اسلامی نظامِ تکافل: ایک بہترین متبادل
اگست 25, 2025سوال و جواب
مفتی محمد ظفرعالم ندوی(استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء)
سوال:اسوقت ملک کے بعض صوبوں میں مسلم عورتیں بھی ملازمت کرنے لگی ہیں ، بلکہ بعض علاقوں میں شادی بیاہ کے لئے لڑکے والے ملازمت پیشہ بہوئیں تلاش کرنے اور رشتہ کرنے میں ان کو ترجیح دیتے ہیں، سوال یہ ہے کہ آج کے بے پردہ ماحول میں مسلم خواتین کے لئے سرکاری یا غیرسرکاری ملازمت کرنا شرعاً درست ہے ؟ بالخصوص اس صورت میں جبکہ گھر کے ذمہ دار اس پر مجبور کریں تو کیا حکم ہے ؟
جواب: ایسی ملازمت جس میں بے پردگی لازم آتی ہو تو عورتوں کے لئے یہ جائز نہیں ہے ، البتہ ایسی ملازمت جس میں بے پردگی کا اندیشہ نہ ہو مثلاً بچیوں کے اسکول میں تعلیم دینا یا بچیوں کے ہاسٹل میں نگرانی کا فریضہ انجام دینا یا شعبۂ خواتین کے دفاتر میں کام کرنا یا شعبۂ امراض نسواں میں نرسنگ وغیرہ کا کام کرنا تو شرعاً اسکی اجازت ہوگی ۔[جواہرالفقہ:ج۴/ص۱۴۶]
سوال :گھر کی عورتوں سے تجارت کروانا مثلاً دکانوں پر بیٹھنے اور سامان فروخت کرنے کی ذمہ داری پر مامور کرنا شرعاً کیسا ہے ؟ بالخصوص اس صورت میں جبکہ گاہک عورتوں کے علاوہ مرد بھی آتے ہوں؟
جواب : اصل مسئلہ عورتوں کے لئے کام یا تجارت کا نہیں، بلکہ پردہ کا ہے، اگر پردہ کے ساتھ تجارت کرنا ممکن نہ ہوتو شرعاً اسکی اجازت نہیں ہوگی، ہاں ! اگر پردہ کی پابندی کے ساتھ ممکن ہو تو پھر منوع نہیں، لیکن یاد رہے کہ نان و نفقہ اور گھریلو ضروریات و اخراجات کی تکمیل کی ذمہ داری مرد پر ہے، عورتوں پر نہیں، اس لئے گھر والوں کا عورتوں کو تجارت کرنے پر مجبور کرنا جائز نہیں ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے:’’المرأة عورة فاذا خرجت استشرفها الشيطان ‘‘[جامع ترمذی:ج ۱ / ص ۲۲۲، رقم ۱۱۷۳](عورت پردہ کی چیز ہے، جب وہ باہر نکلے گی تو شیطان اس سے جھانک تاک کرے گا)۔
سوال:عورت کے لئے سرکاری یا غیر سرکاری اسپتال میں نرسنگ کا کام کرنا اور اسکی ملازمت اختیار کرنا کیسا ہے ؟
جواب: اسپتال میں اگر شعبۂ نسواں میں کام ہو یابیمار عورتوں کے علاج یا ولادت میں تعاون کی ذمہ داری ہے تو عورتوں کے لئے شرعاً اسکی اجازت ہوگی ،لیکن جنرل وارڈ میں اگر پردہ کا اہتمام نہ ہوسکے تو پھرشرعاًیہ ملازمت درست نہ ہوگی ۔ ربیع بنت معوذؓ سے مروی ہے :’’ کنا مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم نسقى الماء و نداوی الجرحىٰ ‘‘[صحیح البخاری:ج ۱/ص ۴۰۳ ] ( ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کے موقع سےتھے، ہم پانی پلاتے اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتے)۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ عورتوں کے لئے پردہ کے اہتمام کے ساتھ نرسنگ کی ملازمت جائز ہے ۔
سوال : ایک خاتون سرکاری اسپتال میں نرسنگ کا کام کرتی ہے، سرکاری ڈیوٹی کے بعد گھرپر زچہ بچہ کا کام کرتی ہے، آنے والی بعض عورتیں بچہ نہیں چاہتی ہیں اور چار مہینے ہونے کے با وجود صفائی چاہتی ہیں اور یہ خاتون نرس یہ کام کرتی ہے، صفائی کروانے والیوں میں بعض شادی شدہ بھی ہوتی ہیں اور بعض غیرشادی شدہ، اور بعض غیرمسلم،سوال یہ ہے کہ اس خاتون کے لئے صفائی کے کام میں تعاون کرنا اور اجرت لینا شرعاً کیسا ہے؟
جواب: امراضِ نسواں اور ولادت میں نرس کا کام کرنا فی نفسہ درست ہے خواہ سرکاری اسپتال میں ہویا پرائیوٹ میں، اور اسکی اجرت لینا بھی جائز ہے، لیکن چار ماہ یا اس سے زائد مدت گزرنے کے بعد بلاعذر شرعی اسقاط کرانے والی عورتوں کی صفائی میں تعاون کرنا درست نہیں ہے ، بلکہ گناہ ہے اور اجرت لینا بھی درست نہیں ہے ، ’’ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان‘‘[مائدہ : ۲] وجہ اسکی یہ ہے کہ چار ماہ میں بچہ میں روح ڈال دی جاتی ہے اور اسکی حیثیت ایک انسانی جان کی ہو جاتی ہے، اس وقت اسقاط حمل (صفائی) کا عمل انسانی جان کے قتل میں شمار ہوتا ہے : اذا کان الحمل قد بلغ مأة وعشرين يوماً لا يجوز إسقاطه الخ…
[ قرار المجمع الفقه الاسلامي لرابطة العالم الاسلامی فى دورة الثانية عشر المنعقدة بمكة المكرمة]

