انسان کا مقصودِ آفرینش
اگست 25, 2025علم کی عظمت اور اُمت کی فکری تعمیر
نومبر 2, 2026تعمیرِ شعور- فکری بیداری کا آغاز
محمد ناصر ندوی پرتاپ گڑھی
دنیا میں تمام انقلابات، بیداری کی تمام لہریں، اور اقوام کی ترقی کی تمام داستانیں ایک ہی نقطے سے شروع ہوتی ہیں اوروہ ہے’’ شعور کی تعمیر‘‘ !
جب کسی فرد یا قوم کے اندر اپنے وجود، اپنی حیثیت، اپنے فرائض اور اپنے مقصدِ زندگی کا شعور بیدار ہوتا ہے، تبھی وہ کائنات میں اپنا مؤثر کردار ادا کر پاتے ہیں۔قرآن مجید کی دعوت، فکری بیداری کی دعوت ہے۔ قرآن انسان کو غفلت سے نکال کر یاد دہانی کراتا ہے:
أَفَلَا تَعْقِلُونَ (البقرہ: ۴۴)(کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟)
إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُوْلُوا الْأَلْبَابِ"(الزمر: ۹)
(نصیحت تو وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔)
قرآن بار بار تفکر وتدبر کی دعوت دیتا ہے، جو شعورِ انسانی کے بنیادی اجزاء ہیں۔
’’شعور‘‘ کا لغوی مفہوم ،احساس، آگہی، بیداری اور بصیرت ہے۔اصطلاحاً شعور سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے گرد و پیش، اپنے مقام، اپنی ذمّہ داری اور اپنے وجود کی حقیقت کو سمجھ لے، اور اپنی فکری و عملی زندگی کو کسی مقصد کے تحت ترتیب دے۔قوموں کی ترقی، ان کی عزت وعظمت اور قیادت نہ صرف مادی اسباب سے وابستہ ہے، نہ ہی محض تعلیمی ڈگریوں، خوشنما عمارتوں یا فنی مہارتوں تک محدود ہے، یہ سب اپنی جگہ اہم ضرور ہیں، لیکن اگر ان سب کے پیچھے ایک باشعور ذہن، بیدار دل، اور اعلی فکر نہ ہو تو یہ تمام تر ترقی سطحی اور عارضی ہوجاتی ہے۔ اصل سرمایہ جو ایک قوم کو بامِ عروج تک لے جاتا ہے، وہ شعور اور بصیرت افروز زندگی ہے۔
شعور ایک داخلی روشنی کا نام ہے جو انسان کو اس کی حقیقت سے آشنا کرتی ہے، اس کے مقصدِ حیات کو واضح کرتی ہے، اس کے کردار کو درست کرتی ہے، اور اس کی زندگی کا رخ متعین کرتی ہے، جب یہ روشنی ماند پڑجاتی ہے تو انسان راستہ بھٹک جاتا ہے اور وہ محض بھیڑ کا حصہ بن کر رہ جاتا ہے، اپنا تشخص وامتیاز کھو دیتا ہے ،اور اسے نہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس رہ جاتا ہے، نہ وہ اپنی قوم کے درد کا درماں بنتا ہے،اور نہ امت کے مسائل سے سروکار رہ جاتا ہے،ایسے معاشرے بظاہر تو ترقی یافتہ لگتے ہیں، لیکن اندر سے کھوکھلے اور بے روح ہوکر امت کےلئے بے معنی ہوجاتے ہیں۔
قرآنِ کریم نے بارہا انسان کو سوچنے سمجھنے کی طرف متوجہ کیا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:
’’وَیَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِینَ لَا یَعْقِلُونَ‘‘ (یونس:۱۰۰) یعنی جو لوگ عقل استعمال نہیں کرتے، اللہ ان پر گندگی مسلط کر دیتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کی بعثت کا مقصد صرف مذہبی رسوم کی ادائیگی سکھانا نہ تھا، بلکہ آپﷺ کی سیرت کا ایک بڑا باب شعور کی بیداری پر مشتمل ہے۔آپﷺ نے مکہ مکرمہ کی غافل، بت پرست اور جہالت زدہ قوم کو دعوتِ فکر دی۔ ان سے سوال کیا:
’’کیا یہ بت تمہاری بات سنتے ہیں؟
’’تمہیں کچھ فائدہ یا نقصان دے سکتے ہیں؟
’’کیا تم نے کبھی سوچا کہ زمین و آسمان کا نظام کس کے ہاتھ میں ہے؟‘‘
