علامہ سید سلیمان ندوی – ایک شناخت نامہ

رابطہ ادب اسلامی شاخ بہار کی جانب سے پٹنہ میں مورخہ ۸۱-۹۱/ فروری ۳۲۰۲ء کو منعقد سیمینار میں پیش کی گئی تحریر
مارچ 20, 2023
شیدائےعلم مولانا عبدالسلام ندویؒ
اگست 25, 2025
رابطہ ادب اسلامی شاخ بہار کی جانب سے پٹنہ میں مورخہ ۸۱-۹۱/ فروری ۳۲۰۲ء کو منعقد سیمینار میں پیش کی گئی تحریر
مارچ 20, 2023
شیدائےعلم مولانا عبدالسلام ندویؒ
اگست 25, 2025

علامہ سید سلیمان ندوی – ایک شناخت نامہ

مولاناشاہ اجمل فاروق ندوی (دہلی)


علم و حکمت، روحانیت و ثقاہت، عصری حسیت اور مزاج، لباس اور کھان پان کی خوش ذوقی کو عالی نسبی اور ظاہری وجاہت کی خوش بو کے ساتھ ملا کر جو آمیزہ تیار ہوتا ہے اسے سید سلیمان ندوی کا نام دیا جاتا ہے۔ وہ سلیمانِ عالی شان جو ۱۸۸۴ م کو صوبۂ بہار کے ایک گاؤں سے اٹھا، تین چار دہائیوں تک مملکتِ علم کی سلطانی کی اور ۱۹۵۳م میں کراچی میں جا سویا۔ دنیا سے گئے تقریباً پون صدی بیت گئی، لیکن دنیائے علم اس رجلِ عظیم سے بے نیاز نہ ہوسکی۔ علم نہایت گہرا اور وسیع۔ طبیعت انتہائی سادہ، بے ضرر اور رقت آمیز۔ کردار ایسا صاف شفاف کہ مخالفین کے نزدیک بھی ثقہ قرار پائے۔ قلم نہایت ادیبانہ و مخلصانہ۔ گفتگو مصلحانہ اور فکر انگیز۔ دوسروں کی دوسرے جانیں، اپنا حال تو یہ ہے کہ سید طائفۃ العلماء،شیخ الاسلام علامہ سید سلیمان ندوی کا ذکر آتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم کسی اتاہ سمندر کے کنارے بیٹھے ہیں، جو ظاہری طور پر تو بالکل پرسکون ہے، لیکن اس کے اندرون میں کوہ قامت موجیں اچھل رہی ہیں۔ ایسا سمندر جو تموج پر آئے تو بڑے بڑے جہازوں کو نگل لے، یوں چھوٹے چھوٹے بچے بھی اس کی موجوں سے کھیلتے پھریں تو اس پر فرق نہ پڑے۔ ایسا سمندر جس کا ارتعاش، گہرائی اور پھیلاؤ دیکھنے والے کو ہیبت زدہ بھی کردے لیکن اس کا حسن و کشش قریب سے اٹھنے بھی نہ دے۔ یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ سید سلیمان ندوی کے علم و فضل اور مزاج و شخصیت کو اچھی طرح پڑھنے سمجھنے والے ہر شخص کا یہی احساس ہوگا۔
علامہ سید سلیمان ندوی ۲۲؍نومبر۱۸۸۴م کو پٹنہ کے اطراف میں واقع ایک قدیم گاؤں دسنہ میں پیدا ہوئے۔ مختلف جگہوں پر ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ۱۹۰۱ م میں دارالعلوم ندوۃ العلماء میں داخلہ لیا۔ کہنا چاہیے کہ بارگاہِ الٰہی میں ندوۃ العلماء کے نام سے شروع ہونے والی تحریک مقبول قرار پائی تھی، اسی لیے اس نے تحریک کے تحت قائم کیے گئے دارالعلوم کے پہلے ثمر کے طور پر سید سلیمان ندوی جیسے انمول ہیرے کو پیدا فرمایا۔ نوجوان سید سلیمان جب پہلے ندوی کی حیثیت سے دنیا کے سامنے آئے اور اہلِ علم کے بڑے مجمع میں عربی زبان میں فی البدیہہ تقریر کی تو مشاہیر امت کو عہد زوال میں بھی عظمت اسلام کا احساس ہوا۔ نوجوان سید سلیمان کو اپنی اس بڑی کارکردگی پر جو سب سے قیمتی ظاہری عطیہ ملا وہ ان کے استاد و مربی شمس العلماء علامہ شبلی نعمانی کا مبارک عمامہ تھا۔ اس کے بعد سید سلیمان ندوی نے دو میدان سنبھالے۔ ایک علمی و تحقیقی اور دوسرا دینی و ملی۔ البتہ ان پر اور ان کی خدمات پر علم و تحقیق کا رنگ غالب رہا۔ ہمارا احساس ہے کہ علامہ سید سلیمان ندوی کی زندگی کے دینی و ملی میدان کا گہرا مطالعہ نہیں کیا گیا۔ ہندستان کے موجودہ حالات میں ان کی تحریریں اور خطبے بڑی رہنمائی کرسکتے ہیں۔
علامہ سید سلیمان ندوی نے ۱۹۰۳م میں پہلا مضمون لکھا تھا، جس کا موضوع’ علم اور اسلام‘ تھا۔ اس کے بعد ان کے قلم سے ایسے ایسے گہرے نقوش قائم ہوئے، جن کی تاثیر ایک صدی گزرنے کے باوجود بھی کم نہیں ہوئی ہے۔ انھوں نے اپنے استادِ عالی مقام کے عظیم الشان منصوبۂ سیرت کو انجام تک پہنچایا۔ سیرت النبیؐ کی تیسری جلد سے لے کر چھٹی جلد تک کی تصنیف کا کام مکمل سید صاحب کا ہے، لہٰذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انھوں نے سیرتِ رسول کے سائے میں مکمل اسلام کی توضیح، تشریح اور عصری تعبیر کا کارنامہ انجام دیا ہے۔ اس کے علاوہ ’رحمتِ عالم‘ اور ’خطباتِ مدراس‘ کے ذریعے نوعمروں اور جوان نسل کو رسولِ کریم ﷺ کے دامن سے وابستہ کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ ساتھ ہی مطالعاتِ قرآنی کے میدان میں موجود ایک بڑے خلا کو پُر کرتے ہوئے ’تاریخ ارض القرآن (دو جلدیں)‘ تصنیف فرمائی۔ یہ صرف قرآنی مقامات کے تعارف پر مبنی تصنیف نہیں بلکہ قرآن کے خلاف بعض مستشرقین کے کھولے ہوئے بڑے محاذ پر ضرب شدید بھی تھی۔ قرآن اور صاحبِ قرآن علیہ السلام کی خدمات کے ساتھ علامہ سید سلیمان ندوی نے ’سیرتِ عائشہ‘، ’حیات امام مالک‘ اور ’حیات شبلی‘ علمی دنیا کی نذر کیں۔ ان تینوں کتابوں نے صرف تین شخصیات کے حالات جمع نہیں کیے، بلکہ عہد نبوی، عہد تابعین اور عہد جدید کی شخصیات پر بحث و تحقیق اور سوانح نگاری کے اصول و ضوابط بھی سکھائے۔ ہندستانیات کے باب میں علامہ سید سلیمان ندوی ’عرب و ہند کے تعلقات‘ اور’ ہندوؤں کی علمی و تعلیمی ترقی‘ جیسی کتابوں کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ان دونوں کتابوں کے علاوہ’ شذراتِ سلیمانی‘ ، ’مقالاتِ سلیمانی‘ اور ’نقوش سلیمانی‘ میں جدید ہندستان کے اہم واقعات اور ان پر ایسے بھرپور تجزیے موجود ہیں کہ وہ تجزیے بآسانی ایک الگ تصنیف کی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔ ان کی معروف کتاب ’یادِ رفتگاں‘ انیسویں اور بیسویں صدی کی اہم شخصیات پر مشتمل ایک جامع تعارفی اشاریے کے طور پر ہمارے سامنے آتی ہے۔