تہذیبِ جدیدکے اثرات

ہندوستان میں اسلامی تہذیب وتمدن اور غیر مسلم دانشوران
مارچ 30, 2023
غزہ- دورِحاضر کا شعبِ ابی طالب
اگست 25, 2025
ہندوستان میں اسلامی تہذیب وتمدن اور غیر مسلم دانشوران
مارچ 30, 2023
غزہ- دورِحاضر کا شعبِ ابی طالب
اگست 25, 2025

تہذیبِ جدیدکے اثرات

عبد الرحیم ندوی (استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء)

ابلیسی تہذیب جو اس وقت تقریبا پورے عالم پرچھائی ہوئی ہے ہر جگہ اسی کا سایہ نظر آرہا ہے، ہر شعبہ زندگی میں اس کا مشاہدہ ہو رہا ہے، کیا شہر ،کیا قصبہ ،کیا گاؤں کیا دیہات، کوئی جگہ اس کے ناپاک اثر سے پاک نہیں ہے؛بچے ، جوان، بوڑھے، ادھیڑ ،مرد عورت سب اس کی زلف کے اسیر ہیں، شعوری اور غیر شعوری طور پر اس میں گرفتار ہوتے جا رہے ہیں، مشاہدہ یہ ہے کہ جس جگہ اس تہذیب کا جتنا گہرا اثر ہے اس جگہ اسلامی تہذیب و ثقافت کا اتنا ہی فقدان ہے، اس لیے کہ اسلامی تہذیب،اوراس،ابلیسی تہذیب کے درمیان تضاد کی نسبت ہے بلکہ یوں کہا جائے کہ اس تہذیب کے معماروں کا اولین مقصد اسلامی تہذیب کی بیخ کنی ہے۔
موجودہ تہذیب اور فیشن کا اگر آپ گہرائی سے مطالعہ کریں تو ایسا لگتا ہے کہ بڑی گہرائی سے اسلامی ثقافت کا بلکہ اسلامی سرچشمے یعنی قران و سنت کا انہوں نے مطالعہ کیا ہے اور بڑی گہری سازش کے تحت تہذیب جدید کا کینوس تیار کیا ہے اور دھیرے دھیرے اس میں رنگ بھرنے کا کام کیا جا رہا ہےچونکہ ابلیسی تہذیب عین نفس کے مطابق ہے اس لیے آدمی بڑی آسانی سے اس کا شکار ہوا جا رہا ہے، دیکھتے ہی دیکھتے وہ معاشرہ جس کو اپنی تہذیبی روایت پر فخر تھا اس کی بھی چولیں ہلتی جا رہی ہیں، جن گھرانوں کو اپنی خاندانی روایت پر ناز تھا وہ بھی اس سیلاب کوسہار نہیں پا رہے ہیں۔
آپ ذرا غور کیجئے اور دیکھیے کہ اس تہذیب کی ایک ایک چیز کس طرح اسلامی تہذیب و روایات سے متصادم ہے مثلا اسلامی تہذیب یہ ہے کہ مسلمان رات میں عشاء کی نماز پڑھ کر فورا سو جائیں تاکہ سحر خیزی آسان ہو اور شب بیداری کر سکیں،مسامرہ (رات کو گفتگو کرنا) اللہ کے رسول ﷺ نے منع فرمایا ہے، اب موجودہ تہذیب میں فیشن یہ ہے کہ جو فیملی جتنی زیادہ ہائر یعنی اونچی فیملی ہوگی اتنی ہی زیادہ رات تک جگے گی اور بسا اوقات فخریہ یہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ ہم لوگ تو گیارہ بجے رات کو کھانا کھاتے ہیں۔ لباس کے باب میں اسلامی تعلیم یہ ہے کہ مردوں کا لباس ٹخنوں سے اوپر رہے، ساتر ہو موجودہ تہذیب میں ٹخنوں سے نیچے پاجامہ یا پتلون رکھنا فیشن ہے ۔ کھانا کھا کر انگلیاں چاٹنا آپﷺنے سنت بتایا ہے اور اس تہذیب نے چمچے اور کانٹے کو رواج دیا تاکہ انگلیوں کے چاٹنے کا کوئی سوال ہی نہ رہے ۔اسلامی تہذیب میں بیٹھ کر کھانا سنت ہے اور اب بفے سسٹم یعنی کھڑے ہو کر کھانا بلکہ چل چل کر کھانا فیشن اور اونچی سوسائٹی میں ہونے کی علامت ہے۔
