علم اور اخلاق
مارچ 20, 2023جسم کی فکر، روح سے غفلت
محمدجاوید اختر ندوی(استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء)
ہر انسان کو اپنی زندگی سب سے زیادہ عزیز ہوتی ہے اور وہ اس کی بقا و حفاظت کے لیے ہر ممکن جدوجہد کرتا ہے۔ وہ اپنی جان کو خطرات سے محفوظ رکھنے، جسم کو صحت مند رکھنے اور زندگی کو زیادہ سے زیادہ آرام دہ بنانے کے لیے مسلسل فکر مند رہتا ہے۔ اس کی صبح و شام، اس کی محنت و مشقت، اس کی معاشی تگ و دو اور اس کی بیشتر منصوبہ بندیوں کا بنیادی مقصد یہی ہوتا ہے کہ زندگی کا سلسلہ بہتر انداز میں جاری رہے، ضروریات پوری ہوتی رہیں اور مستقبل کسی بڑی پریشانی یا محرومی سے محفوظ رہے۔
یہ فکر اپنی اصل کے اعتبار سے نہ صرف فطری ہے، بلکہ انسانی زندگی کے تسلسل کے لیے ضروری بھی ہے۔ اگر انسان اپنی جان، صحت، غذا، رہائش اور حفاظت کی فکر چھوڑ دے تو اس کی زندگی کا نظام بہت جلد مشکلات کا شکار ہو جائے، لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کی بقا کے لیے جس قدر فکر مند رہتا ہے، کیا وہ اسی قدر اپنی زندگی کے مقصد، اپنی اخلاقی ذمہ داریوں اور اپنی روحانی ضرورتوں کے بارے میں بھی حساس ہے؟ کیا اس کی تمام تر جدوجہد صرف جسم کو زندہ رکھنے کے لیے ہے، یا وہ اس حقیقت پر بھی غور کرتا ہے کہ جسم کی زندگی کے ساتھ روح کی زندگی اور آخرت کی کامیابی بھی ایک اہم حقیقت ہے؟
یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کے گرد انسانی زندگی کے بہت سے مسائل گھومتے ہیں۔ انسان اپنی مادی ضروریات کے لیے بے شمار تدبیریں اختیار کرتا ہے، مگر اکثر اپنی روحانی ضروریات کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ وہ جسم کی غذا کا اہتمام کرتا ہے، لیکن روح کی غذا سے غافل رہتا ہے؛ جسمانی بیماری کے علاج کے لیے ماہرین سے رجوع کرتا ہے، لیکن اخلاقی اور روحانی بیماریوں کے علاج کی طرف کم توجہ دیتا ہے۔
انسان کی یہ جدوجہد صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رہتی، بلکہ وہ اپنے اہل و عیال، بچوں اور متعلقین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی فکر مند رہتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کی تعلیم، ان کی صحت، ان کے مستقبل اور ان کی آسائش کے لیے محنت کرتا ہے۔ ان کے لیے بہتر سے بہتر سہولتیں فراہم کرنا چاہتا ہے اور اپنی استطاعت کے مطابق ان کی زندگی کو خوش گوار بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
’’وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنْسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا‘‘[القصص:۷۷](اور جو کچھ اللہ نے تمہیں عطا کیا ہے، اس کے ذریعے آخرت کا گھر تلاش کرو، اور دنیا میں سے اپنا حصہ بھی نہ بھولو)۔
اس آیت میں اسلامی تصورِ حیات کا ایک نہایت اہم اصول بیان ہوا ہے۔ اسلام انسان کو دنیا کی جائز ضرورتوں سے منہ موڑنے کی تعلیم نہیں دیتا، بلکہ اسے یہ سکھاتا ہے کہ دنیا کو آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنائے۔ دنیا کی ضروریات پوری کرنا بھی مطلوب ہے، لیکن اس مقصد کے ساتھ کہ انسان اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرے، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر بجا لائے اور اپنی زندگی کو کسی بلند مقصد سے وابستہ رکھے۔
