علم کی عظمت اور اُمت کی فکری تعمیر
نومبر 2, 2026خاندانی منصوبہ بندی:ایک جائزہ
رحمت اللہ سعد ندوی
موجودہ دور میں ذرائعِ ابلاغ اور ابلاغی وسائل انسانی ذہن سازی میں غیر معمولی کردار ادا کر رہے ہیں۔ مختلف نظریات اور تصورات کو میڈیا، اشتہارات، مہمات اور سماجی ذرائع کے ذریعے اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے کہ وہ رفتہ رفتہ معاشرے میں ایک مسلمہ حقیقت کا درجہ حاصل کر لیتے ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں کسی بھی مقبول تصور کو قبول کرنے سے پہلے اس کے پس منظر، مقاصد، فوائد، نقصانات اور طویل مدتی نتائج پر غور کرنا ضروری ہے۔
ایسے ہی تصورات میں ’’خاندانی منصوبہ بندی‘‘ بھی شامل ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے دنیا کے مختلف ممالک میں آبادی، وسائل، صحت اور معاشی ترقی کے حوالے سے خاندانی منصوبہ بندی کی مہمات چلائی جاتی رہی ہیں۔ ان مہمات کا بنیادی استدلال عموماً یہ ہوتا ہے کہ محدود وسائل، بڑھتی ہوئی آبادی اور معاشی مشکلات کے درمیان خاندانوں کو اپنی اولاد کی تعداد اور بچوں کے درمیان وقفے کے بارے میں منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ تاہم، اس موضوع کو صرف آبادی کم کرنے کے زاویے سے دیکھنا درست نہیں؛ اس کے اخلاقی، طبی، معاشی، سماجی اور آبادیاتی پہلو بھی ہیں۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ’’خاندانی منصوبہ بندی‘‘ ایک ہی مفہوم رکھنے والی اصطلاح نہیں ہے۔ بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ، ماں اور بچے کی صحت کا خیال، حمل کے دوران طبی احتیاط، اور میاں بیوی کا باہمی مشورے سے اپنی خاندانی ذمہ داریوں کے بارے میں فیصلہ کرنا ایک پہلو ہے؛ جب کہ محض آبادی کم کرنے کے لیے دباؤ، جبری اقدامات یا اولاد کو معاشی بوجھ سمجھنے کی ذہنیت ایک بالکل مختلف مسئلہ ہے۔ ان دونوں کو ایک ہی درجے میں رکھنا درست نہیں۔
اسی لیے خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں کسی بھی بحث میں ’’اختیار‘‘ اور ’’جبر‘‘ کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ اگر کسی خاندان کو صحت، تعلیم، رہائش اور معاشی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی اولاد کے درمیان مناسب وقفے کے بارے میں باخبر فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے تو یہ ایک الگ نوعیت کا معاملہ ہے؛ لیکن اگر آبادی کو محض ایک مسئلہ سمجھ کر لوگوں پر مخصوص تعدادِ اولاد مسلط کی جائے تو اس کے اخلاقی اور انسانی پہلوؤں پر ضرور غور ہونا چاہیے۔
آبادی کے بارے میں دنیا میں ایک عرصے تک یہ تصور عام رہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی لازماً وسائل کی قلت، غربت اور معاشی بحران کا سبب بنے گی۔ لیکن انسانی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ وسائل جامد نہیں ہوتے۔ علم، ٹیکنالوجی، زراعت، صنعت، تجارت اور انسانی محنت نے قدرتی وسائل کے استعمال کی صلاحیت میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ ایک صدی پہلے جتنی پیداوار کسی مخصوص رقبے سے حاصل ہوتی تھی، آج بہتر بیج، آب پاشی، مشینری، کھاد اور جدید زرعی طریقوں کے ذریعے اس سے کہیں زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح صنعتی ترقی اور ٹیکنالوجی نے انسان کے لیے نئے معاشی امکانات پیدا کیے ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ وسائل لامحدود ہیں یا آبادی میں ہر اضافہ لازماً فائدہ مند ہوتا ہے۔ پانی، زمین، خوراک، رہائش، روزگار اور ماحول سے متعلق مسائل حقیقی ہیں اور ان کا سنجیدگی سے حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ تاہم، یہ نتیجہ بھی درست نہیں کہ ہر معاشی مشکل کا بنیادی سبب محض زیادہ آبادی ہے۔ کسی ملک کی معاشی حالت اس کے سیاسی نظام، تعلیم، صحت، حکمرانی، وسائل کی منصفانہ تقسیم، صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع اور انسانی سرمائے سمیت متعدد عوامل سے متاثر ہوتی ہے۔
اگر کسی معاشرے میں شرحِ پیدائش طویل عرصے تک بہت کم ہو جائے تو آبادی کا عمرانی توازن متاثر ہو سکتا ہے۔ نوجوانوں کی تعداد کم اور بزرگوں کا تناسب زیادہ ہونے لگتا ہے، جس سے افرادی قوت، پنشن، صحت اور نگہداشت جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ جاپان اس کی نمایاں مثال ہے، جہاں آبادی میں کمی اور عمر رسیدگی اہم قومی مسائل بن چکے ہیں۔ چین میں بھی طویل عرصے کی آبادیاتی پالیسیوں کے بعد کم شرحِ پیدائش اور عمر رسیدگی کے مسائل نمایاں ہیں؛ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۵ء کے اختتام پر اس کی آبادی۱.۴۰۴۸۹ ارب تھی اور ۶۰سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کا تناسب ۲۳ فیصد تھا۔ بھارت کی مجموعی شرحِ پیدائش بھی تقریباً ۲.۰ تک پہنچ چکی ہے، اگرچہ مختلف ریاستوں میں نمایاں فرق موجود ہے۔ اسی طرح آندھرا پردیش میں کم ہوتی شرحِ پیدائش اور بڑھتی عمر رسیدہ آبادی کے باعث ۲۰۲۴ءکے بعد آبادیاتی پالیسی پر دوبارہ توجہ دی گئی اور ۲۰۲۶ء میں زیادہ بچوں والے خاندانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے مالی مراعات کی تجویز سامنے آئی۔ یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ آبادی کے مسائل جامد نہیں ہوتے؛ حالات بدلنے کے ساتھ پالیسی کی ترجیحات بھی بدل سکتی ہیں۔