ہماری تہذیب میں صبح آفتاب نکلنے سے پہلے بیدار ہو جانا ضروری ہے لیکن اس تہذیب میں دن نکلنے تک سوتے رہنا ثقافت ہے۔ہر ذی شعور آدمی اتنا جانتا ہے اور مانتا ہے کہ مرد کے مقابلے میں عورت کا لباس زیادہ ساتر ہونا چاہیے اور اسلام نے عورت کو سر تا پیر ڈھکنے کا حکم دیا ہے لیکن اس دور کے روشن خیال لوگوں کی روشن خیالی کو دیکھیے یہ عورت جتنا زیادہ برہنہ ہو ،اس کا لباس جتنا زیادہ تنگ ہو، اس کا بدن جتنا زیادہ کھلا ہو وہی اچھا فیشن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ دیکھیں گے کہ ایک باپ اپنی جوان بیٹی کو اپنے ساتھ لیے جا رہا ہے ، باپ نے فل آستین شرٹ اور ٹخنوں سے نیچے پاجامہ یا پتلون پہن رکھا ہے اوپر سے ٹائی بھی لگا رکھی ہے اور پیر میں موزے بھی پہنے ہوئے ہیں اور اسی کے بغل میں اس کی جواں سال بیٹی ہے جو معمولی کپڑے میں، اسکٹ پہنے ہوئے اپنی نسوانیت کو رسوا کر رہی ہےاور حیا کے غازہ کو نیلام کر رہی ہے اور وہ بے حیا باپ فیشن کے نام پر نہ صرف انگیز کر رہا ہے بلکہ خوش ہواجا رہا ہے اور اس کی حس مردہ ہو چکی ہے کہ اگر وہی لڑکی پورے کپڑے میں ملبوس ہوتی اور کسی کی نگاہ غلط بھی اس کی پنڈلی پر پڑ جاتی تو اس کی غیرت بھڑک اٹھتی لیکن فیشن کے نام پر اس کی غیرت مردہ ہو گئی ہے اور اس کا شعور سلب ہو گیاہے۔
اسلام میں کتے کو نجس قرار دیا گیاہے، فرمایا گیا کہ جس گھر میں کتا ہو اس میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے، موجودہ تہذیب میں کتا پالنے کا رواج کتنی تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے۔
اس حقیقت کا اندازہ سب کو ہے اسلام میں عورت کا مرد کی شکل اختیار کرنے اور مرد کو عورت کی شکل اختیار کرنے پر سخت وعید آئی ہے، موجودہ تہذیب اس کے برعکس فیشن کو رواج دے رہی ہے، مردوں کے اندر سے مردانگی کی صفات ختم ہو رہی ہیں، داڑھی کو مسٹر نے چہرے سے غائب کر لیا اور میڈم نے سر کے بال کتروا ڈالے، دونوں نے جینس چڑھالی اور یہ لیجیے مساوات کا اعلیٰ نمونہ آپ کےسامنے ہے ۔
سود خوری اور رشوت اس دور کا ایسا رائج الوقت سکہ ہے کہ اس کے بغیر لگتا ہے کوئی زندہ ہی نہیں رہ سکتا ، گنتی کے لوگ ہیں جو اس سے محفوظ ہیں، غیروں کا تو کچھ پوچھنا ہی نہیں اس لیے کہ ان کے ہاں اس کی شناعت کا تصور بھی نہیں ہے مگر مسلمانوں میں بھی بہت کم لوگ بچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور جو بچنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ بھی فقہی رو سے تو بچ رہے ہیں، ورنہ جو سودی نظام چل رہا ہے اس سے تو نہ چاہتے ہوئے بھی سابقہ پڑ ہی جاتا ہے، یہ مشتے نمونہ از خروارے ،ورنہ آپ اسلامی طرز زندگی جو ہم سے مطلوب ہے اس کو دیکھیے اور موجودہ تہذیب کو دیکھیے تو ہر بات متصادم نظر آئے گی۔
