شیدائےعلم مولانا عبدالسلام ندویؒ

علامہ سید سلیمان ندوی – ایک شناخت نامہ
اگست 25, 2025
علامہ سید سلیمان ندوی – ایک شناخت نامہ
اگست 25, 2025

شیدائےعلم مولانا عبدالسلام ندویؒ

مولانا شاہ اجمل فاروق ندوی ( دہلی)



تحریک ندوۃ العلماء کے دارالعلوم کا شجر ثمرآور ہونے لگا تو اس کے جن ابتدائی پھلوں نے دنیائے علم سے اپنا لوہا منوایا، ان میں ایک بہت نمایاں نام مولانا عبدالسلام ندوی کا بھی ہے۔ شمس العلماء علامہ شبلی نعمانی سے جن لوگوں نے سب سے زیادہ فیض اٹھایا ان میں علامہ سید سلیمان ندویؒ کے بعد مولانا عبدالسلام ندویؒ کا نام آتا ہے۔
سید صاحب اپنی جامعیت کی وجہ سے تلامذۂ شبلی میں سب سے امتیازی شان کے حامل ہوئے۔ یہ جامعیت ان کے کسی اور خواجہ تاش کے حصے میں نہ آسکی، لیکن اس سے اُن کے رفقا کی عظمت پر فرق نہیں پڑتا، ان سب کی اپنی شان مسلم تھی اور رہے گی، یہی معاملہ مولانا عبدالسلام ندویؒ کا بھی ہے، وہ علامہ شبلی نعمانیؒ کے ہم وطن بھی تھے، اس لیے بھی شبلی نے ابتدا سے ان پر خصوصی توجہ دی ہوگی، لیکن نری ہم وطنی شبلی کے یہاں اصل وجہ کشش کبھی نہیں بنتی تھی۔ انھوں نے یقینا نوجوان عبدالسلام کے اندر شرافت، یکسوئی، فطری علمی و ادبی ذوق اور تصنیفی آثار ملاحظہ کیے ہوں گے، اسی لیے ان پر خصوصی توجہ دی اور انھیں مولانا عبدالسلام ندوی بنا دیا۔
مولانا عبدالسلام ندویؒ نے زندگی بھر قرطاس وقلم سے تعلق رکھا، اپنے استادِ عالی مقام کی تمناؤں کے مرکز دارالمصنّفین کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کردی۔ استاد کے کئی علمی منصوبوں کو پوری شان کے ساتھ آگے بڑھایا، آخر کار استاد ہی کے جوار میں ہمیشہ کے لیے محو آرام ہوگئے۔ دراصل یہ وفاداری ہی مولانا عبدالسلام ندوی کی شخصیت کا سب سے اہم تعمیری عنصر اور ان کی علمی وتصنیفی عظمت کی اساس ہے۔ اسی سے وہ دنیائے علم کے سامنے اس بھاری بھرکم انداز میں آسکے جو انھی کا خاصہ ہے، مولانا عبدالسلام ندوی کی شخصیت وحیات کے اس پہلو میں مسلمانوں کی علمی تاریخ کا تسلسل بھی ہے اور آج کے طلبہ اور اسکالرز کے لیے بہت بڑا سبق بھی۔
مولانا عبدالسلام ندوی ۱۶؍ فروری۱۸۸۳ء کو اعظم گڑھ کے ایک گاؤں علاء الدین پٹی میں پیدا ہوئے۔ مختلف اداروں میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ۱۹۰۶ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء میں داخل ہوئے۔ ندوہ میں تعلیم اور ندوہ کے اندر درس گاہ شبلی میں علمی وتصنیفی تربیت شروع کی۔ جس سال داخلہ ہوا، اسی سال ہندو اساطیری نظریے تناسخ یا آواگوان کے متعلق ایک مفصل مضمون لکھا۔ اسے علامہ شبلی نعمانی ؒنے بہت پسند کیا۔ پانچ روپے انعام دیے اور دو قسطوں میں الندوہ میں شائع کیا۔ اس طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مولانا عبدالسلام ندویؒ نے اپنے علمی سفر کا پہلا قدم ہی اتنا ٹھوس رکھا کہ دوربیں آنکھوں نے ان کے روشن مستقبل کا اندازہ لگا لیا۔
