سرگرمیاں

موجودہ دور کے بے چین ذہنوں کو مطمئن کرناعلماء کی سب سے بڑی ذمہ داری
مارچ 20, 2023
موجودہ دور کے بے چین ذہنوں کو مطمئن کرناعلماء کی سب سے بڑی ذمہ داری
مارچ 20, 2023

سرگرمیاں

الشیخ سعید الاعظمی الندوی: حیاتہ و آثارہ مولفہ ڈاکٹر محمد فرمان ندوی کا اجرا
(۲۰؍مئی)ناظم ندوۃ العلماء حضرت مولانا بلال عبدالحی حسنی ندوی کی صدارت میں اس اہم و وقیع کا کتاب کا اجرا عمل میں آیا، حضرت ناظم صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی مدظلہ اگر چاہتے تو دنیا میں کہیں بھی جا سکتے تھے، کیونکہ وہ علمی صلاحیتوں کے مالک تھے لیکن انہوں نے ندوۃ العلماء سے جو پیمان وفا باندھا تھا اس پر آج تک قائم ہیں اور ندوۃ العلماء کی ہمہ جہت ترقی کے لئے ہمیشہ سے سرگرم عمل ہیں ۔
مولانا نے البعث الاسلامی اور تعمیر حیات کے بانی مدیر مولانا محمد الحسنیؒ سے حضرت مہتمم صاحب کی گہری رفاقت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ عالم اسلام کے حالات پر غورکرنے کے لیے ان دونوں حضرات نے ’’اسلامی ورلڈ لیگ (الرابطۃ الدولۃ الاسلامیۃ) کی بنیاد رکھی تھی جو گویا ’’رابطہ عالم اسلامی‘‘ کی خشت اول تھی۔
اس موقع پر مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی کے بیٹے مولانا ڈاکٹر عطاء الرحمن ندوی،پروفیسر سید وسیم اختر (چانسلر انٹگرل یونیورسٹی لکھنو )اورمولانا خالد رشید فرنگی محلی نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔
یہ کتاب ڈاکٹر فرمان ندوی کی ڈاکٹریٹ کا مقالہ ہے جسے مجلس صحافت ونشریات اسلام نے شائع کیا ہے
نظامت کے فرائض مولانا عمیر الصدیق ندوی (مدیر تعمیر حیات) نے انجام دیے۔
حضرت مہتمم صاحب اپنی کمزور صحت کے باوجود پروگرام میں شریک رہے اوراختتامی بھی دعا کرائی ۔

ماہانہ مذاکرۂ علمی کا انعقاد
(۲۸؍مئی)شعبہ اختصاص کے تحت ناظم ندوۃ العلماء کی زیرصدارت ایک مذاکرۂ علمی کا انعقاد ہوا جس میں شعبۂ اخصاص برائے علوم الحدیث کےذمہ دار ڈاکٹر ابوسحبان روح القدس ندوی نے امام نوویؒ کی مشہور کتاب ’’ریاض الصالحین‘‘ پر ’’علمی نقوش وآثار‘‘ کےعنوان سے ایک جامع اور معلومات افزا مقالہ پیش کیا۔
فاضل مقالہ نگار نے ’’ریاض الصالحین‘‘ کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مختلف زبانوں اور مختلف ادوار میں اس کتاب پر مسلسل کام ہوتا رہا ہے، عربی میں ’’کنوز ریاض الصالحین‘‘ کے نام سے۲۲ جلدوں پر مشتمل ایک عظیم الشان کام ، اور اردو میں کم از کم ۱۴ اہل علم نے اس پر تراجم اور شروحات تحریرکیں، جن میں مولانا علی میاںؒ کی ہمشیرہ امۃ اللہ تسنیم صاحبہ کی ’’زاد سفر‘‘ کو خاص پذیرائی ملی۔
حضرت ناظم صاحب نے صدارتی گفتگو میں فرمایا کہ اخلاص نیت اور وقت کے صحیح استعمال سے انسان محدود مدت میں بھی عظیم کارنامے انجام دے سکتا ہے۔ انہوں نے مولانا عبدالحی فرنگی محلیؒ اور امام ابوزکریا یحییٰ بن شرف النوویؒ جیسے عظیم علماءکی مثالیں دیں جنہوں نے کم عمری میں رحلت کے باوجود علمی دنیا میں ناقابل فراموش خدمات انجام دی ہیں۔
شعبہ اختصاص فی علوم الفقہ کے ذمہ دار مفتی عتیق احمد بستوی نے ڈاکٹر ابوسحبان کے مقالے کو تحقیق و جستجو کا اعلیٰ نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مقالہ ریسرچ اسکالرز کے لیے ایک مثال ہے کہ کس طرح گہرے مطالعے اور عرق ریزی سے علمی کام انجام دیا جاتا ہے۔

