ وہ تحقیقات بدل سکتی ہیں اور جب وہ بدلیں گی تو مسئلہ پیدا ہوگا، اس لیے ہمیں اس کو اپنا مدار نہیں بنانا ہے، تاہم بہت سی وہ سائنسی تحقیقات جو روز روشن کی طرح عیاں ہیں‘ ان کو سامنے رکھ کر اگر ہم قرآن مجید پر غور وفکر کریں تو اس سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہے:
{وَالسَّمَاء ذَاتِ الرَّجْعِ٭وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ}(الطارق: ۱۱-۱۲)
(پھر پھر کر آنے والے آسمان کی قسم اور دراڑوں والی زمین کی قسم۔)
’’رجع‘‘ اور ’’صدع‘‘ دو لفظ ہیں، اگر ان پر نئی تحقیق کی روشنی میں غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ آسمان میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے کیسے کیسے راستے رکھے ہیں اور وہاں سے کیسی صدائے بازگشت چلتی ہے؟! نیز زمین میں ’’صدع‘‘ کا عمل کہاں سے ہوتا ہے؟ وہ کیسے پھٹتی ہے اور کب کب پھٹتی ہے؟
اس کے علاوہ بھی بہت سی چیزیں ہیں جو سائنسی تحقیقات سے سامنے آتی ہیں، اگر آدمی اس حیثیت سے بھی غور کرے تو ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن اوپر یہ جو بات کہی گئی کہ جو آدمی قرآن مجید میں اپنی رائے دے وہ غلطی کر رہا ہے، ا س کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کے احکامات میں اگر کوئی اپنی رائے دیتا ہے تو وہ یقینا گمراہی کے راستے پر جائے گا، اگر قرآن مجید کی تشریح ہمارے سامنے سیرت وسنت سے موجود ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے جس کی تشریح فرمائی، جن میں سرخیل حضرت عبد اللہ بن عباسؓ ہیں جن کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کا بڑا ذوق عطا فرمایا تھا اور یہ آپ ﷺکی ایک دعا کا نتیجہ تھا، وہ ایک رات اپنی خالہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مکان میں تھے، آپ نے ان ہی کے گھر پر حضورﷺکی خدمت کی تو آپ بہت خوش ہوئے اور یہ دعا کی کہ
’’اللّٰہم فقہہ فی الدین وعلمہ التأویل۔‘‘
(مسند أحمد: ۲۴۳۹)
(اے اللہ! انہیں دین کی سمجھ اور قرآن کا علم تاویل عطا فرما۔)
اس دعا میں ’’تاویل‘‘ کے لفظ سے خاص طور پر قرآن مجید کا فہم مراد ہے۔ تاویل‘ تشریح اور تفسیر کے الفاظ تقریباً ملتے جلتے ہیں اور محققین نے تو اس میں بڑی موشگافیاں کی ہیں کہ کس کا کیا مطلب ہے؟ یہ ایک علمی مبحث ہے جس میں جانے کی ضرورت نہیں، لیکن یہ بات متعین ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو حضرات صحابہ میں تفسیر قرآن کا خاص ملکہ عطا فرمایا تھا، اسی لیے ان کو ’’ترجمان القرآن‘‘ کہا جاتا ہے۔ حاصل یہ کہ صحابہؓ کے بعد قرن اول کے جو متقدمین ہیں‘ انہوں نے جیسا قرآن مجید کو سمجھا وہ اصل ہے۔
قرآن مجید تنہا ایسی کتاب ہے جو کبھی بھی پکی نہیں بلکہ اللہ نے اس کو ایسا بنایا کہ اس پر ہمیشہ غور وفکر ہوگا اور نئے نئے مضامین سامنے آتے رہیں گے۔قرآن مجید میں غور وفکر کا دروازہ کبھی بند نہیں کیا جاسکتا، لیکن اس فرق کے ساتھ اور اس بات کو اچھی طرح سمجھ کر کہ کچھ Red Lines ہیں، اگر ہم اس میں تجاوز کریں گے تو ہم گمراہ ہوجائیں گے، جیسے اس دور میں بہت سے لوگ کھڑے ہوگئے جو اپنی فہم اور مرضی کے مطابق قرآن مجید کی تشریح کرتے ہیں مثلاً: قرآن مجید میں ’’الصلوٰۃ‘‘ کا لفظ نماز کے لیے آیا ہے، ارشاد ہے:
{إِنَّ الصَّلاَۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتَاباً مَّوْقُوتاً}(النساء: ۱۰۳)(بلاشبہ نماز ایمان والوں پر مقررہ وقتوں کے ساتھ فرض ہے۔)
اس میں یہ تذکرہ ہے کہ اہل ایمان پر نمازیں فرض کی گئی ہیں، اب نماز کیسی ہوگی؟ کس طرح پڑھی جائے گی؟ اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کی رکعتیں کتنی ہیں اور اس کی ترتیب کیا ہے؟ ظاہر ہے قرآن مجید میں یہ تفصیلات نہیں ہیں بلکہ یہ تفصیلات ہمیں حدیث سے معلوم ہوتی ہیں، اللہ کے نبی ﷺنے اس کی وضاحتیں فرمائی ہیں، اب اگر کوئی لفظ ’’صلوٰۃ‘‘ کی اپنی طرف سے تشریح کرے جیسے بہت سے لوگوں نے کی اور کہا ہے کہ ’’صلوٰۃ‘‘ کے معنی دعا کے آتے ہیں، اس لیے باقاعدہ اس طرح نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ ہم کہیں بھی بیٹھ کر کسی بھی طرح اللہ سے مانگ لیں تو کافی ہوجائے گا، ظاہر ہے اگر کوئی شخص یہ بات کہتا ہے تو اسی کا نام گمراہی ہے کہ اس نے وہاں اپنی رائے دی جہاں اللہ کے نبی ﷺ اور حضرات صحابہؓ کی پوری وضاحت موجود ہے اور ہمارے بعد کے ائمہ نے اس کی پوری تفصیلات بیان فرما دی ہیں، ایسی ہی جگہوں کے بارے میں حدیث کے اندر آتا ہے کہ
’’من قال فی القرآن برأیہ فأصاب فقد أخطأ۔‘‘(سنن الترمذی: ۳۲۰۶)
(جس نے قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے کی اور بات درست بھی کہہ دی تو بھی اس نے غلطی کی)
معلوم ہوا ایسی جگہوں پر رائے دینی ہی نہیں چاہیے، جہاں پوری تفصیلات موجود ہیں، تمام شرائع واحکام موجود ہیں، اس کو جس طرح بیان کیا گیا‘ اس کے مطابق ہی ہمیں رکھنا ہے۔