شہریت ترمیمی قانون۔ تجزیہ، اندیشے اور امکانات

آہ! مولوی محمد غفران ندوی مرحوم
دسمبر 15, 2019
مایوسی نہیں! اپنے مقام کی شناخت اور خدا کی ذات پر اعتماد
جنوری 12, 2020

شہریت ترمیمی قانون۔ تجزیہ، اندیشے اور امکانات

۱۱؍ دسمبر۲۰۱۹ء کو جمہوری ملک ہندوستان میں ’’شہریت ترمیمی بل‘‘ پاس کرلیا گیا، جس کو اقوام متحدہ کی حقوقِ انسانیت کے شعبہ نے ’’فطری طور پر امتیازی قانون‘‘ اور ملک کی پارلیمنٹ میں حزبِ اختلاف نے ’’غیر آئینی‘‘ قرار دیا، جب کہ ملک کی کئی ریاستوں کی حکومتوں نے اس سے اختلاف کرکے عدمِ تنفیذ کی بات کہی ہے۔ اس بل کے خلاف ملک کے مختلف حصوں اور دانش گاہوں میں، شاہراہوں پر نکل کر اور میڈیا و سوشل میڈیا پر پیش ہوکر ملک کے مختلف باشندے احتجاج اور عدمِ تسلیم کی آواز بلند کر رہے ہیں اور بل کے حوالہ سے ناراضگی اور غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس بل کی گونج بیرون ملک بھی پہونچی ہے اور مختلف ممالک سے سرکاری و غیر سرکاری سطح پر رد عمل سامنے آیاہے۔

مذکورہ قانون کی رو سے تین پڑوسی اسلامی ممالک ؛ پاکستان، افغانستان، اور بنگلہ دیش سے غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افراد اگر ہندو، سکھ، عیسائی، جین، بدھسٹ اور پارسی ہیں تو ان کو ’این آرسی‘ میں ہندوستانی شہری تسلیم کرکے شامل کرلیا جائے گا، اور اگر مسلمان نہیں ہیں تو نہیں!۔
اس طرح یہ بل جو فی الوقت عدالتِ عالیہ میں زیرِ غور ہے‘ عام دانشوروں کی رائے میں دستورِ ہند کی اہم اور حساس آئینی شقوں کے خلاف معلوم ہوتا ہے، اس سے ملک کی سیکولر حیثیت ختم ہوتی محسوس ہوتی ہے اور ملک کے باشندگان کے درمیان عدمِ مساوات کی فضا ہموار ہوسکتی ہے۔
اس بل کے جواز کے لیے سرکار کی طرف سے جو وجوہ سامنے آئی ہیں‘ ان میں سے ایک یہ ہے کہ: چونکہ ان مسلم ممالک میں رہنے والے غیر مسلم وہاں مذہبی تعصب اور بالجبر تبدیلئ مذہب سے پریشان ہوکر ہمارے ملک میں آئے ہیں، لہٰذا ان کے ساتھ ’ترحم‘ کا معاملہ کرتے ہوئے ہم ان کو شہریت دے رہے ہیں۔یہ بات بہت اچھی ہے کہ مظلوم لوگوں کا ساتھ دیا جائے اور خاص طور پرمذہبی طور پر درماندہ لوگوں کو پناہ دی جائے، ہم اس کے لیے اپنے سینوں میں کشادگی رکھتے ہیں۔ تاہم اس میں مذہبی تفریق نہیں ہونی چاہیے۔ پڑوسی سبھی ممالک کے مذہبی تعصب کا شکارسبھی پناہ گزینوں کے لیے قانون میں گنجائش دینی چاہیے۔

جہاں تک مسلم ممالک میں بالجبر تبدیلئ مذہب کی بات ہے تو یہ بحیثیت مسلم ہمارے نزدیک بڑ ے افسوس اور حیرت کی بات ہے؛ کیونکہ قرآنی و اسلامی تعلیمات کی رُو سے یہ ناجائز ہے کہ کسی غیر مسلم کو ڈرا دھمکا کر، لالچ دے کریہاں تک کہ اخلاقی دباؤ بناکر مسلمان کیا جائے۔ قرآن کی صریح آیت ہے: ’’لاَاِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ‘‘[بقرہ: ۲۵۶]کہ مذہب کے معاملہ میں کوئی زور زبردستی نہیں، اور قرآن ہی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلقین کی گئی: ’’اَفَاَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتَّی یَکُوْنُوْا مُؤمِنِیْنَ‘‘ [یونس:۹۹] کہ آپؐ لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور نہیں کرسکتے۔
دوسری وجہ جو اس بل کے جواز کے لیے بیان کی جارہی ہے ،وہ یہ کہ مسلم ممالک سے دہشت گرد اور شدت پسند لوگ ہمارے ملک میں دَر آسکتے ہیں۔ یہ معقول بات ہے کہ غلط عناصر کو ملک میں پناہ نہیں دینی چاہیے، لیکن یہاں پر بھی مذہب کی شرط نہیں لگانی چاہیے، جن پڑوسی ممالک میں کسی بھی قوم یا طبقہ کی طرف سے کسی کے بھی خلاف شدت پسندی کے رجحانات سامنے آچکے ہیں،ان تمام اقوام و طبقات کے افراد کو ملک کی شہریت دینا مناسب نہیں ہوگا۔

