تعارف وتبصرہ
مارچ 30, 2023مولانا خالد ندوی غازیپوری کی چند تالیفات
محمد اصطفاء الحسن کاندھلوی ندوی(استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء)
دار العلوم ندوۃ العلماء کے سینیر استادِ حدیث اور عمید کلیۃ الدعوۃ و الاعلام مولانا محمد خالد ندوی غازیپوری حفظہ اللہ کی شخصیت علمی و دعوتی حلقوں میں محتاج تعارف نہیں؛ آپ دار العلوم ندوۃ العلماء کے مایہ ناز استاد، خوش آہنگ خطیب اور کہنہ مشق شاعر و صاحبِ اسلوب ادیب ہیں۔ ایک طویل عرصہ سے دار العلوم ندوۃ العلماء میں خدمتِ تدریس انجام دے رہے ہیں، خاص طور پر چالیس سال سے زائد کا عرصہ آپ کو یہاں حدیث کا درس دیتے ہوئے گذر چکا ہے، بالخصوص ’صحیح بخاری‘ کافی عرصہ سے آپ کے زیرِ درس ہے ، جس سے فنِ حدیث پر آپ کی گہری نظر اور اس فن کے دقائق سے واقفیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
اس وقت ہمارے سامنے مولانا موصوف کی تین تالیفات ہیں، جن میں دو کا تعلق صریح طور پر فنِ حدیث سے ہے، ان میں سے ایک کتاب ’’سید المحدثین امیر المؤمنین فی الحدیث اور صحیح بخاری کی خصوصیات‘‘ کے نام سے جب کہ دوسری ’’صحیح مسلم کی خصوصیات‘‘ سے موسوم ہے۔
حدیثِ نبوی کا نام آئے اور اصحابِ نبی کا ذکر نہ ہو‘ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟! جنھوں نے نبی کریم علیہ الصلوۃ و التسلیم کی اک اک ادا کو نگاہِ عقیدت سے دیکھا ، دل و دماغ میں بسایا، اور پوری امانت و دیانت کے ساتھ امت تک پہونچایا، لہٰذا تیسری کتاب ’’صحابۂ کرامؓ کی زندگی کے روح پرور واقعات‘‘ کا عنوان رکھتی ہے۔
آئیے! ایک ایک کرکے ہر کتاب پر نظر ڈالتے ہیں:
(۱) ’’سید المحدثین أمیر المؤمنین فی الحدیث اور ان کی کتاب صحیح بخاری کی خصوصیات‘‘
یہ کتاب تقریبا دو سو ستر صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت اور ان کے احوال و کوائف کو جامع و مؤثر انداز میں پیش کرکے ان کی معرکۃ الآراء کتاب ’صحیح بخاری‘ کو مو ضوعِ سخن بنایا گیا ہے۔
کتاب کل تین ابواب پر مشتمل ہے؛ پہلا باب ’’سیرتِ امام بخاریؒ‘‘ کو بیان کرتا ہے، جس میں ان کے بچپن سے لے کر وفات کے بعد تک کے اہم احوال و کوائف ذکر کیے گئے ہیں، دریں اثناء امام صاحبؒ کی شخصیت کے ہر گوشہ سے سیر حاصل بحث کی گئی ہے، خواہ وہ ان کاحسب نسب ہوتعلیم و تربیت ہو، علمی ذوق ہو، روحانی مقام ہو، فقہی مسلک ہو،اوصاف و کمالات ہوں، یا اخلاق و کردار ہو، تالیفی و تصنیفی خدمات ہوں، ابتلاء و آزمائش ہو، اور آخرمیں ’صحیح بخاری‘ کی تالیف میں امام صاحبؒ کے اسلوب و شروط، احترام و ادب، مقصود و غرض، اور مقام و مرتبت کو ذکر کرتے ہوئے ختم کیا گیا ہے۔