سوال یہ ہے کہ جس انسان کو اپنے جسم کی حفاظت کی اس قدر فکر ہے، کیا اسے اپنی روح، اپنے اخلاق اور اپنے کردار کی حفاظت کی بھی اتنی ہی فکر ہے؟ اگر جسم بیماری کا شکار ہو جائے تو انسان بے چین ہو جاتا ہے، لیکن اگر اس کا اخلاق بگڑ جائے، دل حسد و کینہ سے بھر جائے، زبان جھوٹ اور غیبت کی عادی ہو جائے اور معاملات خیانت و بددیانتی سے آلودہ ہو جائیں تو کیا وہ اسی قدر پریشان ہوتا ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں جسمانی زندگی اور روحانی زندگی کے درمیان انسان کے رویے کا فرق نمایاں ہو جاتا ہے۔
انسان اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے بہت کچھ حاصل کرتا ہے، لیکن اکثر اس بات کو بھول جاتا ہے کہ دوسرے انسان بھی اسی طرح کی ضروریات رکھتے ہیں۔ اسے اپنے لیے اچھی غذا چاہیے، لیکن وہ یہ نہیں سوچتا کہ اس کے پڑوس میں کوئی شخص بھوکا بھی ہو سکتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کے لیے بہترین تعلیم چاہتا ہے، لیکن معاشرے کے محروم بچوں کی تعلیمی مشکلات سے بے خبر رہتا ہے۔ وہ اپنے لیے آرام دہ مکان اور بہتر علاج کی سہولت چاہتا ہے، مگر کسی بے گھر، بیمار یا ضرورت مند انسان کی پریشانیوں پر اس کی توجہ نہیں جاتی۔
اسلام انسان کو اسی اخلاقی بلندی تک پہنچانا چاہتا ہے کہ وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ دوسروں کی ضرورتوں کو بھی محسوس کرے۔ اپنی زندگی کی حفاظت کرے، لیکن دوسروں کی زندگی کو خطرے میں نہ ڈالے؛ اپنے بچوں سے محبت کرے، لیکن دوسرے بچوں کے حقوق سے غافل نہ ہو؛ اپنی آسائش کے لیے کوشش کرے، لیکن کسی دوسرے کی محرومی کو اپنی کامیابی کی بنیاد نہ بنائے۔
انسان کی زندگی میں اخلاقی جواب دہی کا پہلو نہایت اہم ہے۔ ایک جانور اپنی فطری ضرورت کے تحت خوراک تلاش کرتا ہے، لیکن انسان کو حلال و حرام، جائز و ناجائز، عدل و ظلم اور امانت و خیانت کے درمیان فرق کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انسان کو اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے عقل و شعور استعمال کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔ یہی انسان کا حقیقی امتیاز ہے کہ وہ اپنی ضروریات کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھے۔ اس کی عظمت صرف اس میں نہیں کہ وہ اپنی زندگی بچانے کے لیے تدبیریں اختیار کرتا ہے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ اپنی زندگی کو صحیح مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔
انسان اپنی جسمانی زندگی کے لیے جس قدر اہتمام کرتا ہے، اس کے مقابلے میں روحانی زندگی کے لیے اکثر کم توجہ دیتا ہے،بہت کم لوگ اس سوال پر سنجیدگی سے غور کرتے ہیں کہ جس طرح جسم کو زندہ اور توانا رکھنے کے لیے غذا، صاف پانی، ہوا اور مناسب ماحول کی ضرورت ہے، اسی طرح انسان کی روح، اس کے اخلاق اور اس کے باطن کی نشوونما کے لیے بھی ایک خاص قسم کی غذا اور نگہداشت ضروری ہے۔