یہ فکری سوالات تھے جنہوں نے صحابہ کرامؓ کے دلوں میں بیداری پیدا کی جس کے نتیجے میں ایک عظیم تمدن کا آغاز ہوا۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اسلاف امت رحمہم اللہ کی زندگیاں تعمیر شعور کی روشن مثالیں ہیں، ان حضرات نے نہ صرف خود فکری بیداری اور ایمانی بصیرت حاصل کی بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی شعور دیا، اور عمل کے میدان میں ایسی عظیم قربانیاں پیش کیں جن کی نظیر تاریخ انسانی میں نہیں ملتی ہیں،ان کے نزدیک ایمان محض عقیدہ نہیں بلکہ احساس ذمہ داری، اور عمل واخلاص کا مجموعہ ہے۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت اس شعور کی عظیم مثال ہے۔ آپ کی حکمرانی عدل وانصاف اور رعایا کے تئیں احساسِ ذمہ داری سے معمور تھی، آپ کا وہ مشہور قول کہ’’اگر فرات کے کنارے ایک بکری بھی پیاس سے مرگئی تو عمر سے اس کا حساب لیا جائے گا۔‘‘ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کے دل میں ایک مؤمن کی زندگی کا کتنا گہرا شعور تھا۔!
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی عملی زندگی بھی شعور و حکمت سے بھرپور تھی، آپ کی فراست دینی، انسانی فطرت کی پہچان اور عدل و انصاف کا معیار مثالی تھا،تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فکر ایک زندہ شعور کی علامت ہے، وہ ہر اُس چیز کے خلاف آواز بلند کرتے جو دین کے معاشی اور سماجی اصولوں کے خلاف ہو، ان کی فکری بصیرت نے امت کو یہ درس دیا کہ صرف عبادت کافی نہیں بلکہ عدل ومساوات اور سماجی بھلائی کےلئے بھی اپنا کردار ادا کرنا ضروری ہے۔
تابعین اور تبع تابعین کے دور میں شعور کی یہ شمع روشن رہی، اسلاف نےاس فکر واحساس کو جو منظم علمی وعملی شکل دی، وہ تاریخ کا روشن باب ہے۔ حضرت امام ابو حنیفہؒ کی فقہی بصیرت نے امت کو اس وقت ایک مربوط دینی قانون دیا جب لوگ مختلف فکری و فقہی بحران کے شکار تھے۔ انہوں نے اجتہاد کو اصول بناکر بتا دیا کہ دین ایک زندہ نظام ہے جو ہر دور کے تقاضوں کے مطابق علم و حکمت کے ساتھ رہنمائی کرسکتا ہے۔
امام غزالیؒ نے فلسفہ و مادیت پرستی اور باطنی فتنوں کا مقابلہ کیا، ان کی کتاب ’’احیاء علوم الدین‘‘ شعور دینی،شعور عبادت،شعور اخلاق اور شعورِ معاشرت کا حسین امتزاج ہے۔ وہ ذہن کو صرف معلومات کا مرکز نہیں سمجھتے بلکہ اسے ہدایت وتقوی اور تعلق مع اللہ کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہیں۔
ہندوستان کی سرزمین پر شعور کی بیداری کےلئے شیخ احمد سرہندیؒ نے ایک عظیم تحریک برپا کی، انہوں نے دین الٰہی جیسے فتنوں کے مقابلے میں علم ومجاہدہ اور اپنی بصیرت کے ذریعے فکر وشعور کی وہ فضا پیدا کی جس نے پورے خطے کو دین پر استقامت عطا کی۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے امت کو علمی و دینی شعور سے جوڑنے کےلئے عظیم جدوجہد کی، ان کی کتاب ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ آج بھی دینی شعور کی بنیاد ہے۔ ان کے نزدیک دین صرف عبادت کا نام نہیں بلکہ ایک جامع نظام ہے جو سیاست ومعیشت اور تعلیم وتربیت بلکہ زندگی کے ہر میدان میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