دوسرا باب ’صحیح بخاری‘ کی ’خصوصیات و امتیازات‘ کے عنوان سے معنون ہے، جس میں کتاب اور اس کے مندرجات سے متعلق امور جیسے ’ترجمۃ الباب‘ ، ’اصولِ تراجم‘، ’تعلیقات بخاری‘، حدیث سے استنباط کرنے میں امام صاحبؒ کے اصول و ضوابط، مختلف حدیثی و فقہی مباحث میں امام صاحبؒ کا موقف وغیرہ اہم ترین موضوعات کو پیش کیا گیا ہے۔
تیسرے باب میںتدریب کے طور پر بخاری شریف کی دس احادیث کی تخریج کے نمونے پیش کیے گئے ہیں، جو طلبۂ علم کے بڑی دلچسپ اور مفید چیز ہے۔
اس کتاب کی تالیف میں خود صاحبِ تالیف نے ’عرضِ حال‘ میں ذکر کیا ہے کہ بہت سے مراجع سے استفادہ کیا گیا ہے، تا ہم دو کتابیں ایسی ہیں جن سے زیادہ استفادہ کیا گیا ہے، ان میں ایک کتاب مولانا خالد سیف اللہ قاسمی صاحب مہتمم جامعہ رشید العلوم گنگوہ کی ’سید المحدثین‘ اور مولانا محمد اقبال صاحب ٹنکاروی کی کتاب ’’امام بخاری کا طریقۂ استدلال‘‘۔
(۲) ’’صحیح مسلم کی خصوصیات‘‘
دو سو سے زائد صفحات پر مشتمل مولانا موصوف کی یہ دوسری کتاب‘ حدیث کی دوسری بڑی کتاب ’صحیح مسلم‘ کے حوالہ سے ہے۔
اس کتاب میں مولانا نے تاریخ و علومِ حدیث کے بڑے اہم مباحث کا خلاصہ پیش کردیا ہے، جن کے بغیر اس فن میں ایک قدم بھی آگے بڑھنا دشوار ہے۔ اس کے ضمن میں تدوینِ حدیث، روایت و درایتِ حدیث، حجیت حدیث، جرح و تعدیل، عنعنۃ الرواۃ، صحاح ستہ کا فرقِ مراتب، اور ساتھ میں صحیح مسلم کی خصوصیات، اس کی شروح و مستخرجات، اس کے مقام و مرتبہ، امام مسلم کی شروطِ صحت، اور بہت سے دیگر مباحث جو اہم بھی ہیں اور چشم کشا بھی‘ اس طور پر ذکر کردیے گئے ہیں کہ قاری کو تشفی ہوجاتی ہے۔
مقدم الذکر کتاب کی طرح یہاں بھی صحیح مسلم کی دس احادیث کی تخریج کا نمونہ از راہِ تدریب آخر میں دیدیا گیا ہے، جن کو سامنے رکھ کر دیگر احادیث کی تخریج کا طریقہ معلوم ہوجاتا ہے۔
اہلِ علم جانتے ہیں کہ حدیث کی امہات الکتب اور بہ طورِ خاص صحیح بخاری و صحیح مسلم کی تدریس محض حدیث کا ترجمہ و مطلب بیان کردینے کا نام نہیں؛ بلکہ مصنف، اس کی تالیف، فن اوراسناد و رواۃِ حدیث، سب کے متعلقات کے مجموعہ سے بحث کرکے غموض و ابہام کے بادل چھانٹے جاتے ہیں، تب جاکر مطلع صاف ہوتا ہے، اور ایک طالب علم کو مہرِ نبوت کی وہ روشنی نصیب ہوتی ہے جو اس کے دل و دماغ کو منور کرتی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ مذکورہ بالا دونوں کتابوں کے مطالعہ سے وہ روشنی حاصل ہوتی ہے تو شاید مبالغہ نہ ہو۔
