سیرتِ نبوی ﷺ پر مستشرقین کے اعتراضات اور ان کے جوابات

جنگِ آزادی کے چند گمنام مجاہدین
اگست 25, 2025
ہندوستان میں مسلم تہذیب کے عروج و زوال کا اثر
نومبر 2, 2026
جنگِ آزادی کے چند گمنام مجاہدین
اگست 25, 2025
ہندوستان میں مسلم تہذیب کے عروج و زوال کا اثر
نومبر 2, 2026

سیرتِ نبوی ﷺ پر مستشرقین کے اعتراضات اور ان کے جوابات

محمد فرمان ندوی(استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء)

ابتدائے آفرینش ہی سے حق و باطل کے درمیان کشمکش اور دفاع و مدافعت کا سلسلہ جاری ہے۔ اگرچہ اس کی صورتیں اور طریقۂ کار مختلف رہے ہیں، لیکن دشمنانِ اسلام نے ہر دور میں دینِ متین کی صورت مسخ کرنے، اس کے نقوش مٹانے اور اس کے خلاف شبہات و اعتراضات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

اللہ رب العزت نے دینِ اسلام کی حفاظت اور کتاب و سنت کی صیانت کا ذمہ خود لیا ہے اور اسے قیامت تک کے لیے محفوظ فرمایا ہے۔ چنانچہ باطل کی ہر یلغار کے مقابلے میں اہلِ حق کا ایک طبقہ ہمیشہ میدان میں آتا رہا ہے۔

ایک دور میں مستشرقین کے ایک طبقے نے علم و تحقیق کے پردے میں اسلام کے خلاف شبہات پھیلانے کا سلسلہ شروع کیا۔ ان میں سے بعض نے قرآن و سنت، تاریخ و سیرت اور اسلامی مصادر سے مواد اخذ کرکے اسے اپنے مخصوص زاویۂ نظر کے مطابق پیش کیا اور تعصب، تدلیس اور حقیقت کو توڑ مروڑ کر بیان کرنے کے ذریعے اسلام کی تصویر مسخ کرنے کی کوشش کی۔ ان کی بعض کاوشیں بظاہر علمی تھیں، لیکن ان میں جانب داری اور حقائق کی غلط تعبیر کا عنصر بھی نمایاں تھا۔

ان اعتراضات کے جواب میں امت کے مختلف طبقات سے علما و محققین اٹھے اور انہوں نے قرآن و سنت اور معتبر تاریخی مصادر کی روشنی میں ان شبہات کا علمی و تحقیقی رد کیا۔ انہوں نے اسلام کی حقانیت، شفافیت اور پاکیزگی کو دلائل و براہین سے واضح کیا اور متعدد اعتراضات کے بودے پن کو نمایاں کیا۔ یوں باطل کی گرد چھٹتی گئی اور اسلام کی روشن حقیقت مزید نمایاں ہوتی چلی گئی، جس سے غیر مسلموں کے مختلف طبقات میں بھی حق شناسی اور ہدایت کی راہیں کھلیں۔

اسی پس منظر میں ذیل میں مستشرقین کے بعض اہم اعتراضات اور ان کے مقابلے میں علمائے اسلام کی علمی مساعی اور جوابات کی چند جھلکیاں پیش کی جا رہی ہیں۔

(۱) محمد ﷺ نے اسلام کو تلوار کے ذریعے پھیلایا

مستشرقین کے بعض اعتراضات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لوگ اپنی رغبت و رضامندی سے اسلام میں داخل نہیں ہوئے، بلکہ انہیں جبراً مسلمان بنایا گیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے متبعین کو قتال پر ابھارا، وہ خون کے پیاسے تھے اور اسلام تلوار کے زور پر پھیلا۔

لیکن یہ دعویٰ اسلامی تاریخ اور سیرتِ نبوی ﷺ کے تمام پہلوؤں کی جامع تصویر پیش نہیں کرتا۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ بہت سے لوگوں نے اسلام کو اپنی رغبت و رضا سے قبول کیا اور اس کی تعلیمات میں اپنی گم شدہ مقصود و مطلوب شے پائی۔ جب لوگوں نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب و متبعین کے معاملات، چال چلن، کردار و اخلاق اور عدل و انصاف کو دیکھا تو وہ ان سے متاثر ہوئے اور اسلام کی طرف مائل ہوئے۔

