نسلِِ نو کی تربیت میں گھر کا کردار

معاشرہ میں بے حیائی اور اُس کا سد باب
اگست 25, 2025
معاشرہ میں بے حیائی اور اُس کا سد باب
اگست 25, 2025

نسلِِ نو کی تربیت میں گھر کا کردار

تحریر :شیخ محمد الغزالی ترجمانی : احمدالیاس نعمانی ندوی (استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء)


بچوں کی تربیت میں گھر کا بڑا کردار ہے، بلکہ شاید دین ومادری زبان کے سلسلے میں گھر ہی اصل حیثیت رکھتاہے، علماے اخلاق کے نزدیک تربیت کے دو اہم ترین عناصر نسلی اثرات اور ماحول ہیں، یہ الگ بات ہے کہ ان دونوں عناصر میں سے زیادہ قوی عنصر کون ساہے اس کے سلسلے میں ان کا اختلاف ہے۔ایک عرب شاعر کا شعر ہے:
وینشأ ناشیٔ الفتیان فینا
علی ما کان عوّدہ أبوہ
(ہمارا نوجوان وہ مزاج پاتاہے جس کی تربیت اس کا والد اسے دیتا ہے)۔
کیا اکیلا باپ بچوں کو اچھی عادات کا عادی بنا سکتاہے؟ ہر گز نہیں! جسمانی ومعنوی اثرات میں ماں کا بھی ایک کردار ہوتاہے، جب حضرت مریم اپنے اس بچے (عظیم نبی حضرت عیسیٰ) کو لوگوں کے پاس لائیں جس کے باپ معروف نہ تھے تو لوگوں نے ان سے کہا: ’’یا أخت ہارون ما کان أبوک امرأ سوء وماکانت أمک بغیا‘‘ (اے ہارون کی بہن! تمہارا باپ تو برا آدمی نہیں تھا، اور نہ ہی تمہاری ماں بد کردار تھی) اولاد پر بلکہ پوتوں پر بھی دونوں والدین کے اثرات پڑتے ہیں، اسی لئے ہم پورے گھر کو اولاد کے تئیں ذمہ دار مانتے ہیں، اور بچوں کے حال ومستقبل کے لئے ماں باپ سے یکساں طور پر مکمل فکر ونگہبانی کا مطالبہ کرتے ہیں، برباد گھروں پر اچھے معاشرے کی تعمیر ناممکن ہے، بچوں کی تربیت کا فقدان اس بات کا اعلان ہے کہ امت کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔
اسلام نے باپ کو حکم دیاہے کہ وہ نوافل اپنے گھر میں پڑھے، تاکہ اس کی اولاد رکوع اور سجدوں سے مانوس ہو، اور گھر میں تلاوت کرے، تاکہ گھر کی فضا قرآنی معانی سے معطر رہے، ایک حدیث میں رسول اکرمﷺ کا ارشاد نقل کیا گیا ہے: ’’اپنی کچھ نمازیں گھروں میں بھی پڑھا کرو اور گھروں کو قبرستان نہ بناؤ‘‘ یعنی وہ گھر جس میں نماز نہ پڑھی جائے وحشت ناک قبرستان جیسا ہے، آپﷺ کا ایک اور ارشاد ہے: ’’جس گھر میں اللہ کا ذکر کیاجائے اور جس میں نہ کیا جائے ان دونوںکی مثال زندہ اور مردے کی ہے‘‘، ایک اور موقعہ پر آپ ؐ نے فرمایا: ’’اپنے گھر میں انسان کی نماز نورہے، پس اپنے گھروں کو منور کرو‘‘۔
اسی طرح شریعت نے بچوں کو کم عمری میں ہی نماز سکھانے اور اچھے اخلاق کا عادی بنانے کا حکم دیاہے تاکہ وہ نیک وشریف جوان بنیں، با غیرت مربیوں کا خیال ہے کہ ثقافتی استعمار نئی نسل پر خاص توجہ دیتا ہے، وقت ضائع کرنے والی نسلیں کامیاب نہیں ہوا کرتیں، ان میں بس حیوانوں جیسی خواہشات پائی جاتی ہیں، ہاں ان کو نظر یاتی علوم کاتھوڑا بہت علم ہوتاہے، اور ان سے نہ بلند ہمتی پیدا ہوتی ہے اور نہ باعزت مقام حاصل ہوتاہے۔ تیسری دنیا کی اکثر قومیںاسی خراب حالت میں ہیں۔
شیخ احمد موسیٰ سالم نے لکھاہے کہ ہمارے ممالک میں بچپن قومی ضیاع، اور بے وطنی سے دوچار ہے، یعنی ہمیں اپنے قومی فضائل، اپنی عظمت رفتہ، دین کی اہمیت اور زبان کی ملاحت وشیرینی کا خود علم نہیں ہے، بچا بولنا شروع کرتاہے تو دیگر زبانوں کے الفاظ اس کی زبان پر ہوتے ہیں، یا پھر بازاری زبان بولتا ہے، اور نوخیزوں کو ایسی مہم کا سامنا کرنا پڑتاہے، جس پر اجنبی فکر حاوی ہوتی ہے، ان کے سامنے جو تصویریں ہوتی ہیں وہ دوسروں کی عظمتیں قائم کرتی ہیں، ایسی کتابیں اور رسالے ان کو ملتے ہیں جو ہمیں مجروح کرتے ہیں ، ہمیں اپنی اصل سے دور کرتے ہیں، اپنے دین سے غافل بناتے ہیں اور صرف یورپی طرز زندگی سے آشنا کرتے ہیں۔
