فہمِ قرآن
اگست 18, 2025شانِ رحمت و مغفرت
عبدالرشید راجستھانی ندوی(استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء)
عَن أَنَسِ بنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ اللهُ تَعَالَى:يَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي، غَفَرْتُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ مِنْكَ، وَلَا أُبَالِي،يَا ابْنَ آدَمَ، لَوْ بَلَغَتْ ذُنُوبُكَ عَنَانَ السَّمَاءِ، ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِي، غَفَرْتُ لَكَ، وَلَا أُبَالِي،يَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّكَ لَوْ أَتَيْتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا، ثُمَّ لَقِيتَنِي لَا تُشْرِكُ بِي شَيْئًا، لَأَتَيْتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً.(ترمذی حدیث نمبر: ٣٥٤٠)
ترجمہ:حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، جو کہ آپ ﷺ اپنے رب عز وجل سے روایت کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”اے ابنِ آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے اور مجھ سے امید رکھے، میں تجھے بخشتا رہوں گا، جو کچھ بھی تیرے گناہ ہوں، مجھے پروا نہیں۔ اے ابنِ آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندی اور وسعت تک پہنچ جائیں، پھر تو مجھ سے معافی مانگے، میں تجھے بخش دوں گا۔ اے ابنِ آدم! اگر تو زمین بھر گناہوں کے ساتھ میرے پاس آئے، اس حال میں کہ تو نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا ہو، تو میں تجھے اتنی ہی مغفرت دے دوں گا۔‘‘
تشریح:یہ حدیث قدسی ہے، یعنی وہ کلام جو نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نقل فرمایا۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو مغفرت کی بشارت دی ہے، اور صاف اعلان کیا ہے کہ جب تک بندہ دل سے اللہ کو پکارتا ہے اور اس کی رحمت کا امیدوار رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو بخش دینے کا وعدہ فرما رہا ہے، چاہے وہ گناہ وسعت میں آسمان کے برابر، یا سمندر کے جھاگ، یا ریگستان کی ریت کے ذرات کے برابر کیوں نہ ہوں۔
اللہ تعالیٰ قیامت میں اپنے گناہ گار بندوں کے ساتھ وہ عفو و درگزر کا معاملہ فرمائے گا، وہ اپنی ستّاری اور غفّاری کا مظاہرہ فرمائے گا، جو ہر عقل و اندازے سے ماورا ہوگا۔ بقول شاعر ؎
وہ کرشمے شانِ رحمت نے دکھائے روزِ حشر
چیخ اٹھا ہر بے گناہ میں بھی گناہ گاروں میں ہوں
یہ حدیث بندے کے دل میں امید پیدا کرتی ہے، مگر ساتھ ہی یہ بتاتی ہے کہ اللہ کی طرف سے اس رحمت، مغفرت، کرم اور نوازش کی اول و آخر شرط’’اخلاص فی التوحید‘‘ ہے۔ اگر توحید میں ذرہ برابر بھی شرک، میل یا کمزوری ہوئی، تو وہ شخص آخرت میں اللہ کی بخشش کا مستحق ہرگز نہیں ہوگا۔
بندے کی یہی شان ہے کہ وہ ہر در سے کٹ کر صرف اپنے کریم آقا کے دروازے پر پڑجائے۔ اس کے ساتھ کسی اور کا سہارا یا آسرا تلاش کرنا اسے ابدی عذاب کا مستحق بنانے والا جرم ہے۔
اس حدیث سے صاف واضح ہوتا ہے کہ اللہ کی نظر بندے کی سابقہ حالت پر نہیں بلکہ اس کے حالیہ رجوع، اخلاص، اور صدقِ دل سے توبہ پر ہے۔ اللہ کی طرف پلٹنے اور توبہ کرنے کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔
فوائد حدیث: توحیدِ خالص مغفرت کی شرطِ اعظم ہے۔
ثرجاء (امید) ؛مؤمن کا ہتھیار ہے جو اسے گناہ کی تاریکی سے نکال کر توبہ کی روشنی میں لاتا ہے۔
ث دعا؛ اللہ تعالیٰ سے قرب کا ذریعہ ہے، جو بندہ کو بار بار اللہ کی طرف پلٹنے کی تربیت دیتی ہے۔
ث استغفار محض الفاظ نہیں، بلکہ وہ دل کی کیفیت ہے جس میں شرمندگی، ندامت، اللہ کی طرف رجوع، اور اصلاح کی نیت شامل ہو۔
ث بندہ اگر گناہوں سے لبریز ہو تب بھی وہ اللہ سے مایوس نہ ہو، لیکن اپنے گناہوں پر نادم ہو ؎
بخشش نے مجھ کو ابر کرم کی کیا خجل
اے چشم! جوش اشک ندامت کو کیا ہوا؟
یہی کیفیت اسے اللہ کی رحمت، مغفرت اور بخشش کا مستحق بناتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا "ولا أبالي” یعنی مجھے کوئی پروا نہیں، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مغفرت اللہ کے لیے کچھ مشکل نہیں، شرط صرف بندے کی خالص توحید، رجوع، اخلاص، امید، دعا اور استغفار ہے۔
حدیث میں بار بار "يا ابن آدم” کہہ کر نرمی، محبت اور پیار کے ساتھ مخاطب کیا گیا ہےتاکہ بندہ غفلت سے بیدار ہو۔