ہوشیار اے ملّتِ بیضائے ما
مارچ 20, 2023میاں بیوی کے حقوق
اگست 25, 2025قانونِ نصرت
مولانا محمد اجتباء الحسن کاندھلویؒ
آج ہم اپنی زندگیوں میں جن پریشانیوں سے دو چار ہیں، اور زمانہ کے جس نازک ترین لمحات سے ہم گذر رہے ہیں، اور جو کیفیتیں ہم پر طاری ہیں، ان سنگیں حالات میں اگر ہم گذرے ہوئے زمانہ کی باتوں کو یاد کریں اور اپنے خدا کی ماضی میں آئی ہوئی غیبی مددوں کا بے چینی سے انتظار کریں تو اس میں کوئی تعجب اور حیرت کی بات نہیں؛ لیکن اس قسم کی باتیں یاد کرنے سے پہلے ہمیں یہ بات سوچنی اور سمجھنی چاہیے کہ آخر ہمارے اسلاف میں وہ کیا اوصاف تھے‘ جن پر خدا کی غیبی طاقتیں ‘ ان کا ساتھ دیتی تھیں۔
بات یہ ہے کہ ہمارے خدا ئے پاک کے یہاں ہر چیز کے آئین اور اصول ہیں، ان کی نصرت کا بھی ایک آئین ہے؛ ایک اصول ہے؛ ایک قانون ہے۔ اسی لیے خدا کی نصرت کے حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ خدا ئے پاک کے ان قانونوں پر نظر کی جائے جن پر خدا اپنی غیبی اور خصوصی نصرتیں فرماتے ہیں۔
لغت کے اندر ’نصر‘ کے معنی ’مدد کرنے‘ کے آتے ہیں، اور خصوصیت سے یہ لفظ مظلوم کی مدد کے لیے مستعمل ہوتا ہے۔ ’نصیر‘ جو خدائے تعالی کا نامِ پاک ہے‘ وہ بھی اسی سے مشتق ہے۔ خداتعالی کے نصیر ہونے کا ایک واضح اور روشن مطلب یہ ہے کہ نصرت و مدد ان کی ایک ایسی خصوصی صفت ہے جو ہر لحظہ، ہر وقفہ، ہر لمحہ، ہر منٹ اور ہر سیکنڈ ان کے ساتھ ہے، وہ ہمیشہ سے نصیر تھے، اب بھی نصیر ہیں، اور ہمیشہ نصیر رہیں گے۔
’نصیر‘ کے اس معنی کی گہرائیوں میں غور کرکے دیکھنے سے یہ بات محسوس کی جاسکتی ہے کہ بے شک صرف وہی ایک تنہا ذات ہے جو نصرت کے اصلی معنی کو پورا کرسکتی ہے، اور صحیح معنی میں نصرت فرماسکتی ہے۔ اس کی نصرت پر پورا وثوق کیا جاسکتا ہے، صرف وہی ایک ذات ہے جو اعتماد اور بھروسہ کے لائق ہے، صرف وہی ایک ذات ہے جو بھر پور نصرت و حمایت فرماسکتی ہے، اور اس کی نصرت و حمایت میں بقائیت، دوامیت اور ہمیشگی ہے۔ جس کو اس کی نصرت حاصل ہوگئی، اور جس کے دامن کو اس کی نصرت نے تھام لیا‘ وہ ایک کامیاب انسان ہے، وہ ایک سرفراز انسان ہے، وہ ایک کامران انسان ہے۔ اب اس کو پریشان ہونے اور بے چین ہونے کی ضرورت نہیں ہے، اور اب وہ کسی دوسرے کی نصرت و حمایت کا ضرورتمند، حاجتمند اور احسان مند نہیں ہے، اللہ فرماتے ہیں: ’’وکفی باللہ نصیراً‘‘ (اور اللہ کافی مددگار اور نصرت گار ہیں)۔
جب خدا مددگار ہیں تو اب یہ بات دماغ میں کچوکے دیتی ہے اور ایک سوالیہ نشان بن کر سامنے آتی ہے کہ آخر خدا کی ان مددوں سے سرفراز ہونے کا شرف کس طرح حاصل ہو؟!۔
