جنگِ آزادی کے چند گمنام مجاہدین

دنیا کے عظیم انقلابات بمقابلہ انقلاب مصطفوی ؐ
اگست 25, 2025
دنیا کے عظیم انقلابات بمقابلہ انقلاب مصطفوی ؐ
اگست 25, 2025

جنگِ آزادی کے چند گمنام مجاہدین

محمد ارشد ندوی (دفتر پیام انسانیت ،لکھنؤ)



جنگ آزادی کو عام طور پرتین ادوارمیں تقسیم کیا جاتاہے:
۱ – ۱۸۵۷سے قبل کی جنگ آزادی
۲-۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی
۳-۱۸۵۸ء سے ۱۹۴۷ء یعنی ملک کی مکمل آزادی تک لڑی گئیں آزادی کی جنگیں۔
آیندہ سطروں میں ۱۸۵۷ء اور اس کے بعد کے ادوار میں جنگ آزادی میں حصہ لینے والے ان مجاہدین (فریڈم فائیٹرس ) کا تذکرہ ہے جنھیں بڑی حدتک فراموش کردیا گیا ہے:
۱- جنرل بخت خاں: بخت خان ایک روہیلہ جانباز ۱۸۵۷؁ء کی جنگ آزادی کا ہیرو اور کارزار حق وصداقت کا ایک مرد مجاہد تھا، بخت خان نے تعلیم کی تکمیل کے بعد انگریزی فوج میں نوکری کرلی۔ کچھ عرصہ بعدغیرت وحمیت بیدار ہوئی، نوکری سے دست بردار ہوا، مولانا سرفراز علی کے دست حق پرست پر بیعت جہاد کی، پھر اس نے ایک جانباز مجاہد کی طرح ملک و ملت کے لیے عظیم خدمات انجام دیں اور سرفروشی کی ایک مثال قائم کی۔ ۱۸۵۷؁ء کی جنگ آزادی میں بریلی، مرادآباد، رامپور اور نینی تال میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ اس کے بعد دارالسلطنت دہلی آیا اور بہادر شاہ ظفر کی فوج کا چیف کمانڈر مقرر ہوا۔ دہلی پر انگریزوں کے تسلط کے بعد لکھنؤ کا رخ کیا اور جب لکھنؤ پر انگریزوں کا قبضہ ہوگیا تو مولانا احمد اللہ شاہ کے ہمراہ شاہجہانپور گیا،آخر میں محمدی لکھیم پور کے محاذ پر وہ نظر آتا ہے؛ لیکن اس کے بعد اس کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔(تفصیل کے لیے دیکھیے: تحریک آزادیٔ ہند میں مسلم علماء اور عوام کا کردار) مولانا محمد میاں دیو بندی لکھتے ہیں کہ: غالب یہی ہے کہ حضرت محل وغیرہ کی طرح یہ بھی نیپال چلے گئے اور وہیں زندگی کے باقی دن پورے کئے۔
(علماء ہند کا شاندار ماضی،ج:۴ص:۴۶۱)
۲- پیشوانانا صاحب: ۱۸۵۷؁ء کی جنگ آزادی میں نانا صاحب نے کارہائے نمایاں انجام دیا، انگریزوں کو کان پور سے نکال باہر کیا، بعضوں کو قتل اور بعضوں کو قید کیا، پھر کان پور میں دہلی حکومت کی ماتحتی میں اپنی حکومت قائم کی۔ نانا صاحب ایک زبردست مجاہد آزادی، قائدانہ کردار کے مالک اور انصاف پسند لیڈر تھے، جب انگریزوں کی پلٹ وار سے نانا صاحب کی شکست ہوئی اور کانپور ان کے ہاتھ سے چلا گیا، تو وہ وہاں سے بھاگ کر ملک کے دوسرے شہروں میں پہنچ کر انگریزوں کے خلاف مورچہ بندی کرتے رہے اور اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے ملک و ملت کو مستفید کرتے رہے۔
(جنگ آزادی ۱۸۵۷؁ء، ص: ۱۹۳تا۲۰۴)
