معاشرہ میں بے حیائی اور اُس کا سد باب

میاں بیوی کے حقوق
اگست 25, 2025
نسلِِ نو کی تربیت میں گھر کا کردار
اگست 25, 2025
میاں بیوی کے حقوق
اگست 25, 2025
نسلِِ نو کی تربیت میں گھر کا کردار
اگست 25, 2025

معاشرہ میں بے حیائی اور اُس کا سد باب

سید کلیم اللہ ندوی(شبلی لائبریری ندوۃ العلماء)

عریانیت اور بے حیائی دونوں لازم وملزوم ہیں، آج کے دور میں بے حیائی عام ہوگئی ہے، ہرشخص شر م وحیا سے عاری ہوتا جارہا ہے، عریانیت فیشن بن گئی ہے، فحاشی وبدکاری میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، عریانیت ایک طرز زندگی بن گئی ہے۔اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ دنیا عریانیت وبے حیائی کس منزل پر پہنچ چکی ہے، مسلم معاشرہ میں بھی یہ لعنت تیزی سے بڑھ رہی ہے، غیروں کی نقل میں مسلم عورتیں بھی محفوظ نہیں ہیں، آج تک جو عورتیں چہاردیواری سے باہر نکلنے کو عار سمجھتی تھیں وہ اب نقاب اتا رکر پھینکے دے رہی ہیں، اگر اس کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو بے حیائی کا یہ فتنہ پورے معاشرہ کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح رواں دواں ہے، کتنی مرتبہ ایساہواکہ باہمی مذاق کے نتیجے میں کوئی مردکسی عورت پر یا کوئی عورت کسی مردپر فریفتہ ہوگئی جس سے وہ خرابی پیداہوئی کہ اس سے بچاؤ کی کوئی تدبیر نہ بن آئی، اللہ تعالیٰ سب کو سلامت رکھے،ان مہلک تفریحات کا جو پہلا اثرانسان پر پڑتاہے وہ بے حیائی اور بے غیرتی کا وہ شدید رجحان ہے جس نے انسانی معاشرہ کی چولیں ہلاکر رکھ دی ہیں اور جن کی وجہ سے صدیوں سے آزمائے ہوئے اعلیٰ انسانی اقدار کا جنازہ نکل گیا۔
اسلام مرد وزن کے آزادانہ اختلاط کو انسانیت کی توہین قراردیتاہے ،اس لیے عورتوں پر پردہ واجب ہے۔ پردہ ناموس نسواں کی حفاظت کا مضبوط قلعہ ہے اور اسلامی نظامِ معاشرت کی اہم بنیادہے۔ اسلام نے عورتوں کو پردہ کا حکم دے کر صنف نازک پر رحم کیاہے۔ پردہ سے عورت کی پاک دامنی وعفت محفوظ رہتی ہے۔ پردہ تحفظ کا احساس پیداکرتاہے اور شرم وحیا کو نہ صرف باقی رکھتاہے ؛بلکہ اس میں اضافہ کرتاہے، پردہ اسی لیے مشروع کیاگیاہے کہ معاشرہ بدنظری،نمائش اور شیریں کلامی کے فتنہ سے محفوظ رہے۔
رسولؐ نے فرمایا :’’جو کسی قوم سے مشابہت اختیار کرے وہ ان ہی میں سے ہے‘‘، یہ چھوٹے چھوٹے لباس جس کی وجہ سے عورتیں تقریباً برہنہ معلوم ہوتی ہیں‘ موجب عذاب اور کافر عورتوں سے مشابہت یقینا بہت بڑا فتنہ ہے اور بے دینی اور بے حیائی ہے، ضروری ہے اس سے بچاجائے اور عورتوں کو سختی کے ساتھ نیم برہنہ ہونے سے منع کیاجائے،حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ:’’عورت گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اسے جھانکتاہے اور اس کے پیچھے ہو لیتاہے‘‘، عورت کے لیے ثواب اور نیکی کی بات یہ ہے کہ وہ گھر کے گوشتہ میں رہے تاکہ بازاری شیطان اسے گناہ میں مبتلا نہ کرسکے۔
حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسولﷺ نے ارشاد فرمایاہے کہ:’’جب کوئی مسلمان گناہ کرتاہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نقطہ پڑجاتاہے ۔ اگر اس نے توبہ کرلی اور گناہ سے باز آگیا اور استغفار کیا تواس کا دل صاف ہو جاتا ہے۔اور اگر گناہ کیا تو وہ سیاہ نقطہ اس کے دل پر پھیل جاتاہے۔ یہی وہ زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایاہے:’’ہرگز نہیں ؛بلکہ ان کے دل زنگ آلود ہوگئے، ان کے گناہوں کی وجہ سے جو وہ کرتے ہیں‘‘۔
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ نگاہ دل کو خبر دینے والی جاسوس ہے جو دل کی طرف دیکھی ہوئی خبریں نقل کرتی رہتی ہے اور ان کی صورتیں اس میںنقش کرتی رہتی ہے، اس طرح سے انسان کو فکر آخرت کے مفید امور سے ہٹاکر بے کار کاموں میں مصروف کردیتی ہے، اس لیے شریعت نے ان کاموں سے جو فتنہ اور گناہ کا سبب ہیں ان سے نگاہ کی حفاظت کا حکم دیاہے۔
بدکاری کی نشرواشاعت عورت اور مرد کے بے حجابانہ میل جول سے کچھ کم فتنہ انگیز نہیں ہے، خیالات وجذبات کے بنانے اور بگاڑنے میں پبلی سٹی کا بڑادخل ہوتاہے، آدمی کے فکر احساس اور جذبات کا جوکچھ سرمایہ ہے، نشروشاعت کے ذرائع اس کا مصرف متعین کرتے ہیں، عفت کی زندگی اس وقت گزاری جاسکتی ہے جبکہ بدکاری کی طرف دعوت دینے والی زبان کاٹ دی جائے اور معصیت کے چرچوں کو بند کردیاجائے، جوشخص بے حیائی پھیلائے اسے عبرت ناک سزادی جائے خواہ وہ سچاہی کیوں نہ ہو۔
آج کا حال یہ ہے کہ ایک شخص خواہ بازار کا تاجر ہو یا کارخانہ کا ملازم ہو، کالج کا طالب ہو یا آفس کا کلرک ہو،کسی ہوٹل میں بیٹھاہویاپارک میں سیروتفریح کررہاہو، ہر جگہ صنف مقابل معصیت کا پیغام لیے موجود ہے۔ زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جس میں موجودہ تہذیب نے عورت اور مرد کے ساتھ عمل دخل کولازم نہ کر دیا ہو،ماحول کو اس قدر رنگین و جاذب بنا دیا ہے کہ قدم قدم پر نگاہیں بھٹکنے لگتی ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شہوانیت ہرطرف بھیک کا پیالہ لیے گھوم رہی ہو، اسی لیے نبی کریمﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ: ’’کوئی مرد دو عورتوں کے درمیان نہ چلے‘‘۔ عورت انتہائی شوخ لباس میں بن سنور کر گھر سے نکلتی ہے اور معاشرہ کی پاکیزہ فضا میں معصیت کے جراثیم پھیلاتی ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا ارشاد ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں عورتیں مردوں کے لیے بنتی سنورتی تھی اور مرد عورتوں کے لیے اپنی آرائش کرتے تھے، اس کے نتیجے میں اخلاقی برائیاں پھیل گئی تھیں، اس قسم کی بے شرمی کی دوسری باتیں اسلام سے پہلے موجود تھیں، اس لیے مسلمان عورتوں کو حکم دیا کہ ان کی یہ روش اختیار نہ کرو۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ خدا کے فرمان کو پس پشت ڈال کر اس زمانہ میں وہ سب کچھ ہورہاہے جو اسلام سے پہلے عورتیں کیاکرتی تھیں، رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا کہ:’’کچھ عورتیں ایسی ہوں گی جو کپڑے پہنے ہوں گی مگر وہ برہنہ ہوں گی، مردوں کی طرف خود مائل ہوں گی اور ان کو اپنی طرف مائل کرتی ہوں گی‘‘۔
مسلمانوں کو چاہیے کہ قرآن وحدیث کو اپنا رہنما بنائیں اور نبی اﷺکی اتباع کریں اور جہنم کے دردناک عذاب سے اپنے آپ کو محفوظ رکھیں ، اپنے گھر کی عورتوں کو بے پردگی سے روکیں تاکہ دنیا و آخرت دونوں جہاں کی رسوائی سے حفاظت ہو سکے ۔
خ خخ