دو روزہ مشاورتی اجلاس مدارس ملحقہ ندوۃ العلماء

سرگرمیاں
اگست 25, 2025
سرگرمیاں
اگست 25, 2025

دو روزہ مشاورتی اجلاس مدارس ملحقہ ندوۃ العلماء

محمد نفیس خان ندوی (استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء)

تعلیم، تربیت اور دعوت کے موضوعات پر تفصیلی مذاکرہ

۲۱-۲۲ اکتوبر (بروز بدھ و جمعرات) ندوۃ العلما میں ملحقہ مدارس کا دوروزہ مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، اس اجلاس میں مختلف صوبوں سے ملحقہ مدارس کے تقریبا ڈھائی سو ذمہ داران اور علماء نے شرکت کی۔ اس دوران افتتاحی و اختتامی نشستوں کے علاوہ ‘تعلیم، تربیت اور دعوت کے موضوعات پر تین اہم مذاکرہ جاتی نشستیں منعقد ہوئیں، جن میں مندوبین نے اپنی آرا، تجاویز اور تجربات پیش کیے۔ آخری نشست میں اجلاس کے حاصلِ گفتگو کو تجاویز کی شکل میں مرتب کرکے پیش کیا گیا۔

افتتاحی نشست

اس مشاعرتی اجلاس کی اففتاحی نشست تقریبا دس بجے ناظم ندوۃ العلماء حضرت مولانا بلال عبدالحی حسنی ندوی کی صدارت میں منعقد ہوئی۔

حضرت مولانا نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ ندوۃ العلماء کی معتدل و متوازن فکر عصرِ حاضر میں امت کی رہنمائی کے لیے نہایت اہم ہے۔ مدارس کی ذمہ داری ہے کہ وہ محض تعداد بڑھانے کے بجائے تعلیم و تربیت کے معیار پر توجہ دیں اور طلبہ میں علمی پختگی، فکری بصیرت اور قوتِ عمل پیدا کریں۔ مدارس کا اصل مقصد دین کی صحیح ترجمانی اور ملت کی رہنمائی کرنے والی شخصیات تیار کرنا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اساتذہ کی تربیت، اکابر کے علمی ورثے سے وابستگی، اختلافات میں اعتدال اور عصرِ حاضر کے چیلنجوں کا حکمت و بصیرت کے ساتھ مقابلہ ضروری ہے۔

افتتاحی نشست کی نظامت مولانا کمال اختر ندوی انجام دی ۔ انہوں نے اپنے تعارفی کلمات میں کہا کہ ندوۃ العلماء تعلیم و تدریس، صحافت، طلبہ کی تربیت اور ادبی سرگرمیوں سمیت مختلف شعبوں میں ہمہ جہت ترقی کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ ادارے میں تعلیمی معیار کی بہتری، طلبہ کی علمی و اخلاقی تربیت، عربی و انگریزی زبانوں کے فروغ اور ہندی زبان کی تعلیم کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح طلبہ میں شعر و ادب کا ذوق پیدا کرنے اور اکابرِ ندوہ کی علمی و ادبی روایت کو آگے بڑھانے کے لیے مختلف پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔

پہلی نشست

افتتاحی نشست کے بعد اجلاس کی پہلی مشاورتی نشست تقریبا ساڑھے گیارہ بجے منعقد ہوئی، جس کا موضوع ’’تعلیم‘‘ تھا۔

اس نشست کی صدارت مولانا عمار عبدالعلی حسنی ندوی (ناظر عام ندوۃ العلماء) نے کی،جبکہ نظامت کے فرائض مولانا سلمان نسیم ندوی نے انجام دی۔ مندوبین نے نصاب، تعلیمی نظام اور تدریسی معیار سے متعلق اپنی آرا پیش کیں۔

نشست میں بنیادی خطاب مولانامحمد علاء الدین ندوی نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو باطل کے مقابلے میں درپیش آزمائشوں کا سامنا حکمت اور استقامت کے ساتھ کرنا چاہیے۔ انہوں نے نصابِ تعلیم کو قرآن و سنت کی روشنی میں عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ آنے والی نسلیں دینی علوم سے آراستہ ہو سکیں۔

مولانا عمار عبدالعلی حسنی ندوی مدظلہ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ طلبہ اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں، اس لیے ہر استاد کو پوری تیاری، اخلاص اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ تدریس کرنی چاہیے۔ اساتذہ طلبہ کی صلاحیتوں اور کمزوریوں کو سمجھیں اور ان کی تعلیمی ترقی کے لیے انفرادی توجہ دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مدارس کا مقصد صرف علم فراہم کرنا نہیں، بلکہ طلبہ کو باکردار، بااخلاق اور دین و ملت کے لیے مفید انسان بنانا بھی ہے،اور اس کے لیے اگر قربانی دینی پڑے تو اس سے بھی گریز نہیں کرنا چاہیے کیوںکہ ہمارا یہ نظام قربانی چاہتا ہے۔

دوسری نشست

بدھ کی شب بعد نمازِ مغرب منعقد ہونے والی دوسری نشست کا موضوع ’’تربیت‘‘ تھا۔اس نشست کی صدارت مولانا نیاز احمد ندوی (نائب مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء)نے کی،اور نظامت کی ذمہ داری مولانا خالد باندوی ندوی نے انجام دی، اس میں ملحقہ مدارس کے ذمہ داران نے تربیتی مسائل اور اصلاحی اقدامات کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں۔

