مشکلات کے سامنے سپراندازی جوانمردوں کا کام نہیں!

عید کے بعد کی ذمہ داریاں
جون 4, 2018
حجاج کے ادائے عاشقانہ کا پس منظر
جولائی 16, 2018

مشکلات کے سامنے سپراندازی جوانمردوں کا کام نہیں!

شوال کامہینہ دینی مدارس کے نئے سال کے شروع ہونے کاوقت ہوتاہے، جہاں علوم نبوت کے سکھانے اورپڑھانے کا کام کیاجاتاہے ،اور اس کے ذریعہ طلبہ میں قرآن وحدیث اوردوسرے دینی علوم سکھانے اورپڑھانے کے ساتھ ان کی دینی غیرت وحمیت کواس درجہ پیداکرنے کی فکروکوشش کی جاتی ہے کہ ان کوخریدانہ جاسکے یعنی دنیاوی جاہ ومنصب اور مال ودولت کالالچ دے کر ان کودین کے ایک شوشہ کے بھی انکار یاچھوڑنے پرآمادہ نہ کیا جاسکے ،اورنہ ہی دنیاوی علوم وایجادات کاان پرایسارعب ڈالاجاسکے جوان کے اندراحساس کمتری پیداکرے۔
جب حقیقت وہ ہے جس کااوپر ذکرکیاگیا،توذمہ دارانِ مدارس کے کام کی اہمیت وضرورت کواچھی طرح سمجھاجاسکتاہے اورخودکارکنانِ مدارس کواپنی اس ذمہ داری کاحق اداکرنے کے لیے جس ایثارو قربانی اورعزم و استقامت کی ضرورت ہے، ان کااس سے ذ رابھی غفلت سے کام لینا، اس اعلیٰ مقصد کو کتنانقصان پہنچاسکتاہے ؟اورخودان کے مردم سازی کے منصب عظیم کوداغ دارکرسکتاہے، لہٰذا طلبہ کی تربیت اوران کی دینی حس کوبیدار کرنے کے لیے بڑی توجہ، محنت اور یکسوئی کی ضرورت ہے،تاکہ مادہ پرست ،کوتاہ بیں دنیامیں پیغمبرانہ خودداری اور دنیاکے پیمانوں کے انکاراورحقارت کااظہار ہو، اور آخری سہارا ٹوٹ جانے کے بعد بھی اللہ کے رسول محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے عزم وحوصلہ سے بھرے ہوئے یہ الفاظ کہ:’’ چچاجان! اگریہ میرے ا یک ہاتھ میں سورج اوردوسرے ہاتھ میں چاند لارکھ دیں تب بھی میں اپنی پیغمبر انہ ذمہ داری کواداکرنے سے باز نہیں رہ سکتا‘‘ ،اورآپؐ نے اپنی مکی زندگی میں اس کایہ عملی نمونہ پیش کردیاکہ :’’بڑھتے ہوئے قدم کوپیچھے نہ ہٹاناچاہیے خواہ وہ آگے نہ بڑھ سکے، حق پرجمے رہناچاہیے،چاہے مخالفت کاکتناہی زورہو،غلط کوغلط سمجھنا چاہیے چاہے اس کوحکومت وتسلط ہی کیوں نہ حاصل ہو،باطل کے مقابلہ میں ڈٹے رہنا چاہیے چاہے اس کو غلط ہوتے ہوئے قبول عام ہی کیوں نہ حاصل ہو، لوگوں کوخیرکی دعوت دیتے رہناچاہیے خواہ اس کے جواب میں تکلیف و ایذاہی سے کیوں نہ دوچاہوناپڑے ،فرض کوفرض سمجھ کرادا کرتے رہناچاہیے چاہے اس کانتیجہ سامنے نہ آئے، ذمہ دارکوذمہ داری سمجھ کرانجام دیتے رہناچاہیے خواہ اس کاکوئی بڑافائدہ نہ دکھائی دے، مردمومن کااپنی مردانگی پرقائم رہناہی اس کاطرئہ امتیاز اورتمغہ جواں مردی ہے، چاہے ا س کے گردوپیش کی ہرہرچیزاس کو پیس ڈالناچاہتی ہو‘‘۔
جب علماء وارثین انبیاء ہیں توان کواسوئہ ر سول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی سیرت کاآئینہ سامنے رکھ کرکام کرنا ضروری ہے،تاکہ ان سے وہ کام انجام پائے جس کو علماء ربانی انجام دیتے آئے ہیں، چراغ سے چراغ جلتا آیاہے، کام بلاشہ بہت مشکل وکٹھن ہے لیکن اس کاانعام اوراس کی سرفراز یاں بھی بہت بڑھ چڑھ کرہیں، ذمہ داریوں سے غفلت اوراس کی ادائیگی میں ادنیٰ کوتاہی اورمشکلات کے سامنے سپراندازی جواں مردوں کاکام نہیں۔
