ہندوستان میں مسلم تہذیب کے عروج و زوال کا اثر

سیرتِ نبوی ﷺ پر مستشرقین کے اعتراضات اور ان کے جوابات
نومبر 2, 2026
سیرتِ نبوی ﷺ پر مستشرقین کے اعتراضات اور ان کے جوابات
نومبر 2, 2026

ہندوستان میں مسلم تہذیب کے عروج و زوال کا اثر

ڈاکٹر محمد عابد کریم( ا سسٹنٹ پروفیسر جنتاکوشی کالج ،دربھنگہ)

ہندوستان میں باہر سےجو مسلمان آئے وہ عرب تاجر، عرب فاتح، مبلغین اسلام اور ترک فاتح تھے۔ مسلمان ہونے کے باوجود یہ چاروں گروہ الگ الگ خصوصیات اور صلاحیتوں کے مالک تھے۔ چنانچہ اپنی مخصوص صلاحیتوں کے اعتبار سے انہوں نے اس ملک کی مذہبی، معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی زندگی پر اثر ڈالا۔ اسلام میں مذہب کا دائرہ عقائدو عبادات میں محدود نہیں، وہ باہمی تعلقات، حقوق و فرائض اور معاشرت و تمدن پر حاوی ہے اور اس لئے بھی کہ مذہب کو اگر تمدن و معاشرت سے، اور تمدن و معاشرت کو مذہب سے الگ کردیا جائے تو مذہب بے اثر، محدود اور کمزور اور تمدن و معاشرت شتر بے مہار اور خواہشات و مفادات کا آلۂ کار بن جاتے ہیں۔

مسلم تہذیب شہری تہذیب تھی۔ اور مسلمان شہری زندگی کو ترجیح دیتے تھے۔ اگرچہ مسلمانوں سے پہلے موریہ عہد اور گپتا عہد میں بڑے بڑے شہر موجود تھے اور بات بھی حقیقت میں یہی ہے کہ کسی بھی تہذیب کے بننے کے لئے شہروں کا ہونا ضروری ہے۔ لیکن ہندوؤں کا نصب العین یا آئیڈیل ایسی زندگی ہے جو شہرسے دور بسر ہو۔شورشرابے، خاک دھول اور دنیاداری سے دور، ایسی جگہ پر جہاں کوئی آرام سے رہ سکے اور کچھ وچاربچار کرسکے۔ مذہبی رُشد وہدایت شہروں کے شوروغل اور گردوغبار میں نہ دی جائے۔ جیساکہ ایک قول ہے کہ ’’شہروں میں ویدوں کا مطالعہ کرنا یا انہیں آواز سے پڑھنا نہیں چاہئے‘‘۔ بڑھاپے میں وَن پرست، سنیاس اور جنگل میں رہنے کو قابل تعریف سمجھاجاتا تھا۔ اس طرح ہندوؤں میں مذہبی خیال کے لوگوں کا رجحان شہروں سے دور رہنے کی طرح ہوتا تھا۔ اس کے برعکس مسلمانوں میں مذہبی زندگی کی نمایاں علامت مسجد ہے۔ اور قابل تعریف یہ سمجھا جاتا ہے کہ باجماعت نماز ادا کی جائے اور جماعت یعنی تعداد جتنی بڑی ہوتی ہے اتنا ہی اپنے مذہب کا احساس رہتا ہے۔ اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہندوؤں کا مذہبی رجحان شہرسازی کے خلاف رہا ہے اور مسلمانوں کا شدت سے شہرسازی کی طرف۔ ہندستان میں خاص طور پر پہلی دو یا تین صدیوں میں مسلمان ایک برادری کی طرح صرف شہروں ہی میں رہ سکتے تھے اور ان کے حکمراں طبقے کے لئے ضروری تھا کہ لوگوں کو یہ خیال رہے کہ وہ ان کے حاکم ہیں۔ اس طرح مسلمانوں کی حکومت کے دور میں شہروں کی تعداد بہت بڑھ گئی اور وہ بہت بڑے بڑےبھی ہوگئےلیکن بڑے بڑے اور اہم شہروں میں سے کسی میں بھی نہ تو مسلمانوں کی تعداد ہندوؤں سے زیادہ تھی نہ وہ اقتصادی اعتبار سے زیادہ خوشحال تھے۔ البتہ شہرسازی کو اس طرح ہندستانی زندگی کو مسلمانوں کی ایک دَین کہا جاسکتاہے۔

