اسلامی نظامِ تکافل: ایک بہترین متبادل

سوال و جواب
اگست 25, 2025
سوال و جواب
اگست 25, 2025

اسلامی نظامِ تکافل: ایک بہترین متبادل

منور سلطان ندوی (رفیق مجلس تحقیقات شرعیہ، ندوۃ العلماء)


انسانی زندگی خطرات سے پرہے،کوئی فردکبھی بھی کسی حادثہ سے دوچارہوسکتاہے،زندگی میں جس قدر سہولتیں بڑھ رہی ہیں اسی قدر حادثات میں اضافہ ہوتا جارہاہے، کبھی نقصان جسمانی ہوتاہے،مثلا بیماری،کبھی مادی مثلا کاروبار میں نقصان کاہونا،کبھی ناگہانی آفات سے انسان مبتلا ہوتاہے،مثلا سیلاب، زلزلہ،موجودہ وقت میں بہت سے امراض ایسے ہیں کہ عام انسان نے لئے اس کے اخراجات کو برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے، صحت کے مسائل دن بدن بڑھتے جارہے ہیں، ان خطرات اور حادثات کی تلافی کرنے کو رسک مینجمنٹ کہاجاتاہے۔
رسک مینجمنٹ کا نظام ہردور میں رہاہے، اسلام نے اخوت کابہترین تصورپیش کیا،اور انصار ومہاجرین صحابہ نے اس کوجس طرح برتاہے اس کی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی،زکوۃ اور صدقہ کانظام اسی لئے ہے کہ سماج میں اقتصادی ناہمواری کو ختم یاکم کیاجائے ،غریبوں کی مدد، ضرورت مندوں کی حاجت روائی ،پریشان حال افراد کو پریشانی سے نجات دلانااسلامی کی بنیادی تعلیمات ہیں،کوئی شخص مصیبت میں ہے،ناگہانی حادثہ سے دوچار ہے یاناقابل برداشت مسائل کااسے سامنا ہے تواسے تنہانہیں چھوڑاجائے گا، مسلم معاشرہ کی ذمہ داری ہے کہ مصیبت سے دو چار اور مسائل سے پریشان فرد کی اس طرح مدد کی جائے کہ وہ اس پریشانی سے نجات پاسکے،شرعی تعبیر میں اس نظام کو تکافل(انشورنس) کہا جاتا ہے۔
تکافل کالفظ کفل سے بناہے،جس کاایک معنی ضمانت لینااور تربیت وپرورش کرنابھی ہے، قرآن مجید میں اس معنی میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے:
فقال اکفلنیہا وعزنی فی الخطاب۔ (سورہ ص:۲۳)اب یہ کہتاہے کہ وہ بھی مجھے دے دواور بات چیت میں مجھے دباتاہے۔
سورہ آل عمران(۳۷) میں ہے: وکفلہا زکریا اور اس کی زکریانے کفالت کی۔
احادیث میں کفل سے مشتق الفاظ آئے ہیں، حضرت عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد کے واسطہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری صحابی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں نمازجنازہ پڑھانے کے لئے لائے گئے،آپ ﷺ نے فرمایا: آپ کے اس ساتھی پر قرض ہے؟ابوقتادہ نےکہا: انااکفل بہ (میں اس کا ضامن ہوں) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:قرض اداکرنے کا؟ انہوں نے کہاہاں قرض اداکرنے کا۔(مسند احمد،ج۳۷،ص:۲۶۴)
اس بنیادی مفہوم کے پس منظر میں تکافل کا لفظ ایک اصطلاح کے طورپرمروج ہے جس کے معنی ہیں ایک دوسرے کاضامن بننا،یاباہم ایک دوسرے کی دیکھ بھال کرنا۔
معجم لغۃ الفقہاء میں تکافل کامفہوم اس طرح بیان کیاگیاہے:
