مولانا خالد ندوی غازیپوری کی چند تالیفات
اگست 25, 2025تعارف وتبصرہ
محمداصطفاء الحسن کاندھلوی ندوی(استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء)
ذکرِ شرف
مرتب: عبدالباسط ندوی
کتاب کا پورا عنوان ’’ذکرِ شرف- مولانا محمد شرف الدین قاسمی رحمہ اور چلمل کے دیگر اصحابِ علم وشرف‘‘ ہے، جس کو محترم جناب مولانا عبد الباسط محمدشرف الدین ندوی نے ترتیب دیا ہے۔
مرتب موصوف مولانا عبد الباسط ندوی صاحب معہد العالی امارتِ شرعیہ، پھلواری شریف ، پٹنہ میں عرصہ سے خدمت انجام دے رہے ہیں، وہ دار العلوم ندوۃ العلماء کے فضلاء میں شمار ہوتے ہیں، اور انھوں نے مفکرِ اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی، حضرت مولانا محمد رابع حسنی ندوی، مولانا محمد واضح رشید ندوی، مولانا ڈاکٹر سعید الرحمان اعظمی ندوی اور دیگر مشاہیرِ ندوہ کی صحبت اٹھائی ہے، اور کسبِ فیض کیا ہے۔آپ کے والدِ محترم مولانا محمد شرف الدین قاسمی رحمۃ اللہ علیہ دار العلوم دیوبند کے قابل فرزندوں میں شمار ہوتے تھے، اور علم و فضل اور سیرت و اخلاق میں نمایاں مقام رکھتے تھے، اکابرِ ندوہ سے ان کی خاصی گہری وابستگی تھی، جس کا اثر یہ ہوا کہ انھوں نے اپنے فرزندوں کو ندوۃ العلماء میں تعلیم و تربیت کے لیے بھیجا۔
مولانا محمد شرف الدین قاسمی رحمۃ اللہ علیہ، صوبہ بہار کے بیگو سرائے کے قصبہ چلمل کے باشندہ تھے، وہ مولانا منت اللہ رحمانی کے ساتھیوں میں تھے، امارت شرعیہ بہار کے رکن تھے اور جمعیت علماء ضلع مونگیر کے ناظم ۔اس کے علاوہ وہ ایک دینی و ملی رہنما اور علمی و فقہی حیثیت کے حامل شخصیت تھے۔
ایسی شخصیات کاذکر و تذکرہ اور ان کے کوائف و احوال کا بیان بعد میں آنے والوں کے لیے یقینا مفید ہوتا ہے۔اسی کے پیشِ نظر مولانا موصوف کے فرزندِ ارجمند جناب عبد الباسط ندوی صاحب نے ان سے متعلق جو کچھ بھی مواد دستیاب ہوسکا مرتب کرکے قابلِ اشاعت بنایا اور ’شرف میموریل ڈینٹل اورل کلینک، چلمل، بیگرسرائے‘ نے اس کو شائع کیا۔
مرتب نے اس کتاب میں جو مواد پیش کیا ہے، اس میں مولانا محمد شرف الدین کے مختصر حالات، اعزہ و اقارب ، وطنِ عزیز اور وہاں کی اہم شخصیات کا تذکرہ، مولانا کے خطوط اولاد کے نام، اکابر کے خطوط مولانا کے نام، تعزیتی خطوط و تراشے، مولانا کے مضامین جو زیادہ تر شخصیات کے تعلق سے ہیں اور دیگر اہم شخصیات کے مضامین جو مولانا کی شخصیت پر ہیں‘ شامل ہیں۔ اس طرح یہ کتاب بالخصوص مولانا کی شخصیت،خاندان اور و طن کا ایک معتبر و مستند وثیقہ بن گئی ہے، جو اہلِ خاندان کے علاوہ اس علاقہ کے حالات و شخصیات سے دلچسپی رکھنے والے مؤرخین و محققین کی دلچسپی کا سامان بھی بن سکتی ہے۔
کتاب تقریبا تین صفحات کی ہے۔ طباعت عمدہ ہے۔ حصول کے لیے اس نمبر پر رابطہ کرسکتے ہیں:
۹۴۳۰۸۷۵۴۲۴
خصوصی شمارہ مجلہ ’’تذکیر‘‘ غازیپور
بیاد مولانا عزیز الحسن صدیقی رحمہ اللہ
غازیپور کے علمی خاندان کے چشم و چراغ ، مختلف ملی و دینی اداروں اور تنظیموں سے وابستہ، بہت سے مکاتب و اداروں کے بانی، مجلس انتظامی ندوۃ العلماء کے رکنِ رکین اور نگہ بلند، سخن دلنواز و جاں پرسوز شخصیت مولانا عزیز الحسن صدیقی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات ۱۳؍ جولائی ۲۰۲۵ء کو ہوئی تھی، بعد ازاں ان کے صاحبزادہ محترم جناب سعود الحسن ندوی نے ان کی شخصیت و خدمات پر ایک وقیع سیمینار کا انعقاد کیا تھا، جس میں ملک بھر کے دانشوران و علماء و اربابِ قلم نے اپنی تحریروں اور مقالوں کے ساتھ شرکت کی تھی۔ اب اسی سیمینار کے مضامین و مقالوں کو مرتب کرکے معروف دینی و علمی مجلہ ’’تذکیر‘‘ کا خصوصی شمارہ ایک ضخیم جلد میں ’’دینیہ اکادمی‘‘ ما تحت مدرسہ دینیہ غازیپور نے شائع کردیا ہے۔
اس خصوصی شمارہ کی ترتیب کچھ یوں قائم کی گئی ہے کہ ابتدا میں اکابرِ امت کے تاثراتی مضامین پیش کیے گئے ہیں، پھر مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیفات و تالیفات کا تذکرہ ہے، مدرسہ دینیہ کے اساتذہ و طلبہ کا گوشہ ہے، اہلِ خانہ کی تحریریں ہیں ، اور آخر میں منظوم خراجِ عقیدت ہے، اور اخبارات کے تراشے ہیں۔
اس شمارہ کی خصوصیت میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ ملک میں وقت کی اہم شخصیات، اربابِ علم و دانش اور اصحابِ قلم کی تحریریں اس میں موجود ہیں، جو ہر پہلو سے مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت اور ان کے کارناموں کا احاطہ کرتی ہیں۔
مطالعہ کے خواہش مند حضرات مندرجۂ ذیل نمبرات پر رابطہ کرکے حاصل کرسکتے ہیں:
۹۴۱۵۸۸۷۵۱۳-۷۰۸۱۲۲۰۶۴۰