جب ہمارے بچے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں تو ان کے دلوں میں کیا اقدار نقش ہوتے ہیں؟ ایک ممتاز فٹ بال پلیر کی تصویر جو دوڑ رہاہو اور لوگ اس کے شاندار شاٹ کی داد دے رہے ہوں، یا کسی ڈرامہ کی ایکٹریس جو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ہنس یا رورہی ہو اور سامنے کو یا پیچھے کو جارہی ہو؟
ان مناظر کے پروردہ بچے کبھی بھی کوئی اونچا مقام نہیں پاسکتے، اس کا تو سوال ہی کیا ہے کہ یہ امت کے تہذیبی، اقتصادی اور سماجی برے حال کو کچھ بہتر کرسکیں۔
میرا خیال ہے کہ بچوںکی تربیت کے لئے ایک نئی علمی وادبی پالیسی وضع کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ ہمارے انجام کا بس خدا ہی مالک ہے۔
اگر بچا سچ بولنا گھر میںنہیں سیکھے گا تو پھر کہاں سیکھے گا؟ اگر والدین کی آغوش میں اسے وفاداری، امانت داری اور نرم مزاجی کی تربیت نہیںملے گی تو پھر کہاںملے گی۔
کیا گھر کی ذمہ داری بس اپنے افراد کے لئے چارے پانی کا انتظام کرناہے؟ کیا ہم نے یہ آیت قرآنی نہیںسنی: ’’ یا أیہا الذین آمنوا قوا أنفسکم وأہلیکم نارا وقودہا الناس والحجارۃ‘‘ (اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے)۔
اخلاقی انحطاط کی سزا قیامت پر موقوف نہیں ہے، ہمارا مشاہدہ ہے کہ خراب اخلاقی حالت کی حامل قوموںکی کوئی حیثیت دنیا میں نہیں ہوتی ہے، وہ عام طورپر غربت اور ذلت کی شکار ہوجاتی ہیں۔
ہر مضبوط اور ذہین فرد درحقیقت ایسے بچپن کا تیار کردہ ہوتاہے جو برائیوں اور لاپرواہیوں سے محفوظ ہو، اور جس پر سمجھ دار ماں اور بیدار مغز باپ کی نگرانی رہی ہو۔
اپنی جوانی میں میں نے ایک غیر ملکی عورت کو دیکھا، کہ وہ شام کے وقت اپنے بچوں کو جمع کرتی، ان کے ہاتھ میں کاپیاں ہوتیں، اور ماں ان کے ہوم ورک کی نگرانی کرتی تھی، جب بچے سڑک پر برائے تفریح جاتے تو وہ کھڑکی سے ان پر نظر رکھتی، کہ کہیں ان کو کوئی گاڑی ٹکر نہ ماردے یاکہیں غلط لوگوں سے ان کی لڑائی نہ ہوجائے۔
اسی لئے میرا کہنا ہے کہ خاتونِ خانہ کی ذمہ داری کوئی آسان ذمہ داری نہیں ہے، یہ لذت اندوزی اور جنسی شہوتوں کے تقاضوں سے پرے ایک منصب ہے:
الأم مدرسۃ إذا أعددتھا
أعددت شعبا طیب الأعراق
(ماں ایک گہوارۂ علم وتربیت ہے، اگر آپ نے اس کی اچھی تربیت کردی تو گویا کہ آپ نے نیک فطرت خاندان تیار کردیا)۔
امت اسلامیہ پر کئے گئے استعماری حملے کے دو ہدف تھے: ایک عورت کو ایسا جاہل رکھنا کہ وہ اپنے یا دنیا کے بارے میں کچھ نہ جانتی ہو، دوسرا یہ کہ اگر وہ تعلیم یافتہ ہوجائے تو اسے بے کار کے کاموں، فیشن، جدید تمدن کے مظاہرمیں الجھا دینا اور عقل، محنت نیز انفرادی واجتماعی ترقی سے دور رکھنا۔
استعمار نے اس کے لئے اس تعلیم کو ہتھیار بنایا جس کے ساتھ تربیت کا کوئی نظام نہیںتھا، اگر کوئی شخص دینی تعلیم کا مطالبہ کرتا ہے تو اس کو ایسے نصاب کے ذریعہ خاموش کردیا جاتاہے جس میں بچے دو چار چھوٹی چھوٹی سورتیں یاد کرلیں، اور بس اس طرح دینی تعلیم وتربیت کے خلا کوگویا کہ پر کردیا جاتاہے۔
