جدید تعلیم کا بگاڑ
مارچ 5, 2023مسلم نوجوانوں کے مسائل اور اُن کا حل
محمد معاذ خان ندوی
نوجوان کسی بھی قوم و ملک کا سب سے قیمتی اور متحرک سرمایہ ہوتے ہیں۔ وہ حال کے معمار ہی نہیں بلکہ مستقبل کے حقیقی امین ہوتے ہیں۔ قوموں کی فکری، علمی اور تہذیبی زندگی میں تازگی، حیاتِ نو اور تحرک عموماً نسلِ نو ہی کے ذریعے پیدا ہوتا ہے۔ اگر نوجوانوں کی علمی، اخلاقی، فکری اور روحانی تربیت درست اور متوازن بنیادوں پر کی جائے تو وہ معاشرے کی تعمیر و تجدید میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں؛ لیکن اگر ان کی صلاحیتوں کو نظرانداز کر دیا جائے یا انہیں بروقت رہنمائی نہ ملے تو یہی توانائیاں بے مقصدی، فکری انتشار اور اخلاقی و نفسیاتی بحران کا شکار ہو سکتی ہیں۔
اسلام نے انسانی زندگی کے اس مرحلے، یعنی جوانی، کو خصوصی اہمیت دی ہے؛ کیونکہ جوانی محنت، جرات، ایثار اور ذمہ داری کا بہترین زمانہ ہے۔ اسلام کے ابتدائی دور پر نظر ڈالیں تو دعوتِ دین، حصولِ علم، دفاعِ حق اور خدمتِ خلق کے اہم میدانوں میں نوجوانوں نے نمایاں کردار ادا کیا۔ قرآنِ کریم اصحابِ کہف کے ذکر کو کچھ اس انداز میں بیان کیا ہے:
(إِنَّہُمْ فِتْیَۃٌ آمَنُوا بِرَبِّہِمْ وَزِدْنَاہُمْ ہُدًی)بے شک وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے، اور ہم نے ان کی ہدایت میں اضافہ کر دیا۔(الکہف: ۱۳)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ پختہ ایمان، صحیح تربیت اور بلند مقصدِ حیات نوجوان کو بڑے سے بڑے چیلنج کے سامنے ثابت قدم بنا سکتے ہیں۔
آج کا نوجوان مسلمان ماضی کی نسلوں کے مقابلے میں ایک پیچیدہ اور تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں زندگی گزار رہا ہے۔ عالمگیریت، انٹرنیٹ، اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا نے دنیا بھر کی معلومات، نظریات اور تہذیبوں کو چند لمحوں میں اس کی دسترس میں پہنچا دیا ہے۔ اس صورتِ حال نے جہاں علم، تحقیق اور رابطے کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں، وہیں فکری الجھن، اخلاقی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کو بھی جنم دیا ہے۔ اس لیے عصرِ حاضر کے نوجوانوں کے مسائل کو محض شکایت کے انداز میں نہیں، بلکہ فہم وفراست، حکمت اور ایک جامع اصلاحی منصوبے کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے۔
مسائل کے بنیادی اسباب
نوجوانوں میں پیدا ہونے والے فکری، اخلاقی، معاشی اور معاشرتی مسائل کسی ایک واقعے یا سبب کا نتیجہ نہیں ہوتے، بلکہ ان کے پیچھے متعدد داخلی اور خارجی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ کمزور خاندانی تربیت، صالح نمونے کا فقدان، بے مقصد زندگی، اور بے راہ روی، تعلیمی اور معاشی دباؤ، فکری انتشار اور ذرائع ابلاغ کے غیر محسوس اثرات ان میں نمایاں ہیں۔
خاندان، تعلیمی ادارے، دینی مراکز اور بہتر اور صالح معاشرہ مل کر نوجوان کی شخصیت کو پروان چڑھاتے ہیں۔ اگر گھر میں محبت، شفقت اور باہمی گفتگو کا فقدان ہو، تعلیمی ادارے صرف امتحانات، نمبروں اور ڈگریوں کی دوڑ تک محدود رہیں، اور دینی مراکز نوجوانوں کے جدید سوالات کا حکمت اور دلیل سے جواب دینے کے بجائے صرف ملامت اور ڈانٹ ڈپٹ پر اکتفا کریں تو نوجوانوں کے اندر ایک شدید فکری اور تربیتی خلا پیدا ہو جاتا ہے۔
بے مقصدی بھی ایک خطرناک مسئلہ ہے۔ جو نوجوان یہ نہیں جانتے کہ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے، اس کی ترجیحات کیا ہیں اور معاشرے کے لیے اس کی کیا ذمہ داریاں ہیں، وہ عموماً وقت کے ضیاع، ظاہری نمود و نمائش اور بے فائدہ مشاغل میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، واضح اور بلند مقصد حیات رکھنے والا نوجوان اپنی صلاحیتوں، وقت اور توانائی کو مثبت کاموں میں صرف کرتا ہے۔
