قرآن اور صاحب ِقرآنؐ

فہمِ قرآن
اگست 18, 2025
خاتمہ بالخیر سے محروم کرنے والے اسباب
اگست 25, 2025
فہمِ قرآن
اگست 18, 2025
خاتمہ بالخیر سے محروم کرنے والے اسباب
اگست 25, 2025

قرآن اور صاحب ِقرآنؐ

حضرت مولانا بلال عبدالحی حسنی ندوی

اس زمانہ کے فتنوں میں یہ ایک بڑا فتنہ ہے کہ حدیث کو قرآن سے الگ کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ قرآن اور صاحب ِقرآن کی ذاتِ اقدس کو الگ کیا جاتا ہے، بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جیسے ڈاکیہ ڈاک پہنچاتا ہے اور وہ یہ نہیں جانتا کہ اس کے اندر کیا پیغام ہے؟ بس وہ ڈاک پہنچا کر چلا جاتا ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ معاذ اللہ! اللہ کے رسولﷺبھی یہی مقام رکھتے ہیں، گویا آپ نے کتاب دے دی مگر آپ کیا جانیں، اب خود غور کرو اور عمل کرو۔
یاد رہے کہ قرآن مجید میں درجنوں جگہ یہ بات آئی ہے کہ اگر تم نبی کی بات نہیں مانوگے تو گمراہ ہوجاؤگے، ارشاد ہے:
{وَإِن تُطِیْعُوہُ تَہْتَدُوا}(النور: ۵۴)
(اور اگر تم ان کی بات مانوگے تو ہدایت پاجاؤگے)
یہاں تک آتا ہے کہ اگر تم نبی کی بات سے ہٹ کر چلو گے اور قرآن مجید کو اپنی رائے سے سمجھوگے تو تمہیں یہی قرآن مجید گمراہی کی طرف لے جائے گا، ارشاد ہے:
{یُضِلُّ بِہِ کَثِیْراً وَیَہْدِیْ بِہِ کَثِیْراً}
(البقرۃ: ۲۶)
(اس کے ذریعہ سے وہ بہتوں کو گمراہ کرے گا اور بہتوں کو راستہ پر لے آئے گا۔)
جو لوگ قرآن مجید کا انکار کرتے ہیں، قرآن مجید کی عظمت کو نہیں سمجھتے اور جو لوگ قرآن مجید کے معانی ومفاہیم کا غلط استعمال کرتے ہیں اور اللہ کے رسولﷺ نے جس طرح اس کی وضاحت فرمائی ہے‘ اس کے مطابق اس کا فہم حاصل نہیں کرتے اور اپنی رائے دیتے ہیں، حقیقت میں یہ سارے لوگ وہ ہیں جو گمراہی کے راستے پر پڑ جاتے ہیں۔ یہ اس زمانہ کے مختلف فتنوں میں ایک بڑا فتنہ ہے، اس وقت مختلف علاقوں میں بہت سے لوگ ہیں جو بہت اچھا لکھنے والے اور بہت اچھا بولنے والے ہیں، لیکن ان کو منزل کا پتہ نہیں ہے، وہ منزل سے بے خبر ہیں اور گاڑیاں دوڑا رہے ہیں، ظاہر ہے گاڑیاں دوڑانے سے منزل نہیں ملتی، پہلا مرحلہ یہ ہے کہ آدمی کو اپنی منزل کا پتہ ہو، اس دور میں جو اچھا لکھنے اور بولنے والے ہیں، جو ہمارے نوجوانوں کو متاثر کرتے ہیں، نوجوان سمجھتے ہیں کہ ان کو جو فہم حاصل ہے وہ آج تک کسی کو حاصل نہیں ہوا، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ صرف خوبصورت اور ہموار سڑکوں پر گاڑیاں دوڑاتے ہیں، منزل سے بے خبر ہوتے ہیں، اخیر تک ان کو منزل نہیں ملتی۔ ہمیں اپنی منزل کو دیکھنا ہے، چاہے وہ سڑک ہموار نہ ہو اور ہمیں اس میں دشواری کے ساتھ سفر کرنا پڑے، لیکن ہمیں جہاں جانا ہے وہیں جانا ہے۔ اگر آپ رائے بریلی سے لکھنؤ کے روڈ پر ہیں اور آپ کو راستے میں کسی جگہ مثلاً تھولینڈی وغیرہ جانا ہے، جن میں سے بعض جگہوں کا راستہ خراب بھی ہے، اب آپ سوچیں کہ لکھنؤ کی سڑک تو بڑی اچھی ہے، اسی پر گاڑی دوڑاتے رہو، تو آپ لکھنؤ پہنچ جائیں گے لیکن تھولینڈی نہیں پہنچیں گے، آپ کو پھر واپس آنا پڑے گا، جہاں وہی نا ہموار سڑک ہے اور اس پر چلنا پڑے گا۔ ہماری جو منزل متعین کردی گئی ہے وہ ہمارے لیے متعین ہے، اس پر ہمیں چلنا ہے، چاہے اس پر اتنے اچھے بولنے والے اور اتنے اچھے لکھنے والے نہ ہوں، لیکن اچھا بولنا اور اچھا لکھنا ہدایت نہیں ہے، ہدایت یہ ہے کہ آدمی منزل تک پہنچے، جس کے متعلق ارشاد ہے:
{اہدِنَــــا الصِّرَاطَ المُستَقِیْمَ}
(الفاتحۃ: ۵)
(ہمیں سیدھا راستہ لے چل)
اللہ ہم کو اس منزل تک پہنچائے، اللہ ہم کو صراط مستقیم کی ہدایت عطا فرمائے اور ہمیں لے جاکر وہاں پہنچا دے جو اصل ہے، اس کو ہمیں پیش نظر رکھنا ہے، اس زمانے کے فتنوں کا مقابلہ کرنا ہے، ہمارے اندر صلاحیت پیدا ہو، ہم سڑک ہموار کریں، ہمارے اندر بولنے کی صلاحیت ہو، لکھنے کی صلاحیت ہو، مختلف زبانوں کی مہارت ہو تاکہ ہم لوگوں کو منزل کا پتہ بتا سکیں، ورنہ آج جو لوگ ہیں وہ لوگوں کو گمراہی کے راستے پر لے جا رہے ہیں، اچھے اچھے لکھنے والے اور بولنے والے بڑے مفکرین سمجھتے جاتے ہیں، لیکن وہ یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید کافی ہے اور ہمیں حدیث کی کیا ضرورت؟!
اللہ کے رسولﷺ نے پیشین گوئی کے طور پر یہ بات فرمائی کہ میں دیکھتا ہوں ایک دور آئے گا کہ لوگ گاؤ تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے اور کہیں گے کہ ہمیں تو قرآن کافی ہے، ہمیں کیا ضرورت ہے حدیث وسنت کی؟حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
’’لا ألفین أحدکم متکئاً علی أریکتہ یأتیہ الأمر من أمری مما أمرت بہ أو نھیت عنہ فیقول لا ندری ما وجدنا فی کتاب اﷲ اتبعناہ۔‘‘(سنن أبی داؤد: ۴۶۰۷)
(میں تم میں سے کسی کو نہ پاؤں اس حال میں کہ وہ اپنی مسہری سے ٹیک لگائے رہے اور اس کے پاس میرا فرمان پہنچے، جس میں میں نے کسی چیز کا حکم دیا ہو یا کسی چیز سے روکا ہو، تو وہ کہے کہ ہم کچھ نہیں جانتے، ہم نے جو اللہ کی کتاب میں پایا اسی کی پیروی کی)
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آپﷺ نے بڑے جوش کے ساتھ یہ بات بھی فرمائی :
’’ألا إنی أوتیت الکتاب ومثلہ معہ، ألا یوشک رجل شبعان علیٰ أریکتہ یقول: علیکم بھذا القرآن، فما وجدتم فیہ من حلال فأحلوہ وما وجدتم فیہ من حرام فحرموہ۔‘‘(سنن أبی داؤد: ۴۶۰۶)
(خبردار! مجھے قرآن اور اسی کے مثل (سنت) دی گئی ہے۔ خبردار! ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے کہ ایک شکم سیر آدمی اپنی مسہری پر ٹیک لگاکر بولے گا کہ تمہارے لیے بس یہ قرآن کافی ہے، تم جو کچھ اس میں حلال پاؤ تو وہ حلال ہے اور جو کچھ اس میں حرام دیکھو وہ حرام ہے۔)