اس سلسلہ میں بنیادی بات یہ ہے کہ یہ شرف ان لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جو خدا پر پورے طور پر ایمان لائیں اور اس کی اطاعت اور فرماں برداری میں پورے اتر آئیں؛ اللہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’انا لننصر رسلنا و الذین آمنوا فی الحیوۃ الدنیا و یوم یقوم الاشھاد‘‘ (ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کی دنیوی زندگی میں مدد کیا کرتے ہیںاور اس دن بھی جس دن گواہ قائم کیے جائیں گے)، دوسری جگہ اللہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’و کان حقاً علینا نصر المؤمنین‘‘ (ایمان والوں کی مدد کرنا ہم پر حق ہے)۔
ان آیات سے یہ بات ایک روزِ روشن کی طرح صاف ہوگئی کہ ایمان ِ کامل کے بغیر خدا کی نصرت و حمایت کا تصور ‘ ایک موہوم سا تصور ہے، اور اسی طرح ایمان کے بعد خدا کی نصرت سے یاسیت اور ناامیدی ایک حرمت آمیز اور ناجائز بات ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ایمان والوں کو خدا کی مدد پر پختہ قسم کا یقین اور ان کے ننھے دلوں میں خدا سے طلبِ نصرت اور حمایت کا جذبہ بیدار رہنا چاہیین اور اس کے لیے سراپا امید اور سراپا انتظار بن جانا چاہیے۔ خدا تعالی نے ایمان نگاروں کو اپنی پاکیزہ جنت کی خوش خبری سناتے ہ وئے ان کی نصرت ِ خداوندی کے لیے تڑپ اور بے چینی کو اپنے ان الفاظ میں ظاہر فرمایا:
’’و أخری تحبونھا، نصر من اللہ و فتح قریب‘‘(اور خدا جنت کے علاوہ دوسری وہ چیز تم کو دیں گے، جس کی تم کو چاہت ہے- اللہ کی مدد اور قریبی فتح)
خدا کی نصرت کے ساتھ اس دلی تعلق کا مظاہرہ دعاؤں کی صورت میں بھی ہونا چاہیے، اور دعاؤں کے پورے آداب کے ساتھ خدا کے جناب میں نیازمندانہ گذارش اور عاجزانہ درخواست اور مخلصانہ التجا کرنی چاہیے؛ قرآن مجید کا بیان ہے کہ ایمان نگار‘ خدا سے عرض کرتے ہیں:
’’أنت مولانا فانصرنا علی القوم الکافرین‘‘ کہ آپ ہی ہمارے آقا ہیں، آپ ہماری کافروں کے مقابل نصرت فرمائیں.
’’و ما کان قولھم الا ان قالوا ربنا اغفرلنا ذنوبنا و اسرافنا فی امرنا و ثبت اقدامنا و انصرنا علی القوم الکافرین‘‘(اور ان کا کہنا تو صرف اتنا تھا کہ اے ہمارے پروردگار! ہمارے گناہوں اور ہماری زیادتیوں کو معاف فرما، اور ہم کو ثبات قدمی نصیب فرما اور کافروں پر غلبہ نصیب فرما۔
جنگِ بدر کے نازک وقت پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم اور آپؑ کے صحابہ نے جس طرح خدا کے سامنے دامن پھیلاکر نصرت اور مدد چاہی ہے‘ اس کو خدا اس آیتِ شریفہ میں بیان فرماتے ہیں: ’’اذ تستغیثون ربکم فاستجاب لکم ‘‘.