کفالت،نفقہ اور اعانت کاتبادلہ ،یعنی خیال رکھنااور برداشت کرنااور اسی سے تکافل المسلمین ہے،یعنی مسلمانوں کاایک دوسرے کا خیرخواہ ہونااور خرچ کے ذریعہ خیال رکھنا۔(ص:۱۴۲)
سیدقطب شہیدؒ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:
بلاشبہ اجتماعی تکافل ہی اسلامی معاشرہ کی بنیاد ہے،اور مسلمانوں کی جماعت پابند ہے کہ وہ اپنے کمزوروں کے مفادات کا خیال رکھے۔
(فی ظلال القرآن،ج۱،ص:۲۱۲)
اسلام میں تکافل کی بنیاد باہمی تعاون،باہمی امداداور تبرع پرقائم ہے،قرآن مجیداور احادیث میں اس سلسلے میں ترغیبی ہدایات موجود ہیں،ارشاد باری ہے:
وتعاونوا علی البروالتقوی (مائدہ:۲) نیکی اور تقوی کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرو۔
انما المومنون اخوۃ (حجرات:۱۰) مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
والمومنون والمومنٰت بعضہم أولیاء بعض ۔(مائدہ:۵۱) مومن مرد اور مومن عورت ایک دوسرے کے دوست ہیں۔
اسلام نے اپنے ماننے والوں کایہ مزاج بنایا ہے کہ وہ دوسرے بھائیوں کا دکھ دیکھ نہیں سکتے، کوئی مسلمان تکلیف میں ہو تو پوری دنیا کو مسلمانوں کو بیچین ہوجاناچاہئے جب تک کہ اس کی پریشانی ختم نہ ہوجائے،رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو ایک جسدکی طرح قراردیاکہ جسم کے کسی حصہ میں تکلیف ہوتوپوراجسم اسے محسوس کرتاہے،آپ ﷺ نے فرمایا:
تری المومنین فی تراحہمہم وتوادہم وتعاطفہم کمثل الجسد اذا اشتکی عضو تداعی لہ سائر الجسد بالسہر والحمی۔ (صحیح بخاری،حدیث نمبر:۵۶۶۵)
تم مسلمانوں کو ایک دوسرے پر رحم کرنے، محبت کرنے،اور شفقت کرنے میں ایک جسم کی طرح دیکھوگے ،اگر ایک عضو بیمار ہوگاتوساراجسم بخار اور بیداری میں اس کے ساتھ ہوگا۔
المسلم اخو المسلم لا یظلمہ ولا یسلمہ ومن کان فی حاجۃ اخیہ کان اللہ فی حاجتہ ومن فرج عن مسلم کربۃ فرج اللہ عنہ کربۃ من کربات یوم القیامۃ ومن ستر مسلما سترہ الہ یوم القیامۃ(صحیح بخاری:۶۵۵۱،صحیح مسلم :۲۵۸۰) مسلمان مسلمان کا بھائی ہے،نہ وہ اس پر ظلم کرتاہے،اورنہ اسے دشمن کے حوالہ کرتا ہے، جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی ضرورت پوری کرتا ہے اللہ تعالی اس کی ضرورت پوری کرے گا،اور جو کسی مسلمان کی کوئی تکلیف دور کرے گااللہ تعالی قیامت کے دن اس کی تکالیف میں سے ایک تکلیف کو دور کرے گا،اور جوکسی مسلمان کے عیب کوچھپائے گااللہ تعالی قیامت کے دن اس کے عیب کو چھپائے گا۔
المسلم اخو المسلم لا یظلمہ ولا یظلمہ ولایخذلہ ولایکذبہ ولایحقرہ ۔
[صحیح مسلم،حدیث نمبر:۲۵۶۴
مسلمان مسلمان کابھائی ہے،وہ نہ اس پر ظلم کرتاہے نہ اسے بے سہارا چھوڑتاہے،نہ اسے جھوٹ بولتاہے،اور نہ اسے حقیر سمجھتاہے۔
