مولانا سلطان ذوق ندوی کا انتقال امتِ اسلامیہ کے لیے بڑا سانحہ

روزہ کی روح اور حقیقت کی حفاظت
مارچ 30, 2023
روزہ کی روح اور حقیقت کی حفاظت
مارچ 30, 2023

مولانا سلطان ذوق ندوی کا انتقال امتِ اسلامیہ کے لیے بڑا سانحہ

ابواحمد ندوی

ملتِ اسلامیہ اپنی پیہم زبوں حالی اور قحط الرجال کے ساتھ وقفہ وقفہ سے ایسی شخصیات سے محروم ہوتی جارہی ہے جن کا وجودِ مسعود باعثِ اطمینانِ قلب، جن کی ذات مرجعِ خلائق، اور شخصیت مرجع علم و فضل رہی، جن کی سیرت و کردار امت کے لیے مشعلِ راہ اور اوصاف و کمالات، خدمات اور کارنامے قابلِ رشک و افتخار بنے۔
حال ہی میں ایک ایسی ہی شخصیت ہمارے درمیان سے اُٹھ گئی، جن کا نام نامی مولانا محمد سلطان ذوق تھا۔ مولانا رحمۃ اللہ علیہ بنگلہ دیش کی ایک عظیم دینی، علمی، فکری اور ادبی شخصیت تھے، علومِ شرعیہ کے گہرے علم کے ساتھ وہ اردو، عربی، فارسی اور بنگلہ زبانوں مایہ ناز ادیب و خطیب، صحافی اور قادر الکلام شاعر تھے۔ ندوۃ العلماء اور سابق ناظم ندوۃ العلماء مفکرِاسلام حضرت مولانا ابو الحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ سے ان گہرا ربط و تعلق تھا، اور وہ یہاں کے فکر و منہج سے غایت درجہ متاثر تھے۔ غالباً یہ خصوصیت انھی کو حاصل رہی کہ انھیں ندوہ کی طرف سے ’ندوی‘ کا اعزازی لقب دیا گیا، جو حضرت مفکر ِ اسلامؒ نے ان کو دیا۔حضرت مفکرِ اسلام کی شخصیت سے مولانا ذوق ندوی کے تاثر کا یہ عالم تھا کہ انھیں ’بنگلہ دیش کا علی میاں‘ بھی کہا گیا۔
چند سال قبل ناظم ندوۃ العلماء مولانا سید بلال عبد الحی حسنی مد ظلہ کا ایک وفد کے ساتھ بنگلہ دیش کا ایک علمی، دعوتی اور ثقافتی دورہ ہوا تھا، جس میں مولانا سید محمود حسن حسنی مرحوم اور مولانا عمیر حسینی اور راقمِ سطور بھی تھے۔ اس دورہ میں مولانا ذوق سے ملاقات اور ان کے ادارہ دار المعارف کاکس بازار میں وفد کے اعزاز میں منعقد کردہ پروگرام میں شرکت ایک خوش گوار تاثر کے ساتھ آج بھی یاد ہے۔ مولانا گرچہ اس وقت علیل تھے، اور کافی علیل تھے، قیام گاہ سے باہر نہیں نکلتے تھے؛ لیکن مفکرِ اسلام اور ندوہ کی نسبت کے حامل وفد کے اعزاز میں نکل کر تشریف لائے، میہمانوں کو استقبالیہ خطبہ سے نوازا، اور آخر پروگرام تک اپنی نشست پر جلوہ افروز رہے، ان کا خطاب ندوہ اور اہلِ ندوہ سے غایت درجہ تعلق اور تاثر پر مبنی تھا، جس کے دوران وہ کئی بار آبدیدہ بھی ہوئے۔ ان کی شخصیت میں دیگر خصائص و اوصاف کے علاوہ جو خاص بات نظر آئی وہ ان کا عربی و اردو زبانوں میں تصلب تھا، خاص طور پر اردو کو اہلِ اردو؛ بلکہ اہلِ لکھنؤ کے لب و لہجہ میں بولتے ہوئے راقمِ سطور نے اس سے قبل اور نہ اس کے بعد کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا جس کی مادری زبان اردو نہ ہو؛ انتہائی معیاری زبان…، سلاست و طلاقت … اور شستہ و شگفتہ لہجہ…، سبحان اللہ!!
مولانا ندوی کی پیدائش ۱۹۳۷ء میں بنگلہ دیش کے معروف و خوبصورت ساحلی شہر کوکس بازار کے ایک گاؤں میں ایسے خاندان میں ہوئی جو علم و دین اور صلاح و تقوی کا گہوارہ تھا، اور علمی رسوخ اور صحتِ عقائد میں امتیاز رکھتا تھا۔ آپ نے ایک سرکاری اسکول میں سماجی علوم اور ناظرہ قرآن سے اپنی تعلیم کا آغاز کیا، پھر مدرسہ امدادیہ قاسم العلوم میں داخلہ لیا، اور قرآنِ کریم اور ابتدائی دینی تعلیم کا مرحلہ طے کیا، پھر مدرسہ اسلامیہ میں پرائمری پانچویں کلاس میں داخل ہوئے، اور اردو و فارسی کی تعلیم لی، بعد ازاں متوسط مرحلہ کی تعلیم کے لیے ’اشرف العلوم‘ پہنچے، یہ قریبی مدارس تھے۔ اس کے بعد شوال ۱۳۸۲ھ میں بنگلہ دیش کی عظیم دینی درسگاہ ’جامعہ اسلامیہ‘ چاٹگام میں ثانویہ میں داخل ہوئے، جہاں آپ کو اپنی علمی و ادبی صلاحیتوں کو نکھارنے کا خوب خوب موقع ملا، اور علومِ شرعیہ کے ساتھ اردو ، عربی اور فارسی ادب میں مہارت حاصل کی۔ یہیں سے آپ نے ۱۹۵۹ء میں دورۂ حدیث سے فراغت پہلی پوزیشن کے ساتھ حاصل کی۔
تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے تدریس کی مشغولیت اختیار کی۔ آپ کی صلاحیت و قابلیت کی وجہ سے اہلِ مدارس نے آپ کو بغرض تدریس ہاتھوں ہاتھ لیا، اور آپ نے کئی اہم مدارس میں تدریس کا فریضہ انجام دیا…، آخر کار ۱۹۸۰ء میں جامعہ اسلامیہ میں حدیث و ادب اور دیگر اہم موضوعات کی تدریس کا موقع ملا، جہاں آپ نے تدریس کے ساتھ طلبہ کی علمی، ادبی، تحریری اور تقریری صلاحیتوں کو بیدار کرنے میں اپنے ذوق و منہج اور صلاحیت و قابلیت کا خوب استعمال کیا؛ علمی و ادبی انجمنیں قائم کیں، اور ہفتہ واری ادبی محفلیں اور مشاعرے منعقد کیے، اور آج بنگلہ دیش میں بالخصوص عربی زبان و ادب کے حوالہ سے جو قابلِ قدر نتائج ہمارے سامنے ہیں‘ ان کے بارہ میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ
ع یہ سب پود انھی کی لگائی ہوئی ہے
۶۹ء میں بنگلہ دیش میں حالات خراب ہونے کی وجہ سے آپ مدرسہ کی تدریس چھوڑنے پر مجبور ہوگئے، اور کسبِ معاش کے لیے اردو اخبار ’شجاعت‘ میں پروف ریڈر کی حیثیت سے مامور ہوئے؛ لیکن جلد ہی اپنی ادبی و صحافتی لیاقت کی وجہ سے ایڈیٹنگ کی ذمہ داری دی گئی، سیاسی ابتری کے دوران ہی آپ ایک بار پھر تدریس سے منسلک ہوئے، اور جامعہ عربیہ بابو نگر میں استاد مقرر ہوئے؛ لیکن ۷۱ء میں حالات بہتر ہونے کے بعد جامعہ اسلامیہ واپس آگئے، اور حدیث کی اہم کتابوں کی تدریس کے ساتھ شعبۂ عربی کے مشرف بنائے گئے۔ ۸۵ء میں آپ نے جامعہ سے الگ ہوکر مفکرِ اسلام کے مشورہ سے ندوہ کے طرز پر ’جامعہ دار المعارف الاسلامیہ‘ چاٹگام کی بنیاد ڈالی، اور اسے اپنے تعلیمی ذوق و منہجی نظریات کا مظہر بنایا۔ اسی کے ساتھ ’مجمع اللغۃ العربیۃ بنگلہ دیش‘ کی تاسیس بھی آپ کے علمی و ادبی افکار و نظریات کا ایک منھ بولتا ثبوت ہے۔
مولانا رحمۃ اللہ علیہ کا فیض بنگلہ دیش میں محدود نہیں رہا؛ انھوں نے علمی ، ادبی، فکری اور تحقیقی سیمیناروں میں شرکت کرنے اطرافِ عالم کا سفر کیا۔ جن ممالک کا آپ نے دورہ کیا‘ ان میں سعودیہ، مصر، قطر، ہندوستان، مطہرہ، افغانستان، سری لنکا، کویت، ترکی، لیبیا، دبی، امریکہ وغیرہ شامل ہیں۔اس کے علاوہ آپ رابطہ ادب اسلامی کی مجلس امناء کے ممبر اور بنگلہ دیش کی فرع کے صدر ، ’الاتحاد العالمی لعلماء المسلمین‘ کے ممبر اور مختلف علمی و تحقیقی مجلات کے مختلف مناصب پر فائز تھے۔
آپ کی تصنیفات میں:’’مسیرۃ الحیاۃ‘‘ (اردو و بنگالی)، ’’کلیاتِ ذوق‘‘، ’’الخطب المنبریۃ العصریۃ‘‘، ’’الجانب البلاغی فی شعر المتنبی‘‘، ’’المختارات الشعریۃ‘‘، ’’کلمات ادبیۃ فکریۃ‘‘، ’’جامِ ذوق‘‘، ’’التعلیقات النبویۃ علی الہمزیات النبویۃ‘‘، ’’دعوۃ الاصلاح و التطویر فی منہاج التعلیم‘‘، ’’طرق التاثیر و الاقناع فی الدعوۃ الی اللہ‘‘ ، ’’موجز عن حیاۃ الامام الندوی‘‘، ’’موجز عن حیاۃ حکیم الاسلام‘‘، ’’الطریق الی الانشاء‘‘، ’’القراء ۃ للراشدین‘‘، ’’القراء ۃ العربیۃ للاطفال‘‘، ’’معلم الفارسیۃ‘‘، ’’الہدایۃ الی قواعد الاردیۃ‘‘، ’’الحج المیسر‘‘، ’’القادیانیۃ – تعریف موجز‘‘ ودیگر کتابیں ہیں، اور ان کے علاوہ ایک اچھی تعداد تحقیقی مقالات کی ہے، جو ادب، تاریخ، منہج تعلیم اور دعوت وغیرہ کے موضوعات سے تعلق رکھتے ہیں۔