کتاب شفادرحقوق مصطفیﷺ مصنفہ مولانا علاء الدین ندوی کا اجرا
(۲۸؍مئی)’’انسانی تاریخ میں کوئی شخصیت ایسی نہیں ہے جس پر اتنازیادہ علمی وتحقیقی کام ہوا ہو جتناکام آخری نبی حضرت محمد رسو ل اللہ ﷺ پر ہوا ہے، سیرت کاکوئی گوشہ ایسانہیں ہے جس پر دفترکے دفترنہ سیاہ ہوئے ہوں،مسلمانوں کو چاہئے کہ سیرت طیبہ سے اپنی زندگیوں کو منور کریں،اور اسوہ رسول کواپنی زندگی میں داخل کریں،آج سب سے زیادہ ضرورت سیرت کو پھیلانے اور تمام انسانوں تک اس کے پیغام کو پہنچانے کی ہے۔‘‘
ان خیالات کااظہار ناظم ندوۃ العلماء حضرت مولانا بلال عبدالحی حسنی ندونے مولانامحمد علاء الدین ندوی کی کتاب’’ کتاب شفادرحقوق مصطفی‘‘ کی رسم اجراء کے موقع پر کیا۔
مولاناعمیرالصدیق ندوی نے کتاب کا تعارف کراتے ہوئےکہا کہ اس کتاب کے بہت سے ترجمے ہوئے ہیں،مگرآج کوئی معتبرترجمہ دستیاب نہیں ہے،اس کتاب میں ادب کی جو چاشنی ہے وہ کم کتابوں میں ملے گی،اور سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ کہیں ترجمہ کااحساس نہیں ہوتا۔
صاحب کتاب مولانامحمد علاء الدین ندوی نے ترجمہ کے حوالے سے بتایاکہ میں نے ترجمہ کے بجائے ترجمانی کی ہے،کہیں اختصار سے کام لیا تو کہیں کچھ باتوں کو حذف کرناپڑا،لفظی ترجمہ کے بجائے توضیحی ترجمہ کی کوشش کی ہے۔
مولانافیصل احمد ندوی نے مختلف ادار میں اس کتاب کی اہمیت پر روشنی ڈالی جبکہ مولانا سلمان نسیم نے کتاب کی اہمیت وخصوصیات پرمقالہ پیش کیا۔
نظامت کے فرائض مولانا منور سلطان ندوی نے انجام دیے اور فضلائے ندوہ کی اس موضوع پر خدمات کا تذکرہ کیا۔

مجلس تحقیقات شرعیہ کے زیر اہتمام ایک علمی مذاکرہ کا انعقادبعنوان:’’اتراکھنڈ یونیفارم سول کوڈ 2024 :قانونی و آئینی تجزیہ ‘‘
(۲؍جون)اس پروگرام میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر نسیم احمد جعفری (ڈین فیکلٹی آف لا انٹگرل یونیورسٹی لکھنؤ) نے شرکت کی اور اتراکھنڈ کے اس قانون کا تفصیلی جائزہ پیش کیا، انہوں نے کہا کہ یونیفارم سول کوڈکاقانون دستور کے مختلف دفعات سے ٹکراتاہے،اسی بنیاد پر اس قانون کو چیلنج بھی کیا گیاہے۔
انہوں نےمزیدکہا کہ ہندوستان میں تقریبا تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لیے زیادہ تر قوانین پہلے ہی سے یکساں ہیں،صرف وہ قوانین جن کاتعلق معاشرتی معاملات سے ہے،وہ الگ ہیں، ایسی صورت میں اگر ان مسائل کوبھی یکساں کردیاجائے توپرسنل لاء کاوجودہی ختم ہوجائے گا۔
مولاناعتیق احمد بستوی نے صدارتی خطاب میں کہاکہ دستور میں مسلمان اور دیگراقلیتوں کو بہت سے تحفظات حاصل ہیں، یونیفارم سول کوڈلانے سے ان دفعات کو ختم کرنایاان میں تبدیلی کرنالازم آئے گا جو کسی بھی طرح مناسب نہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ یونیفارم سول کوڈ لانے کا مقصد صرف ایک خاص کمیونٹی کو پریشان کرنا ہے، یہ قانون آئین ہندکی دفعہ ۲۵ سے صریح متصادم ہے جو دستور میں دئے گئے بنیادی حقوق کااہم حصہ ہے،صوبہ اتراکھنڈمیں نافذ کیا جانے والا یہ قانون شرعی نقطہ نظرسے قابل قبول نہیں ہے،اس میں مسلمانوں کے دستوری حقوق کی پامالی ہے،اور یہ قانون شریعہ اپلیکشن ایکٹ ۱۹۳۷ء اور دوسرے مرکزی قوانین سے متصادم بھی ہے۔
نظامت کے فرائض مولانامنورسلطان ندوی نے انجام دیے۔