اس نشست میں کلیدی خطاب مولانا عبدالسبحان ناخدا ندوی نے کیا۔ انہوں نے علماء کے مقام و مرتبے اور ان کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ علماء کو اپنے غور و تدبر اور فکری اجتہاد کو سلفِ امت کی تعلیمات و رہنمائی کے تابع رکھنا چاہیے۔ انہوں نے شخصیت سازی کے لیے عقیدے کی درستی، حیا، قوتِ کردار، امانت داری اور عزتِ نفس کے تحفظ کو بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا اور ان اوصاف کو اپنی زندگی میں اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

صدر مجلس مولانا نیاز احمد ندوی نے اپنے خطاب میں حکیمانہ اور مشفقانہ اندازِ تربیت، موقع و محل کی مناسبت سے گفتگو اور اللہ تعالیٰ و رسول اللہ ﷺ کی محبت کی اہمیت بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک کامیاب مربی وہ ہے جو ان صفات کو پہلے اپنی ذات میں پیدا کرے جنہیں وہ طلبہ میں پروان چڑھانا چاہتا ہے، کیونکہ استاد کا اچھا کردار طلبہ کی اخلاقی و دینی تربیت پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے، نیزمعاصر اساتذہ اور اہلِ علم کے درمیان باہمی احترام، حسنِ ظن اور خوش گوار تعلقات برقرار رکھنے کی تلقین کی اور غیبت، حسد، تحقیر اور غیر ضروری تنقید سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا۔

تیسری نشست

جمعرات کی صبح ساڑھے نو بجے منعقد ہونے والی تیسری نشست کا موضوع ’’دعوت‘‘ تھا جس کی صدارت مولانا عبدالعزیز بھٹکلی ندوی (مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء)نے کی اور نظامت کے فرائض مولانا شیخ ابرار ندوی نے انجام دیے، مندوبین نے دعوت و تبلیغ کے طریقۂ کار، موجودہ حالات اور متعلقہ مسائل پر اپنی آرا اور تجاویز پیش کیں۔

اس نشست میں خصوصی خطاب مولانامحمد خالد غازی پوری ندوی نے کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ دعوتِ دین کے لیے اخلاص، حکمت اور عملی جدوجہد ضروری ہے۔ علماء عصرِ حاضر کے مسائل اور معاشرتی ضروریات کو سمجھتے ہوئے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان کا حل پیش کریں۔ انہوں نے دینی و معاشرتی زندگی میں شریعت کی رہنمائی، علماء کے باہمی اتحاد اور مجلسِ مشاورت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

مولانا عبدالعزیز بھٹکلی ندوی نے اپنے صدارتی خطاب میںدعوت و تبلیغ میں مخاطب کے فہم اور حالات کو ملحوظ رکھتے ہوئے حکمت، اعتدال اور نرمی اختیار کرنے کی اہمیت بیان کی۔ انہوں نے ذاتی تربیت، اولاد اور ماتحتوں کی اصلاح پر توجہ دینے اور دین کی خدمت اخلاص، محبت اور محنت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دینے کی تلقین کی۔

اختتامی نشست

اجلاس کی آخری نشست جمعرات کو صبح ساڑھے گیارہ بجے منعقد ہوئی، جس کی نظامت مولانا اصطفاء الحسن ندوی نے کی۔ اس موقع پر مولانا محمد نفیس خان ندوی نے دوروزہ اجلاس میں پیش کی گئیں آرا، مشوروں اور تجاویز کو مرتب کرکے اجلاس کی تجاویز کے طور پر پیش کیا۔

بعد ازاں ناظم ندوۃ العلماء حضرت مولانا بلال عبدالحی حسنی ندوی نے اہم خطاب کیا۔ انہوں نے پیش کردہ تجاویز پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے ان کی افادیت اور عملی نفاذ کی اہمیت واضح کی اور مستقبل کے لائحۂ عمل پر زور دیا۔ اجلاس کا مجموعی پیغام یہ تھا کہ ملحقہ مدارس میں تعلیمی معیار کی بہتری، اساتذہ کی تربیت، طلبہ کی اخلاقی و فکری تعمیر اور دعوتی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے باہمی مشاورت اور عملی اقدامات کو ترجیح دی جائے، تاکہ مدارس اپنے بنیادی مقصد کے مطابق دین و ملت کی مؤثر رہنمائی کا فریضہ انجام دے سکیں۔

اس آخری نشست کی صدارت حضرت مولانا محمد زکریا سنبھلی مدظلہ نے کی،انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ شیطان اور اس کی پیروی کرنے والی باطل قوتیں ہر دور میں دین سے دور کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں، اس لیے علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکمت، اخلاص اور استقامت کے ساتھ اسلام کی حفاظت اور دعوتِ دین کا فریضہ انجام دیں۔ انہوں نے زور دیا کہ باطل نظریات کا مقابلہ علمی و دعوتی جدوجہد کے ذریعے کیا جائے اور مسلمانوں کو دین کی بنیادی تعلیمات سے واقف کرایا جائے۔ انہوں نے اساتذہ کو طلبہ کی دینی، اخلاقی اور علمی تربیت، مطالعے کا شوق پیدا کرنے اور موبائل فون کے مضر استعمال سے بچانے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ مدارس تعداد بڑھانے کے بجائے معیارِ تعلیم و تربیت بلند کریں اور ندوۃ العلماء سے اپنے تعلق کو مضبوط رکھتے ہوئے ایسے طلبہ تیار کریں جو دین و ملت کی مؤثر خدمت کرسکیں۔

اس پروگرام میںقاری بدرالدجی فرقانی صاحب اور عبداللہ ماجدنے تلاوت کی، محمد کیف اور ان کے رفقاء نے ترانہ ندوہ پیش کیا جبکہ عزیز الرحمن ، حذیفہ رحمت، محمد صفوان اور محمد گلاب نے مختلف موقعوں پر نعتیں اور نظمیں پیش کیں۔