لہٰذا آبادی کے مسئلے کا حل نہ اندھی آبادی بڑھانے میں ہے اور نہ اندھی آبادی گھٹانے میں۔ اصل ضرورت آبادی اور وسائل کے درمیان متوازن تعلق پیدا کرنے کی ہے۔ ایسی پالیسی ہونی چاہیے جو انسان کو محض ’’وسائل استعمال کرنے والے فرد‘‘ کے طور پر نہ دیکھے، بلکہ اسے خود ایک انسانی سرمایہ تصور کرے۔ تعلیم یافتہ، صحت مند اور ہنرمند انسان کسی بھی ملک کے لیے بوجھ نہیں بلکہ اس کی معاشی اور علمی قوت بن سکتا ہے۔
یہاں دینی نقطۂ نظر بھی اہم ہے۔ اسلام انسان کو رزق کے بارے میں اللہ تعالیٰ پر توکل کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:
’’وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ‘‘(سورۃ ہود: ۶)۔
’’زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو، اور وہ اس کے ٹھکانے اور اس کے سپرد کیے جانے کی جگہ کو جانتا ہے۔ سب کچھ ایک واضح کتاب میں درج ہے۔‘‘
یہ آیت انسان کو اللہ تعالیٰ کے رازق ہونے پر یقین دلاتی ہے؛ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اسباب اختیار کرنا چھوڑ دے۔ اسلام توکل کے ساتھ تدبیر کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ اس لیے معاشی مشکلات، صحت، بچوں کی پرورش، ماں کی جسمانی حالت اور خاندان کی ذمہ داریوں کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنا اور اسباب اختیار کرنا توکل کے منافی نہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اولاد کو محض معاشی بوجھ سمجھنے کی ذہنیت اختیار نہ کریں۔ ایک بچہ صرف خوراک استعمال کرنے والا فرد نہیں ہوتا؛ وہ مستقبل کا استاد، ڈاکٹر، انجینئر، کسان، صنعت کار، محقق، عالم، تاجر یا معاشرے کا خدمت گزار بھی بن سکتا ہے۔ انسانی تاریخ میں بے شمار معاشی، علمی اور تہذیبی ترقیات انہی انسانوں کی محنت کا نتیجہ ہیں جنہیں کسی زمانے میں محض ’’اضافی آبادی‘‘ سمجھا جا سکتا تھا۔
البتہ اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ والدین پر اپنی اولاد کی صحت، تعلیم، تربیت اور بہتر مستقبل کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس لیے اولاد کے معاملے میں جذباتی نعروں کے بجائے ذمہ داری، اعتدال، باہمی مشورے اور دینی و اخلاقی اصولوں کو سامنے رکھنا چاہیے۔
ہمیں نہ یہ کہنا چاہیے کہ کثرتِ اولاد ہر حال میں خوش حالی کی ضمانت ہے اور نہ یہ کہ کم اولاد ہی خوش حالی کا واحد راستہ ہے۔ اسی طرح آبادی کو مکمل طور پر مسئلہ قرار دینا بھی درست نہیں اور اسے ہر حال میں نعمت سمجھ کر اس کے تمام عملی تقاضوں سے صرفِ نظر کرنا بھی درست نہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ آبادی کے مسئلے کو سیاسی نعروں اور پروپیگنڈے کے بجائے علم، تحقیق، اخلاق، مذہب، طب، معیشت اور انسانی تجربے کی روشنی میں سمجھا جائے۔ انسان کو بوجھ سمجھنے کے بجائے اسے اللہ تعالیٰ کی مخلوق، معاشرے کے فرد اور مستقبل کے انسانی سرمائے کی حیثیت سے دیکھا جائے۔ آبادی کے توازن کے لیے ایسے طریقے اختیار کیے جائیں جو انسانی وقار، خاندانی استحکام، ماں اور بچے کی صحت اور معاشرتی ضروریات کو ملحوظ رکھتے ہوں۔
آخرکار انسان کا علم محدود ہے۔ وہ آج کے وسائل کو دیکھ کر مستقبل کے تمام امکانات کا اندازہ نہیں کر سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ انسان نے بارہا یہ سمجھا کہ فلاں چیز محدود ہے، لیکن علم، محنت اور ٹیکنالوجی نے اس کے استعمال کے نئے راستے پیدا کر دیے۔ اس لیے مستقبل کے بارے میں خوف پھیلا کر انسان کو اپنی ہی نسل سے بدظن کرنا دانش مندی نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین آباد کرنے، محنت کرنے اور اسباب اختیار کرنے کی صلاحیت عطا کی ہے۔ اس کے ساتھ رزق کے بارے میں اپنے رب پر اعتماد بھی رکھنا چاہیے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ انسان اپنی ذمہ داری سے فرار نہ اختیار کرے، نہ اپنی نسل کو بوجھ سمجھے اور نہ وسائل کی تقسیم اور معاشی ناانصافی کے مسائل کا سارا بوجھ صرف آبادی کے سر ڈال دے۔
آبادی مسئلہ ہو سکتی ہے، لیکن انسان بذاتِ خود مسئلہ نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ انسان، وسائل اور معاشی نظام کے درمیان توازن کس طرح قائم کیا جائے۔