مولانا موصوف کی ان کتابوں کے مطالعہ سے یہ بات بالکل عیاں ہوجاتی ہے کہ مولانا کو علومِ حدیث کے مطول و مفصل مباحث کو نہایت آسان اسلوب میں انتہائی جامعیت و اختصار کے ساتھ پیش کرنے کا ہنر آتا ہے؛ انھوں نے سینکڑوں نہیں‘ ہزاروں صفحات میں پراگندہ مضامین کو اپنے حسنِ انتخاب اور با سلیقہ پیش کش سے اس طرح دریا بکوزہ کردیا ہے کہ اہلِ علم ہی اس کی قدر جانیں گے، اور طلبۂ علم بآسانی استفادہ کریں گے۔
صحیحین کے پڑھنے پڑھانے والوں کے لیے یہ دونوں ہی کتابیں مولانا موصوف کی طرف سے کسی گراں قدر تحفہ سے کم نہیں۔
(۳) صحابۂ کرام کی زندگی کے روح پرور واقعات
تقریبا دوسو صفحات کی یہ کتاب ہے۔ ’صحابۂ کرام کی زندگی‘ کا عنوان تغلیبا ہے، ورنہ خود نبی کریم علیہ الصلوۃ و التسلیم کے متعدد واقعات اس میں مذکور ہیں۔ خود صاحبِ کتاب کے نزدیک یہ کتاب اس غرض سے لکھی گئی ہے کہ: ’’امتِ محمدیہ ان کی سیرت اور سرگرمیوں، نیز ان کی والہانہ محبت اور حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی شیفتگی سے بھرپور فائدہ اٹھائے، اور ان کی دین کے لیے قربانی، ایثار، جاں سپاری، اور جانکاہی کے نمونے ان کی زندگی سے حاصل کرکے اور عمل کے ذریعہ اپنی محبت اور شیفتگی کا مظاہر ہ کرے، اور ان کی سیرت کے واقعات سے خوشہ چینی کرکے ابنی زندگی کے شمع حیات کو فروزاں رکھے‘‘۔
یہ کتاب زیادہ تر عہدِ نبوی کی داستانِ دعوت و عزیمت سناتی ہے، جس کو پڑھ کر آپ علیہ السلام اور آپ کے اصحابؓ کی محبت پیدا ہوتی ہے، اور ان کی عظمت کے سامنے سرجھک جاتا ہے۔ مولانا موصوف نے اس داستان کو خوبصورت زبان اور البیلے اسلوب میں پیش کیا ہے، اور نہ صرف یہ کہ پیش کیا ہے؛ بلکہ ہر واقعہ کو ذکر کرنے کے بعد اس کے فوائد و نتائج، اور اس سے حاصل ہونے والے دروس و عبر، اور اس سے مستنبط اصول و ضوابط نمبر وار نکات کی شکل میں پیش کیے ہیں۔ یہ نکات دو یا تین نہیں؛ بلکہ کہیں کہیں اٹھارہ بیس کی تعداد تک پہونچ گئے ہیں،جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا نے کس دیدہ ریزی سے ان واقعات کا مطالعہ کیا ہے، اور ان کو اللہ تعالی نے کیسی ژرف نگہی عطا کی ہے۔
اس کے علاوہ ہر واقعہ کو ایسا خوبصورت عنوان دیا گیا ہے جو طبیعت میں سرمستی پیدا کرکے قاری کو پڑھنے پر مجبور کردے۔ عوام ہی نہیں خواص بھی اس کتاب کے مطالعہ سے اپنی روح کے لیے سرشاری ، ذہن کے لیے تازگی اور دل کے لیے حرارت کا سامان مہیا کرسکتے ہیں۔
تینوں کتابیں خوبصورت طباعت کے ساتھ ’جمعیت المعارف الاسلامیہ، ٹیگور مارگ نزد دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ سے شائع ہوئی ہیں۔ اول الذکر کی قیمت ۲۵۰، ثانی الذکر کی ۲۰۰ اور مؤخر الذکر کی ۱۷۰؍ روپیہ تجویز کی گئی ہے۔
ندوہ کیمپس اور اس کے اطراف کے کتب خانوں سے طلب کی جاسکتی ہیں، رابطہ کے لیے:
۹۹۸۴۷۷۸۸۰۰