حضرت ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ سفرمیں تھے،اچانک ایک شخص اپنی سواری کے ساتھ آیااور دائیں بائیں کچھ دیکھنے لگا،گویاوہ کچھ تلاش کررہے ہوں،یہ منظر دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا:
من کان معہ فضل ظہر فلیعد بہ من لا ظہر لہ ومن کان لہ فضل من زاد فلیعد بہ علی من لا زاد لہ ۔(صحیح مسلم،حدیث نمبر:۱۷۲۸)جس کے پاس زائد سواری ہے وہ اس کو دے دے جس کے پاس سوار نہیں ہے،اور جس کے پاس زائد کھانایاغلہ ہووہ اس کودے دے جس کے پاس غلہ نہ ہو۔
مذکورہ بالاآیات واحادیث سے واضح ہوتاہے کہ ہرمسلمان پر دوسرے کمزوروپریشان حال مسلمان کی مددکرنالازم ہے،سماج کے خوشحال طبقہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ کمزور طبقہ ،محتاج اور معذورافرادکی ذمہ داری قبول کرے۔
باہمی مدداور تعاون کی ایک شکل انفرادی ہے کہ ہرفرداپنی صلاحیت اور طاقت کے لحاظ سے دوسرے ضرورت مندمسلمان کی مددکرے، ہرعلاقے کے مسلمانوں میں یہ مزاج موجودہے، اس کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ اجتماعی طور پر ایسا نظام بنایاجائے۔
معاشی اعتبارسے تمام افراد برابرنہیں ہوسکتے ،تفاوت باقی رہے گایہ ایک فطری امر ہے،مگرسماج کے تمام افرادکی زندگی کی بنیادی ضرورتیں پوری ہونی چاہئے،انہی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے زکوۃ،صدقات اور عشر کانظام ہے،جس کا مقصد سماج کے کمزوراور معاشی بدحالی کے شکار افراد کو اوپرلاناہے،سید قطب شہید ؒ نے لکھاہے کہ زکوۃ اسلامی نظام تکافل کی شاخوں میں سے ایک اہم شاخ ہے۔
(فی ظلال القرآن ،ج۴، ص: ۴۱)
زکوۃ وصدقات اور عشرایک مستقل نظام ہے،اس کے علاوہ انفاق فی سبیل اللہ کی غریب کی گئی ہے،یہ عام حکم ہے،اسی طرح ہنگامی حالات میں انفاق کاحکم الگ ہے۔
شریعت میں تکافل کی ایک اور نظیر ملتی ہے،غیرادادی طورپرقتل کی صورت میں دیت واجب ہوتی ہے،اور یہ دیت قاتل کے ساتھ اس کے عاقلہ (افراد خاندان مثلا بھائی،چچا،اولاد وغیرہ)پربھی واجب ہوتی ہے،اس کامقصد یہی ہے کہ دیت کی رقم کاتنہااداکرنابہت مشکل ہے، لیکن خاندان افراد مل کو اس بوجھ کو بانٹ لیں گے تواس کی ادائیگی آسان ہوجائے گی،مشہورحنبلی فقیہ علامہ ابن قدامہ نے اس بارے میں بڑی اچھی بات لکھی ہے ،وہ فرماتے ہیں:
اس میں حکمت یہ ہے کہ غیر ارادی طور پر ہونے والے جرائم بکثرت ہوتے ہیں،اور آدمی کی دیت بھی بہت زیادہ ہوتی ہے،لہذا اس کو اکیلے خطاکارکے مال میں واجب قراردینا اس پراس کے مال میں ناقابل برداشت ذمہ داری ڈالنے کاباعث ہے،چنانچہ حکمت کاتقاضایہ ہے کہ قاتل کابوجھ ہلکاکرنے کے لئے بطور ہمدردی واعانت اس کی دیت عاقلہ پربھی واجب قراردی جائے۔ (المغنی ،ج۱۲،ص:۲۱)
بقیہ صفحہ۲۵؍ پر
بقیہ صفحہ۰ ۲؍کا
