ہندوستان کی جمہوری و سیکولر شناخت — اہمیت اور تحفظ کے تقاضے

غزہ- دورِحاضر کا شعبِ ابی طالب
اگست 25, 2025
غزہ- دورِحاضر کا شعبِ ابی طالب
اگست 25, 2025

ہندوستان کی جمہوری و سیکولر شناخت — اہمیت اور تحفظ کے تقاضے

انیس احمد ندوی(استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء)

یہ بات زبان زدِ خاص و عام ہے کہ ہندوستان ایک جمہوری اور سیکولر ملک ہے۔ یہاں کی تہذیب زمانۂ قدیم سے گنگا جمنی تہذیب رہی ہے۔ گنگا اور جمنا کے سنگم کی طرح یہاں مختلف اقوام و مذاہب اور گوناگوں رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے لوگ باہم شیر و شکر ہوکر رہتے آئے ہیں۔ مختلف ثقافتوں نے ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوکر ہندوستانی تہذیب و تمدن کی تشکیل کی ہے۔ اسی طرح کثرت میں وحدت (Unity in Diversity) بھی یہاں کا امتیاز رہی ہے۔ ہندوستان ایک تکثیری معاشرہ (Pluralistic Society) ہے، جس سے مراد ایسا معاشرہ ہے جہاں مختلف قومیں، تہذیبیں اور ثقافتیں مل جل کر اجتماعی زندگی کو تشکیل دیتی ہیں اور ایک دوسرے کے تئیں رواداری، احترام اور برداشت کے جذبات رکھتی ہیں۔

ظاہر ہے کہ ایسے معاشرے کا سب سے بڑا امتیاز مختلف قوموں اور تہذیبوں کا سنگم ہونا ہے۔ اگر اس خصوصیت میں کمی آجائے یا اس پر کوئی داغ لگ جائے تو ہندوستانی تہذیب کی اصل روح ماند پڑنے لگے گی۔ تہذیب کی ان خصوصیات کو برقرار رکھنے کے لیے آئینِ ہند میں متعدد اصولوں کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ شہریوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے اور ان کے بنیادی فرائض بھی متعین کیے گئے ہیں۔ بنیادی حقوق کو شہریوں تک پہنچانا اور ان کا تحفظ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، جب کہ شہریوں کے فرائض میں ملک کی تعمیر و ترقی اور خوش حالی میں حصہ لینا، قومی یک جہتی کو فروغ دینا اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کرنا شامل ہے۔ جب ان حقوق کی خلاف ورزی ہو یا معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچے تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کے مطابق کارروائی کرے۔

ہندوستان کے تناظر میں جمہوریت (Democracy)، سیکولرزم (Secularism) اور تکثیریت (Pluralism) کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے، کیوں کہ یہاں مختلف مذاہب، زبانوں، ثقافتوں اور معاشرتی گروہوں کے لوگ آباد ہیں۔ ان اصولوں کی اہمیت محض آئینی اعتبار سے نہیں، بلکہ ہندوستان کی تہذیبی شناخت کے حوالے سے بھی مسلم ہے۔ ہندوستان کا حسن اسی وحدت میں پوشیدہ ہے اور اس کی قوت کا راز بھی اسی میں مضمر ہے۔

اگرچہ ملک میں فسطائی رجحانات رکھنے والی طاقتیں آزادی سے بہت پہلے ہی معاشرتی ہم آہنگی اور پُرامن بقائے باہم کے خلاف سرگرم رہی ہیں اور ملک کو ایک مخصوص نظریے کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرتی آئی ہیں، تاہم وقت کے ساتھ ان رجحانات کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ بعض عناصر امن کے نام پر بدامنی، اصلاح کے نام پر فساد اور سماجی شناختوں کے تحفظ کے نام پر تعصب و تفریق کو فروغ دیتے رہے ہیں۔ فرقہ وارانہ نفرت اور تشدد کی سیاست نے ملک کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ اسی نفرت انگیز ذہنیت کے ہاتھوں مہاتما گاندھی، جنہیں قوم کا باپو کہا جاتا ہے، بھی قتل ہوئے۔ بیسویں صدی کے نصفِ آخر، بالخصوص آخری دو دہائیوں سے، نفرت کی سیاست میں مزید شدت محسوس کی جانے لگی، اور اب یہ رجحان معاشرتی زندگی کے مختلف شعبوں کو متاثر کررہا ہے۔ نتیجتاً الفت، محبت، رواداری اور باہمی احترام کے چراغ مدھم پڑتے جارہے ہیں۔