(اور اس وقت کو یاد کرو ! جب تم اپنے خدا سے فریاد کرتے تھے، پھر اس نے تمھاری فریاد سن لی)
اور فرمایا:’’انی ممدکم بالف من الملائکۃ مردفین‘‘(میں تمہاری یکے بعد دیگرے آنے والے ایک ہزار فرشتوں سے مدد کروں گا)
اس موقع پر حضرت محمد ﷺ نے جن الفاظ میں اور جس انداز میں خدا سے دعا کی وہ فراموش کردینے والی نہیں ہے؛ آپؑ نے فرمایا: اے پرودگار! اپنا وعدہ پورا فرما، اور اے خدا اگر یہ مٹھی بھر انسان تباہ ہوگئے تو قیامت تک تری عبادت نہ ہوسکے گی۔
مگر یہ بات صرف تمناؤں ، آرزوؤں ، کامناؤں، امیدوں اور دعاؤں پر ختم نہیں ہو جاتی؛ بلکہ دین کے راستہ میںدوڑ دھوپ، جد و جہد اور کوششوں کی بھی ضرورت رہ جاتی ہے، جس پر خدا کی مددیں آنے کا انحصار ہے، اور جو خدا کی مدد کے حصول کے واحد ذریعہ ہے، جس کو صحابہ کرامؓ نے اپنایا تھا، جس سے ان کو خصوصی دلچسپی تھی، اور جو ان کی زندگی کا ایک جزء تھا، ان کی زندگی کا ایک خاص شعار تھا، اور جس پر خدا تعالی نے اپنی نصرت کا وعدہ فرمایا ہے، خدا نے کیا فرمایا ہے؟ خدانے نے فرمایا ہے:’’ولینصرن اللہ من ینصرہ‘‘ کہ خدا ضرور مدد فرمائیں گے اس شخص کی جس نے خدا کے دین کی مدد کی۔
آج ہمارے دلوں میں یہ بات رچ بس گئی ہے کہ ہم اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوں، اور خدا کی آسمانی مددیں ہم پر سایہ فگن ہو جائیں، یہ صرف دماغ کا کچا پن ہے، قرآن مجید میں نصرت و مدد کے جتنے واقعات بیان فرمائے ہیں‘ ان پر نظر کیجیے تو آپ محسوس کریں گے کہ خدا نے ایمان نگاروں کی نصرت تب ہی فرمائی ہے جب کہ انھوں نے خود کو خدا کی راہ میں پیش کردیا؛ پچھلے ایمان نگاروں کے حالات سناتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
’’أم حسبتم ان تدخلوا الجنۃ و لما یأتکم مثل الذین خلوا من قبلکم، مستھم البأساء و الضراء و زلزلوا حتی یقول الرسول و الذین آمنوا معہ متی نصر اللہ، الا ان نصر اللہ قریب‘‘.
(کیا تم سمجھتے ہو کہ جنت میں داخل ہوجاؤگے، حالانکہ تم پر ابھی تک پچھلے لوگوں کے سے حالات نہیں آئے، ان پر سختیاں اور پڑیشانیاں آئیں، اور وہ ہلادیے گئے، حتی کہ رسول اور ان کے ایمان نگار ساتھی کہنے لگے کہ خدا کی مدد کب آئے گی؟ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ خدا کی مدد قریب ہے).
خدا کی مددوں کی یہ خوش خبری کوٹھیوں میں رہنے والے ، بلڈنگوں میں بسنے والے انسانوں، عیش و عشرت کے متوالوں، کمپنیاں ، فیکٹریاں اور کارخانے والوں ، اور دنیا کی رنگینیوں میں مست و سرشار رہنے والوں کو نہیں دی گئی؛ بلکہ یہ خوش خبری ان خوش قسمت انسانوں کو دی ہے جنھوں نے خدا کی راہ میں خود کو پیش کیا، اور آزمائش کی سخت منزلوں سے گذرے، اور ان کے صبر و ثبات کے پیروں میں لغزش نہیں آئی، اگر تکلیفیں راستوں میں پیش آئیں تو ان کو برداشت کیا، اور اگر خدا نے سکون و چین کی سانسیں نصیب فرمائیں تو انھوں نے ان سانسوں کو بھی خدا کی خوشی حاصل کرنے کے لیے دین کی راہ میں خرچ کردیا؛ سورۂ انعام میں خدا نے صراحت کے ساتھ ارشاد فرمایا ہے کہ : اے نبی! آپؑ سے پہلے پیغمبروں کو جھٹلایا گیا، اور ان کو تکلیفیں دی گئیں، مگر وہ ثابت قدم رہے، یہاں تک ہماری مدد ان پر آگئی؛ ’’ولقد کذبت رسل من قبلک فصبروا و علی ما کذبوا و اوذوا حتی اتاھم نصرنا‘‘ (اور آپ سے پہلے بہت سے رسول جھٹلانے گئے، پٍ وہ صبر کرتے رہے، یہاں تک کہ ان کو ہماری مدد پہنچی).