لیکن دیکھنے میں یہ آرہاہے کہ ہمتیں ایسی پست ہورہی ہیں اورمال ودولت کی طلب کاایسا غلبہ ہورہاہے کہ بزرگوں کے خاندانوںمیںجہاں پشتوں سے دینداری اوربزرگی چلی آرہی تھی، مغرب کی نقالی، دین سے بے رغبتی بلکہ دین کی تحقیراورشعائراسلامی سے وحشت اور ان کے ساتھ تمسخر کیا جارہاہے۔
یہ اس وجہ سے ہواکہ اتنی عظیم نعمت اورایسے اونچے منصب کی ناقدری کی گئی جس کاان کی اگلی نسلوں پراثر پڑا، ا ور وہ دین سے دور ہی نہیں بلکہ دین کی مخالف ہوگئیں اوراس کامذاق اڑا نے لگیں، اس مناسبت سے مفکراسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی ؒ کی اس وصیت کونقل کردینا مناسب معلوم ہوتاہے جو انھوں نے اہل خاندان کوجمع کرکے فرمائی تھی،فرمایاکہ:
۱-کبھی ظالم نہ بننا، مظلوم بن جانا،توتم ان شاء اللہ ترقی کروگے، لیکن اگرظالم بنے توپھرتم ترقی نہیں کرسکتے، وہیں سے تمہاراراستہ بدل دیاجائے گااوراللہ تعالیٰ کی طرف سے پکڑآئے گی۔
۲-دوسری بات یہ فرمائی کہ حرام مال سے ہمیشہ بچتے رہنا ،بلکہ مشتبہ مال سے بھی بچنا، اگرچہ مشتبہ مال سے بچنا مشکل ہے لیکن بچنے کی کوشش کرنا۔
۳-تیسری بات یہ فرمائی کہ صلہ رحمی کرتے رہناچاہے تمہارے رشتہ دارتمہارے ساتھ کچھ بھی کریں، تم ان کے ساتھ ہمیشہ اچھاہی سلوک کرتے رہنا۔
بگڑے ہوئے دیندارگھرانوں اورعلماء کے خاندانوں کے حالات معلوم کیے جائیں توحضرت مولانارحمۃ اللہ علیہ کی وصیت کی ہوئی باتوں میں سے کسی بات کی کمی ضرور پائی جائے گی۔
وصیت کے وقت حضرت مولانارحمۃ اللہ علیہ نے یہ بھی فرمایا کہ: میں تاریخ کاطالب علم ہوں اور ہرجگہ سے تقریباًواقف ہوں، بڑے خاندان، اولیاء اللہ ، علماء کے خاندان ختم ہوگئے، ان کی اولادمیں بے دینی آگئی اوراولادیں بگڑگئیں اور دوسرے راستہ پرپڑگئیں۔
جب دنیاطلبی اورمال وجاہ کی خاطر اپنی خاندانی خصوصیات وامتیازات کوداؤں پر لگا دینے میں ذرابھی جھجھک نہ پائی جاتی ہو،اوردین دارگھرانوں کی بھی وہ مثالیں ہوں جن کااوپرذکرہواتومدارس کے کارکنان کواپنی ذمہ داریوں کواداکرنے میں کتنی دشواریاں پیش آئیں گی؟ان کے بیان کی ضرورت نہیں، لیکن اہل ہمت ہمیشہ ایسے ہی حالات میں کام کرتے آئے ہیں، اورانھو ں اپنے بعدآنے والے کام کرنے والوں کے لیے بڑے تابندہ نقوش چھوڑ ے ہیں۔
لہٰذا ہمت وحوصلہ کے ساتھ اپنے فرض منصبی کواداکرنے کی پوری کوشش کرنی چاہیے جن پرکوششیں کی جائیں گی ان میں سے سعید روحوں کو فائدہ پہونچے گا،اورا ن پر محنت ٹھکانے لگے گی،جو بگڑیں گے ،وہ اپنی شقاوت و بدبختی سے بگڑیں گے، ان پرکچھ زورنہیں کہ:’’اِنَّکَ لاَتَھْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَائُ‘‘۔
لہٰذا بگڑتوں کودیکھ کر ہمت نہ ہارنا چاہیے،اللہ تعالیٰ ہی محض اپنے فضل وکرم سے ہمیں ہمت وحوصلہ عطافرمائیں،آمین۔
شمس الحق ندوی