ماہِ ربیع الاوّل کی برکات

جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں
ستمبر 6, 2021

ماہِ ربیع الاوّل کی برکات

ربیع الاول کا مہینہ آتا ہے تو اس ذاتِ گرامی(صلی اللہ علیہ وسلم) کے ذکر و یاد، میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پُر رونق جلسوں ، علماء کی تقریروں اور مشاعروں سے فضا گونجنے لگتی ہے ، جس سے انسانیت کا سراونچا اور اورنام روشن ہوا ،ا گر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مثالی شخصیت نہ ہوتی توانسانیت جس عالم گیر اندھیرے میں بھٹک رہی تھی جس میں انسان انسان کا خون چوس رہا تھا، طاقتور کمزور کو کھا رہا تھا ، تو ہم انسانیت کے شرف و عظمت کے لیے کس کو پیش کرتے ، اور انسانیت کا سر اونچا کر نے کے لیے کس کا نام لیا جاتا ، خالق کائنات نے اپنی بے شمار مخلوقات میں جس انسان کے سر پر اپنی خلافت کا تاج رکھا تھا ، اس کے اس شرف خلافت کی لاج کون رکھتا ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اس کائنات میں حسن و احسان اور جمال و کمال کا سب سے بڑا پیکر ہے ، جس سے زیادہ صورت و سیرت اور کمال ظاہر و باطن کا دلکش انسانی نمونہ خالق و مالک اور قادر مطلق نے کوئی اور نہیں بنایا (صلی اللہ علیہ وسلم)۔ کہنے والے نے سچ کہا ہے کہ:

صورت تری معیارِ کمالات بنا کر

دانستہ مصور نے قلم توڑ دیا ہے

آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی وہ ذات گرامی ہے جس پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمتیں بھیجتا ہے ، اور فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہیں ، اتنا ہی نہیں بلکہ جن لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نبی مانا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی کتاب پر خلوص دل سے ایمان لائے ،ان کو بھی حکم ہو رہا ہے کہ تم ان پر درود و سلام بھیجو :’’اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰئِکَتَہُ یُصَلُّوْنَ عَلیَ النَّبِیِّ یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْماً‘‘۔[احزاب:۵۶]

اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شیدائی آپؐ کا نام آتے ہی درود پڑھتے ہیں اور آسمانی درود کو بھی اس طرح بیان کرتے ہیں:

جب زبان پر محمدؐ کا نام آگیا

آسماں سے درود و سلام آگیا

اللہ تعالیٰ نے اپنے اس محبوبؐ کو جس کو ہر اعتبار سے انسانیت کا کامل و مکمل نمونہ بنایا ،معراج میں اپنے پاس ساتویں آسمان پر سدرۃ المنتہیٰ تک بلایا ، جہاں حضرت جبرئیل علیہ السلام کو بھی جانے کی اجازت نہیں ،اسی کو ایک شیدائی نے اس طرح ادا کیا ہے :

تخیل کی رسائی ہو نہیں سکتی جہاں تم ہو

جہاں جلتے ہیں پر جبریلؑ کے آقا وہاں تم ہو

قیامت کے دن جب نفسی نفسی کا عالم ہوگا ،عرش خداوندی کی د ا  ہنی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کرسی لگائی جائے گی ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوں گے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں حمد کا جھنڈا ہوگا ، اور سارے انبیاء و اتقیاء کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر رشک آئے گا ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس شرف و بلندی کا راز یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء کی صفات کے جامع اور خاتم الانبیاء ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عالم میں خدا کی تعلیم و ہدایت کے شاہد ہیں ، نیکو کاروں کو فلاح و سعادت کی بشارت سنانے والے مبشر ہیں ، ان کو جو اَب تک بے خبر تھے ، ہوشیار و بیدار کرنے والے نذیر ہیں ، بھٹکنے والے مسافروں کو خدا کی طرف پکارنے والے داعی ہیں،اور خود ہمہ تن نور اورروشن چراغ ہیں ، ’’سراًجا منیراً‘‘ ہیں ، آپؐ کی ذات اور آپ کی زندگی راستہ کی روشنی ہیں ، جو راہ کی تاریکیوں کو دورکر رہی ہے ، آپؐ ایسی شریعت لے کر بھیجے گئے ، جس کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح کھول کر بیان فرمایا ہے :

’’اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلاَمَ دِیْناً‘‘ [سورہ مائدہ:۳](آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کردیں اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کرلیا)۔

اس لیے عقیدہ کی پختگی ، اخلاق کی بلندی کے لیے سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مکمل کوئی نمونہ نہیں ،اس لیے اب جس کو جو کچھ ملے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی اتباع سے ملے گا ، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ اور سیرت و کردار کو بھی قیامت تک کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے جو قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے روشن چراغ ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے بڑی بات یہ بتائی کہ سب کا پیدا کرنے والا صرف اللہ ہے،وہی سب کا مالک ہے،اس کو کوئی شریک نہیں۔