بدر کے نازک موقع پر خدا کی مدد مسلمانوں کے پاس مدینہ طیبہ میں نہیں آئی؛ بلکہ بدر کے وسیع میدان میں آئی، وہ کم زور تھے، بے سروسامان تھے، لیکن جس حالت میں بھی تھے‘ دین کی ایک پکار پر اور وقت کی ایک آواز پر حاضر ہوگئے، اور خدا کی نصرت سے ہم کنار ہوئے، ارشاد ہوا: ’’ولقد نصرکم اللہ ببدر و انتم اذلۃ‘‘ (خدا نے تمھاری بدر میں مدد کی ہے جب کہ تم کمزور تھے)۔
خدائے پاک نے قرآن شریف کے اندر تاکید فرمائی ہے کہ خدا کی راہ میں صبر و ثبات کے ساتھ کوششیں کرتے رہو، بت تم کو کامیابی میسر ہوگی، ارشاد فرماتے ہیں:
’’یا ایھا الذین آمنوا اصبروا و صابروا و رابطوا و اتقوا للہ لعلکم تفلحون‘‘.
(اے ایمان والو! تم صبر کرو اور مقابلہ میں مضبوطی سے جمے رہو ، صف بستہ ڈٹے رہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، تا کہ تم کامیاب ہوجاؤ).
اس آیتِ شریفہ کا پہلا حکم ہے: ’اصبروا‘۔ ’صبر‘ روکنے اور سہارنے کو کہتے ہیں، تحمل و برداشت کی یہ قوت صحیح معنی میں استعمال کی جائے گی تو اس کو صبر کے نام سے موسوم کریں گے، گویا آیت شریفہ کا مفہوم یہ ہے کہ جسم پروری اور نفس پرستی کے زہریلے جذبات کو ٹھنڈا کرکے عمل کے میدان میں اترنا چاہیے، اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنے پاؤں پر کھڑے رہنا چاہیے۔
آیتِ شریفہ کا دوسرا حکم ہے: ’صابروا‘۔ مقابلہ میں مضبوط رہو۔ ’صابروا‘ اپنی معنویت کے اعتبار سے ایک جامع لفظ ہے، مقابلہ میں مضبوطی کے ساتھ رہنے کا حکم تو فرمایا مگر مقابلہ کی صورت کا تعین نہیں فرمایا، اس وسعتِ معنی کی افادیت یہ ہے کہ مخالف جس سمت سے بھی اسلام ، اسلامی تشخص،اور اسلام والوں کو نقصان پہنچانا چاہیں، ہم کو حکم ہے کہ ہم مضبوطی کے ساتھ اس کا دفاع کریں۔
ہوسکتا ہے کہ مخالف ‘ اربابِ اسلام کو نیچا کرنے کے لیے جنگ کی ناپاک کوشش کرے، یا اسلامی تشخص پر حملہ کرے، یا اسلامی تہذیب کو ختم کرنے کی کے لیے یورش کرے، یا کوئی بھی ناواجب صورت اختیار کرے تو عزم و ہمت کا پیکر بن کر اس کے ناپاک ارادوں کو چکنا چور کردیا جائے۔
امام رازیؑ نے اپنی تفسیر میں ’مصابرہ‘ کے مفہوم میں جہاد اور غیر مسلموں کے شکوک و شبہات کے ازالہ کو بھی شامل فرمایا ہے۔ علمائے تفسیر نے ایک مطلب یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ باطل کے سلسلہ میں میں جو تکلیفیں، مشقتیں اور مصیبتیں ‘ اہلِ باطل کو سہنی پڑتی ہیں، اسی طرح تم حق کے سلسلہ میں ان پریشانیوں کے سہنے میں ان سے کم نہ رہو، اور یہ بات حق تعالی کے اس ارشاد سے بھی مستفاد ہوسکتی ہے:’’ان تکونوا تالمون فانھم یألمون کما تألمون‘‘ (اگر تم کو درد ہوتا ہے تو ان کو بھی تمھاری طرح درد ہوتا ہے).