ملی کالج-کولکاتہ کے زیراہتمام’’حضرت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ آڈیوٹوریم‘‘کا افتتاح
(کولکاتا، ۱۴ جون)ملی ایجوکیشنل آرگنائزیشن کولکاتا کے زیر انتظام ’’ملی کالج‘‘ اپنی تعلیمی خدمات میں نمایاں مقام کا حامل ہے، اس کالج کا سنگ بنیاد ندوۃ العلماء کے سابق ناظم مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ نے اپنے دست مبارک سے رکھا تھا۔ حضرت مولانا کے نام سے اس آڈیوٹوریم کی افتتاحی کی تقریب ناظم ندوۃ العلماء حضرت مولانا سید بلال عبدالحی حسنی ندوی مدظلہ کی صدارت میں منعقد ہوئی ۔
حضرت ناظم صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں تعلیم، اصلاحِ معاشرہ، خدمتِ انسانیت اور مولانا علی میاں ندویؒ کے عالمگیر پیغام پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے فرمایا کہ تعلیم کا مقصد محض ڈگری یا روزگار نہیں بلکہ انسان کے کردار کی تشکیل، اس کے اخلاق کی تعمیر اور اس کے اندر خدمتِ خلق کا جذبہ بیدار کرنا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ حضرت علی میاں ندویؒ نے پوری زندگی جس پیغام کو دنیا بھر میں عام کیا، وہ دین کے ہمہ گیر تصور، امت کی اصلاح اور انسانیت کے خیرخواہ بننے کی تعلیم تھی۔
دانشوران شہر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آج کا مسلمان نہ صرف اپنی امت کے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے امید کی کرن بن سکتا ہے، اگر وہ تعلیم اور خدمت خلق کے اس جامع تصور کو اپنائے جو قرآن و سنت کی اصل تعلیم ہے۔
ڈاکٹر نورالصباح اسماعیل ندوی نے تعارفی گفتگو کرتے ہوئے حضرت ناظم صاحب کی علمی، فکری اور دعوتی خدمات پر اجمالی روشنی ڈالی۔
استقبالیہ کلمات ملی ایجوکیشنل آرگنائزیشن کے صدر جناب محمد امیرالدین (بابی صاحب) نے پیش کیے۔ اور نظامت کے فرائض جناب رافع صدیقی نے انجام دیے۔

دارالعلوم میں آن لائن علمی وتربیتی نشست
’’فن التعامل مع الناس‘‘ کے موضوع پر ڈاکٹر احمد عودہ العمرانی کا محاضرہ۔
(۲۶؍جون)اعلی اسلامی اخلاق ایک مثالی شخصیت کی تشکیل میں بنیادی کردار اداکرتے ہیں، قرآن کریم، حدیث شریف اور سیرت نبوی میں حسن سلوک،خوش اخلاقی، نرم خوئی ، خیر خواہی، حق گوئی، صداقت شعاری، وعدے کی پاسداری، دوسروں کی ضرورتوں کا خیال رکھنا ،تحمل، صبر، ایثار، مؤثر انسانی تعلقات، خندہ جبینی ، عبادت گذاری،اور دعاؤں کا اہتمام کرنے جیسی اعلی صفات سے اپنےکو آراستہ کرنے کی ہدایات آئی ہیں۔
ان الفاظ کا اظہار معروف عالم دین شیخ ڈاکٹر احمد عودہ العمرانی (امام وخطیب جامع مسجد الراجحی حقل، تبوک سعودی عرب) نے کیا، وہ دارالعلوم کے اساتذہ وطلباءکی آن لائن علمی وتربیتی نشست بہ عنوان ’’فن التعامل مع الناس‘‘ پر خطاب کر رہے تھے۔
اس نشست کی صدارت مولانا محمد علاءالدین ندوی (عمید کلیۃ اللغۃ العربیۃ وآدابھا) نے کی، انھوں نے اپنی صدارتی خطاب میں حسن سلوک کی اہمیت وضرورت پر بصیرت افروز گفتگو کی، اور شیخ العمرانی کےخطاب کو دور حاضر کے لیے نہایت مفید ومؤثر اور قابل تقلید عمل قرار دیا۔
یہ نشست علامہ حیدرحسن خاں ٹونکی ہال میں منعقد ہوئی جس کا اہتمام النادی العربی کی ثقافتی کمیٹی نے کیا، آغاز قای ثمامہ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا،ڈاکٹر محمد فرمان ندوی نے دارالعلوم اور اس کے شعبوں کا تعارف کرایا۔مولانا محمد ظفرالدین ندوی نے نظامت کا فریضہ انجام دیا اور کمیٹی کے سکریٹری زہیر شفیق خان نے مہمان خصوصی ،اساتذہ کرام اور تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