۳- عظیم اللہ خاں: عظیم اللہ خاں نانا صاحب کے وکیل اور ان کے مشیر خاص تھے، ساورکر نے لکھا ہے کہ: ’’۱۸۵۷؁ء کے اہم کرداروں میں عظیم اللہ خاں کا نام سب سے زیادہ روشن اور نمایاں ہے، جو دماغ سب سے پہلے جنگ آزادی کے تصور سے متاثر ہوئے ان میں عظیم اللہ خاں کو نمایاں مقام دیا جانا چاہیے، بغاوت کو منظم اور مکمل کرنے والی بہت سی اسکیموں میں عظیم اللہ کی اسکیمیں خصوصیت سے قابل غور ہیں‘‘۔
(جنگ آزادی ۱۸۵۷؁ء، ص: ۱۹۵)
۴-قاضی عبد الجلیل: قاضی عبد الجلیل علی گڑھی ۱۸۵۷؁ء کی جنگ آزادی کے عظیم مجاہد تھے۔۱۸۵۷؁ء کے جہاد آزادی میں علی گڑھ کے محاذ پر انگریزوں سے زبردست مقابلہ کیا، آخر تک ثابت قدم رہے، یہاں تک کہ ۷؍محرم ۱۲۷۳ھ کو اپنے ۷۲ ساتھیوں کے ساتھ جامِ شہادت نوش کیا، جامع مسجد علی گڑھ کے شمالی دروازے کے قریب تدفین عمل میں آئی، جنگ کے بعد انگریزوں نے جوش انتقام میں آپ کے مکانات وجائداد کو کھدوا پھینکا۔
(تحریک آزادیٔ ہند میں مسلم علماء اور عوام کا کردار، ص: ۱۶۹-۱۷۰)
۵- مولوی وہاج الدین مراد آبادی: مولوی وہاج الدین نے ۱۸۵۷؁ء کی جنگ آزادی میں ایک قائد کی حیثیت سے انتہائی سرگرمی سے کام کیا، آپ تین بھائی تھے اور تینوں جنگ آزادی میں دوش بدوش رہے۔ ۱۹؍مئی ۱۸۵۷؁ء کو آپ کی قیادت میں مجاہدین کے جم غفیر نے جیل خانہ مراد آباد پر حملہ کرکے تمام قیدیوں کو رہا کرالیا، دیہات دیہات گھومتے ہوئے جنگ آزادی کی تحریک میں لوگوں کو شمولیت کی دعوت دیتے رہے، جب انگریزوں نے نواب رامپور کی کثیر فوج لے کر مراد آباد پر حملہ کیاتو شاہزادہ فیروز شاہ کی سرپرستی اور آپ کی کمان میں مجاہدین آزادی نے نواب کی فوج اور انگریزوں سے خوب ڈٹ کر مقابلہ کیا، لیکن سازو سامان کی کمی کی وجہ سے شکست ہوگئی اور انگریز ۲۵؍اپریل ۱۸۵۸؁ء کو شہر پر دوبارہ قابض ہوگئے، رمضان المبارک (اپریل ۱۸۵۸؁ء ) میں ایک دن عصر اور مغرب کے درمیان ایک فوجی رسالہ نے آپ کے دیوان خانہ میں داخل ہوکر آپ کو ایک ملازم سمیت گولیوں سے بھون ڈالا۔(تحریک آزادیٔ ہند میں مسلمانوں کی قربانیاں، ص: ۱۰۶۔۱۰۷)
۶- مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی: مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی ۱۸۵۷؁ء کی جنگ آزادی کی روح رواں اور سالار اعظم تھے، آپ کسی ایک مقام پر چین سے نہیں بیٹھے، مختلف شہروں اور قصبوں کا دورہ کرکے وہاں انگریزی حکومت کے خلاف بغاوت کی صور پھونکتے رہے ،آپ نے قصبہ محمد ی ضلع لکھیم پور میں ایک آزاد حکومت بھی قائم کی جو زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہ سکی۔ پروفیسر محمد ایوب قادری لکھتے ہیں:
