غیر مسلموں سے تعلقات

اسلام‘ انسان کے لیے انتہائی ضروری عنصر
مارچ 30, 2023
انسان کا مقصودِ آفرینش
اگست 25, 2025
اسلام‘ انسان کے لیے انتہائی ضروری عنصر
مارچ 30, 2023
انسان کا مقصودِ آفرینش
اگست 25, 2025

غیر مسلموں سے تعلقات

مولانا محمد نفیس خان ندوی


اسلام اپنی خصوصیات اور اپنی تعلیمات و نظریات کی بنیادوں پرایک مستقل تہذیب کا حامل ہے، وہ اپنے ماننے والوں کو زندگی گذارنے کا ایک طریقہ، بود وباش کے مستقل اصول،اور معاشرت کے ٹھوس احکام دیتا ہے، لیکن اپنے امیتاز ات کے باجود وہ اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ مسلمان‘ معاشرہ میں رہنے والی دوسری اقوام سے بے تعلق اور ان کے معاشرتی مسائل سے ناواقف ہوں۔
اسلام ایک دین فطرت ہے، وہ رہبانیت و سنیاس کے بجائے اجتماعی وتمدنی اصول پر معاشرہ کی بنیاد رکھتا ہے، اور اسے پروان چڑھانے اور مستحکم کرنے کی پوری حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے، اس کے ماننے والے انفرادی معاشرہ میں رہتے ہوں یا مخلوط معاشرے میں زندگی بسر کرتے ہوں ہر دوصورت میں وہ غیر مسلموں سے تعلقات کو پسندیدگی نظر سے دیکھتا ہے، اور مسلمانوں کو غیر مسلموں تک اسلامی دعوت کو پہنچانے کی تلقین بھی کرتا ہے، چنانچہ غیر مسلموں سے میل جول اور ان کے ساتھ معاشرتی تعلقات نہ صرف تمدنی زندگی کا ایک حصہ اور سماجی ضرورت ہے بلکہ ایک دینی تقاضا بھی ہے۔
غیر مسلموں کے تعلق سے اسلام نے جو حقوق ومراعات بیان کیے ہیں وہ اعلی اخلاقی تعلیمات اور نوع انسانی کے ساتھ اس کے شریفانہ رویہ کی دلیل ہے، اسلام اگرچہ عقیدہ کے معاملہ میں بے حد حساس واقع ہوا ہے مگر اس کے باجود عام انسانی تعلقات کی اس نے بھر پور رعایت کی ہے، اور ایسے غیرمسلموں کے ساتھ حسن سلوک کو پسند کیا ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ معاندانہ رویا نہ رکھتے ہوں۔
اﷲ کے رسولﷺ نے جس طرح وحدت الہ کی تعلیم دی ہے اسی طرح وحدت انسانی کا درس بھی دیا ہے، اورمختلف انداز اور مختلف پیرائے میں اس کو بار بار واضح بھی کیا ہے ، چنانچہ آپ ﷺ نے انسانی رشتوں کی بنیاد رحمدلی، ہمدردی اور آپسی محبت پر رکھتے ہوئے فرمایا : ’’ارحموا من فی الارض یرحم من فی السماء‘‘ یعنی تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔
اسی طرح آپ کا یہ فرمان بھی سنہرے حروف میں لکھے جانے کے لائق ہے کہ ’’ الخلق عیال اﷲ فأحب الخلق الی اﷲ من احسن الی عیالہ‘‘ یعنی مخلوق اﷲ کا کنبہ ہے، اورمخلوق میں اﷲ کے نزدیک سب سے محبوب وہ ہے جو اس کے کنبہ کے ساتھ بہتر سلوک کرے۔ اسلام کی یہ وہ لازوال تعلیمات ہیں جس میں مسلم اور غیر مسلم کی کوئی تفریق نہیں برتی گئی ہے، بلکہ انسانیت کو سارے تعلقات میں اہم مقام دیا گیا ہے۔