۱۹۰۹ء میں وہ ندوہ میں استاد مقرر ہوئے۔ ۱۹۱۲ء میں اپنے مخلص دوست امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ کے ساتھ کلکتہ چلے گئے اور الہلال کی ادارت سے وابستہ ہوگئے۔ ۱۹۱۴ء میں ایک طرف انگریزوں نے الہلال بند کرادیا تو دوسری طرف علامہ شبلی نعمانی رحلت فرماگئے۔ اب مولانا عبدالسلام ندوی نو قائم شدہ ادارے دارالمصنّفین پہنچے، اس کی تاسیس واستحکام کے بھاری پتھر ثابت ہوئے اور وہیں بیٹھ کر تاحیات اپنی قلمی فتوحات علمی دنیا کی نذر کرتے رہے۔ حیاتِ عبدالسلام کا یہ پہلو نہایت قابل رشک اور نصیحت آموز ہے کہ انھوں نے اپنے استاد و مربی کی رحلت کے بعد علامہ سید سلیمان ندویؒ سے عمر میں تقریباً دو سال بڑے ہونے کے باوجود اُن کو تحریری طور پر اپنے استاد کا جانشین تسلیم کیا اور استادِ گرامی کی طرح اُن کی بھی کامل اطاعت و فرماں برداری کا یقین دلایا۔ آفاتِ معاصرت سے واقفیت رکھنے والا کوئی شخص اُن کے خط کے ان جملوں پر انھیں سلام کیے بغیر نہ رہ سکے گا؛ علامہ شبلی نعمانی کی رحلت کے ٹھیک ایک ہفتے بعدوہ سید صاحب کو لکھتے ہیں:
’’میں نے آپ کو مولانا مرحوم کا خلیفۂ بلافصل تسلیم کرلیا ہے، اس لیے جس طرح میں حضرت مرحوم کا وفادار خادم تھا، آپ بھی مجھے اپنا وفادار خادم تصور فرمائیے۔ میں آپ کے زیر ہدایت و زیر نگرانی ہر ممکن خدمت کے لیے تیار ہوں۔‘‘
مولانا عبدالسلام ندوی ؒکو یوں تو کم عمری میں ہی قرطاس وقلم سے عشق ہوگیا، لیکن ۱۹۱۴ء میں دارالمصنّفین پہنچنے کے بعد انھوں نے خود کو فقیر علم بھی بنالیا تھا۔ اب انھوں نے کاغذ قلم ہاتھ میں تھاما تو دنیا کو الوداع کہتے ہوئے ہی چھوڑا۔ نہ کسی عہدہ کی طلب کی، نہ مادی منافع کی لالچ۔ نہ سیاسی داو پیچ ، نہ کھینچ تان۔علم وتحقیق کے لیے یکسو ہوکر بیٹھنا ہر ایک کو نصیب کہاں؟ اس یکسوئی کے بغیر مصنف وصاحب قلم تو بناجاسکتا ہے، عبدالسلام ندوی نہیں بنا جاسکتا۔ ان کی زندگی کا یہ پہلو آج کی علمی دنیا کے لیے بڑا سبق رکھتا۔
انھوں نے ۱۹۱۴ء سے اپنی وفات۱۹۵۵ء تک چالیس سال کامل یکسوئی کے ساتھ علم وتحقیق کی نذر کیے۔ ان کے رفقاء کی تحریریں پڑھو تو پتا چلتا ہے کہ اپنی علمی وتصنیفی عظمت کے باوجود ان کے اندر انا یا خود پسندی تو بہت دور کی بات ہے، ان مذموم اوصاف کا شائبہ بھی نہیں پایا جاتا تھا۔ وہ انتہائی سادہ بلکہ ایک حد تک سادہ لوح واقع ہوئے تھے۔ لیکن جہاں قلم ہاتھ میں لیتے ایک بلند پایہ مصنف، مؤرخ، ادیب اور فلسفہ وکلام کے اعلیٰ رمز شناس کی حیثیت سے جلوہ گر ہوتے ۔
مولانا عبدالسلام ندوی کی تصانیف تین قسم کی ہیں: (۱) تاریخ (۲) ادب (۳) ترجمے۔ پہلی قسم کی کتابوں میں اسوۂ صحابہؓ (دو جلدیں) اسوۂ صحابیاتؓ، حکمائے اسلام (دو جلدیں) تاریخ اخلاق اسلام، امام رازی، سیرت عمر ابن عبدالعزیزؒ جیسی دستاویزی کتابیں شامل ہیں۔