’’شاہ احمد اللہ صاحب کی شہادت پر روہیل کھنڈ کی ہی جنگ آزادی نہیں، بلکہ درحقیقت ہندوستان کی جنگ آزادی ۱۸۵۷؁ء ختم ہوگئی۔ یہ وہ بہادر جاں باز تھا جس نے جنگ آزادی کی تحریک کا آغاز کیا، اس کی تبلیغ کی اور اس کو پروان چڑھایا، اور آخر میں اپنی جان دے کر اپنے عزائم و مقاصد کی بلندی پر مہر تصدیق ثبت کردی(جنگ آزادی ۱۸۵۷؁ء، (واقعات و شخصیات) ص: ۳۰۳)۔ مولانا احمد اللہ شاہ کو اعلیٰ صلاحیت کا مالک اور پختہ عزم وہمت کا انسان قرار دیتے ہوئے میلسن لکھتا ہے کہ: ’’مولوی نے شمالی مغربی صوبوں کا دورہ کیا، اس کے دورے کا مقصد انگریزوں کے لیے راز ہی رہا…، اس نے اس دورے سے واپسی کے بعد باغیانہ اشتہار تمام اودھ میں جاری کیا، کلکتہ میں قیام کے دوران غالباً مولوی نے وہاں کی دیسی سپاہ سے مسلسل رابطہ قائم کیے رکھا اور وہ طریقہ ڈھونڈ نکالا جس سے سپاہ کے فطری جذبات پر خصوصی اثر ڈالا جاسکے‘‘(چند ممتاز علمائے انقلاب ۱۸۵۷؁ء، ص: ۱۰۵)۔ جنگ آزادی ۱۸۵۷ء؁ کے مصنف قلم بند کرتے ہیں : ’’اسی زمانے میں وطن کا ایک مرد مجاہد اپنے سر میں آزادیٔ وطن اور حفاظت دین کا سودا لیے ملک میں بے قرار پھر رہا تھا اور غالباً اکتوبر یا نومبر ۱۸۵۶؁ء میں لکھنؤ میں وارد ہوا، معتمد الدولہ کی سرائے میں ٹھہرا اور اس کے بعد گھسیاری منڈی کو قیام گاہ بنایا، وہ فقیروں کے لباس میں تھا، اور سب جانتے ہیں کہ وہ مولانا احمد اللہ شاہ کے سوا اور کون ہوسکتا ہے‘‘(جنگ آزادی ۱۸۵۷؁ء، ص: ۲۱۳)۔ پر اسرار چپاتی والا واقعہ آپ ہی کی ذات عالیہ سے وابستہ ہے، آپ ہی نے اس کام کو شروع کرایاتھا۔
بلدیوسنگھ نامی ایک شخص نے غداری کرکے دھوکے سے مولانا کو گولی ماری، پس جنگ آزادی ۱۸۵۷؁ء کا مجاہد اعظم شہید ہوگیا۔
۷-جاں باز برہمن: مولانا احمد اللہ شاہ سے عقیدت واحترام کے اظہار کا سب سے اچھا طریقہ یہ تھا کہ وہ کام پورا کیاجائے جو انھوںنے شروع کیاتھا، چنانچہ اس کا بیڑہ ایک دلیر برہمن ویدی ہنومان نے اٹھایا، جس نے ۱۷؍جنوری ۱۸۵۸؁ء کو انگریزوں پر حملہ کیا، یہ بہادر برہمن صبح سے شام تک لڑتا رہا اور شام کو زخمی ہوکر گرفتار ہوگیا۔(جنگ آزادی ۱۸۵۷؁ء، ص: ۲۲۸)
۸-ماڑے خاں : بجنور کے انقلابی سردار نواب محمود خاں کا سپہ سالار ماڑے خاں بہادر اور جری شخص تھا، اس نے کئی معرکوں میں انگریزوں کو ناکوں چنے چبوائے اور بجنور کا انتظام مکمل کرنے کے بعد دوسرے علاقوں میں اپنی بلند ہمتی کے جوہر دکھاتا رہا، امروہہ میں سید گلزار علی کی بھی ماڑے خاں نے امداد کی تھی، اس کی بہادری اور جرأت کے افسانے دور دور تک مشہور تھے۔
(جنگ آزادی ۱۸۵۷؁ء، ص: ۳۵۰)