رسول اللہ ﷺ نے عدل و مساوات کی تعلیم دی، کمزوروں کے ساتھ نرمی، رحم دلی اور داد رسی کا معاملہ فرمایا اور انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی بندگی اور توحید کا پیغام دیا۔ یہی وہ تعلیمات اور پاکیزہ کردار تھا جس نے دلوں کو متاثر کیا اور انسانوں کو اسلام کے قریب کیا۔

پھر یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ مکہ مکرمہ میں تیرہ سال تک رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کفار کے ظلم و ستم اور طرح طرح کی مصیبتوں سے دوچار رہے، لیکن اس پورے دور میں آپ ﷺ نے مسلح تصادم کا راستہ اختیار نہیں فرمایا۔ اس کے برعکس، مخالفین نے آپ ﷺ اور آپ کے صحابہؓ کو ستایا، ان کے خلاف محاذ قائم کیے اور بالآخر مسلمانوں کو اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور کردیا۔

ہجرت کے بعد پیش آنے والے بڑے معرکوں، مثلاً غزوۂ بدر، غزوۂ اُحد اور غزوۂ خندق، کے حالات کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو اپنی جان، ایمان اور اجتماعی بقا کے تحفظ کے لیے سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان معرکوں کے اسباب اور تاریخی پس منظر کو نظر انداز کرکے یہ کہنا درست نہیں کہ ان کا واحد مقصد لوگوں کو زبردستی مسلمان بنانا تھا۔

رسول اللہ ﷺ کے غزوات اور سرایا کا ذکر کتبِ سیرت میں ملتا ہے۔ ان کی تعداد کے تعین میں اہلِ سیرت کے درمیان بعض اختلافات بھی پائے جاتے ہیں۔ تاہم ان معرکوں کے اسباب، حالات اور نتائج کا جائزہ لیے بغیر محض ان کی تعداد کو اسلام کی دعوت کے مزاج کا پیمانہ قرار دینا درست نہیں۔ اسلامی تاریخ کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام کی دعوت کا بنیادی مقصد محض جنگ و قتال یا کشور کشائی نہ تھا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی بندگی، عدل و انصاف کے قیام اور انسانوں کی فلاح کا پیغام عام کرنا تھا۔

یہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ دونوں عالمی جنگوں میں کروڑوں انسان ہلاک ہوئے، لیکن ان جنگوں کی تباہ کاریوں کو اسلام کی تاریخ کے ساتھ خلط ملط کرنا درست نہیں۔ ہر جنگ کے اسباب، حالات اور ذمہ داریوں کا تعین تاریخی شواہد کی روشنی میں ہونا چاہیے۔

رہا یہ دعویٰ کہ اسلام تلوار اور قتل و قتال کے ذریعے پھیلا، تو اس کے لیے تاریخ کے تمام شواہد کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ اسلام میں دعوت کا بنیادی طریقہ حکمت، موعظۂ حسنہ اور حق کی وضاحت ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ۔ترجمہ: دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں۔ (البقرۃ: ۲۵۶)

اسلامی فقہ میں غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات اور اسلامی ریاست میں ان کے حقوق و ذمہ داریوں کے احکام موجود ہیں۔ تاریخی طور پر جزیہ بعض غیر مسلم رعایا سے مخصوص شرائط کے تحت لیا جاتا تھا۔ تاہم اس نظام کی تفصیلات کو اس کے تاریخی اور فقہی پس منظر میں سمجھنا چاہیے۔

اگر معاملہ جنگ تک پہنچتا بھی تو شریعت نے جنگ کے لیے اصول و حدود مقرر کیے۔ عورتوں، بچوں اور ایسے افراد کو قتل کرنے سے ممانعت کی گئی جو جنگ میں شریک نہ ہوں۔ ان تعلیمات سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام نے جنگ کو بے قید خون ریزی کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ اس کے لیے اخلاقی اور قانونی حدود متعین کیں۔

رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات میں جنگ و جدال کی غیر ضروری خواہش کی حوصلہ افزائی نہیں ملتی۔ ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:

أَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَأَصْدَقُهَا حَارِثٌ وَهَمَّامٌ، وَأَقْبَحُهَا حَرْبٌ وَمُرَّةُ۔ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں، اور سب سے زیادہ موزوں نام حارث اور ہمام ہیں، جب کہ سب سے ناپسندیدہ نام حرب اور مرہ ہیں۔

اس حدیث کے آخری الفاظ میں ناموں کے معنی اور ان کے تاثر کی طرف اشارہ ہے؛ اسے بذاتِ خود جنگ کے بارے میں کوئی مستقل شرعی حکم قرار نہیں دینا چاہیے۔

لہٰذا یہ کہنا کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا، تاریخِ اسلام اور سیرتِ نبوی ﷺ کے مجموعی مزاج کو نظر انداز کرنا ہے۔ اسلام کی اصل دعوت توحید، عدل، مساوات، رحمت اور انسانیت کی فلاح تھی۔ جنگی حالات میں مسلح جدوجہد کے اپنے اسباب اور احکام تھے، جب کہ دلوں کو اسلام کی طرف مائل کرنے والی اصل قوت رسول اللہ ﷺ کی دعوت، آپ کا کردار، آپ کے صحابہؓ کا عمل اور اسلام کی پاکیزہ و عادلانہ تعلیمات تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کی تاریخ کو محض میدانِ جنگ کے واقعات تک محدود کرکے نہیں سمجھا جاسکتا۔

جو دلوں کو فتح کرلے وہی فاتحِ زمانہ

(۲) رسول اللہ ﷺ کی متعدد شادیاں

مستشرقین نے نبی کریم ﷺ کے متعدد نکاحوں کو بھی طعن و اعتراض کا نشانہ بنایا اور یہ دعویٰ کیا کہ، معاذ اللہ، آپ ﷺ اپنی شہوانی خواہشات کے پیروکار تھے۔ لیکن جب اس موضوع کا تاریخی اور غیر جانب دارانہ مطالعہ کیا جاتا ہے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ تعددِ ازواج قدیم معاشروں میں معروف تھا اور سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام اور ان کی اقوام کے تاریخی حالات میں بھی اس کی مثالیں ملتی ہیں۔

تعددِ ازواج کے پسِ پشت مختلف انسانی، معاشرتی اور اجتماعی مصالح ہوسکتے ہیں، مثلاً بیوہ عورتوں کی کفالت، خاندانوں اور قبائل کے درمیان تعلقات کا استحکام اور بعض مخصوص معاشرتی حالات میں سرپرستی و تعاون کی ضرورت۔ تاہم رسول اللہ ﷺ کے نکاحوں کا جائزہ لیتے وقت ہر نکاح کے الگ تاریخی پس منظر اور اس سے متعلق حالات کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ ان نکاحوں میں دینی، معاشرتی، تعلیمی اور تشریعی پہلو نمایاں ہیں؛ اس لیے ان سب کو محض ذاتی خواہش کا نتیجہ قرار دینا ایک یک طرفہ تعبیر ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے مشہور نام یہ ہیں: حضرت خدیجہ، حضرت سودہ، حضرت عائشہ، حضرت حفصہ، حضرت زینب بنت خزیمہ، حضرت ام سلمہ، حضرت زینب بنت جحش، حضرت جویریہ، حضرت ام حبیبہ، حضرت صفیہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہن۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی پہلی زوجہ تھیں۔ آپ ﷺ نے ان کے ساتھ تقریباً پچیس سال زندگی گزاری اور ان کی وفات تک دوسری شادی نہیں فرمائی۔ آپ ﷺ کی اولاد میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سوا باقی تمام اولاد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے تھی۔ ان کے ساتھ آپ ﷺ کی ازدواجی زندگی وفا، محبت اور باہمی اعتماد کی روشن مثال ہے۔ ان کی وفات کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا، جو بیوہ تھیں۔ اس نکاح میں ان کی سرپرستی اور گھریلو زندگی کے استحکام کا پہلو بھی نمایاں تھا۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی واحد کنواری زوجہ تھیں۔ ان کی عمر کے حوالے سے قدیم روایات میں نکاح کے وقت چھ سال اور رخصتی کے وقت نو سال کا ذکر ملتا ہے، اور اسی بنا پر بعض مستشرقین اعتراض کرتے ہیں۔ اس مسئلے پر گفتگو کرتے وقت متعلقہ روایات، ان کے تاریخی پس منظر اور اس عہد کے معاشرتی عرف کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بعد میں علم و فقہ کا عظیم مرکز بنیں۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بہت سی احادیث روایت کیں اور خصوصاً خواتین کے مسائل، خاندانی زندگی اور دینی احکام کی وضاحت میں غیر معمولی علمی خدمات انجام دیں۔

حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے شوہر خنیس بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد وہ بیوہ ہوگئیں۔ ان کے والد حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے مستقبل کے بارے میں فکر مند تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے نکاح فرمایا، جس سے انہیں سرپرستی اور عزت و تکریم حاصل ہوئی۔

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے شوہر حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد وہ اپنے بچوں کے ساتھ رہ گئی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے نکاح فرمایا اور ان کی سرپرستی فرمائی۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بعد میں فقہ و حدیث کے اہم مآخذ میں شمار ہوئیں اور ان سے متعدد دینی مسائل مروی ہیں۔

حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا کو ام المساکین کہا جاتا تھا، کیونکہ وہ مسکینوں اور محتاجوں کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی کے لیے معروف تھیں۔ رسول اللہ ﷺ سے ان کا نکاح بھی آپ ﷺ کی ازدواجی زندگی کے تاریخی واقعات میں شامل ہے۔ ان کا انتقال نکاح کے چند ہی ماہ بعد ہوگیا۔

حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کا نکاح پہلے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے ہوا تھا، لیکن بعد میں ان کے درمیان علیحدگی ہوگئی۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان سے نکاح فرمایا۔ اس نکاح کا تعلق منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے کے برابر سمجھنے کے جاہلی تصور کی اصلاح سے تھا۔ قرآن مجید نے اس واقعے کو سورۂ احزاب میں بیان کیا ہے اور واضح فرمایا ہے کہ منہ بولے بیٹے حقیقی بیٹوں کے حکم میں نہیں ہوتے۔ اس طرح اس نکاح کے ذریعے ایک اہم معاشرتی اور قانونی مسئلے کی عملی وضاحت ہوئی۔

حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بنو مصطلق سے تعلق رکھتی تھیں۔ جنگ کے بعد وہ قیدیوں میں شامل ہوئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں آزاد فرمایا اور ان سے نکاح کیا۔ اس نکاح کے نتیجے میں ان کے قبیلے کے بہت سے افراد کو آزادی ملی اور مسلمانوں اور بنو مصطلق کے درمیان تعلقات میں قربت پیدا ہوئی۔

حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ ان کے شوہر عبیداللہ بن جحش کا انتقال حبشہ ہی میں ہوگیا اور وہ ایک اجنبی ماحول میں تنہا رہ گئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے نکاح فرمایا، جس سے انہیں عزت، تحفظ اور سرپرستی حاصل ہوئی۔

حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا یہودی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ غزوۂ خیبر کے بعد وہ رسول اللہ ﷺ کے اختیار میں آئیں۔ آپ ﷺ نے انہیں آزاد فرمایا اور پھر ان سے نکاح کیا۔ اس طرح انہیں آزادانہ حیثیت اور عزت و تکریم حاصل ہوئی اور وہ ازواجِ مطہرات میں شامل ہوئیں۔

حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کا نکاح بھی آپ ﷺ کی ازدواجی زندگی کے اہم واقعات میں سے ہے۔ اس نکاح کے ذریعے بعض قبائل کے ساتھ تعلقات میں قربت پیدا ہوئی اور دعوتِ اسلام کے لیے معاشرتی روابط کے نئے امکانات سامنے آئے۔

