سوال و جواب
مارچ 30, 2023سوال و جواب
اگست 25, 2025سوال و جواب
مفتی محمد ظفر عالم ندوی(استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء)
سوال:انسانی آبادی کے پھیلاؤ اور اس کی بڑھتی ضرورت کے پیش نظر آج کل سائنسی لیپ اور انجکشن کے ذریعے جانوروں کی مصنوعی افزائش (Artificial Insemination) کی جا رہی ہے تاکہ مارکیٹ کے مطالبے (Demands) پورے کیے جا سکیں ،کیا شرعی نقطۂ نظر سے جانوروں کی یہ مصنوعی پیدائش شرعاً درست ہے؟کیا اس کا استعمال جائز ہے؟
جواب: جانوروں کی مصنوعی افزائش ‘خواہ یہ عمل جانوروں کی نسل بچانے یا لوگوں کی ضرورت پوری کرنے کےلیے ہو، شرعاً جائز ہے۔
سوال : لوگوں میں یہ بات بھی پھیل گئی ہے کہ بناوٹی جانور کے عمل میں ایسی دوائیں دی جاتی ہیں جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے،ایسی صورت میں کیا اس کا استعمال شرعاً جائز ہے؟
جواب:اگر تحقیق سے یہ معلوم ہو جائے کہ مصنوعی جانوروں کے گوشت کے استعمال سے انسانی صحت کو نقصان پہونچتا ہے بالخصوص جب کہ اس میں حرام اشیاء ملائی جاتی ہوں تو ان کا استعمال شرعاً ممنوع ہوگا۔ہاں! اگر یہ معلوم ہو جائے کہ ان جانوروں کا استعمال مضر نہیں ہے تو پھر اس کے استعمال کی شرعاً اجازت ہوگی۔
سوال: یہ بات بھی مشہور ہے اور یہ چیز دیکھنے میں بھی آتی ہے کہ مرغیوں اور مچھلیوں کی افزائش میں حرام اور ناپاک غذا استعمال کی جاتی ہے،ایسی صورت میں ان کا استعمال کیا شرعاً درست ہوگا؟
جواب: مرغیوں اور مچھلیوں کی افزائش اور پالن کرنے والوں کو چاہیے کہ پاک اشیاء اور غذاؤں سے ان کی افزائش کریں؛لیکن اگر ناپاک اشیاء اس قدر زیادہ ہوں کہ ان کے استعمال میں ان ناپاک چیزوں کی مہک آرہی ہو تو ان کا استعمال شرعاً درست نہیں ہوگا۔ہاں!اگر یہ غذائیں کم مقدار میں ہوں اور جسم میں اس طرح تحلیل اور جذب ہو جائے کہ ان کی مہک نہ آتی ہو تو ایسی صورت میں شرعاً استعمال کی گنجائش ہوگی۔
سوال: حفاظتی و جاسوسی اور دیگر جائز مقاصد کے لیے،اسی طرح اچھی اور خوبصورت نسل کی تیاری کے لیے گھوڑے، کتے، اور دیگر جانوروں کی مصنوعی افزائش کرنا اور انہیں انجکشن دے کر ٹریننگ کے مراحل (Procedure) سے گزارنا شرعاً کیسا ہے؟
جواب: حفاظت یا جاسوسی یا دوسرے مقاصد جائز ہیں اور ان چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے،یا اچھی و خوبصورت نسل تیار کرنا بھی انسانی ذوق کی تسکین کے لیے ہوتی ہے، اس لیے یہ شرعاً جائز ہے۔
سوال: کیا آپریشن کی مشق اور دوسرے میڈیکل مقاصد کی خاطر جانوروں کی افزائش ان کی ٹریننگ اور میڈیکل پروسیس سے گزارنا شرعاً کیا ہے؟
جواب: چونکہ انسانی خدمت اور صحت کی خاطر یہ عمل کرنے پڑتے ہیں،اس لیے شرعاً اس کی اجازت ہوگی؛البتہ اس قسم کی ٹریننگ میں کوئی ایسی حرکت نہ ہو جو جانوروں کے لیے تحمل سے زائد تکلیف ہو۔
سوال: بعض مرتبہ قریب المرگ اشخاص پر مصنوعی آلات لگا کر ان کی دل کی حرکت کو جاری رکھا جاتا ہے،اگر یہ آلات ہٹا دیے جائیں تو دل کی حرکت بند ہو جاتی ہے اور وہ مردہ کی طرح ہو جاتا ہے تو کیا ان مصنوعی آلات کا ہٹانا جائز ہے یا نہیں؟کیا یہ قتل کے حکم میں تو نہیں ہے؟
جواب:وینٹی لیٹر پر جو مریض ہوں اگر ان کے دماغ کی کار کردگی مکمل طور پر بند ہو جائے اور تین ماہرو واقف کار ڈاکٹر اس بات پر متفق ہوں کہ اب یہ کارکردگی دوبارہ بحال نہیں ہو سکتی ہے تو اس کے جسم سے لگے ہوئے آلات ہٹا لینا درست ہے خواہ ان آلات کی وجہ سے مریض میں حرکت قلب اور نظام تنفس قائم ہو۔[عصر حاضر کے پیچیدہ مسائل کا شرعی حل،ص:۱۸۵]
سوال: دندان سازی کے لیے جانور کی ہڈی استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: جانور کی ہڈیوں سے فائدہ اٹھانا جائز اور درست ہے،خواہ وہ جانور شرعی طریقہ پر ذبح کیے گئے ہوں یا ذبح نہ کیے گئے ہوں کیونکہ ہڈیوں میں حیات نہیں ہے، لہٰذا موت بھی حلول نہیں کرتی ہے۔[ہدایہ:۳/۵۵]
سوال: مسلمان عورت مرد ڈاکٹر سے علاج کرا سکتی ہے یا نہیں؟اسی طرح مسلمہ طبیبہ مردوں کا علاج کر سکتی ہے یا نہیں؟
جواب: مرد و زن کے مسائل علیحدہ علیحدہ ہیں،اپنے مخصوص معالجات میں مرد مرد ڈاکٹر کی طرف اور عورت عورت ڈاکٹرنی کی طرف رجوع کر ے؛ کیونکہ موافق جنس کے اعضاء پر نظر پڑنا اہون ہے؛ البتہ بوقت ضرورت مرد طبیب کے لیے عورت کا علاج کرنا اور عورت کے لیے مرد کا علاج کرنا جائز ہے،فقہاء نے ضرورت کے پیش نظر اس کے جواز کا فتوی دیا ہے۔[فتاوی ہندیہ:۵/۳۳۰]