آج دنیا میں علم و عمل، تہذیت و شرافت، اخلاق و عادات، معاشرت و معاملات، غرض زندگی کے ہر شعبہ میں خدا کی باتوں سے لاتعلقی برتی جاتی رہی ہے، اور یہ سب اسلامی اعمال ہیں، اور چاروں سمتوں سے ان پر حملوں کی یلغار ہورہی ہے، ان کا خون گرایا جارہا ہے، اسلام اور اسلامیت کو مجروح کیا جارہا ہے، تو ایسے حالات میں ہماری خاموشی اور چپ رہنا اور کوئی دفاع نہ کرنا ایک سخت قسم کی ناانصافی ہے۔
یہ ایک کمزور بات ہے کہ ہم حق کی حمایت اور اس کی نشر و اشاعت میں باطل والوں سے پیچھے رہ جائیں، جب وہ باطل کو پھیلانے کے حقدار ہیں تو کیا ہم حق کے پھیلانے میں حق دار نہیں ہیں، جب وہ باطل کے پھیلانے میں پریشانیوں کو برداشت کرتے ہیں تو کیا ہم حق کے پھیلانے میں پریشانیوں کو نہ برداشت کریں۔ اسلام کی طرف سے ہماری بے نیازی اور بے پروائی اسلام کے ساتھ نا انصافی ہے، جس کو اسلام ہرگز معاف نہیں کرے گا۔
آیتِ شریفہ کا تیسرا حکم ہے : ’ورابطوا‘۔ یعنی صف بستہ ڈٹے رہو!۔ ’ربط‘ عربی زبان میں باندھنے کو کہتے ہیں، اسی سے لفظ ’مرابط‘ بنتا ہے جس کے معنی ہیں : وہ فوجی جو حفاظت کی غرض سے دشمنوں کے حملوں کا سر توڑ دینے کے لیے صف باندھے ہوئے سرحدوں پر تعینات رہتے ہیں۔
خدا تعالی نے اس آیتِ شریفہ کے پہلے حصہ میں صبر و ثبات کا حکم فرمایا، دوسرے حصہ میں صبر و ثبات میں مضبوط رہنے اور جواں مردی کے ساتہ دشمن پر غلبہ پانے کا حکم فرمایا اور تیسرے حصہ میں یہ فرمایا ہے کہ ’اصبروا‘ اور ’صابروا‘ میں ’مرابط‘ کی سی شان ہونی چاہیے۔ جس طرح مرابط کسی وقت غفلت نہیں برت سکتا، اپنی سرحد کو چھوڑ نہیں سکتا، اس کی حفاظت اور دشمن کے جوابی حملے کے لیے کمال کی مستعدی کے ساتھ رہتا ہے، اسی طرح مسلمانوں کو دین پر عمل کرنے اور اس کی حفاظت و نصرت کرنے میں ’مرابط‘ کی سی شان رکھنی چاہیے؛ کہ کوئی بات ہمارے عزم و ہمت اور ایمان و عمل میں رخنہ اندازی نہ کرسکے، اور ہم دین پر کیے جانے والے حملوں کے جواب کے لیے ہمہ وقت مستعد اور ہوشیار رہیں۔
آیت شریفہ کا چوتھا حکم ہے: ’’واتقوا اللہ‘‘، کہ خدا سے ڈرتے رہو۔یعنی اصبروا ، صابروا اور رابطوا کی منزلوں میں تقوی کا لحاظ رکھو، ان چیزوں کا مقصود بھی تقوی کا حصول ہو، اور ان چیزوں کے برتنے میں بھی تقوی‘ پیشِ نظر رہے۔
کتنی ہی اچھی سے اچھی تحریک ہو، اور بہتر سے بہتر پلان ہو، اگر اس کے چلانے میں صحیح طریقے نہیں اختیار کیے جاتے تو نتیجے بھیانک شکلوں میں ظاہر ہوتے ہیں؛ اس لیے مسلمان کی زندگی وہ انفرادی ہو یا اجتماعی، تقوی سے رنگین ہونی چاہیے؛ اس کی ابتدا بھی تقوی سے ہو اور انتہا بھی تقوی پر ہو۔
غرض یہ وہ منزلیں ہیں جن کو طے کرنے کے بعد ’لعلکم تفلحون‘ کی منزل آتی ہے، اور مردِ مؤمن اپنی مراد کو پہونچتا ہے۔اب اگر اپنے مقصود یعنی نصرتِ خداوندی تک پہونچنا ہے تو ہمیں ان چاروں چیزوں کو اختیار کرنا چاہیے۔
خخ خ