مسلمانوں کے ہاتھوں فن تعمیر کو جو فروغ ہوا اس کے بے شمار شاہکار سارے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں اور وہ ملک کے لئے باعث فخر ہیں۔ عمارتی فن تعمیر کے عالموں کا خیال ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھوں جو تبدیلی اس فن میں ہوئی وہ یہ تھی کہ اس میں سنگ تراشی اور بت تراشی کی بجائے عمارت سازی کی کیفیت آگئی اور ساخت کے اعتبار سے اس میں عمودیت کی بجائے اُفقیت آگئی۔ ایک طرز دوسری طرز میں بدلتی چلی گئی۔ لیکن دلی کی قطب مینار دونوں طرزوں کے بے ساختہ ایک دوسرے سے مل جانے کی عمدہ مثال ہے۔ بعد میں بنگال ، گجرات اور فتحپور سیکری میں خاص مسلمانی طرز اور خاص ہندوانی طرز کے خوش نما امتزاج کی کوششیں کی گئیں۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ یادگار عمارتی اور گھریلو فن تعمیر میں اینٹ پتھر اور چونے گارے کے مسالے کو بطور فن اور بطور تکنیک بڑے پیمانے پر استعمال کیا جانے لگا۔ اور ہندو اور مسلمان اسے اپنے اپنے مقاصد کے لیے اپنے اپنے ڈھنگ سے استعمال کرنے لگے۔ اندرونِ ملک کے کسی بھی شہر کے پرانے حصوں کو دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ شہرسازی کے عمل کے ساتھ ساتھ کس کس طرح گھریلو فن تعمیر کے نئے نئے اسٹائل بنتے گئے۔ اور یہ بھی اندازہ ہوگا کہ یہ گھریلو فنِ تعمیر ایک مشترکہ طرز زندگی کے مخصوص عناصر کا نمائندہ ہے۔

کلچر یا تہذیب کے فروغ میں سیاسی تنظیم یا اقتدار سے جو مدد ملی اس میں شاید سب سے بڑی دَین اکبر کا منصب داری سسٹم یا نظام تھا اور اس کے قواعد و ضوابط تھے۔ ان کی رو سے حکومت کے ہر افسر کو یہ حق تھا کہ وہ اپنے مذہب پر پابند رہے اور اس کی رسوم و آداب برتے اگرچہ اس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ ہندوافسر اپنے سے اعلیٰ مسلمان افسروں کے ساتھ تعلقات میں ذات پات کے اصول اور رواج برت سکتا تھا۔ اس کے علاوہ شمالی ہندستان میں تہذیبی آداب و اطوار میں جو چمک دمک اور نزاکت و لطافت نظر آتی ہے وہ زیادہ تر دربار اور منصب داروں کی وجہ سے ہے جن کے ذریعے معاشرت کے آداب خود ان کے اپنے اور دوسرے خوشحال گھرانوں میں اپنالیے جاتے تھے۔ اور مہذب اطوار کے نمونوں کاکام کرتے رہے۔

ضرورتوں بھری شائستہ زندگی صریحی طور پر اس زندگی سے بہتر تصور کی جاتی تھی جس میں خواہشات مختصر ہوں۔ صنعت و حرفت کی ایسی دلفریب چیزیں یا مصنوعات بنانا جو زیادہ سے زیادہ غلط سلط ضرورتوں اور شوقوں کو پوراکرسکیں۔ تہذیب کی خاص نشانیاں بن گئیں اور اس کے نتیجے کے طور پر قسم قسم کے دلپذیر چھوٹے بڑے برتن، سجاوٹ اور روزانہ استعمال کی چیزیں، تانبے، پیتل اور چاندی سونے کے زیورات کی شکل میں آج بھی دیکھنے میں آتے ہیں۔ پارچہ بافی یا کپڑا بنانے میں اور قالین غالیچوں پر بھی ڈیزائنوں میں بہت تنوع آگیا۔ ہر قسم کی عمدہ مصنوعات کی مانگ بڑھ گئی۔ اتنی کہ ایک جوڑی جوتی کی قیمت پچاس ہزار روپئے تک پہنچ گئی۔ پہننے اوڑھنے کے کپڑے بنانے کے مختلف سازوسامان کے ناموں کی ابتدا کالسانیاتی سراغ لگائیں تو ایسی بہت دلچسپ بصیرت آموز باتیں معلوم ہوں گی کہ اسلام کے ہندستان میں آنے سے اقتصادی اور سماجی اعتبار سے کیاکیا ترقیاں ہوئیں۔

