آزادی کی نعمت یا ذوقِ یقیں کی نمود
اگست 10, 2025موسمِ ربیع اور ظہورِ قدسی
مولانا محمد عمیر الصدیق ندوی
ربیع کے معنی سے عام طور پر واقفیت ہے کہ یہ لفظ موسم بہار یا موسم بہار کی بارش یا موسم بہار کی پیداوار کا مفہوم رکھتا ہے۔ لغت میں فراخی اور ارزانی کے موسم بہار کے لیے بھی اس لفظ کا ذکر ہے۔ اس جیسے دوسرے الفاظ کے معانی میں بھی بارش، خوشبو، میانہ قامتی جیسے مفہوم کا پتہ چلتا ہے ۔
صفت موصوف کی جدت و معنویت لیے ہوئے قمری یا اسلامی مہینوں کے نام خدا جانے کس نے رکھے، لیکن اسم اور مسمی کی مطابقت اپنی انفرادیت اور وسیع تر معنویت اور حسن ذوق کے لیے واقعی داد کے قابل ہے،ربیع الاول یعنی بہار اولیں کا مہینہ تو اپنے معانی کی بے کرانی پر یقینا سب سے زیادہ ناز کرنے کا حق رکھتا ہے کہ انسانیت کو ہمیشہ پرُبہار بنانے اور رکھنے والی نعمت کا وجود اس مہینے کی خاص صبح و شام کے نام ہو گیا۔ ایسی نعمت جو اولین انسانی وجود کی تمنا بنی اور پھر ہزاروں سال تک یہ انسانوں کے بہترین اور منتخب ترین نمائندوں کے دل اور زبان کی آرزوؤں میں شامل رہی، اس نعمت کی طلب کبھی دعاؤں میں اور کبھی بشارتوں میں ایک انتظار مسلسل کی بے مثال تڑپ بن کر ظاہر ہوتی رہی ۔
زمین کے آسمانوں کو بھی انتظار رہا کہ کاملیت، جامعیت ،اتمام نعمت اور خوشنودی حق کا اعلان جس وجود سے خاص ہے، ظہور اس کا کب ہوگا؟نہایت پاک زبانیں، نہایت پاک دلوں کی ترجمان کس کے لیے تھیں کہ اے ساری کائنات کے رب ،اپنی سب سے شاہکار تخلیق کو ابدی قدر و قیمت کے لائق بنانے والی ہستی کو سامنے لائیے ، جو تیری نشانیوں کی حقیقت سے باخبر کر دے، انسان کی شکل میں سب سے معزز تخلیق کو ، وہ اپنے وجود کی برکتوں سے سنوار دے، الٰہیاتی نوشتے کی عبارتوں کو حل کرا سکے اور جو تخلیق انسانی میں شامل اور پوشیدہ ہر راز کی حقیقت سے آشنا کرا دے ،اور یہی نہیں ہر لاعلمی کو علم کی روشنی سے شفاف ،ظاہر اور واضح کر دے دعا، دعا کرنے والے اور جن کے لیے یہ دعا تھی اور کیا دعا تھی کہ دعا سننے والے نے اس پکار کی قبولیت کو اپنے احسان سے تعبیر کر دیا ۔ربنا وابعث فیہم الخ سے لقد منّ اللہ علی المومنین الخ تک کی حقیقت کے لیے بے شمار سمندروں کا پانی بھی اگر قلم کی پیاس بجھانے کے لیے پیش کر دیا جائے تو بھی اس حقیقت کے بیان میں تشنگی باقی ہی رہے گی ۔
محمد رسول اللہ اور مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ أحمد والے انسانی وجود سے وقت کی جن ساعتوں نے پردہ ہٹایا اور یہ ساعتیں جس ماہ و سال کے نصیب میں آئیں۔ حق ہے کہ اس کو ساری انسانیت بلکہ کائنات کے لیے موسم بہار سے تعبیر کیا جائے۔ رمضان کو نیکیوں کے موسم بہار سے تعبیر کیا جاتا ہے تونیکوکاروں کے صلہ اور انعام کا موسم بہار ظہور قدسی کے ایام کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے ۔ علامہ شبلیؒ نے خدا جانے کس عالم میں دل کی ترجمانی یوں کی تھی کہ :
فرشتوں میں یہ چرچا ہے کہ حال سرور عالم
دبیر چرخ لکھتا یا کہ خود روح الامیں لکھتے
صدا یہ بارگاہِ عالمِ قدوس سے آئی
کہ ہے یہ اور ہی کچھ چیز، لکھتے تو ہمیں لکھتے
حقیقت یہی ہے کہ حال سرور عالم ؐ لکھنے اور بیان کرنے کے لیے انسان کا قلم وقرطاس ہمیشہ ناکافی اور بے بس ہی رہے گا لیکن یاد کرنے اور یاد رکھنے اور یاد دلانے کی لذت و کیف بھی قدرت ہی کی فیاضی ہے ۔یہ فیاضی اسی لیے ہے کہ حال سرور عالمؐ اور قال سرور عالمؐ سے محبت کرنے میں کوئی کسی سے کم نہ رہے۔ ساری محبتیں حد یہ کہ ماں، باپ سے محبت بھی شہ دیںؐ کی محبت کے سامنے کچھ نہ رہے۔ اصل محبت سرِتسلیم خم کرنے اور خود کو اور اپنی ساری متاع حیات کو فدا اور نثار کرنے کا تقاضا رکھتی ہے۔ محبت یقین کے درجہ تک پہنچانے والے زینے کا نام ہے اور یقین کی دولت تک رسائی صرف محبت، فدائیت اور سب کچھ لٹا دینے کا نام ہے۔ الفاظ اپنی روح تک پہنچنے کی آواز دیتے ہیں کہ کوئی اپنے دعوائے یقین میںاس وقت تک پورا اتر ہی نہیں سکتا ۔جب تک ذاتِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، اس کے اپنوں سے بھی بڑھ کر فدائیت کا ثبوت نہ دے۔ ربیع الاول کی آمد ہمیشہ کی طرح یاد دلاتی ہے کہ پڑھنے ،سننے ،سمجھنے ،دل میں بسا لینے ،زندگی کو جاننے، دنیا کو برتنے ،آخری اور آخرت کی اصل زندگی جینے اور محبوب کے محبوب کی محبت کی لازوال نعمت کا حق پانے کے لیے اس کی سیرت کو سینے سے لگایا جائے، جس کے ذریعے ساری کائنات اپنے مالک کی مرہون منت ہے۔ لقد منّ اللہ علی المومنین کے الفاظ ہر انسان کو احسان شناس ہونے کا وہ احساس دلاتے ہیں جس کے بغیر ہمیشہ ہمیش کی زندگی اور ہر عذاب وعقاب سے محفوظ زندگی کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا ۔
سیرت طیبہ دراصل علم انسانی کے نصاب کا وہ بنیادی اور لازمی مضمون ہے جس کے بغیر اللہ کو مطلوب انسان کی ہر سند ناقص ہے۔ یہ حقیقت خاص طور پر علوم نبوت کے طالبوں اور شمع رسالت کے پروانوں کی نگاہ میں رہنی چاہیے ۔وہی نگاہ جو اقبال کے لفظوں میں نگاہ عشق و مستی ہے اور جس کی نظر میںوہی اول، وہی آخر ،وہی قرآں، وہی فرقاں، وہی یاسیں، وہی طٰہٰ کی حقیقت سما جاتی ہے۔