انسان کا مقصودِ آفرینش

غیر مسلموں سے تعلقات
اگست 25, 2025
غیر مسلموں سے تعلقات
اگست 25, 2025

انسان کا مقصودِ آفرینش

محمدجاویداخترندوی(استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء)


امت مسلمہ کی طویل تاریخ ہمارے سامنے اس دن سے ہے جب کہ مکہ میں ان کی تعداد نہایت کم تھی، اوروہ بہت کمزور سمجھے جاتے تھے ،اندھی جاہلیت کا ان پردبدبہ تھا، روم و ایران کے لوگ ان پر ٹوٹے پڑے تھے ، صلیبی اور تاتاری حملوں نے ان کو منتشر اور نڈھال کردیاتھا، اور پھر سامراجیت و صہیونیت کا دور آیا جب وہ اپنے ناپاک ترین منصوبے اور کارپردازان کے ساتھ اسلام کو پسپااور نیست ونابود کرنے میدان میں آئی،مگریہ ساری شیطانی طاقتیں مل کر بھی اسلامی دعوت کا خاتمہ نہ کرسکیں ؛ بلکہ اسلام کی مثال تو ہمیںاس خالص سونے کی طرح نظر آتی ہے جس کو آگ میں ڈالنے سے اس میں مزیدچمک او ر تازگی پیدا ہوجاتی ہے ، یہیں سے ایک مسلمان کے لیے یہ جان لینا ضروری ہے کہ اس کی اصل پونجی اس زندگی میں اس کا دین ہی ہے ، جس کے بارے میں اس سے روزِ قیامت ضرور سوال کیا جائے گا ، اس لیے کہ اس کے علاوہ ہر چیز کا بدل اس دنیا میں موجود ہے ؛ لیکن کوئی ایسی چیز اس زرق برق د نیا میں نہیں پائی جاتی جو اس کے خلا کو پُرکرے ، اور اس کی نیابت کا فریضہ انجام دے ۔
دنیوی اور اخروی دونوں زندگیوں میں خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو ان حقائق پر ایمان لائے اور انہی کی روشنی ورہبری میں زندگی کاسفر طے کیا ،اسی کے لیے مرے اور اسی کے لیے زندہ رہے، ان کو لوگ اگرچہ بوسیدہ کپڑوں ،حقیر جگہوں اور ذلت و رسوائی کی حالت میں دیکھیں ؛لیکن وہ ہر حال میں خوش رہتے ہیں ،رب حکیم وعلیم انہیں جس طرح بھی آزماتا ہے‘ وہ کھرے اترتے ہیں ، اور اللہ کے وعدے پرکلی اعتماد کرتے ہیں ‘ جو کبھی بے وفانہیں ہوتے ، اس طرح ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی مدد آتی ہے ، جس کی معرفت انہی مخلص افراد کو حاصل ہوتی ہے جو اس کو محسوس کرتے ہیں ، اس کے مطابق زندگی گذارتے ہیں ، اور وہ مدد اللہ کے اولیاء ، دین حنیف کے انصاراور ملت اسلامی کے داعیوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے، ان کے سامنے گھٹاٹوپ تاریکیوں میں بھی روشنی پیدا کردیتی ہے ، اور ان کی دستگیری کرتی ہے ، تاکہ وہ اپنا سفر جاری کھیں اور سرزمین پر اللہ کا کلمہ بلندکردیں ۔
ان حالات میں حق کے داعیوں کا فرض ہے کہ وہ کتاب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں،اس کے احکام کو زندگیوں میں نافذ کریں، لوگوں میں قرآن کی دعوت اور لازوال پیغام کو عام کریں، نوجوانانِ ملت کے اخلاق کو قرآن کی روشنی میں سنواریں،دین و قرآن کی بنیاد پر امت کو ایک جھنڈے تلے جمع کریں،کہ قرآن مجید نے ہی قوموں کی اصلاح کی اور ان کو راہ ہدایت پر گامزن کیا ہے،اور ملک وملت کی تعمیر اسلامی نہج پر کریںکہ بس اسی میں کامیابی ہے اور یہی انسان کا مقصود ِآفرینش ہے ۔
خ خخ