سیرت نبویؐ اور اخلاق حسنہ
مارچ 5, 2023جنگِ آزادی کے چند گمنام مجاہدین
اگست 25, 2025دنیا کے عظیم انقلابات بمقابلہ انقلاب مصطفوی ؐ
مولانا انیس احمد ندوی (استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء)
جب سے یہ دنیا وجود میں آئی ، کمزور و طاقتور، سرمایہ دار و مزدور ، محتاج و غنی ، حاکم و محکوم کے درمیان ان گنت کشمکش، انقلابات اور لڑائیوں سے دوچار ہوتی رہی ،یہ انقلابات اور لڑائیاں دنیا کے لئے مفید رہیں اور نقصان دہ بھی، مگر زیادہ تر انقلابات اور کشمکش کے نتائج ذاتی اغراض و مقاصد رہے یا سیاسی اور معاشی بالا دستی،کبھی ایک ملک نے دوسرے ملک پر ملک حکمرانی کے ہوس میں اور اپنی فتوحات کو بڑھانے کے لئے اور مملکت کا دائرہ وسیع کرنے کے لئے چڑھائی کردی اور علاقہ کے علاقہ کو تہہ و بالا کر ڈالا، کھیتیوں اور معیشتوں کو تہس نہس کر ڈالا، انسانوں کو بے دریغ تہہ تیغ کرڈالا جس کی تصویر قرآن پاک نے اس طرح کھینچی ہے:(إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةً )
(یقینا جب بادشاہ کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اسے تباہ کر دیتے ہیں اور اس کے عزت والوں کو ذلیل کر دیتے ہیں)
اسی طرح تہذیبیں بھی اپنی بالا دستی اور حکمرانی کے لئے ایک دوسرے سے ٹکراتی رہی ہیں جس کے نتیجہ میں دنیا میں ہزاروں انقلابات رونما ہوئے۔
قدیم زمانہ میں روم و ایران بھی اپنی برتری اور سیاسی تفوق کے لیے اور اپنی سلطنت کی وسعت کے لئے ایک دوسرے پر چڑھائی کرتے رہتے تھے، آخر میںایک دوسرے سے لڑتے لڑتے کمزور ہوگئے ، اور ہزاروں ہزار جانیں انکی آپسی لڑائیوں کی نذر ہوگئیں،جب اسلام آیا اس وقت دنیا میں یہی دونوں سپر پاور تھے، ایسا لگتا تھا کہ انھیں دنیا کی کوئی طاقت زیر نہیں کرسکتی ،ان فوج کشیوں سے انسانیت کی قطعا صلاح و فلاح مقصود نہیں ہوتی تھی ، کہیں کہیں اور کبھی کبھی کسی ظالم حکمراں سے وقتی طور پر نجات مل جاتی مگر آنے والا یعنی فاتح خود مفتوح قوم کو طرح طرح کے ظلم و جبر کا نشانہ بنانے لگتا تھااور اس طرح انسان برابر ظلم کی چکی میں پستا رہتا تھا ، آئیے ایک سرسری جائزہ لیں کہ دنیا میں کتنے اہم انقلابات رونما ہوئے اور ان کے کیا مقاصد تھے۔
چینی انقلاب، امریکی انقلاب، روسی انقلاب، انقلاب فرانس،اسی طرح ماؤزڈانگ کا انقلاب، مارٹن لوتھر کا انقلاب، پہلی جنگ عظیم، دوسری جنگ عظیم، استعمار کا اپنی طاقت کو بڑھانا اور دوسرے ممالک میں کالونیاں قائم کرنا ، صنعتی انقلاب، سائنسی انقلاب، یوروپ کی نشاۃ ثانیہ ایسے تاریخی اہم واقعات ہیں جن کو بڑے بڑے انقلابات سے تعبیر کرنا درست معلوم ہوتا ہے، ظاہر ہے یہ انقلابات عوام کی خوشحالی کے لئے انجام دیے گئے لیکن ان انقلابات کا دائرہ محدود ہو کر رہ گیا، عوام اور انسانیت کا اس سے فائدہ کم اور نقصان بڑے پیمانے پر ہوا۔