استعمار نے بچوں کو گمراہ کرنے کے بعد بڑوں کو بھی بگاڑنا شروع کیا، اسی صورت حال کے پیش نظر میں نے اس المناک خیال کو احاطۂ تحریر میں لانے کا فیصلہ کیا، اور میرے لکھنے کا حاصل صرف یہ ہے کہ:شاید کہ اتر جائے تیر ے دل میں میری بات نوجوانی کے آغاز سے آج تک روزنامہ اخبارات پڑھتے وقت میں اس کالم کو چھوڑ دیتا ہوں جس کا عنوان ہوتاہے: ’’آج شام آپ کہاںجائیں؟ اس لئے کہ میں جانتاہوں کہ مجھے کہاں جاناہے؟ اور مجھے کسی ایسے شخص کی ضرورت نہیں ہے جو میرے اوقات کو منظم کرے، میں ہمیشہ اپنے علم اور لوگوں کے نفع میں اضافہ کا خواہش مند رہتا ہوں، اور ان ذمہ داریوں کی ادائیگی کے بعد مجھے فرصت شاذ ونادر ہی ملتی ہے۔
لیکن پچھلے مہینہ ایک روز مجھے خیال ہوا کہ میں یہ جانوں کہ لوگ شام کو اپنے اوقات کیسے گزارتے ہیں، تو میں نے ایک کثیر الاشاعت روزنامہ لیا او ر ان فلموں کے نام پڑھنے شروع کئے جن کے ساتھ لوگ اپنی شامیں بسر کرتے ہیں، صرف ایک شام کے لئے اعلان کئے گئے جب ان ناموں کو میں نے پڑھا تو میری حیرت کی کوئی انتہا نہیں رہی: لھیب الشیاطین(شیطان کے شعلے) السغلۃ المحترفون(پیشہ ور حقیر لوگ) ثورۃ کنج کونج (کنج کونج کی بغاوت) چونکہ میرے علم میں ایسی کوئی بغاوت نہیںتھی جس کے قائد کا نام کنج کونج ہو اس لئے میں نے ایک صاحب سے اس کے بارے میں دریافت کیاتو انہوں نے بتایا کہ یہ ایک بہت خوفناک بندر ہے جو ہر چیزکو ریزہ ریزہ کردیتاہے۔
میںنام پڑھتا چلا گیا: الرجل المدمر(تباہ کن مرد) میراث الغضب (غصہ کی وراثت) علاء الدین، النمر والأنثی (تیندوا اور عورت) رجل في عیون امرأۃ (عورت کی نگاہ میںمرد) جری الوحوش (وحشی جانوروں کی دوڑ) عزبۃ الصفیح ، الملعوب (کھلونا)، قسوۃ الانتقام (انتقام کی آگ) قاہر التماسیح (مگر مچھوں کا بادشاہ) الننجا الجبار (ظالم ننجا) میں اس ننجا کو نہیں جان سکا، الثأرو الانتقام(بدلہ اور انتقام) الھجوم الدامی (خون ریز حملہ) القتلۃ الطائرون (اڑتے ہوئے قاتل) معرکۃ التنین الجبار (زبردست بھوت کی جنگ) سیف الشیطان (شیطان کی تلوار) بنات من نار (آگ کی لڑکیاں)۔
جس شام کویہ سب فلمیں دکھائی جائیں وہ خواہ بجلی کے قمقموں سے کیسی ہی روشن کیوں نہ ہو، حقیقت میںتاریک ترین ہے، کیسا مقام تعجب ہے؟ کہ ایک شام میں اتنی بڑی مقدار میں گھٹیا فکر پیش کی جاتی ہے، اور افسوس کہ پروپیگنڈہ کے اسیر اور غیروں کے ثقافتی حملوں کے مارے ہوئے لوگ گھنٹوں یہ سب کچھ دیکھتے ہیں، یقینا ان سب کے نتیجے میں دلوں پر بہت غلط اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
کیا ان چیزوں کو دیکھ کر ہمارا کوئی فرد اعلیٰ اخلاق کا حامل اور شریف النفس ہوسکتا ہے، یہ ڈرامے کیا اچھی تربیت میںمعاون ہیں؟ اور کیا ان سے پاکیزہ اخلاق کی تعمیر ہوتی ہے؟ ایسے گھروںکے پروردہ بچے عقل وقلب کے سلیم نہیں ہوسکتے، بلکہ وہ چھوٹے بڑے گناہوں میں لت پت ہی ہوںگے۔
میرے نزدیک ہیروئن اور افیم بھی ان غیرملکوں سے بر آمد شدہ تبا ہیوں سے کم تباہ کن ہیں، ان ڈراموںکو دیکھنے والی قوم کبھی بھی اچھا مستقبل نہیں پاسکتی ہے۔
اس دن شام تک ان ڈراموں اور فلموں کے یہ عناوین میری چشم تصور کے سامنے رہے، شام ہوئی تو میں نے یہ دعا پڑھی: ’’اللہم اجعل مساء نا ہذا مساء صالحا لا مخزیا ولا فاضحا‘‘ (اے اللہ ہماری اس شام کو ہمارے لئے نیکی کا سامان بنا نہ کہ ذلت ورسوائی کا)۔
خ خخ