سنسکرت میں درزی کے لئے لفظ تو ہے۔ لیکن مسلمانوں کے آباد ہونے سے پہلے درزیوں کے موجود ہونے کی کوئی ایسی شہادت نہیں ملتی جس سے پتہ چلے کہ وہ کسی زمانے میں عام طور پر اپنے کام میں مصروف رہتے ہوں۔ مرد اور عورتیں سب کپڑے کو اپنے جسم پر اس طرح ڈال لیتے تھے کہ وہ خوشنما معلوم ہو یا جسم پر وہاں باندھ لیتے تھے جہاں صرف ڈال لینے سے کام نہ چلے۔ ہوسکتا ہے کہ درزی ہوتے ہوں لیکن ان کے بغیر بھی کام چلایا جاسکتا تھا۔ برخلاف مسلمانوں کے کہ درزی اور اُس کی کاریگری کے بغیر دن میں اپنی پانچ وقت کی نماز بھی ادا نہیں کرسکتے اور مسلمان عورت کے تو تمام حقوق اور حیثیت ہی ختم ہوجائے اگر درزی اس کے کپڑے اس طرح نہ سیے کہ اس کی پوری کلائیاں ، گردن، ٹخنے تک ڈھک جائیں۔ شرافت کا معیار حکمراں مقرر کرتے تھے۔ اور غیر مسلم عورتوں کو درزیوں سے کام لیکر اور کم سے کم سلے ہوئے کپڑے پہن کر شرافت کی قیمت اداکرنی پڑتی تھی۔

سماجی تبدیلی پر غور کرتے ہوئے یہ بنیادی حقیقت ہمیں یاد رکھنی چاہئے کہ ان مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی جو باہر سے آئے اور ان میں بھی سب کے سب اپنے خاندان سمیت نہیں آئےہوں گے۔ یقیناً بہت بڑی تعداد ان کی ہوگی جو یہیں کے ہوں گے اور انہوں نے مذہب تبدیل کرلیاہوگا۔ تیرہویں صدی میں شمالی ہندستان میں ہندستانی مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد کیسے ہوگئی تھی یقیناً کئی عوامل کارفرما رہی ہوں گی ان میں یہ دو زبردست عوامل تو ضرور کارفرما رہے ہوں گے۔ ایک تو مسلمان صوفیوں کی کراماتی طاقت پر یقین اور دوسرے اُس ماحول میں رہنے کی خواہش جس میں مسلمانوں کی طاقت یا اقتدار زیادہ ہو۔ لیکن یہاں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہندومت کے بدلے اسلام قبول کرلینا تو چند لمحوں کی بات ہوتی ہوگی لیکن نو مسلموں کے ہندو طرزِ زندگی کے بدلے اسلامی طرزِ زندگی اختیار کرلینے میں صدیاں لگ گئیں۔ اور یہ تھا وہ عمل جس کے دوران ہندوؤں اور مسلمانوں کے رسم و رواج، خاص طور پر وہ جو شادی بیاہ اور زچگی کے موقعوں سے متعلق ہیں ۔ ان کا غور سے مطالعہ کرنے سے غالباً یہ بات سامنے آئے گی کہ مسلمانوں پر اسلامی اصولوں اور عمل کے مقابلے میں ہندوؤں کے رسم و رواج اور تصورات کا کہیں زیادہ اثر تھا۔

عورتوں کو الگ تھلک رکھنا جسے پردے کا رواج بھی کہتے ہیں۔ اس کی باقاعدہ ابتدا مسلمانوں سے ہوئی۔ تُرک عورتیں بُرقع اوڑھ کر شہسواری کرتی تھیں۔ فیروز تغلق کا حکم موجود ہے کہ عورتیں اکیلی شہسواری نہ کیا کریں۔ اکبر نے کوتوال کے لئے یہ فرض کردیا تھا کہ دیکھے کہ عورتیں شہسواری نہ کریں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ طبقوں میں علیٰحدگی یا پردہ ایک معمول بن گیا اور زیادہ سخت ہوتا گیا۔ قصبات میں نچلے طبقوں میں بھی اسے شرافت کی نشانی سمجھاجانے لگا۔ ہندوؤں میں اس کا چلن کہاں اور کس حد تک ہوا اس کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ مختلف علاقوں اور قصبات میں اس کا چلن کم یا زیادہ ہونے کا دارومدار اس بات پر تھا کہ کسی علاقے اور قصبے میں اعلیٰ طبقوں کے مسلمانوں کی تعداد کتنی ہے اور ان کا کتنا اثر ہے۔ اس طرح معاشرتی اعتبار سے اس عمل نے مسلم کمیونٹی کی کم از کم آدھی آبادی کی کارکردگی کم کردی۔

دوسری طرف صورت یہ تھی کہ ہندو تصورات کے سرایت کرجانے کی وجہ سے مسلمانوں میں عورتوں کی وہ حیثیت بھی کم ہوگئی جو مسلم قانون کی کی رو سے انہیں دی گئی ہے۔ مثال کے طور پر بیوہ جس کی شادی کی اُس کے سرپرستوں پر اتنی ہی ذمہ داری ہے جتنی ان کی اپنی کنواری بیٹیوں کی۔ اس کا یہ حق مرگیا اور انیسویں صدی کے اوائل میں مصلح اور دینی پیشوا حضرت سید احمد شہیدؒ رائے بریلوی کی اصلاحی تحریک کے ذریعے ہی اسے آہستہ آہستہ بحال کیا جاسکا۔