قرآن مجید بھی یہی بات کہتا ہے جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا:
{وَإِن تُطِیْعُوہُ تَہْتَدُوا}(النور:۵۴)
(اور اگر تم ان کی بات مانوگے تو ہدایت پاجاؤگے)
ظاہر ہے اس کو کہنے کی ضرورت کیا تھی، اگر قرآن مجید ہی کافی تھا تو وہ یہ نہ کہتا بلکہ وہ یہ کہتا کہ تم قرآن کو دیکھو اور اسی پر عمل کرو، تم کو نجات مل جائے گی، لیکن اللہ کے نبی کے حکم پر چلنا اور اس کی طرف توجہ دلانا، اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ جب تک قرآن مجید کو فہم نبوت کے مطابق نہیں سمجھا جائے گا اور اس پر اس کے مطابق عمل نہیں ہوگا، اس وقت تک آدمی صحیح راستے پر نہیں رہ سکتا۔ ایک جگہ ارشاد ہے:{فَلاَ وَرَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُونَ حَتَّیَ یُحَکِّمُوکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لاَ یَجِدُواْ فِیْ أَنفُسِہِمْ حَرَجاً مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُواْ تَسْلِیْماً} (النساء: ۶۵)
(بس نہیں آپ کے رب کی قسم! وہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتے جب تک وہ اپنے جھگڑوں میں آپ کو فیصلہ کرنے والا نہ بنالیں پھر آپ کے فیصلے پر اپنے جی میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور پوری طرح سر تسلیم خم کردیں۔)
ایک دوسری جگہ ارشاد ہے: {مَّنْ یُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللّہَ وَمَن تَوَلَّی فَمَا أَرْسَلْنَاکَ عَلَیْہِمْ حَفِیْظاً} (النساء: ۸۰)
(جس نے رسول کی اطاعت کی تو اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جو پھر گیا تو ہم نے آپ کو ان پر کوئی داروغہ بنا کر نہیں بھیجا)
اس طرح کی نہ جانے کتنی آیتیں ہیں جن میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی اطاعت کے ساتھ اپنے رسول کی اطاعت کو لازم فرمایا ہے۔
یہ ایک بنیادی بات ہے اور اس کو سمجھنا ضروری ہے کہ قرآن مجید کا فہم پوری طرح جب ہی حاصل ہوسکتا ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کا جو منشا ہے، وہ قرآن مجید سے جو چاہتا ہے، وہ آدمی پوری طرح سے جب ہی سمجھ سکتا ہے، جب اس کو اللہ کے رسولﷺ نے جس طرح بیان فرمایا اور جس طرح اس کی وضاحت فرمائی‘ اس کے مطابق وہ اس کو سمجھنے کی کوشش کرے، اگر ایسا نہیں ہوگا تو دین کی چھٹی ہوجائے گی، یہ پورا دین اور شریعت کا جو نظام ہمارے سامنے ہے، ہم اس کو اپنی اصل جگہ پر قائم نہیں رکھ سکتے، قرآن اصل اول ہے اور سنت اصل ثانی ہے، یہ دونوں بنیادیں ہیں اور انہی دونوں بنیادوں پر دین کا یہ پورا نظام ہے، جتنی بھی جزئیات ہیں اور قرآن مجید میں جتنے بھی احکام دئیے گئے ان کی تفصیلات ہمیں حدیثوں سے معلوم ہوتی ہیں، اگر یہ حدیثیں نہ ہوں، آپ ﷺ کا مبارک طریقہ نہ ہو تو ہم کبھی بھی راہِ راست پر نہیں آسکتے۔