حضرت سودہ، حضرت عائشہ، حضرت حفصہ، حضرت زینب بنت خزیمہ، حضرت ام سلمہ، حضرت زینب بنت جحش، حضرت جویریہ، حضرت ام حبیبہ، حضرت صفیہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہن کے علاوہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بھی آپ ﷺ کی ازواجِ مطہرات میں شامل ہیں۔ ان کے حالات پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ازدواجی زندگی میں مختلف معاشرتی، خاندانی، تعلیمی اور دینی پہلو موجود تھے۔

حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کا ذکر بھی اس ضمن میں ضروری ہے۔ وہ مصر کے حاکم کی جانب سے رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجی گئی تھیں اور ان سے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے۔ تاہم جمہور اہلِ سیرت کے نزدیک وہ ازواجِ مطہرات میں شمار نہیں ہوتیں، بلکہ امِ ولد کی حیثیت رکھتی تھیں۔ اس لیے ازواجِ مطہرات کی تعداد بیان کرتے ہوئے ان کا نام گیارہ ازواج کی فہرست میں شامل کرنا درست نہیں۔

پس ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے حالات پر نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے نکاحوں کے پسِ پشت مختلف دینی، معاشرتی، تعلیمی اور تشریعی مصالح کارفرما تھے۔ ان میں بیوہ خواتین کی کفالت، قبائل کے ساتھ تعلقات کا استحکام، معاشرتی رسوم کی اصلاح اور امت تک دینی احکام کی ترسیل جیسے اہم پہلو شامل تھے۔ یہی وہ حقائق ہیں جنہیں سمجھے بغیر تعددِ ازواجِ نبوی ﷺ کے بارے میں کیا جانے والا اعتراض یک طرفہ اور تاریخی پس منظر سے بے نیاز دکھائی دیتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کے تعددِ ازواج کی حکمتوں اور مصالح کو مختصراً درج ذیل نکات میں بیان کیا جاسکتا ہے:

(۱) بیوہ خواتین کی داد رسی اور کفالت:

بعض ازواجِ مطہرات بیوہ تھیں۔ رسول اللہ ﷺ کے نکاح سے انہیں عزت، تحفظ اور سرپرستی حاصل ہوئی۔

(۲) تعلیم و تشریع کا فریضہ:

ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن نے رسول اللہ ﷺ کی خانگی زندگی، عبادات، اخلاق اور گھریلو معاملات سے متعلق احادیث و احکام امت تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ بالخصوص حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی علمی خدمات نمایاں ہیں۔

(۳) قبائل کے ساتھ تعلقات کا استحکام:

بعض نکاحوں کے ذریعے قبائل کے ساتھ تعلقات میں قربت پیدا ہوئی اور دعوتِ اسلام کے لیے سازگار ماحول فراہم ہوا۔

(۴) جاہلی رسوم کی اصلاح:

حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کے ذریعے منہ بولے بیٹے سے متعلق جاہلی تصور کی اصلاح کا ایک اہم پہلو سامنے آیا۔

(۵) معاشرتی اور دینی رہنمائی:

ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن نے خواتین کے دینی مسائل کی وضاحت، احادیث کی روایت اور اسلامی معاشرت کی تعلیم میں نمایاں کردار ادا کیا۔

یہ اور اس طرح کے دیگر شبہات جو سیرتِ نبوی ﷺ کے خلاف اٹھائے جاتے ہیں، ان کا تقاضا ہے کہ نوجوان نسل انہیں گہری بصیرت، صحیح فہم اور علمی دیانت کے ساتھ سمجھے، معتبر تاریخی مصادر اور شریعت کی روشنی میں ان کا جائزہ لے اور ان کے مدلل جوابات تشنۂ حقیقت لوگوں تک پہنچائے۔ اس طرح اسلام اور اس کی عظیم تعلیمات پر نوجوان نسل کا اعتماد مزید مستحکم ہوسکتا ہے اور امت ایک بار پھر اسلام کی تعلیماتِ رحمت و عدل سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے سعادت، اطمینان اور طمانیت کی زندگی بسر کرسکتی ہے۔