تعمیرِ شعور- فکری بیداری کا آغاز
نومبر 2, 2026خاندانی منصوبہ بندی:ایک جائزہ
نومبر 2, 2026علم کی عظمت اور اُمت کی فکری تعمیر
ڈاکٹر مفتی سہیل ندوی(حیدرآباد)
انسانی تہذیب کی پوری تاریخ پر اگر غیر جانب دارانہ نگاہ ڈالی جائے تو ایک حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ دنیا میں وہی قومیں سربلند رہیں جنہوں نے علم کو اپنا سرمایہ، قلم کو اپنا ہتھیار اور اخلاق کو اپنی شناخت بنایا۔ طاقت کی سلطنتیں چند صدیوں میں بکھر گئیں، دولت کے انبار وقت کی گرد میں گم ہو گئے، لیکن علم کی روشنی کبھی بجھ نہ سکی۔ سقراط کا فلسفہ، ارسطو کی منطق، امام غزالی کی حکمت، ابن خلدون کی عمرانی بصیرت، شاہ ولی اللہ دہلوی کی اصلاحی فکر اور علامہ اقبال کا پیغام آج بھی زندہ ہے، کیونکہ علم کی عمر افراد سے کہیں زیادہ طویل ہوتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے قرآنِ مجید نے نہایت بلیغ انداز میں بیان فرمایا: ’’کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟‘‘ اس مختصر سوال میں پوری انسانی تاریخ کا خلاصہ پوشیدہ ہے کہ عزت، قیادت اور ترقی کا اصل معیار علم ہے، نہ کہ نسب، دولت یا اقتدار۔
اسلام کا آغاز ہی قلم اور علم کے اعلان سے ہوا۔ دنیا کے کسی مذہب یا تہذیب نے اپنی پہلی دعوت کا آغاز علم سے نہیں کیا، مگر قرآنِ مجید کی پہلی وحی ’’اقرأ‘‘ سے شروع ہوتی ہے۔ گویا اسلام نے سب سے پہلے انسان کے ذہن کو بیدار کیا، اس کی فکر کو روشن کیا اور اسے بتایا کہ جہالت غلامی ہے، جبکہ علم آزادی کا دوسرا نام ہے۔ یہ محض ایک مذہبی حکم نہیں بلکہ پوری انسانی تہذیب کے لیے ایک ابدی منشور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ میں مسجدِ نبوی کو صرف عبادت گاہ نہیں بنایا بلکہ اسے ایک عظیم علمی مرکز میں تبدیل کر دیا، جہاں قرآن کی تعلیم بھی تھی، حکمت کی مجلسیں بھی تھیں، معاشرتی تربیت بھی تھی اور ریاستی منصوبہ بندی بھی۔
تاریخ شاہد ہے کہ جب مسلمان قرآن کے اس پیغام سے وابستہ رہے تو بغداد، قرطبہ، دمشق، قاہرہ، سمرقند، بخارا، دہلی اور لکھنؤ جیسے شہر علم و تحقیق کے عالمی مراکز بن گئے۔ یورپ اس وقت تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا، جبکہ مسلم دنیا کی لائبریریاں لاکھوں کتابوں سے مزین تھیں۔ اندلس کی جامعہ قرطبہ، جامعہ زیتونہ، جامعہ ازہر اور نظامیہ بغداد صرف درسگاہیں نہیں تھیں بلکہ تہذیب ساز ادارے تھے، جہاں فلسفہ، طب، فلکیات، ریاضی، ادب، فقہ، حدیث اور زبان و بیان کے علوم یکجا پڑھائے جاتے تھے۔ مسلمان عالم جب کسی مسئلے پر قلم اٹھاتا تھا تو اس کی تحریر صرف اپنے زمانے کے لیے نہیں بلکہ آنے والی صدیوں کے لیے رہنمائی کا سرمایہ بن جاتی تھی۔
یہ امر نہایت افسوس ناک ہے کہ آج امتِ مسلمہ کی بڑی تعداد نے علم کے بجائے معلومات کو علم سمجھ لیا ہے۔ سوشل میڈیا کی چند سطریں، مختصر ویڈیوز اور سطحی مباحث نے مطالعے کی عادت کو کمزور کر دیا ہے۔ کتاب سے تعلق کمزور ہوتا جا رہا ہے، جبکہ تحقیق، تنقید اور تجزیے کی روایت بھی محدود ہوتی جا رہی ہے۔ حالانکہ علم کا تعلق صرف معلومات جمع کرنے سے نہیں بلکہ حقیقت تک پہنچنے، دلائل کا جائزہ لینے اور صحیح و غلط میں امتیاز پیدا کرنے سے ہے۔ ایک پڑھی ہوئی کتاب انسان کو صرف معلومات نہیں دیتی بلکہ اس کی شخصیت، اس کی زبان، اس کی سوچ اور اس کے کردار کو بھی سنوارتی ہے۔