ان تصانیف کے علاوہ ’عمر خیام‘، ’عربوں کی جہاز رانی‘، ’ اہل السنۃ والجماعۃ‘، سفرنامہ افغانستان‘ اور ’برید فرنگ‘ اپنے موضوع پر اتنے مکمل اور بھرپور علمی نقوش ہیں کہ آج تک سالکانِ راہِ علم کے لیے رہنمائی کا کام کررہے ہیں۔ غرض یہ کہ علامہ سید سلیمان ندوی کے قلم سے کوئی مختصر مقالہ بھی نکل گیا تو اہلِ ذوق اصحاب علم نے اس کی بنیاد پر بڑی عمارت کھڑی کردی۔
ان جلیل القدر علمی و تحقیقی خدمات کے ساتھ علامہ سید سلیمان ندوی نے ملّی و ملکی سرگرمیوں سے بھی گہرا تعلق رکھا۔ تحریک ندوۃ العلماء کے سرگرم داعی و مبلغ اور معتمد تعلیم اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کے استاد رہے۔ اپنے استاد و مربی کے خواب کو تعبیر کرتے ہوئے دارالمصنّفین کی تاسیس میں سب سے کلیدی کردار ادا کیا اور اپنی شخصیت اور وقیع خدمات کے ذریعے اسے تصنیف و تحقیق کا تاج محل بنایا۔ دکن کالج، پونا میں فارسی کے استاد رہے۔ الندوہ لکھنؤ اور الہلال کلکتہ کے شریک ادارت رہے۔ ماہ نامہ معارف جاری کیا اور اسے بامِ عروج تک پہنچایا۔ جمعیت علمائے ہند اور تحریک خلافت کے موقر اور سرگرم رکن رہے۔ ریاستِ بھوپال کے قاضی القضاۃ کے منصب عالی پر فائز رہے۔ آخری عمر میں پاکستان کی دستور سازی میں حصہ لیا اور تعلیمات اسلامی بورڈ، پاکستان کے سربراہ رہے۔ آخر کار ۲۳؍نومبر ۱۹۵۳م کو ۶۹؍سال کی عمر میں دنیا کو الوداع کہا۔ آخری آرام گاہ بننے کا شرف کراچی کو حاصل ہوا۔
علامہ سید سلیمان ندوی کی زندگی کا یہ پہلو بڑا مثالی ہے کہ وہ سلطنت علم کے تاجدار ہونے کے باوجود خود پسندی یا اکڑ فوں سے پاک تھے۔ اسی لیے جب انھوں نے دنیائے طریقت میں عملی قدم رکھا تو بے دھڑک اپنے ایک معاصر بزرگ کے سامنے سر جھکا کر دوزانو بیٹھ گئے۔ اپنی روحانی رہنمائی کے لیے انھوں نے منتخب کیا بھی تو ایسے ہی بزرگ کو جو طریقت کے نام پر پھیلی خرافات کو ختم کرنے اور خالص قرآن و سنت کی روشنی میں تزکیے کا عمل انجام دینے کا سب سے بڑا داعی و مبلغ تھا، یعنی مجدد تصوف، حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی فاروقی۔ اس میدان میں سید صاحب کی عظمت کا اندازہ لگانا ہو تو ’سلوکِ سلیمانی‘ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
آج اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ علامہ سید سلیمان ندوی کے لکھے ایک ایک حرف کو پڑھا جائے، اُن کی من موہنی شخصیت کو دل میں اور اُن کے روشن افکار کو ذہن میں بٹھایا جائے اور اُن کے منہجِ علم و تحقیق اور طرزِ حیات کو اختیار کیا جائے۔خ