غزہ- دورِحاضر کا شعبِ ابی طالب

تہذیبِ جدیدکے اثرات
اگست 25, 2025
تہذیبِ جدیدکے اثرات
اگست 25, 2025

غزہ- دورِحاضر کا شعبِ ابی طالب

نعمان اختر ندوی (استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء)

بعثت نبوی کا ساتواں سال تھا، کفار مکہ کی شرارت بڑھتی ہی جا رہی تھی، ہر سو ظلم و زیادتی کے مہیب اندھیرے تھے، اہل ایمان کو ہراساں کرنے کے نت نئے طریقے ایجاد ہو رہے تھے، اس کے باوجود اہل ایمان تمام کلفتوں کو برداشت کرتے ہوئے خدائے ذو الجلال کی وحدانیت کے نغمے گنگناتے اور کار دعوت کے فرض منصبی کو ادا کرنے میں مشغول تھے، اسلام کا دائرہ وسیع ہو رہا تھا، یہ بات اُس وقت کے سُپر پاور قریش اور اہل مکہ کو کھائے جا رہی تھی، مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی روک تھام کے لیے میٹنگ ہوئی، اس بار مسلمانوں کے صبر کا آخری امتحان لینے کا منصوبہ تھا، انھیں بھوکا پیاسا موت کے گھاٹ اتار دینے کا پختہ ارادہ تھا، انھیں مکمل سماجی مقاطعہ میں جھونک دینے کا فیصلہ ہوا، ان کے تجارتی، معاشی اور سماجی بائیکاٹ پر معاہدہ ہوا اور سرزمین مکہ ان پر تنگ کر دی گئی، رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خاندان اور مسلمانوں کے ساتھ شعب ابی طالب میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے، اہل ایمان کی آزمائش بڑی سخت تھی، اسبابِ زندگی ختم ہو گئے، فاقہ کشی کی نوبت آ گئی، بچے بھوک سے بلبلانے لگے، انھیں دیکھ کر عورتوں کے کلیجے منہ کو آتے تھے، حالات اس حد تک سنگین ہو گئے تھے کہ روئے زمین کے افضل و اشرف ترین لوگ گھاس اور درخت کے پتے کھانے پر مجبور ہو گئے، تعذیب کا یہ سلسلہ چند روزہ نہیں تھا بلکہ تین سال کی طویل مدت تک جاری رہا، اہل ایمان موج حوادث کے سامنے مضبوط چٹان کی طرح ڈٹے رہے، ظلم سہتے رہے اور حق کہتے رہے، بالآخر وہ سرخرو ہوئے، باطل شکست سے دوچار ہوا، ساڑھے چودہ سو سال گزر جانے کے بعد آج تاریخ فلسطین کے چھوٹے سے علاقہ غزہ میں شعب ابی طالب کا وہی منظر پیش کر رہی ہے ، ایک طرف دنیا کے سپر پاور ممالک اپنے تمام وسائل و اسلام دشمنی کے ساتھ بر سرِ پیکار ہیں، جدید ترین ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی سے نہ صرف لیس ہیں بلکہ ان کے استعمال کے لیے مطلوب قساوت قلبی اور درندگی کی انتہا پر ہیں، بیرونی امداد کے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں، دواؤں اور غذاؤں کی قلت نے لاکھوں انسانوں کو موت کی دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے، بیمار اپنی بیماریوں سے جوجھ رہے ہیں، زخمیوں کے زخم بے مرہم ہیں کوئی مداوا کرنے والا نہیں، بچے بھوک سے روتے اور بلبلاتے ہیں، مائیں عالمِ بے بسی میں ادھر اُدھر بھاگ کر کھانا تلاش کرتی ہیں لیکن ایک دانہ بھی نصیب نہیں ہوتا، مرد اپنے آل و اولاد کی تکلیفیں دیکھ کر کڑھتے ہیں لیکن بے بس ہیں، پورے کے پورے علاقے اور بلند و بالا عمارتیں کھنڈرات اور راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکے ہیں، اب وہاں انسان ہیں نہ ہی اسباب زندگی، کوئی سائل ہے نہ مجیب، ہر طرف بھوک مری اور موٹ کا سناٹا ہے، ہر ایک شجر و حجر بربریت و سفاکی کی خاموش داستان ہے، ایک ایک ذرہ ظلم و زیادتی کی تصویر ہے حالات اس قدر سنگین ہیں کہ اقوام متحدہ، یونیسف اور دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے بہت سارے گونگے بہرے یورپین ممالک بھی چیخ اٹھے کہ اگر اب بھی جنگ بندی نہ ہوئی تو بمباری سے بچنے والے بھوک کی خوراک بن جائیں گے.. الجزیرہ، دی گارجین(The Guardian) بی بی سی، دی نیویارک ٹائمز(The New York Times) وغیرہ کی رپورٹ کے مطابق فیمین Famine(قحط عام) کے کلیدی اشارے acute malnutrition یعنی شدید ترین غذائی قلت کی سطحیں خطرناک حد سے تجاوز کر چکی ہیں۔39% لوگ کئی دن بھوکے رہتے ہیں، اور تقریباً ملنے والے افراد محسوس کر رہے ہیں کہ ’’قحط جیسی حالت‘‘ہے۔غزہ کے بچوں میں شدید غذائی قلت کی شرح چار گنا بڑھ چکی ہے—شہر غزہ میں پانچ سالہ بچوں میں یہ شرح اب 16.5% ہے!بچوں کی حفاظت کے لیے خوراک پہنچانا، اور humanitarian access کو فوری طور پر ممکن بنانا لازمی قرار دیا گیا ہےیہ امریکہ و یورپین ایجنسیوں کے محتاط اندازے ہیں جبکہ زمینی حقیقت اس سے بھی زیادہ قابل رحم ہے، البتہ ایک صفت جو شعب ابی طالب اور غزہ کے متاثرین میں یکساں ہے وہ ایمان کی صلابت اور محیر العقول ثابت قدمی ہے، ایسی سخت آزمائش اور مصیبتوں کے اس طوفان میں بھی حماس کے خلاف کوئی حرف شکوہ نہیں، مغربی ممالک اور اپنوں کے پروپیگنڈوں سے متاثر ہو کر کوئی احتجاج نہیں بلکہ ان کی زبانیں خدا کی حمد و ثناء سے لبریز ہیں، مائیں اپنے جگر پاروں کی شہادت پر خدا شکر بجا لاتی ہیں، نوجوان راہ خدا اور نام اسلام پر جان قربان کرنے کے لیے دیوانہ وار چلے جاتے ہیں، محبت و فدائیت کی ایسی مثالیں سامنے آئیں جن سے قرن اول کی یادیں تازہ ہو گئیں غزہ کی سرزمین شہداء کے خون سے لالہ زار ہے، خدا کا اٹل اور بے لاگ قانون ہے کہ جوں جوں رات کی تاریکی بڑھتی ہے تو صبح کی روشنی قریب ہو جاتی ہے، خدا کی ذات پر یقین ہے کہ انھیں اندھیروں سے روشنی کا وہ سورج طلوع ہوگا جو تاریکیوں کے تمام پردے چاک کر دے گا اور جیسے شعب ابی طالب کے مظلوموں کو فتح نصیب ہوئی تھی غزہ کے اہل ایمان بھی ویسے ہی ظفریاب ہوں گے۔ خ خ