۹-دیوان حکمت اللہ: فتح پور کے ڈپٹی مجسٹریٹ حکمت اللہ انقلابیوں کے رہ نما بھی تھے۔ یہاں ۱۲؍ جولائی ۱۸۵۷؁ء کو نانا صاحب کی فوجوں سے انگریزوں کا تصادم ہوا اور قبضہ کے بعد حسب دستور فتح پور کے باشندے ہولناک ظلم و ستم کا نشانہ بنائے گئے۔ دیوان حکمت اللہ نے آخر تک انگریزی فوجوں کا دلیرانہ مقابلہ کیا تھا۔ چنانچہ ان کو بھی پھانسی دی گئی، لیکن کس طرح؟ ولیم میور لکھتاہے: ’’معلوم ہوتا ہے کہ دیوان کو موت کی سزا دینے میں بڑا بھونڈا طریقہ اختیار کیا گیا، سپاہیوں کو اجازت دی گئی کہ اس بدبخت کے منھ میں سؤر کا گوشت ٹھونسیں‘‘۔
(جنگ آزادی ۱۸۵۷؁ء، ص: ۳۵۱)
۱۰-احمد خاں کھرل: ملتان کا احمد خاں کھرل بڑاا بہادر انقلابی سردار تھا، ملتان ڈویژن کے علاقے گوگیرہ میں اس نے انقلابیوں کی رہ نمائی کی اور ۱۷؍ستمبر کو بغاوت شروع ہونے پر اس نے سرگرم حصہ لیا، احمد خاں نے انگریزوں سے متعدد مقابلے کئے اور ان کو نئے سامان جنگ سے مسلح ہونے کے باوجود انتہائی حیران وپریشان کیا، اس نے شاہ دہلی کی حمایت کا باقاعدہ اعلان کیاتھا، آخر کار ۲۱؍جنوری ۱۸۵۸؁ء کو زبردست مسلح فوجوں نے اس کا تعاقب کیا، احمد خاں بہادری سے مقابلہ کرتا رہا اور بڑے بڑے انگریزافسران ان تصادموں میں کام آگئے، ایک ایسے ہی زبردست تصادم میں احمد بھی گولی کا نشانہ بن گیا، مگر اس کے ساتھیوں نے انگریزوں کا پیچھا نہ چھوڑا، وہ لمبی گھاس میں چھپ کر انگریزی سپاہیوں کو گولی کانشانہ بناتے تھے، بڑی مشکل سے ان پر قابو پایا جاسکا۔
(جنگ آزادی ۱۸۵۷؁ء ، ص: ۳۵۳)
۱۱-فضل علی: فضل علی لکھنؤ کے ایک جنگ جو شخص تھے، انھوںنے غالباً فروری۱۸۵۷؁ء میں بدھنی ضلع تلسی پور کے تھانے پر چھاپہ مارا اور دس بارہ سپاہیوں وغیرہ کو مارکر غائب ہوگئے، اس کے بعد ایک مرتبہ مارچ ۱۸۵۷؁ء میں کمشنر گونڈہ سی ۔ای۔بالیوں سے اچانک راہ میں مڈبھیڑ ہوگئی، شیخ فضل علی کمشنر کے کئی ساتھیوں کو قتل وزخمی کرکے فرار ہوگئے۔(جنگ آزادی ۱۸۵۷؁ء، ص: ۳۵۳) ، انگریز برابر ان کی تاک میں رہتے تھے، بالآخر انگریزوں کو ان کے نیپال میں ہونے کا علم ہواتوانگریز فوجی و افسران نیپال گئے، نیپال کی سرحد پر باہم مقابلہ ہوا، فضل علی نے اپنے جاں باز ساتھیوں کے ہمراہ خوب شمشیر زنی کی ، بعض کہتے ہیں کہ فضل علی اس جنگ میں قتل ہوگئے اور بعض کہتے ہیں کہ پہاڑوں میں پہلے ہی روپوش ہوگئے تھے۔
۱۲- مولانا سید کفایت علی کافی مرادآبادی: مولانا کفایت علی کافی خانوادۂ سادات کے ایک رکن، عالم ،فاضل، طبیب اور قادرالکلام شاعر تھے، آپ ۱۸۵۷؁ء کی تحریک حریت کے علمبرداروںمیں تھے، نواب مجد الدین عرف نواب مجّو خان کی آزاد حکومت میں صدر الشریعت تھے، جب مرادآباد میں انگریزوں کے حامی نواب رامپور کی بالادستی قائم ہوئی تو انگریزوں کے خلاف ایک فتوی جہاد مرتب کیا، اس فتوی کو دیگر مقامات پر بھی پہنچایا ۔۲۵؍اپریل ۱۸۵۸؁ء کو مرادآباد پر انگریزوں کا دوبارہ قبضہ ہوا تویہ عظیم مجاہد ۳۰؍ اپریل ۱۸۵۸؁ء کو گرفتار کر کے تختۂ دار پر لٹکادیا گیا، جس وقت آپ کو پھانسی کے لیے لے جایا رہاتھا، اس وقت آپ کی زبان پر عشق رسول میں ڈوبی ہوئی ایک نعت شریف جاری تھی۔
