میاں بیوی کے حقوق

قانونِ نصرت
اگست 25, 2025
معاشرہ میں بے حیائی اور اُس کا سد باب
اگست 25, 2025
قانونِ نصرت
اگست 25, 2025
معاشرہ میں بے حیائی اور اُس کا سد باب
اگست 25, 2025

میاں بیوی کے حقوق

مولانا محمد خالدغازی پوری ندوی (استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء)


حق کے معنی
حق کے لغوی معنی ثابت ہونے یعنی واجب ہونے کے ہیں، اس کی جمع حقوق آتی ہے ،حق باطل کے مقابلہ میں بھی استعمال ہوتا ہے،جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’قل جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقاً‘‘( اعلان کر دو کی حق آ چکا اور باطل مٹ گیا، یقیناً باطل کو مٹنا ہی تھا)۔
حقوق کی ادائیگی
شریعت اسلامیہ نے ہر شخص کو اس بات پر متوجہ کیا ہے کہ وہ اپنے فرائض ادا کرے،اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طریقہ سے انجام دے اور لوگوں کے حقوق کی مکمل طور پر ادائیگی کرے ۔
شریعت اسلامیہ نے ہر شخص کو مکلف بنایا ہے کہ وہ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق بھی مکمل طور پر ادا کرے،بلکہ بعض وجوہ سے حقوق العباد کی ادائیگی پر زیادہ زور دیا گیا ہے،اس لیے کہ حقوق اللہ میں کوتاہی اگر ہوتی ہے تو اللہ کی ذات سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دیں،لیکن بندوں کی حق تلفی اگر کی جاتی ہے تو وہ اس وقت تک معافی نہیں جب تک بندہ خود معاف نہ کر دے،یا اس کو ادا کر دیا جائے۔
آج ہم خود تو حقوق ادا نہیں کرتے،لیکن حقوق کی باز یافت کی کوشش میں لگے رہتے ہیں، لیکن شریعت اسلامیہ نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ ہمارے اوپر جو ذمہ داریاں ہیں، ہم انھیں ادا کریں،اور اگر ہر شخص اس کی کوشش کرتا ہے تو پھر حق تلفیاں خود بخود ختم ہو جائیں گی،اور باہمی زندگی خوشگوار ہو جائے گی۔
میاں بیوی کے باہمی تعلقات میں بھی اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طریقہ کو اختیار کیا ہے،زوجین کے درمیان تعلقات نکاح کے ذریعہ قائم ہوتاہے ،اور نکاح کے دو مقاصد بتائے گئے ہیں:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’ومن آیاتہ ان خلق لکم من أنفسکم أزواجاً لتسکنوا الیھا وجعل بینکم مودّۃ ورحمۃ ان في ذلک لآیات لقوم یتفکرون‘‘[سورہ روم:٢١]( اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ،اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کردی، یقیناً غور و فکر کرنے والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں)۔
غرض اس آیت میں نکاح کے دو مقاصد بیان کیے گئے :
۱- میاں بیوی کو ایک دوسرے سے قلبی و جسمانی سکون حاصل ہوتا ہے۔
۲- میاں بیوی کے درمیان ایک ایسی محبت،الفت ،تعلق،رشتہ اور ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے جو دنیا میں کسی بھی دو شخصوں کے درمیان نہیں ہوتی۔
میاں بیوی کے درمیان ذمہ داریوں کے تین قسمیں ہیں:
انسان صرف انفرادی زندگی نہیں رکھتا ہے، بلکہ وہ فطرتاً معاشرتی مزاج رکھنے والی مخلوق ہے، اس کا وجود خاندان کے ایک رکن اور معاشرے کے ایک فرد کی حیثیت سے ہی پایا جاتا ہے ، معاشرہ اور خاندان کی تشکیل میں بنیادی اکائی میاں بیوی کی ہوتی ہے ،اور اس بنا پر ایک دوسرے پر معاشرتی حقوق بھی عائد ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’ولھن مثل الذي عليھن بالمعروف‘‘ (ان کا حق بھی ویسا ہی ہے جیسا ان پر حق ہے دستور کے مطابق معروف طریقہ پر)۔
اس آیت میں میاں بیوی کے تعلقات کا ایسا جامع دستور پیش کیا گیا ہے،جس سے بہتر کوئی دستور نہیں ہو سکتا اور اگر اس جامع دستور کی روشنی میں زندگی گزاری جائے تو اس رشتہ میں کبھی بھی تلخی اور کڑوا ہٹ پیدا نہیں ہو سکتی ،واقعی یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ الفاظ کے اختصار کے باوجود معانی کا سمندر گویا کہ ایک کو ز ے میں سمو دیا ہے،یہ آیت بتا رہی ہے کہ بیوی کو محض نوکرانی اور خادمہ مت سمجھنا ،بلکہ یہ یاد رکھنا کہ اس کے بھی کچھ حقوق ہیں جن کی پاسداری شریعت میں ضروری ہے، ان حقوق میں جہاں نان ونفقہ اور رہائش کا انتظام شامل ہے، وہیں اس کی دلداری اور راحت رسانی کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’خیرکم خیرکم لأھلہ وأنا خیرکم لأھلی‘‘( تم میں سب سے اچھا آدمی وہ ہے جو اپنے گھر والوں کی نظر میں اچھا ہو،اور میں اپنے کے لئے سب سے اچھا ہوں)۔