نوجوانوں کے مسائل کو سمجھتے وقت صرف انفرادی کمزوریوں پر توجہ دینا کافی نہیں۔ معاشی عدمِ استحکام، تعلیمی مواقع کی کمی، روزگار کا بحران، خاندانی تنازعات، گھریلو مسائل اور سماجی ناانصافی بھی نوجوانوں کی ذہنی اور عملی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے اصلاح کا عمل فرد کے ساتھ ساتھ خاندان، ادارے اور معاشرے کی سطح پر بھی ہونا چاہیے۔
فکری انتشار اور ڈیجیٹل دنیا
عصرِ حاضر کا نوجوان روزانہ معلومات کے ایک وسیع سیلاب اور متضاد خیالات سے گزرتا ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں حق و باطل، سچ اور افو اہ، مستند علم اور گمراہ کن معلومات کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اگر نوجوان میں تحقیق، تجزیہ اور تنقیدی فکر کی صلاحیت موجود نہ ہو تو وہ ہر مقبول یا پرکشش بات کو درست سمجھنے لگتا ہے۔
اس مسئلے کا حل نوجوانوں کو جدید دنیا اور ٹیکنالوجی سے کاٹ دینا نہیں، بلکہ انہیں باشعور اور ذمہ دار بنانا ہے۔ انہیں یہ بتانے اور سکھانے کی ضرورت ہے کہ ہر خبر پر فوراً یقین نہ کریں، ہر رائے کو دلیل کی بنیاد پر پرکھیں،ہر معلومات کے ماخذ کو دیکھیں اور محض مقبولیت یا وائرل ہونے کو حق کا معیار نہ سمجھیں۔
ٹیکنالوجی بذاتِ خود بری چیز نہیں۔ اسے تعلیم، سائنسی تحقیق، دعوت، مثبت رابطے، تخلیق اور روزگار کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سوشل میڈیا کا استعمال ضرورت کی حد سے بڑھ کر عادت یا ذہنی انحصار بن جائے، یا نوجوان بغیر کسی احتیاط کے ہر قسم کا مواد دیکھنے اور پھیلانے لگے۔
اس لیے نوجوانوں کو ٹیکنالوجی کے اخلاقی اور متوازن استعمال کی تربیت دینی چاہیے۔ انہیں صرف دوسروں کا مواد دیکھنے والا نہیں، بلکہ علمی، ثقافتی اور اصلاحی مواد تخلیق کرنے والا بھی بنانا چاہیے۔ انٹرنیٹ کو مطالعے، ہنر سیکھنے، تحقیق، مثبت رابطے اور خدمتِ معاشرہ کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ نوجوانوں کی آن لائن حفاظت محض پابندیوں سے ممکن نہیں؛ اس کے لیے والدین، اساتذہ کرام، پالیسی سازوں اور ٹیکنالوجی کے اداروں کی مشترکہ کوشش ضروری ہے۔
نفسیاتی دباؤ، تنہائی اور تربیت
جدید آسائشوں اور سوشل میڈیا کے وسیع روابط کے باوجود آج بہت سے نوجوان تنہائی، بے چینی اور نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں۔ تعلیم میں مسابقت، روزگار کی جدوجہد، معاشی ناہمواری، مستقبل کے خدشات اور خاندانی تعلقات میں کشیدگی ان کی ذہنی صحت کو متاثر کر سکتی ہے۔
ایسے حالات میں نوجوان کو ایک ایسے ہمدرد اور سمجھدار رہنما کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کی بات بغیر فوری تنقید کے سن سکے، اس کے جذبات کا احترام کرے اور حکمت و شفقت کے ساتھ رہنمائی کرے۔ محض ڈانٹ ڈپٹ، الزام تراشی یا اس کی مشکلات کو معمولی قرار دینے سے حالات بہتر نہیں ہوتے، بلکہ بعض اوقات مزید بگڑ جاتے ہیں۔
نوجوانوں کی نگہداشت میں دینی اور تعلیمی رہنمائی کے ساتھ نفسیاتی اور سماجی مدد بھی شامل ہونی چاہیے۔ خاندان اور تعلیمی اداروں کو ایسا محفوظ اور دوستانہ ماحول فراہم کرنا چاہیے جہاں نوجوان اپنے مسائل کھل کر بیان کر سکیں۔ ہر نفسیاتی الجھن کو فوراً ایمان کی کمزوری قرار دینا درست نہیں؛ دینی رہنمائی انسان کو مقصد، امید اور اندرونی قوت عطا کرتی ہے، لیکن شدید ذہنی دباؤ کی صورت میں ماہرِ نفسیات یا تربیت یافتہ مشیر سے مدد لینا بھی ضروری ہے۔