سب سے پہلا انقلاب تاریخ میں زراعتی انقلاب کے نام سے جانا جاتا ہے جس سے انسان نے تہذیب و تمدن سیکھا اور مار دھاڑ ، جنگلی زندگی اور شکار کے زمرہ سے نکل کر ، کھیتی باڑی، باقاعدہ رہائش اور بود و باش اختیار کرنے کی روش قائم ہوئی، اس کے بعد سائنسی انقلاب ہے جو سولہویں اور سترہویں صدی میں یوروپ میں آیا جس نے جدید علمی ترقی کی بنیاد ڈالی جو اصلا چھٹی صدی عیسوی میں جناب محمد رسول اللہ ﷺکے ذریعہ لائے گئے انقلاب اور بعد کی اسلامی حکومتوںکی علمی اور تمدنی ترقیات کی مرہون منت ہے، اٹھارویں اور انیسویں صدی میں یوروپ میں صنعتی انقلاب آیا جو اصلا مشینی انقلا ب اور جدید معاشی نظام کا دوسرا نام ہے اور یہیں سے مزدور اور صنعت کار کا میکانزم شروع ہوتا ہے اور ترقیات کے دروازہ کھلتے ہیں ، بعد ازاں امریکی انقلاب ہے جس کے نتیجہ میں امریکہ برطانیہ کے دام غلامی سے آزاد ہوا اور صوبہائے متحدہ امریکہ کی بنیاد پڑی، تقریبا ۸۵ – ۹۰ سال کے بعد غلامی کا خاتمہ ہوا یہیںسے آزادی ،جمہوریت اور دستوری حکومت کی داغ بیل پڑی، یہ اٹھارویں صدی کے آخر میں ۱۷۷۵ -۱۷۸۳ کے درمیان واقع ہوا۔ اس کے بعد فرانسیسی انقلاب آتا ہے جو ۱۷۸۹ – ۱۷۹۹ کے درمیان واقع ہوا جس کے نتیجہ میں بادشاہت ختم ہوئی اور ریپبلک حکومت کا قیام عمل میںآیا ، یہیں سے دنیا خصوصا یوروپ میں اصلاحات و انقلابات کی ہوائیں چلنی شروع ہوئیں ، اس کے بعد روسی انقلاب ۱۹۱۷ ء میں آیا اس سے زار کی حکومت کا خاتمہ ہوا،پہلی کمیونسٹ ریاست وجود میں آئی اور کمیونزم کو ترقی دی گئی، اس کے بعد چین میں ۱۹۴۹ میں کمیونسٹ حکومت کا قیام عمل میں آیا ،ماؤ زڈانگ نے ۱۹۶۶ – ۱۹۷۶ کے درمیان چین میںبڑا انقلاب لانے کی کوشش کی اس کے کچھ مثبت کچھ منفی اثرات پیدا ہوئے، اس کے بعد ہندوستان میں آزادی اور انقلاب کی ہوائیں چلنی شروع ہوئیں جس نے ۹۰ برسوں کی سخت محنت و مشقت، جد و جہد، نشیب و فراز، کشت و خون کے رنگین نظاروں کے بعد ۱۹۴۷ ءمیں آزادی حاصل ہوئی، اس کے بعد ۱۹۷۹ ء میں ایرانی انقلاب آیا جس کو اسلامی انقلاب کا نام دیا گیا جبکہ اصلا اسے شیعی انقلاب کا نام دینا چاہیے ، اور اب اخیر میں کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور اے آئی کا انقلاب آیا ہے اس نے پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔
دنیا کا سب سے اہم اور مؤثر انقلاب وہ ہے جس کو جناب محمد رسول اللہ ﷺلےکر آئے، اس انقلاب نے پوری دنیا کو متاثر کیا، پوری دینا نے کم و بیش اس کے اثرات کو قبول کیا ،اور آج بھی اس کی پرنور شعاعیں دنیا کو متاثر کر رہی ہیں، یہ ایک ایسا انقلاب تھا جس نے انسان کے اندرون کو بدل دیا ، ذہن و دماغ، قلب و نظر،اور انداز فکر کو بدل دیا، نفسیات انسانی میں ایسی تبدیلی کردی جو ہمیشہ مائل خیر ہی رہے، نفسیات انسانی کو اسکی فطری اور جسمانی حدبندیوں سے نکال کراسے روحانی اور آسمانی بنادیا، آپ نے ایسا انسانی گروہ تیار کیا جو اپنی ذات چھوڑ کر ساری انسانیت کی صلاح و فلاح کے لئے سوچنے لگا، انسانوں کے اس گروہ کو جناب محمد رسول اللہ ﷺنے ذاتی اغراض و مقاصد کے دلدل سے نکال کرساری بنی نوع انسان کی کامیابی و فلاح کے لئے فکر کرنے والا بنادیا ، رسم و رواج کے تیرہ و تار صحراء، وحشت و بربریت، ظلم و زیادتیک سماجی معاشی اور معاشرتی برائیوں اور گناہوں کے دلدل سے نکال کر نیکیوں کی راہ پر ڈالنے کے لئے ہر وقت فکر مند رہنے والا بنادیا ، خود غرضی کی جڑیںختم ہوگئیں، بے لوثی کا وہ عظیم درس دیا جس نے اس وقت کی دنیا کو یکسر تبدیل کر دیا ، دنیا کے سامنے حکمرانی اور جہانبانی کے محیر العقول نمونے پیش کیے جو انمٹ ہونے کے ساتھ ساتھ خود غرضی سے بھری اس موجودہ دنیا کے لئے ناقابل اعتبار معلوم ہوتے ہیں ۔