اگر ہم نے اپنے گھروں کی خبر نہ لی اور اسلامی تہذیب و ثقافت کو مضبوطی سے پکڑے رہنے اور غیر اسلامی تہذیب سے دور رہنے کی کوشش نہ کی تو جوکچھ ہم دیکھ رہے ہیں اس سے کہیں زیادہ ہونے والا ہے، آنے والی نسل کی ایمان کی حفاظت بھی مشکل ہو جائے گی، اس لیے کہ ایمان اور عقیدہ یہ اندرون کی چیزیں ہیں اور تہذیب اور ثقافت ہی کسی قوم کی شان امتیازی ہوتی ہیں۔
اگر ہم نے اپنی تہذیب کو ترک کر دیا اور دوسروں کی تہذیب میں رنگ گئے تو ہمارا وجود خطرے میں ہے اور دشمن بھی یہی چاہتا ہے کہ اس کی تہذیب پورے عالم پر چھا جائے اور ہم صرف نام کے مسلمان باقی رہیں، اس لیے ہم کو اپنے معاشرہ میں اسلامی تہذیب کو رائج کرنے اور غیروں کی تہذیب و ثقافت، رہن سہن، اٹھنا بیٹھنا، گفتار کردار اور طرز رہائش کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اس لیے کہ حدیث میں آیا ہے : ’’من تشبہ بقوم فہو منہم‘‘ اکبر الہ آبادی نے اسی بدلتی ہوئی تہذیب کا نقشہ اپنے خاص اسلوب میں اس طرح کھینچا تھا:
یہ موجودہ طریقے راہی ملک عدم ہوں گے
نئی تہذیب ہوگی اور نئے ساماں بہم ہوں گے
نئے عنوان سے زینت دکھائیں گے حسیں اپنی
نہ ایسا پیچ زلفوں میں نہ گیسو میں یہ خم ہوں گے
نہ خاتونوں میں رہ جائے گی پردے کی یہ پابندی
نہ گھونگھٹ اس طرح سے حاجب روئے صنم ہوں گے
بدل جائے گا انداز طبائع دور گردوں سے
نئی صورت کی خوشیاں اور نئے اسباب غم ہوں گے
نہ پیدا ہوگی خط نسخ سے شان ادب آگیں
نہ نستعلیق حرف اس طور سے زیب رقم ہوں گے
خبر دیتی ہے تحریک ہوا تبدیل موسم کی
کھلیں گے اور ہی گل زمزمے بلبل کے کم ہوں گے
عقائد پر قیامت آئے گی ترمیم ملت سے
نیا کعبہ بنے گا مغربی پتلے صنم ہوں گے
بہت ہوں گے مغنی نغمۂ تقلید یورپ کے
مگر بے جوڑ ہوں گے اس لیے بے تال و سم ہوں گے
ہماری اصطلاحوں سے زباں نا آشنا ہوگی
لغات مغربی بازار کی بھاشا سے ضم ہوں گے
بدل جائے گا معیار شرافت چشم دنیا میں
زیادہ تھے جو اپنے زعم میں وہ سب سے کم ہوں گے
گزشتہ عظمتوں کے تذکرے بھی رہ نہ جائیں گے
کتابوں ہی میں دفن افسانۂ جاہ و حشم ہوں گے
کسی کو اس تغیر کا نہ حس ہوگا نہ غم ہوگا
ہوئے جس ساز سے پیدا اسی کے زیر و بم ہوں گے
تمہیں اس انقلاب دہر کا کیا غم ہے اے اکبرؔ
بہت نزدیک ہیں وہ دن کہ تم ہوگے نہ ہم ہوں گے
خ خخ