جہیز اور تلک مسلمانوں میں نئی عادت ہے۔ جو غالباً برادرانِ وطن کی دَین ہے۔ غالباً اس کی بنیادی وجہ بھی وہی ہے جو ان کے یہاں ہے۔ یعنی لڑکیوں کو وراثت میں حصہ نہ دینا جو بدقسمتی سے مسلمانوں میں رواج پاگیاہے۔ حالاں کہ دیگر شرعی ورثاء کی طرح لڑکیوں کو بھی ان کے شرعی حصے کے مطابق وراثت دینا ضروری ہے۔ کیوں کہ قرآن میں اس کو فریضہ قرار دیاگیا ہے۔ مگر افسوس کہ اس فریضے کا ترک عام طور پر ہورہا ہے۔ جس کی ایک نقد سزا مسلمانوں کو بعید نہیں کہ جہیز اور تلک کے عذاب کی شکل میں مل رہی ہے۔

لہٰذا اگر داماد اور اس کے اہل خانہ کو اطمینان دلادیاجائے کہ وراثت کے پورے مال میں لڑکی کا حصّہ لگایا گیا ہے تو ان شاء اللہ جہیز کا مطالبہ چھوڑکر اس حق وراثت پر راضی ہوجائے گا۔ ’’جو شخص اللہ سے ڈرتاہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے مضرتوں سے نجات کی شکل نکال دیتاہے‘‘۔ (الطلاق: ۲)

فیشن اور اسٹائل میں مسلم عورتیں بھی ساڑی کے ساتھ اس طرح کا بلاؤز (Blouse) پہنتی ہیں کہ پیٹ کھلا رہتا ہے۔ اور لڑکیاں جینس اور ٹی شرٹ پہنتی ہیں جبکہ لباس ایسا پہننا چاہئے جو شرم و حیا، غیرت و شرافت اور جسم کی سترپوشی اور حفاظت کے تقاضوں کو پورا کرے اور جس سے تہذیب و سلیقہ اور زینت وجمال کا اظہار ہو۔ قرآن پاک میں خدا تعالیٰ نے اپنی اس نعمت کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایاہے : ’’اے اولاد آدم! ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لیے زینت اور حفاظت کا ذریعہ بھی ہو۔ ‘‘ (الاعراف : ۲۶)

مورتی کا پوجا کرتے ہوئے دیکھتے دیکھتے مسلمانان ہند نے بھی مختلف شکلوں میں شرک کا آغاز کردیا ہے ۔ مورتی کی تصویر اور پھر مورتی اپنے گھروں میں رکھنے لگے ہیں جب کہ ارشادِ ربانی ہے : ’’بیشک اللہ تعالیٰ اس بات کو نہ بخشیں گے کہ ان کے ساتھ کسی کو شریک قرار دیا جائے اور اس کے سوا اور جتنے گناہ ہیں جس کے لیے منظور ہوگا وہ گناہ بخش دیں گے، جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے، وہ بڑے جرم کا مرتکب ہے۔‘‘ (النساء : ۴۸)

ہندستان میں مسلم تہذیب اس وقت تک طاقتور اور مؤثر رہی جب تک فطری اصول کہ ’’انسان دیتا رہے گا یا لیتا رہے گا‘‘ کے مطابق دعوت و اشاعت اسلام اور اعلیٰ تہذیب کی تشکیل کا کام کرتے رہے اور مسلم تہذیب اس وقت کمزور پڑگئی اور متاثر ہونے لگی جب مسلمانوں نے اس حکمت کو نظر انداز کردیا۔ تہذیب و افکار کی اندھی تقلید کی مذمت کرتے ہوئے علامہ اقبالؒ کہتے ہیں کہ ہر قوم کے لئے عار کی بات ہے اور اس قوم کے لئے ناقابل معافی گناہ ہے جو قوموں کی قیادت اور عالمی انقلاب کے لئے پیدا کی گئی:

جو عالم ایجاد میں ہے صاحب ایجاد

ہر دور میں کرتا ہے طواف اس کا زمانہ

تقلید سے ناکارہ نہ کر اپنی خودی کو

کر اس کی حفاظت کہ یہ گوہر ہے یگانہ

اسلام کو بطور مذہب باقی رہنا ہے ہی، ضرورت اسلام کو معاشرے تہذیب اور اس کے سماجی و معاشی اور سیاسی اداروں کی شکل میں، عہد حاضر میں قائم کرنا ہے۔ اور زمانہ کا مجدد کہلانے کا مستحق وہ ہوگا جو اسلامی قوانین و تہذیب کی برتری ثابت کرنے کے لیے میدان میں آئے۔