خاتمہ بالخیر سے محروم کرنے والے اسباب

قرآن اور صاحب ِقرآنؐ
اگست 25, 2025
قرآن اور صاحب ِقرآنؐ
اگست 25, 2025

خاتمہ بالخیر سے محروم کرنے والے اسباب

مولانا عبدالرشید راجستھانی ندوی(استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء)

عن المسيب بن حزن أنه قال: لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ، جَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، فَقَالَ: أَيُّ عَمٍّ قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ كَلِمَةً أُحَاجُّ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ: أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ، وَيُعِيدَانِ بِتِلْكَ الْمَقَالَةِ، حَتَّى قَالَ أَبُو طَالِبٍ آخِرَ مَا كَلَّمَهُم: عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَأَبَى أَنْ يَقُولَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: وَاللَّهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ﴾ وَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ: ﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ﴾
ترجمہ:جب ابوطالب کی وفات کا وقت آیا تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس پہنچے اور وہاں انہوں نے ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ کو پایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اے چچا! کہو: لا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، یہ ایک کلمہ ہے جس سے میں تمہارے لیے اللہ کے ہاں دلیل پیش کروں گا۔‘‘ ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ نے کہا: ’’کیا تم عبدالمطلب کے دین سے منحرف ہوتے ہو؟‘‘ رسول اللہ ﷺ مسلسل یہی بات ان پر پیش کرتے رہے اور وہ دونوں اپنی بات دوہراتے رہے، یہاں تک کہ ابوطالب نے آخر میں کہا: ’’میں عبدالمطلب کے دین پر قائم ہوں‘‘ اور کلمہ پڑھنے سے گریز کیا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’اللہ کی قسم، میں تمہارے لیے استغفار کروں گا، جب تک مجھے منع نہیں کیا جائے گا‘‘ تو اللہ تعالی نے سورہ توبہ کی یہ آیت نازل فرمائی: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ﴾ یعنی نبی اور ایمان والوں کے لیے مشرکوں کے لیے استغفار جائز نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے ابوطالب کے بارے میں یہ آیت بھی نازل فرمائی: ﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ﴾ یعنی ہدایت کسی کے اختیار میں نہیں بلکہ صرف اللہ ہی دیتا ہے۔ (بخاری و مسلم)
تشریح:یہ واقعہ اسلامی تاریخ میں نہایت اہم اور سبق آموز ہے۔ ابوطالب، حضرت رسول اللہ ﷺ کے مہربان چچا تھے جو شروع سے آخر تک آپ کے حمایتی رہے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں رسول اللہ ﷺ کی حفاظت اور حمایت کی اور قبیلے میں ان کے لیے تحفظ فراہم کیا۔ لیکن ایمان نصیب نہ ہوا، شرک چھوڑ کر توحید قبول نہ کر سکے۔رسول اللہ ﷺ نے انہیں آخری وقت میں بھی کلمۂ توحید پڑھوانے کی کوشش کی اور فرمایا کہ اگر آپ کلمہ توحید پڑھ لیں گے، اور ایمان لے آئیں گے تو میں آپ کی سفارش کا حقدار ہو جاؤں گا، مگر ابوطالب آخر تک اپنے قبیلے کے دین پر قائم رہے۔ اس کی ایک وجہ ان کی جاہلی حمیت و غیرت تھی، اور دوسری وجہ ابو جہل اور ابنِ ابی امیہ کا بہکانا اور اکساناتھا ۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایمان و توحید کے بغیر محبت، قربت اور نصرت و حمایت اور دیگر تعلقات و روابط آخرت میں نجات کی ضمانت نہیں دیتے۔
فوائد :یہ واقعہ اپنے اندر نہایت مؤثر اور متوجہ کرنے والے اسباق سمیٹے ہوئے ہے۔ ایک ایک پہلو غور کرنے کی دعوت دیتا ہے اور ایمان کی حفاظت کی فکر کرنے کی طرف متوجہ کرتا ہے؛سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ انسان کو اپنے اور اہل تعلق وقرابت کے ایمان کی فکر زندگی کے آخری سانس تک رکھنی چاہیے۔ موت کا لمحہ سب سے نازک لمحہ ہوتا ہے اور خاتمہ ہی اصل کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا ابوطالب کے ساتھ یہ عملی نمونہ دکھایا کہ آخری لمحے تک انہیں ایمان کی دعوت دی۔
یہ منظر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ کبھی بھی کسی انسان کے ایمان سے مایوس نہیں ہوا جائے، بلکہ آخری لمحے تک اس کے دل میں ایمان جگانے کی کوشش کی جائے۔ جاہلی حمیت، نخوت، تکبر اور لوگوں کے طعنوں سے عار محسوس کرنا انسان کو ایمان سے محروم کر دیتا ہے، ابوطالب نے عزت و غیرت کے فریب میں سب سے بڑی نعمت کھو دی۔ بری صحبت انسان کی آخرت برباد کر دیتی ہے، ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ کی موجودگی نے ابوطالب کو ایمان سے روک دیا، نسب اور رشتہ داری آخرت میں فائدہ نہیں دیتے، نجات صرف ایمان و توحید سے وابستہ ہے۔اللہ تعالی ہمیں استقامت اور خاتمہ بالخیر نصیب فرمائے۔ آمین