ظاہر ہے ان کی نظر میں وہی اچھا ہوگا جو ان کے حقوق کی ادائیگی کرنے والا ہو،دوسری طرف اس آیت میں بیوی کو بھی آگاہ کیا کہ اس پر بھی حقوق کی ادائیگی لازم ہے ،کوئی بیوی اس وقت تک پسندیدہ نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ اپنے شوہر کے حقوق کو ادا کر کے اس کو خوش نہ کر لے،چنانچہ احادیث میں ایسی عورتوں کی تعریف فرمائی گئی ہے جو اپنے شوہر کی تابعدار اور خدمت گزار ہوں، اور ان سے بہت زیادہ محبت کرنے والی ہوں اور ایسی عورتوں کی مذمت کی گئی ہے جو شوہروں کی نافرمانی کرنے والی ہوں۔
شوہر کی ذمہ داریاں
مکمل مہر کی ادائیگی شوہر کے اہم ذمہ داری ہے،ورنہ آخرت میں نیکیوں سے اس کی ادائیگی کرائی جائے گی،نکاح کے وقت مہر کی تعیین اور شبِ زفاف یعنی ملاقات کی رات سے قبل اس کی ادائیگی ہونی چاہیے،اگرچہ میاں بیوی باہم رضامندی سے اس کو مؤخر بھی کر سکتے ہیں،اس میں اضافہ اور کمی بھی کر سکتے ہیں،مہر صرف عورت کا حق ہے،لہٰذا شوہر یا اس کے والدین بھائی بہن کے لیے مہر کی رقم میں سے کچھ بھی لینا جائز نہیں ہے۔
شریعت اسلامیہ نے پوری زندگی میں کوئی بھی خرچہ عورت پر بحیثیت بیوی نہیں رکھا ہے ،شادی سے پہلے اس کے تمام اخراجات والداور اہل خانہ کے ذمہ ہیں،اور شادی کے بعد عورت کے کھانے پینے، رہنے سونے اور لباس و وسائل معاش کے تمام اخراجات شوہر کے ذمہ ہی ہوتے ہیں،لہٰذا مہر کی رقم عورت کی خالص ملکیت ہے، اس کو اپنی صوابدیدپر وہ خرچ کر سکتی ہے۔
بیوی کے اخراجات
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
’’وعلی المولودلہ رزقھن وکسوتھن ‘‘ [سورہ بقرہ:٢٣٣]( بچوں کے باپ پر عورتوں یعنی بیوی کا کھانا اور کپڑا لازم ہے دستور کے مطابق)۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اتقوا اللہ في النساء فانکم أخذتموھن بأمانۃ اللہ، واستحللتم فروجھن بکلمۃ اللہ‘‘ (عورتوں کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو کیونکہ اللہ کی امان میں تم نے ان کو لیا ہے،اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے ان کی شرم گاہوں کو تمہارے لیے حلال کیا گیا ہے ،دستور کے مطابق ان کا مکمل کھانے پینے کا خرچہ اور کپڑوں کا خرچہ تمہارے ذمہ ہے )۔ [صحیحمسلم،حدیث نمبر:1218]
بیوی کے لیے رہائش کا انتظام
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’أسکنوھن من حیث سکنتم‘‘[سورۃ الطلاق:6]( تم اپنی طاقت کے مطابق جہاں تم رہتے ہو وہاں ان کو رکھو)۔
اس آیت میں مطلقہ عورتوں کا حکم بیان کیا جا رہا ہے کہ عدت کے دوران ان کی رہائش کا انتظام بھی شوہر کے ذمہ ہے،جب شریعت نے مطلقہ عورتوں کی رہائش کا انتظام شوہر کے ذمہ رکھا ہے تو حسب استطاعت بیوی کی مناسب رہائش کی ذمہ داریاں بدرجہ اولیٰ شوہر کے ذمہ ہوںگی۔
بیوی کے ساتھ حسن معاشرت
شوہر کو چاہیے کہ وہ بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرے،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’وعاشروھنّ بالمعروف فان کرھتموھن فعسیٰ أن تکرھوا شیئاً ویجعل اللہ فیہ خیراً کثیراً‘‘[سورۃ النساء:19] (ان کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آؤ یعنی عورتوں کے ساتھ گفتگو اور معاملات میں حسن اخلاق کے ساتھ معاملہ رکھو، گو تم انہیں ناپسند کرو، لیکن بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو برا جانو، اللہ تعالیٰ اس میں بہت سی بھلائی رکھدے)۔
بیوی کے ساتھ حسن معاشرت‘ بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے، اس کی ادائیگی کے مختلف طریقے حسب ذیل ہیں:
حسب استطاعت بیوی اور بچوں پر خرچ کرنے میں فراخدلی سے کام لینا چاہیے۔
جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’اذا أنفق الرجل علی أھلہ نفقۃ یحتسبھا فھی لہ صدقۃ‘‘ [صحیح بکاری، حدیث نمبر:55،صحیح مسلم ، حدیث نمبر: 1002](اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید کے ساتھ اپنے گھر والوں پر خرچ کرتا ہے تو وہ صدقہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس کابڑا اجر عطا فرمائے گا)۔
بیوی سے مشورہ
بیوی گھر کی مالکن ہے ،سارا نظام گھر کا اسی پر موقوف ہوتا ہے،کسی بات کو طے کرنے میں وہ گھریلو امور میں کلیدی رول ادا کر سکتی ہے،لہٰذا بیوی سے مشورہ کرنے میں خیر ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مشورہ کیا اور اس پر عمل بھی کیاہے ، لہٰذا مشورہ اپنے اہل سے کرنا سنت ہے، اور سنت کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔
خخ خ