شریعت میں امدادوتعاون کے احکامات، انفاق کی ترغیبات اور دیت کے مذکورہ نظام کوسامنے رکھ کر باہمی تعاون کی ایک منظم شکل بنائی گئی ہے،جسے تعاون پرمبنی انشورنس یامیچول انشورنس کہا جاتا ہے،یہ اسلامی نظام تکافل کی ایک بہترین شکل بھی ہے،اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ایک پیشہ ،ایک ادارہ ہ سے وابستہ افراد باہمی رضامندی سے یہ طے کرلیں کہ ہرفردماہانہ ایک متعین رقم جمع کرے گا،اورجب کبھی ان میں سے کسی کوکوئی حادثہ پیش آئے یافلاں فلاں مسئلہ سے دوچارہوتواس اجتماعی فنڈسے اس کی اس مقدارمیں مدد کی جائے گی۔
مثال کے طور پرایک علاقہ کے آٹو ڈرائیوراس طرح کی صورت اختیارکرسکتے ہیں کہ ہرماہ ایک متعین رقم جمع کریں،اور یہ طے ہوکہ جب کبھی ان کی ٹیم کے کسی ڈرائیورکایااس کی گاڑی کااکسیڈینٹ ہوگایاڈرائیورکسی ناگہانی حادثہ سے چارہوگا، تونہیں اتنی رقم دی جائے گی تاکہ اس کی ناقابل برداشت مصیبت قابل برداشت بن جائے۔
ایک کمپنی یاایک ادارہ کے عملہ کے درمیان بھی اس طرح باہمی تعاون کانظام بن سکتاہے،اس نظام میں ہرفردتبرع کی نیت سے رقم کرتاہے،لہذا ضرورت مندافراد طے شدہ اصول کے تحت رقم لے سکتے ہیں ،اور جوافراد حادثہ سے محفوظ رہے وہ رقم واپس لینے کے حقداربھی نہیں ہوں گے،کیونکہ انہوں نے تبرع کی نیت سے رقم جمع کی تھی،بلکہ وہ ثواب کے حقدار ہوں گے۔
معاصرفقہاء اور فقہی اکیڈمیوں نے اس کو جائزقراردیاہے،حضرت مولاناخالدسیف اللہ رحمانی تحریرفرماتے ہیں:
انشورنس کی پہلی صورت جوباہمی تعاون پر مبنی ہے،تمام ہی اہل علم کے نزدیک جائزہے،اس میںنفع کمانامقصود نہیں ہوتاہے بلکہ افرادواشخاص کا ایک گروہ طے شدہ خطرہ پیش آنے کی صورت میں مصیبت زدہ شخص کی مدد کرتاہے،اس لئے اس کے ناجائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں،اس میںیک گونہ ’’غرر ‘‘ضرور پایاجاتاہے کہ نہ معلوم اس اعانت کافائدہ کسے پہونچے گا،تاہم یہ اس لئے مضرنہیں کہ غرران معاملات میں ممنوع ہے جن میں دونوں طرف سے عوض کاتبادلہ ہو،تبرعات میں غرر سے کوئی نقصان نہیں،اور انشورنس کی یہ صورت اسی قبیل کی ہے۔(قاموس الفقہ، ج۲،ص:۳۹۶)
مروجہ تجارتی انشورنس کی شکلیں ربوااور قمارمیں مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہیں، اکثرعلماء اور فقہی اکیڈمیوں کایہی فیصلہ ہے،اس تناظر میںحادثات،ناگہانی مصائب اور ناقابل براشت مادی نقصانات سے بچنے کے لئے تکافل ایک متبادل حل ہے۔
مسلمانوں کے زیراہتمام چلنے کی والی تجارتی کمپنیوں میں ملازمین کے لئے،اسی طرح تعلیمی ورفاہی اداروں میں خدمت انجام دینے والے معلمین اور ملازمین کے لئے باہمی تعاون پرمبنی یہ نظام بنایاجائے تواس سے ضرورت مندوں کی ضرورت کی تکمیل کاسامان اچھے اندازمیں فراہم ہوگا،کسی پریشان حال کی پریشانی اس طرح دورہوجائے گی،باقی شرکاء پرکوئی بوجھ بھی نہیں ہوگا،اور عزت نفس بھی محفوظ رہے گی۔اس طرح کانظام ایک بڑافائدہ یہ بھی ہے کہ چند سالوں میں اس تعاونی مدمیں خطیررقم جمع ہوجاتی ہے، جو ناگہانی مصائب کے وقت بہترین مداواثابت ہو سکتی ہے۔