بل کے مخالف لوگوں سے سرکار بار بار کہہ رہی ہے کہ اس بل سے غیر پناہ گزین ملک کے اصل شہریوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے، یہ صرف حزبِ اختلاف کا سیاسی پروپیگنڈہ ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ اس بل میں ملک کے اصل شہریوں کے اخراج سے متعلق کوئی بات نہیں ہے، لیکن اصل شہریت کے اثبات کے لیے جو امور یا کاغذات مطلوب ہیں ‘ اس کی وجہ سے ملک کے اکثر شہریوں کو تشویش ہے کہ بہت سے اصل شہری وہ فراہم نہیں کرپائیں گے۔ ان میں سے غیر مسلم پھر بھی نئے ترمیمی قانون کے ذریعہ نئی شہریت حاصل کرلیں گے، تاہم ان کی پریشانی کی بات یہ ہے کہ ان کی نئی املاک و جائیداد کا کیا ہوگا؟ نیز یہ کہ وہ عرصہ تک جب تک کہ این آر سی میں ان کا رجسٹریشن نہیں ہوجاتا حق رائے دہی اور شہری سہولیات سے محروم رہیں گے۔ ان کے بعض دانشوروں کا یہ بھی خیال ہے کہ اس بل کے ذریعہ ملک کی سیکولر حیثیت ختم کرکے ملک کو ایک خاص طبقہ کے ماتحت بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، وہ سمجھ رہے ہیں کہ آج مسلم طبقہ کا نمبر ہے، آئندہ ہمارا نمبر ہے۔ رہی بات مسلمانوں کی تو ان کو اپنے سلسلہ میں سب سے زیادہ تشویش ہے کہ ان کا ایک بڑا طبقہ حقیقتاً ہندوستانی ہونے کے باوجود ’رفیوجی کیمپ‘ میں منتقل ہوجائے گا، جہاں وہ تمام شہری سہولیات سے محروم ہوجائے گا اور اس کی تعلیم و ترقی کے راستے مسدود ہوجائیں گے۔

یہ اور اس طرح کے بہت سے اندیشے اور سوالات جو ملک کی عوام کے ذہنوں اور زبانوں پر ہیں‘ ان کو شایدمحض اس بات سے تشفی نہیں ہوگی کہ ’’اس بل سے کسی کو کوئی خطرہ نہیں‘‘ یا ’’یہ حزبِ اختلاف کا سیاسی پروپیگنڈہ ہے‘‘۔ اگر ان اندیشوں کو اطمینان بخش دلائل سے دور کردیا جائے اور ان سوالات کا تشفی بخش جواب دیدیا جائے، یا بل میں ایسی ترمیم کردی جائے کہ جس سے آئین کی سیکولر اور بنیادی شقوں کی راست مخالفت نہ ہو اور ملک کے تمام اصل باشندے، اپنی شہریت، املاک اور تمام شہری حقوق کے تحفظ کے سلسلہ میں مطمئن ہوجائیں تو ہمیں امید ہے کہ یہ قانون ضرور قبول کرلیا جائے گا اور موجودہ انتشارو خلفشار ، خوف و دہشت کا ماحول اور وسوسے اور اندیشے کافور ہوجائیں گے۔
اس بل کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی صورتِ حال کو ختم کرنے کے لیے ایک رائے اور بھی پیش کی جارہی ہے۔بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل ملک کی شہریت کے سلسلہ میں ’ووٹر آئی ڈی کارڈ‘ اور ’آدھار کارڈ‘ پر کافی کام ہوچکا ہے۔ اس میں عوام کا بڑا وقت اور ملک کا ایک بڑا بجٹ صرف ہوچکا ہے، شہریوں کی بھاری اکثریت کے پاس دونوں میں سے ایک چیز موجود ہے، لہٰذا این آر سی کے سلسلہ میں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔اس طرح وقت، محنت اور اخراجات کی بچت بھی ہوگی اور لوگوں کی راحت بھی ملے گی، ورنہ ملک جو اس وقت غیر معمولی اقتصادی زبوں حالی کا شکار ہے‘ ایک لمبے عرصہ تک کے لیے اس کا مقابلہ کرنے سے قاصر رہے گا، چہ جائے کہ ترقی کے لیے اقدام کرے۔

ہم دعا گو ہیں کہ حکومتِ ہند کوئی ایسا فیصلہ لے جو مذہب اور نسل سے بالاتر ہو اور پوری ہندوستانی قوم کے لیے اطمینان و خوشی کا باعث ہو۔
٭٭٭٭٭
شمس الحق ندوی