تربیت محض زبانی نصیحتوں اور طویل تقریروں سے حاصل نہیں ہوسکتی، بلکہ عملی نمونے کا اس میں بنیادی کردار ہے۔ نوجوان الفاظ سے زیادہ کردار سے متاثر ہوتے ہیں۔ جب وہ اپنے والدین میں سچائی، اساتذہ میں اخلاص، علماء میں تواضع اور داعیانِ دین میں حسنِ اخلاق دیکھتے ہیں تو یہ اوصاف ان کے دلوں پر گہرے اور دیرپا نقوش چھوڑتے ہیں۔
اسی لیے والدین، اساتذہ اور دینی اور مذہبی رہنماؤں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ نوجوانوں کی تربیت ایک حساس اور عظیم ذمہ داری ہے۔ اس کے لیے سختی کے بجائے حکمت، نرمی، صبر، مسلسل گفتگو اور اپنے کردار کے عملی نمونے کی ضرورت ہے۔
ایمان، شناخت اور مستقبل
ایمان نوجوان کو زندگی کا مقصد عطا کرتا ہے، اسے اللہ تعالیٰ سے جوڑتا ہے اور اس کے اندر ذمہ داری اور خود احتسابی کا احساس پیدا کرتا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
(أَلا بِذِکْرِ اللَّہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ)
یاد رکھو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔(الرعد: ۲۸)
تاہم نوجوانوں کی دینی تربیت صرف چند عبادات تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس میں اخلاق، علم، عمل، محنت اور خدمتِ خلق بھی شامل ہونی چاہیے۔ حقیقی ایمان انسان کو دنیا سے کاٹتا نہیں، بلکہ اسے معاشرے کے لیے زیادہ نفع بخش، بااخلاق اور ذمہ دار بناتا ہے۔
آج مسلمان نوجوان کے سامنے ایک بڑا چیلنج اپنی اسلامی شناخت کو محفوظ رکھتے ہوئے جدید علوم اور سائنسی و تکنیکی ترقی سے فائدہ اٹھانا ہے۔ شناخت کی حفاظت کا مطلب دنیا سے الگ تھلگ ہو جانا نہیں، اور جدید دنیا سے جڑنے کا مطلب اپنے دین، اخلاق اور ثقافت سے دستبردار ہونا بھی نہیں۔
صحیح راستہ یہ ہے کہ نوجوان اپنے دین، قرآن، سیرت اور تاریخ سے گہرا تعلق رکھیں، اور ساتھ ہی جدید علوم، زبانوں، ٹیکنالوجی اور سائنسی مہارتوں میں بھی آگے بڑھیں۔ یہی توازن انہیں نہ ماضی کے خول میں بند رہنے دے گا اور نہ کسی دوسری تہذیب کا اندھا مقلد بنائے گا۔
نوجوانوں کا مستقبل علم اور عمل کے بغیر مضبوط نہیں ہو سکتا۔ عصرِ حاضر کے چیلنجز ایسے نوجوانوں کا تقاضا کرتے ہیں جو محض نظریاتی معلومات کے حامل نہ ہوں، بلکہ عملی مہارتیں بھی رکھتے ہوں۔ سائنسی اور تکنیکی شعبوں، طب، انجینئرنگ، قانون، معیشت، انتظامیہ، ابلاغ اور دیگر ضروری میدانوں میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔
تعلیم کو صرف ڈگری تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ اسے عملی زندگی اور معاشی استحکام سے جوڑا جائے۔ پیشہ ورانہ تربیت، ڈیجیٹل مہارتیں، کاروباری منصوبے اور فنی تعلیم نوجوانوں کو خود کفیل اور بااعتماد بناتے ہیں۔
نوجوان محض آنے والے کل کا انتظار کرنے والی نسل نہیں، بلکہ آج کا فعال حصہ بھی ہیں۔ وہ رضاکارانہ خدمت، بچوں کی تعلیم، ضرورت مندوں کی مدد، علمی و تحقیقی منصوبوں اور رفاہی کاموں کے ذریعے معاشرے کی فوری خدمت کر سکتے ہیں۔
انہیں ہر سطح پر قیادت کے حقیقی مواقع بھی ملنے چاہییں۔ قیادت صرف منصب یا شہرت کا نام نہیں، بلکہ قابلیت، اخلاق، فیصلہ سازی، نظم و ضبط اور اجتماعی کام کی صلاحیت کا نام ہے۔ صرف جذبات اور جوش کافی نہیں؛ علم، اخلاق اور بصیرت کے ساتھ کام کرنا بھی ضروری ہے۔
عملی اصلاحی لائحہ عمل
نوجوانوں کے مسائل کا حل کسی ایک فرد یا ادارے کے بس کی بات نہیں۔ خاندان، تعلیمی اداروں، مساجد و مدارس، سماجی تنظیموں اور ذرائع ابلاغ کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
گھروں میں محبت، اعتماد اور باہمی گفتگو کی فضا قائم کی جائے۔ والدین اپنے بچوں کی بات سنیں، ان کی دلچسپیوں اور مشکلات کو سمجھیں اور دوست بن کر ان کی رہنمائی کریں۔ تعلیمی ادارے محض امتحانی کامیابی کے بجائے شخصیت سازی، تنقیدی فکر، تحقیق، اخلاقیات، قیادت اور عملی مہارتوں پر توجہ دیں۔