جناب محمد رسول اللہ ﷺ نے جو انقلاب برپا کیا وہ تباہی و بربادی کا نہیں بلکہ تعمیراور فلاح انسانی کا ضامن تھا، آپ نے ایسا معاشرہ برپا کیا جہاں کمزور کو ستایا نہ جائے، غریب و مسکین کا مذاق نہ اڑایا جائے بلکہ ان کی مدد کی جائے، ایسا معاشرہ جہاں یتیم کا مال کھایا جائے نہ ہڑپ کیا جائے بلکہ اس کی حفاظت کی جائے اور عاقل و بالغ ہونے پر اس کے حوالہ کردیا جائے،ایسا معاشرہ جہاں عورتوں اور بیٹیوں کو عزت و وقار کی نگاہ سے دیکھا جائے، جہاں وراثت ہڑپ نہ کی جائے، جہاں دوسروں کے مال پر دست درازی تو دور کی بات اس کی طرف للچائی نظروں سے دیکھا نہ جائے، جہاں حکومت عدل و انصاف سے قائم کی جائے، جہاں قوت و طاقت اور چڑھتے سورج کی عبادت نہ ہو، جہاں محکوم و حاکم،سپاہی و کمانڈر،امیر و فقیر، محتاج و غنی، آقا و غلام قانون کی نگاہ میں اور انصاف کی عدالت میں یکساں ہوجائیں اور اللہ کے دربار میں روزآنہ پانچ بار ایک ہی صف میں کھڑے ہوکر برابری کا اعلان کررہے ہوں ، اسی انقلاب کی ایک مختصر مگر نہایت خوبصورت تصویر تھی جس کو ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ نے رستم کے دربار میں پیش کیا تھا کہ اللہ نے ہمیں اس لئے بھیجا ہے تاکہ ہم اللہ کی منشا کے مطابق اس کے بندوں کو دوسرے بندوں کی عبادت سے نکال کر اللہ کی عبادت سے روشناش کریں، اور دنیا کی تنگنائیوں سے نکال کر اس کی وسعتوں سے آگاہ کریں اور مذاہب کی ظلم و زیادتی سے نکال کر اسلام کے عدل و انصاف کی گھنی چھاؤں میں پناہ عطا کریں۔
ایسا انقلاب تاریخ انسانی نے کبھی دیکھا نہیں، اس انقلاب سے امن و آشتی کی ہوائیں چلیں، عدل و انصاف کا قیام عمل میں آیا، صدیوں سے آپس میں لڑتے ہوئے گروہ شیر و شکر ہو گئے رقابتیں رشتہ داریوں میں بدل گئیں، ان کی جنگی مہارتوںاور انسانی خوبیوں کا رخ بدل گیا،اعلی انسانی اور اخلاقی اقدار وجود میں آئے، شاعر نے کیا خوب ترجمانی کی ہے ؎
جو نہ تھے خود راہ پر اوروں کے ہادی بن گئے
کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کردیا
ظاہر ہے تاریخ انسانی میں اور دیگر بہت سے دینی اور روحانی پیشوا آئے اور انھوں نے نفس انسانی اور معاشرہ کو بدلنے کی کوشش کی لیکن کوئی دوسرا ہادی و رہنما، روحانی پیشوا و پیغمبر اپنے ماننے والوں اور چاہنے والوں کو اس قدر نہیں بدل سکا جیسا جناب محمد رسول اللہ ﷺ نے دنیائے انسانیت کوبدلا، تہذیبوں پر اثرانداز ہوئے اور تاریخ کے دھارے کو مثبت انداز میں بدل ڈالا جو آج تک انسانیت کے لئے مفید و کار آمد ہے،آج ضرورت ہے تو اس بات کی کہ اسلام کی صحیح ترجمانی کی جائے اور اس کے حقیقی رخ کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