جسم کی غذا سے جسم کو قوت ملتی ہے، جب کہ روح کی غذا ایمان، ذکرِ الٰہی، عبادت، علمِ نافع، توبہ، اخلاص، حسنِ اخلاق اور نیک اعمال ہیں۔ جسمانی نشوونما کے لیے انسان کو مناسب غذا درکار ہے، جب کہ روحانی نشوونما کے لیے اسے سچائی، دیانت، حیا، صبر، شکر، توکل اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کی ضرورت ہے۔
اگر انسان جسم کو غذا فراہم کرتا رہے، لیکن روح کو اس کی ضروری غذا سے محروم رکھے، تو اس کی زندگی میں ایک بنیادی عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔ ظاہری اعتبار سے وہ خوش حال ہو، اس کے پاس دولت اور آسائشیں ہوں، لیکن اس کا دل بے سکونی، حسد، حرص، تکبر اور اضطراب کا شکار ہوسکتا ہے۔
قرآن مجید اس حقیقت کو نہایت جامع انداز میں بیان کرتا ہے: أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ [الرعد:۲۸](خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دل اطمینان پاتے ہیں)۔
انسان کے باطن کا سکون صرف خارجی وسائل سے حاصل نہیں ہوتا۔ مادی وسائل زندگی کی سہولتیں فراہم کر سکتے ہیں، لیکن قلبی اطمینان، مقصدِ حیات کا شعور اور اللہ تعالیٰ سے تعلق ایک الگ نوعیت کی ضرورتیں ہیں۔
یہاں یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ روحانی غذا کا مطلب جسمانی ضروریات سے بے اعتنائی نہیں۔ اسلام جسم اور روح دونوں کے حقوق کو تسلیم کرتا ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کو یہ سمجھانا کہ رب، نفس اور اہل و عیال سب کے حقوق ہیں، اور رسول اللہ ﷺ کا اس بات کی تصدیق فرمانا، اسی توازن کی روشن مثال ہے۔ [حدیث:۱۹۶۸]
لہٰذا صحیح اسلامی فکر یہ ہے کہ جسم کی حفاظت بھی ہو، روح کی تربیت بھی؛ دنیا کی ضروریات بھی پوری ہوں، آخرت کی تیاری بھی؛ جسمانی قوت بھی برقرار رہے اور اخلاقی و روحانی قوت بھی کمزور نہ پڑے۔
انسان کی زندگی کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ فانی جسم کی حفاظت کے لیے تو مسلسل فکر مند رہتا ہے، لیکن اس روحانی زندگی کی تیاری کے سلسلے میں اتنی توجہ نہیں دیتا جس کی اہمیت قرآن و سنت نے واضح کی ہے۔ وہ جسمانی قوت کو برقرار رکھنے کے لیے غذا کا انتخاب کرتا ہے، بیماری سے بچنے کے لیے احتیاط کرتا ہے، مستقبل کی آسائش کے لیے مال جمع کرتا ہے اور اپنے بچوں کے لیے بہتر دنیا بنانے کی کوشش کرتا ہے؛ لیکن کیا وہ اپنے اعمال کی اصلاح، اپنی آخرت کی تیاری اور اپنے رب سے تعلق مضبوط کرنے کے لیے بھی اسی طرح منصوبہ بندی کرتا ہے؟
یہ سوالات کسی خاص طبقہ کے لیے نہیں، بلکہ ہر انسان کے لیے ہیں۔ ان کا مقصد دنیاوی زندگی کی اہمیت کم کرنا نہیں، بلکہ زندگی کے دونوں پہلوؤں میں توازن پیدا کرنا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی زندگی کا ایسا متوازن نظام تشکیل دیں جس میں جسم کی حفاظت بھی ہو اور روح کی تربیت بھی؛ دنیا کی تعمیر بھی ہو اور آخرت کی تیاری بھی؛ اپنی ذات کی فکر بھی ہو اور دوسروں کے حقوق کا احساس بھی۔ یہی قرآن و سنت کی تعلیمات کا جامع پیغام، اسلامی تاریخ کا روشن سبق اور ایک بامقصد انسانی زندگی کا حقیقی راستہ ہے۔