یہ بات بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ مولانا عبدالسلام ندوی نے اردو زبان کو حیاتِ صحابہ کے نور سے اُس وقت منور کیا، جب اردو زبان میں اس موضوع پر کوئی قابل ذکر مستند کتاب موجود نہیں تھی، یعنی ۱۹۲۲ءمیں۔ صحابۂ کرام کے متعلق اردو زبان میں عام ہونے والی دوسری کتابیں، اسوۂ صحابہ کے دہائیوں بعد لکھی گئی ہیں۔ ہمارا احساس ہے کہ مولانا عبدالسلام ندویؒ کی عظمت کے لیے صرف یہی اعزاز کافی ہے، اگرچہ اسوۂ صحابہ کے علاوہ مذکورِ بالا دوسری کتابوں کو بھی اولیاتِ عبدالسلام کہا جاسکتا ہے۔
دوسری قسم کی کتابوں میں’’ شعر الہند‘‘ (دو جلدیں) اور’’ اقبال کامل‘‘ ہیں۔ ان دونوں ادبی کتابوں کی وجہ سے آج ستر سال گزرنے کے بعد بھی دنیائے ادب عبدالسلام ندوی کو سلام کرنے پر مجبور ہے۔ ثانی الذکر کتاب اقبال کامل کی وجہ سے انھیں پہلا ماہر اقبالیات بھی کہاجاتا ہے۔
تیسری قسم یعنی کتابوں کے تراجم میں بھی مولانا عبدالسلام ندویؒ نے بڑے گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ چار مختلف کتابوں کے ترجمے تاریخ فقہ اسلامی، ابن خلدون، ابن یمین اور انقلاب الامم علمی دنیا میں مسلم ہیں۔ ان ترجموں کے سرورق سے اگر اصل کتابوں کا نام ہٹا دیا جائے تو وہ مولاناعبدالسلام ندویؒ کی تصانیف ہی معلوم ہوتی ہیں۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ تاریخ فقہ اسلامی کو چھوڑ کر باقی تین کتابوں کے مرکزی موضوعات پر اردو کا دامن آج بھی تقریباً خالی نظر آتا ہے۔ فقہ اسلامی کی تاریخ پر اگرچہ اردو زبان میں اب کافی کچھ موجود ہے، لیکن مولاناعبدالسلام ندویؒ کا یہ ترجمہ آج بھی اوّلین اردو مآخذ کی حیثیت سے اپنی اہمیت رکھتا ہے۔ ان ترجموں کے علاوہ اوپر اُن کی جن تصانیف کا تذکرہ کیا گیا ہے، تقریباً وہ سب اسی نوعیت کی ہیں،یہ جس دور میں لکھی گئی تھیں اس وقت تو ان موضوعات سے اردو زبان پوری طرح تہی دامن تھی، یوں آج بھی ان موضوعات پراردو میں قابل ذکر علمی سرمایہ موجود نہیں ہے۔ اس سے مولانا عبدالسلام ندویؒ کے تخلیقی ذہن کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔ نثر کی دل کشی اور علم کی گہرائی و گیرائی مقالات مولانا عبدالسلام ندویؒ میں بھی یکجا دیکھی جاسکتی ہے۔ ان کتابوں کے علاوہ مولانا کی کچھ اور کتابیں بھی ہیں۔ بہت سی غیرمطبوعہ ہیں۔اُن کے متعدد مقالات و مضامین بھی مناسب ضخامت کی کتابوں کی شکل میں سامنے آسکتے ہیں۔
مولانا عبدالسلام ندویؒ کی علمی فتوحات پر ایک نظر ڈالنے سے اس حقیقت کی طرف بھی توجہ ہوتی ہے کہ انھوں نے اپنی تصانیف میں اپنے استاد ومربی علامہ شبلی نعمانیؒ کے کاموں کی تکمیل اور منصوبوں کی توسیع کو بھی پیش نظر رکھا ہے۔ اس طرح ہمیں شعر الہند، شعر العجم کا، حکمائے اسلام، الکلام وعلم الکلام کا، امام رازی، الغزالی کا اور سیرت عمر ابن عبدالعزیز، الفاروق کا نقش ثانی یا تتمہ نظر آتی ہیں۔
اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ اسلامیات کے اسکالرز اور مدارس اسلامیہ کے طلبہ خصوصیت کے ساتھ مولانا عبدالسلام ندویؒ کی تصانیف سے کسب فیض کریں۔ ان میں علم کی وسعت بھی ہے، تحقیق کی گہرائی بھی ہے اور زبان وادب کی چاشنی بھی۔ دنیائے علم کے ہر سنجیدہ مسافر کو ان تینوں چیزوں کی ہمیشہ ضرورت رہے گی۔