ہمارے ملک ہندستان میں فسطائی طاقت رکھنے والوں کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ مسلم اور غیر مسلم تعلقات کو استوار نہ ہونے دیا جائے، اس کے لیے ہر طرح کے پروپیگنڈوں کا استعمال بھی کیا جاتا ہے،نصابی کتابوں میں زہرلیے مواد داخل کرکے حقائق پر پردہ ڈالا جاتا ہے، فسادات کرائے جاتے ہیں، عبادت گاہوںکے تقدس کو پامال کیا جاتا ہے،نامناسب الزامات لگائے جاتے ہیں، بے جا گرفتاریاں کی جاتی ہیں، نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کیا جاتا ہے، سرکاری اور نیم سرکاری اداروں میں تعصب برتا جاتا ہے، اور اس میں میڈیا کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے، ایسے حالات میں مسلمان اپنی دفاع میں کچھ کہنے کی ہمت نہیں کرپاتے ، کیونکہ حریف کی آواز میں اتنی شدت ہوتی ہے کہ اس کے سامنے مسلمانوں کی چیخ وپکار بھی دب جاتی ہے، ایسے حالات میں سب سے زیادہ نقصان اس ملک کا ہوتا ہے، اور اس کی ترقی کی رفتار دھیمی پڑجاتی ہے، اور چونکہ ملک کی ترقی اور اس کی خوشحالی کی اہم ذمہ داری خود مسلمانوں کی بھی ہے، اس لیے ان کی اہم ترین ذمہ داری ہے کہ ہندو مسلم منافرت کی جو فضا بنائی جارہی ہے اس کو ختم کرنے کی پوری کوشش کی جائے ، اور اس کا مؤثر اور ٹھوس اقدام یہی ہے کہ غیر مسلموں کے ذہنوں کو صاف کیا جائے اوراسلام کی حقیقی تصویر ان کے سامنے پیش کی جائے، اور اس کا بہترین طریقہ ان کے ساتھ بہتر تعلقات ہیں۔
لیکن یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ اسلام نے جس طرح غیر مسلموں سے حسن سلوک کی ہدایت دی ہے اور اس کو پسند کیا ہے وہیں اس کے کچھ حدود بھی متعین کیے ہیں،چانچہ اس نے عام انسانی وسماجی تعلقات کی اجازت ضرور دی ہے لیکن ایسے تعلقات سے منع کیا ہے جس سے اسلام کی تعلیمات پر زد پڑتی ہوچنانچہ غیر مسلموں کی ایسی مجلسوں میں شرکت کی اجازت نہیں جس میں اسلامی تعلیمات یا اسلامی شخصیات کا مذاق اڑیا جاتا ہو، ان کے مذہبی پرگراموں میں شرکت کرنا ، ان کے جیسا لباس یا رہن سہن اختیار کرنا، ان کے مذہبی رسوم کو صحیح سمجھنا، مسلمانوں کے خفیہ رازو ں پر ان سے گفتگو کرنا اور ایسی ہم نشینی اختیار کرنا جس کے منفی اثرات اخلاق و کردار پڑتے ہوں، اس طرح کے تعلقات کی قطعی اجازت نہیں ہے۔
لیکن افسوس آج کے حالات کچھ اسی طرح ہیں کہ ایک بڑی تعداد غیر مسلموں سے تعلقات کے نتیجہ میں ان سے اس حد تک متاثر ہے کہ بسا اوقات وہ معاشرہ کے باغی ہوجاتے ہیں اور اسلام کو بدنام بھی کرتے ہیں، آج کل اخبارات میں جب جرائم پیشہ افراد کے نام چھپتے ہیں تو ان میں مسلمانوں کے نام بھی شامل ہوتے ہیں، معاشرہ میںشاید ہی کوئی ایسی برائی ہو جس میں کوئی مسلمان ملوث نہ ہو، چوری، جوا،شراب، فریب، لوٹ، رشوت اور نہ جانے کون کون سی معاشرتی خرابیاں ہیں جن میں سر عام مسلمانوں کے نام اچھالے جاتے ہیں، اور اس سے پورا مسلم معاشرہ بدنام ہوتا ہے، اس کی بنیادی وجہ مسلمانوں کا غیر مسلموں کے ساتھ بغیر کسی اسلامی بندش کے تعلقات رکھنا، پورے طور پران کے ساتھ معاشرت اختیار کرنا،اور نتائج سے آنکھیں بند کرکے ان کے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنا اور ان کے ثقافتی پروگراموں میں شرکت کرنا ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ غیر مسلموں سے تعلقات میں افراط وتفریط نہ ہونے پائے، نہ ان سے اتنی قربت بڑھائی جائے کہ اسلامی شعار اور ملی تشخص متأثر ہو اور نہ اس قدر دوری اختیار کی جائے کہ وہ مسلمان اور اسلامی تعلیمات کو سمجھ ہی نہ سکیں، اور غلط فہمی میں مبتلا رہیں!