زوالِ اُمت کے اسباب
اگست 25, 2025شعر و ادب: مداوائے دردِ دل؛ انجام سے تو ظالم شاید کہ بے خبر ہے
مولانا محمد ولی رازیؔؒ؛ مولانا سیدمحمد ثانی حسنیؒ
مداوائے دردِ دل
ہر دم درود سرورِ عالم کہا کروں
ہر لمحہ روئے مکرم رہا کروں
اسمِ رسول ہوگا، مداوائے دردِ دل
صلِّ علیٰ سے دل کے دکھوں کی دوا کروں
ہر سطر اس کی اسوۂ ہادی کی ہو گواہ
اس طرح حالِ احمدِ مرسل کہا کروں
معمور اس کو کرکے معرا سطور سے
ہر کلمہ اس کا دل کے لہو سے لکھا کروں
گو مرحلہ گراں ہے، مگر ہورہے گا طے
اسم رسول سے ہی دردِ دل کو وا کروں
ہر دم رواں ہو دل سے درودوں کا سلسلہ
طے اس طرح سے راہ کا ہر مرحلہ کروں
دے دوں اگر رسول مکرم کا واسطہ
دل کی ہر اِک مراد ملے، گر دعا کروں
اس کے علاوہ سارے سہاروں سے ٹوٹ کر
اللہ کے کرم کے سہارے رہاکروں
ہوکر رہے گا سہل، ہر اک مرحلہ کڑا
اللہ کے کرم کا اگر آسرا کروں
اردو کو اِک رسالہ الہام دوں ولیؔ
لوگوں کو دورِ ہادی عالم عطا کروں
انجام سے تو ظالم شاید کہ بے خبر ہے
آتا ہے یاد ہم کو رہ رہ کے وہ زمانہ
مامون آفتوں سے تھا جب کہ آشیانا
آباد تھا چمن جب بے خار تھا نشیمن
اہلِ چمن تھے گاتے خوشیوں کا جب ترانا
ہائے چمن کو ظالم صیاد نے اُجاڑا
کانٹوں سے بھر دیا ہے پھولوں کا آشیانا
آباد جو چمن تھا ویران ہوگیا ہے
مرغِ چمن بنا ہے صیاد کا نشانا
اپنے چمن میں ایسے بیگانے بن گئے ہم
سارا جہاں پرایا اپنا نہیں زمانا
معمور جن کے دل تھے اہل چمن کے غم سے
افسوس ہوچکے وہ سوئے عدم روانہ
ہے آج حد بھی کوئی غربت کی، بے کسی کی
اپنا چمن ہے لیکن پھر بھی نہیں ٹھکانا
اے کاش کوئی کہہ دے صیاد سے یہ جاکر
اچھا نہیں ہے ظالم حد سے سوا ستانا
انجام سے تو ظالم شاید کہ بے خبر ہے
تجھ کو بھی ایک دن ہے رخت سفر اٹھانا