حضرت سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ نے توحید خالص، غیرتِ دینی، اور عملِ صالح کی جو مثال قائم کی، وہ ایک انقلابی تحریک کی شکل اختیار کرگئی۔ انہوں نے امت کو یاد دلایا کہ محض الفاظ سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اخلاص کے ساتھ عمل اور دین کی خدمت کےلئے قربانی کا جذبہ موجزن نہ ہو، ان کی شہادت بھی اسی فکر کی فتح ہے۔
جدید دور میں علامہ اقبالؒ کی شاعری نے مسلمانانِ ہند کو جس دینی و ایمانی شعور سے آشنا کیا وہ ناقابل فراموش ہے،ان کی فکر انقلاب کی چنگاری تھی۔
اسی طرح مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ نے اپنی تحریروں اور دعوتی اسفار میں شعورِ امت، شعورِ تاریخ، شعورِ دعوت، اور شعورِ اصلاح کو ایک تحریک کی شکل دی۔ان کی کتاب’’ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمين‘‘ نے امت کو اس کے اصل مقام کا شعور دیا۔
یہ چند مثالیں ہمیں بتاتی ہیں کہ شعور کی تعمیر ہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک زندہ امت کی عمارت کھڑی ہوتی ہے، جب تک مسلمانوں کو اپنے دین کے تئیں اپنی ذمہ داری کا احساس، اپنی قومی شناخت کی فکر، اور اپنی زندگی میں اپنے کردار کا شعور حاصل نہ ہوگا، وہ صرف ماضی کی تاریخ کا ماتم کرتے رہیں گے۔
جب شعور بیدار ہوتا ہے تو غلامی کے زنجیریں ٹوٹتی ہیں، جہالت کے اندھیرے چھٹتے ہیں اور قومیں دوبارہ اپنا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں،صحابہ کرام اور اسلاف امت کی زندگیوں سے یہی سبق ملتا ہے کہ شعور ہی اصل سرمایہ ہے، اور اسی کی بنیاد پر امت کی اصلاح اور بیداری ممکن ہے۔
آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے شعور کو معلومات سے خلط ملط کر دیا ہے، ہمیں معلومات تو بہت حاصل ہیں، مگر ان کا تجزیہ کرنے، ان پر غور کرنے، اور ان معلومات کو حق کے ترازو میں تولنے کی صلاحیت سے ہم محروم ہوتے جارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم میڈیا کے فریب میں آجاتے ہیں، جھوٹے نعروں کے اسیر ہوجاتے ہیں، اور دشمن کی چالوں پر تالیاں بجانے لگتے ہیں۔ یہ سب اس وقت ہوتا ہے جب شعور مرجاتا ہے، اور انسان محض ایک نقال،تماشہ بیں اور بے سمت ہجوم کا حصہ بن جاتا ہے۔
ایسا کیوں ہوا ؟ کیونکہ ہم نے تربیتِ شعور کو ترجیحات سے نکال دیا، ہماری تعلیم معلومات دیتی ہے، شعور نہیں دیتی۔ ہمارے تعلیمی ادارے نوکری کا ذریعہ تو بن گئے، مگر کردار سازی کے مراکز نہ بن سکے۔ ہماری دینی مجالس میں اکثر جذبات کا غلبہ رہا، بصیرت کی پرورش نہ ہو سکی، ہمارے منبر و محراب سے اصلاحی فکر کم اور وقتی جذبات زیادہ ابھارے گئے، ہم نے قرآن تو پڑھا، مگر اس کے تفکر و تدبر کے دروازے بند کر دیئے، نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ایسی امت جس کے پاس آسمانی کتاب ہے، زندہ سنت ہے، صحابہ اور اسلاف کے عظیم کارنامے ہیں، وہ آج فکری پسماندگی کا شکار ہے۔
اس امر کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ہم دینی تعلیم کو محض عبادات اور فقہی مسائل تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اس کے ذریعے انسان کو اُس کا مقام،اس کی ذمہ داری اور کردار کا شعور بیدار کریں۔ دین ہمیں صرف نماز و روزے کا ہی نظام نہیں دیتا، بلکہ وہ فکر کی تعمیر، عقل کی تطہیر، اور معاشرے کی اصلاح کا ایک مکمل ضابطہ عطا کرتا ہے۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:’’مَنْ یُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَیْرًا یُفَقِّهْهُ فِی الدِّینِ‘‘
اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے۔
شعور کی تشکیل کے دیگر اہم ذرائع میں مطالعہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ کتاب انسان کا خاموش معلم، سچا دوست اور مخلص رہنما ہے۔ جو قومیں سنجیدہ کتابوں کے مطالعہ سے وابستہ ہوگئیں ، وہ عروج کے زینے چڑھنے لگیں، اور جو مطالعہ سے جی چرانے لگیں وہ دھیرے دھیرے اپنے ماضی سے کٹ گئیں اور زوال کا شکار ہوگئیں، اہل علم ودانش کو چاہئے کہ قرآن وحدیث ،سیرت و تاریخ اور جدید وفکری مسائل ومباحث پر گہری نظر رکھیں،اور امت مسلمہ کے نوجوانوں کی ایسی ذہن سازی کریں کہ وہ اسلام کےلئے جینا اور مرنا اپنی زندگی کا اصل مقصد سمجھیں ،انہیں صالح صحبت، مخلص اساتذہ، علمی مجالس اور اہلِ اللہ کی مصاحبت کے مواقع فراہم کریں،نیکوں کی صحبت انسان کی شخصیت کو نکھارتی ہے، اور فکری وسعت عطا کرتی ہے۔
آج جب ہم چاروں طرف بگاڑ، فساد، بے راہ روی، اور نظریاتی انتشار دیکھتے ہیں، تو ہمیں یہ اعتراف کرنا چاہئے کہ یہ سب شعور کے فقدان کا نتیجہ ہے۔ فرقہ واریت، تعصب، شخصیت پرستی، سوشل میڈیا کی بے ہنگم تقلید، مغربی نظام کی اندھی نقالی، اور دینی شعور سے دوری‘ یہ سب اسی خلا کے مظاہر ہیں۔
ایک بے شعور قوم دشمن کے نرغے میں آکر بھی جشن مناتی ہے، اور اصل دشمن کو پہچاننے سے قاصر رہتی ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم عملی طور پر شعور کی تعمیر کے میدان میں اتریں، ہماری مساجد صرف نماز پڑھنے کی جگہ نہ ہوں، بلکہ علمی و فکری مراکز بنیں۔ مدارس صرف درس وتدریس کے ادارے نہ ہوں، بلکہ بصیرت کے قلعے بنیں۔ خطبۂ جمعہ صرف دعائوں کا مجموعہ نہ ہو بلکہ امت کی اصلاح ،فکر وشعور کی بیداری اور سماج کی تربیت کا ذریعہ بنے۔ تعلیمی ادارے صرف امتحان پاس کرانے کا مرکز نہ ہوں، بلکہ فکری، تحقیقی، اور تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کی درسگاہ ہوں۔ہمیں اپنے نوجوانوں کو صرف موبائل تھمانے کے بجائے فکری ذہن، احساس ذمہ داری اور قیادت کا شعور دینا ہوگا،انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ دنیا میں زندہ رہنے کےلئے صرف سانس لینا کافی نہیں، بلکہ کسی مقصد کےلئے جینا ضروری ہے۔
یہی شعور ہے جو دلوں کو زندہ کرتا ہے، ذہنوں کو تازگی بخشتا ہے، زبان کو صداقت کا ذائقہ دیتا ہے، کردار کو مقصد کا رخ عطا کرتا ہے، اور اقوام کو بیداری کی معراج تک پہنچاتا ہے۔ یہی شعور ہے جو کسی فرد کو خوابِ غفلت سے جگاتا ہے، اور پوری قوم کو ایک زندہ، باوقار اور متحرک امت میں ڈھال دیتا ہے۔
پس آج ہمیں صرف تبدیلی کی تمنا نہیں، تبدیلی کی تیاری کرنی ہوگی۔ ہمیں صرف روشنی کی دعا نہیں، چراغ جلانے کی ہمت کرنی ہوگی، اور یہ ہمت اسی وقت پیدا ہوگی جب شعور کی چنگاری ہر دل میں سلگے گی، ہر ذہن میں بھڑکے گی، اور ہر فرد کے سینے میں ایک درد مند داعی کی روح جاگ اٹھے گی۔ اگر ہم نے آغاز کر لیا، تو منزل خود ہماری طرف بڑھے گی۔ شعور کی یہ بیداری اگر ایک فرد میں پیدا ہوجائے، تو وہ فرد ایک تحریک بن جاتا ہے، اور اگر پوری قوم بیدار ہوجائے، تو تاریخ کا دھارا بدل سکتا ہے!!