(تحریک آزادیٔ ہند میں مسلم علماء اور عوام کا کردار، ص: ۱۷۱)
۱۳- سبز پوش عورت: ۱۸۵۷؁ء کی جنگ آزادی میں (دہلی میں) بہادری کی جرأت آموز مثال ایک سبز پوش بوڑھی عورت قائم کررہی تھی ، یہ دلیر بڑھیا مردانہ لباس پہن کر گھوڑے پر سوار ہوتی، شہر کے لوگوں کو جہاد پر آمادہ کرتی ۔’’آؤ چلو خدا نے تمہیں بہشت میں بلایا ہے‘‘۔شہر کے لوگ اس کی مجاہدانہ صدا سن کر جوق در جوق اس کے ہمراہ ہوجاتے، وہ ان کو لے کر بہادری سے انگریزوں پر حملہ کرتی، اس کا وار بے پناہ ہوتا، وہ تلوار اور بندوق سے دشمن کی صفوں میں کھلبلی ڈالتی تھی، اگر اس کے ساتھی بھاگ جاتے تو یہ جنگجو اور دلیر بڑھیا تنہا جنگ کرتی اور پھر زندہ واپس آجاتی، بعض لوگ چشم دید قصہ کہتے ہیں کہ اس عورت میں غضب کی دلیری تھی،اس کو موت کا کچھ بھی خوف نہ تھا وہ گولوں اور گولیوں کی بوچھاڑ میں بہادر سپاہیوں کی طرح آگے بڑھتی چلی جاتی، کبھی اس کو پیدل دیکھا جاتا، کبھی گھوڑے پر ، وہ تلوار اور بندوق چلانے میں ماہر تھی، اس کی جرأت اور ہمت دیکھ کر شہر کے عوام میں بڑا جوش پیدا ہوجاتا تھا، واپس آکر وہ کہاں جاتی تھی؟ وہ کون تھی؟ کسی کو پتا نہ چل سکا، آخر ایک دن ماہ جولائی میں (غالباً ۲۷۔۲۸) وہ جنگ کرتی ہوئی انگریزی مورچے کے قریب جا پہنچی مگر زخمی ہوکر گھوڑے سے گری اور گرفتار کرکے انبالہ بھیج دی گئی۔
(جنگ آزادی ۱۸۵۷؁ء، ص:۱۴۴)
۱۴-شہزادہ فیروز: وسط ہند کی تحریک آزادی کی داستان شہزادہ فیروز شاہ سے متعلق ہے اور اسی کے گرد گھومتی ہے، وطن کا یہ مرد مجاہد ۱۸۵۵؁ء میں دہلی سے روانہ ہوا اور مختلف ملکوں کا دورہ کرکے ۱۸۵۷؁ء میں وطن لوٹا، پہلے دہلی آیا اور دہلی سے سیتامئو نمودار ہوا، یہاں سے مندسور آگیا او ر آزادی وطن کی جدوجہد میں عملی طور پر شریک ہوگیا، اس نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا اعلان کردیا، اس کی انقلابی سرگرمیوں کو دیکھ کر جلد ہی عوام کی ایک بڑی تعداد اس کے ساتھ ہوگئی، جن میں زیادہ تر افغانی اور مکرانی تھے جنھوں نے شہزادے کی سرکردگی میں شہر پر قبضہ کرکے گونر اور کوتوال کو قید کرلیا اور فیروز شاہ کی حکومت کا اعلان کردیا، فیروز شاہ یہاں چین سے نہیں بیٹھا ،بلکہ اس نے ملک کے دیگر صوبوں اور شہروں کا بھی دورہ کر کے وہاں کے باغیوں کی قیادت و رہنمائی کا فریضہ انجام دیا۔
(جنگ آزادی ۱۸۵۷؁ء، ص:۳۰۱تا۳۰۴)
ابھی تک صرف چند گمنام مجاہدین جنگ آزادی کا ذکر یہاں پر کیا گیاہے، ورنہ ایسے سیکڑوں فریڈم فائٹرس ہیں جنھیں ہم بہت کم جانتے ہیں۔
خ خخ