ادیب اور مفکر دراصل قوم کی اجتماعی عقل ہوتے ہیں۔ جب معاشرے میں قلم خاموش ہو جائے تو تلواریں بولنے لگتی ہیں، جب تحقیق ختم ہو جائے تو تعصب جنم لیتا ہے، اور جب کتابوں سے رشتہ ٹوٹ جائے تو افواہیں علم کی جگہ لے لیتی ہیں۔ اسی لیے ہر دور کے مصلحین نے سب سے پہلے فکری اصلاح کی دعوت دی۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے قرآن کو عوام تک پہنچایا، سر سید احمد خاں نے جدید تعلیم کی ضرورت پر زور دیا، علامہ شبلی نعمانی نے تحقیق کی نئی راہیں کھولیں، مولانا ابوالکلام آزاد نے صحافت کو علمی وقار عطا کیا، اور علامہ اقبال نے نوجوانوں کو شاہین کی پرواز عطا کی۔ ان تمام شخصیات کا مشترکہ سرمایہ قلم تھا، اور یہی قلم قوموں کی تقدیر بدلنے کا ذریعہ بنا۔
آج ہماری سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ ہم دوبارہ کتاب سے رشتہ جوڑیں، مطالعے کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں، تحقیق کی روایت کو زندہ کریں، اور نوجوان نسل کو یہ احساس دلائیں کہ قوموں کی تعمیر صرف عمارتوں سے نہیں بلکہ کتابوں سے ہوتی ہے، صرف معیشت سے نہیں بلکہ فکر سے ہوتی ہے، اور صرف نعروں سے نہیں بلکہ علم، کردار اور مسلسل محنت سے ہوتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر امتِ مسلمہ دوبارہ علمی قیادت حاصل کر سکتی ہے، اور یہی تعمیرِ حیات کا حقیقی پیغام بھی ہے۔
علم ہی وہ بنیاد ہے جس پر قوموں کی تہذیب، قیادت اور بقا کی عمارت استوار ہوتی ہے۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ نہایت اہم ہے کہ اگر اسلام نے علم کو اپنی پہلی دعوت بنایا تھا، اگر مسلمانوں نے ایک ہزار برس تک دنیا کی علمی قیادت کی تھی، اگر بغداد، قرطبہ، بخارا، سمرقند، دہلی اور لکھنؤ جیسے شہر دنیا کے عظیم علمی مراکز تھے، تو پھر ایسا کیا ہوا کہ یہی امت رفتہ رفتہ فکری پسماندگی، علمی جمود اور تہذیبی انحطاط کا شکار ہوتی چلی گئی؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا محض ماضی پر نوحہ خوانی نہیں، بلکہ مستقبل کی تعمیر کے لیے ناگزیر شرط ہے۔
تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ کسی بھی قوم کا زوال اچانک نہیں آتا، بلکہ اس کی ابتدا فکر کے انحراف سے ہوتی ہے۔ جب مطالعہ کم ہو جائے، تحقیق کا ذوق ختم ہو جائے، سوال اٹھانے کی جرأت باقی نہ رہے، اجتہادی فکر جمود کا شکار ہو جائے، اور علم محض امتحانات اور ملازمتوں تک محدود ہو جائے، تو معاشرہ رفتہ رفتہ اپنی تخلیقی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں قومیں دوسروں کی ایجاد کردہ تہذیب کی صارف تو بن جاتی ہیں، لیکن خود نئی فکر، نئی تحقیق اور نئی قیادت پیدا کرنے سے قاصر رہتی ہیں۔
علامہ ابن خلدون نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’المقدمہ‘‘ میں بڑی بصیرت کے ساتھ لکھا ہے کہ قوموں کا عروج صرف معاشی قوت سے نہیں بلکہ علمی و فکری قوت سے وابستہ ہوتا ہے۔ جب فکر زندہ رہتی ہے تو تہذیب بھی زندہ رہتی ہے، اور جب فکر مر جاتی ہے تو محلات، سلطنتیں اور وسائل بھی قوم کو بچا نہیں سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید بار بار انسان کو غور و فکر، تدبر، تعقل اور مشاہدے کی دعوت دیتا ہے۔ قرآن کا اسلوب محض احکام سنانے کا نہیں بلکہ عقل کو بیدار کرنے کا ہے۔ کہیں فرمایا: ’’کیا تم غور نہیں کرتے؟‘‘، کہیں ارشاد ہوا: ’’کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟‘‘ اور کہیں انسان کو زمین و آسمان کے نظام میں تدبر کی دعوت دی گئی۔ گویا اسلام نے تقلیدِ جامد کے بجائے شعوری ایمان اور زندہ فکر کی بنیاد رکھی۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں تعلیم کو بھی رفتہ رفتہ ایک تجارتی سرگرمی بنا دیا گیا۔ کامیابی کا معیار صرف ڈگری، ملازمت اور تنخواہ قرار پایا، جبکہ کردار، تحقیق، مطالعہ، تخلیق اور سماجی خدمت جیسے عناصر پس منظر میں چلے گئے۔ طلبہ کی بڑی تعداد نصاب ختم کر لیتی ہے، لیکن کتاب سے محبت پیدا نہیں ہوتی؛ امتحان پاس کر لیتی ہے، لیکن سوال کرنے کی عادت پیدا نہیں ہوتی؛ سند حاصل کر لیتی ہے، لیکن معاشرے کے مسائل پر غور کرنے کی صلاحیت پیدا نہیں ہوتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ معلومات میں اضافہ ضرور ہوتا ہے، مگر حکمت اور بصیرت کا چراغ روشن نہیں ہو پاتا۔
آج کی ڈیجیٹل دنیا نے اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں معلومات تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو چکی ہے، لیکن اس کے ساتھ سطحیت، عجلت اور غیر مصدقہ معلومات کا سیلاب بھی آ گیا ہے۔ چند سیکنڈ کی ویڈیو کو تحقیق سمجھ لیا گیا ہے، چند جذباتی جملوں کو علم کا متبادل تصور کیا جانے لگا ہے، اور علمی اختلاف کی جگہ شور و غوغا نے لے لی ہے۔ حالانکہ علمی روایت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر دعوے کو دلیل کی کسوٹی پر پرکھا جائے، ہر خبر کی تحقیق کی جائے، ہر رائے کو احترام کے ساتھ سنا جائے، اور اختلاف کو دشمنی نہیں بلکہ فکری ارتقا کا ذریعہ سمجھا جائے۔
یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ امتِ مسلمہ کا علمی سرمایہ آج بھی دنیا کے کسی بھی مذہب یا تہذیب سے کم نہیں۔ لاکھوں مخطوطات دنیا کی مختلف لائبریریوں میں محفوظ ہیں، ہزاروں علمی کتابیں آج بھی تحقیق کا سرمایہ ہیں، اور قرآن و حدیث کی صورت میں ایسا مستند علمی ذخیرہ موجود ہے جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ نئی نسل کو اس عظیم ورثے سے جوڑا جائے، اسے جدید تقاضوں کے مطابق تحقیق کا سلیقہ سکھایا جائے، اور اسے یہ اعتماد دیا جائے کہ اسلام اور جدید علوم میں کوئی تصادم نہیں، بلکہ صحیح علم ہمیشہ انسان کو اللہ کی معرفت، انسانیت کی خدمت اور کائنات کی بہتر تفہیم کی طرف لے جاتا ہے۔
اس مقصد کے لیے ہمارے تعلیمی اداروں، مدارس، جامعات، لائبریریوں اور ادبی انجمنوں کو نئے جذبے کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ صرف نصابی تعلیم کافی نہیں؛ مطالعہ، مباحثہ، تحقیق، تصنیف، تنقیدی فکر اور تخلیقی اظہار کو بھی فروغ دینا ہوگا۔ جس دن ہمارے نوجوان کتاب کو اپنا دوست، قلم کو اپنا ساتھی اور تحقیق کو اپنا شوق بنا لیں گے، اسی دن علمی بیداری کی نئی صبح طلوع ہوگی۔
یہی وہ علمی انقلاب ہے جس کی بنیاد پر ایک بار پھر ایسے مفکر، محقق، سائنس دان، ادیب، مفسر، محدث اور مصلح پیدا ہو سکتے ہیں جو نہ صرف اپنی قوم بلکہ پوری انسانیت کے لیے روشنی کا مینار ثابت ہوں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمان علم کے ساتھ وابستہ ہوئے تو دنیا نے ان سے سیکھا، اور جب انہوں نے علم سے بے اعتنائی اختیار کی تو وہ دوسروں کے محتاج بن گئے۔ اس لیے آج کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ ہم اپنی فکری آزادی، علمی خود اعتمادی اور تحقیقی روایت کو دوبارہ زندہ کریں، کیونکہ یہی امت کے روشن مستقبل کی حقیقی ضمانت ہے۔