زندگی کے مختلف شعبوں، مثلاً سیاست، تعلیم، معیشت، معاشرت، طرزِ رہن سہن اور عملی زندگی میں تعصب کے اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں۔ عصبیت اور تنگ نظری کا زہر معاشرے میں پھیلتا جارہا ہے۔ ایسے حالات میں یہ اندیشہ فطری ہے کہ آئینِ ہند میں جن بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے، وہ تعصب اور امتیازی رویوں کی نذر نہ ہوجائیں۔

بنیادی حقوق میں آزادیِ اظہارِ رائے کو بھی بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ہندوستانی آئین کا آرٹیکل 19(1)(a) شہریوں کو آزادیِ اظہارِ رائے کا حق دیتا ہے، اگرچہ یہ حق قانون کے تحت مقررہ معقول پابندیوں کے تابع ہے۔ اس آزادی کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے۔ کسی معاملے میں میری رائے دوسروں سے مختلف ہوسکتی ہے، لیکن اس اختلاف کی بنیاد پر کسی کی تضحیک کرنا یا اسے اظہارِ رائے سے محروم کرنا درست نہیں۔ اسی طرح مذہبی رہنماؤں اور مقدس شخصیات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بھی احترام اور ذمہ داری کا مظاہرہ ضروری ہے۔ مذہبی معاملات میں تنقید، اختلاف یا اظہارِ خیال اور دانستہ طور پر مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے درمیان فرق ملحوظ رکھنا چاہیے۔ البتہ ہر ناپسندیدہ یا توہین آمیز سمجھے جانے والے بیان کو خودبخود قابلِ سزا جرم قرار نہیں دیا جاسکتا؛ اس کا فیصلہ متعلقہ قانون، بیان کے سیاق و سباق اور قانونی تقاضوں کی روشنی میں ہونا چاہیے۔

ہندوستان میں نفرت انگیز تقریر (Hate Speech) اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے سے متعلق قوانین کے اطلاق اور ان کی تنفیذ پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔ ان قوانین کی زبان اور تشریح میں ایسی وضاحت ہونی چاہیے کہ ان کا منصفانہ اور یکساں اطلاق ممکن ہو اور ان کا غلط استعمال نہ کیا جاسکے۔ مذہبی جذبات کو دانستہ اور بدنیتی کے ساتھ مجروح کرنے اور کسی مخصوص طبقے کے خلاف نفرت، دشمنی یا تشدد کو ہوا دینے والے بیانات کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی ضروری ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ جائز تنقید، علمی مباحثے اور اختلافِ رائے کو بلاوجہ جرم کے دائرے میں نہ لایا جائے۔

ماضی میں تعزیراتِ ہند کی دفعہ 295A مذہبی جذبات کو دانستہ اور بدنیتی کے ساتھ مجروح کرنے والے بعض افعال سے متعلق تھی۔ یہ دفعہ 1927ء میں اس وقت متعارف کرائی گئی، جب برطانوی ہندوستان میں مذہبی تنازعات اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے واقعات سامنے آرہے تھے۔ تاہم اس دفعہ کا دائرۂ اطلاق ہر قسم کی مذہبی تنقید، طنز یا اختلافِ رائے تک وسیع نہیں ہے؛ اس کے لیے قانون میں مقررہ ارادی اور بدنیتی پر مبنی عناصر کا پایا جانا ضروری ہے۔ آزادی کے بعد بھی اس قانون کے اطلاق اور حدود کے بارے میں مختلف مواقع پر بحث ہوتی رہی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مذہبی جذبات کے تحفظ اور آزادیِ اظہارِ رائے کے درمیان آئینی توازن برقرار رکھا جائے۔

نفرت انگیز تقریر سے متعلق قوانین کا بنیادی مقصد ایسے اظہار کو روکنا ہے جو مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی، امتیاز یا تشدد کو ہوا دے، سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچائے یا کسی طبقے کے حقوق سے محرومی کی وکالت کرے۔ تاہم ان قوانین کے مؤثر اطلاق کے لیے واضح قانونی معیار، غیر جانب دار تفتیش اور منصفانہ عدالتی کارروائی ناگزیر ہیں۔ اگر نفرت انگیز بیانات دینے والے بااثر افراد کے خلاف کارروائی نہ ہو تو قانون کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور معاشرے میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں نہیں۔

قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہیں اور سب کو یکساں قانونی تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ مذہب، نسل، ذات، زبان، جنس یا جائے پیدائش کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ اکثریت یا اقلیت کی حیثیت بھی قانون کے منصفانہ اطلاق میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ قانون میں موجود کسی سقم یا ابہام سے فائدہ اٹھا کر کسی مخصوص گروہ یا برادری کو ناجائز فائدہ پہنچانا عدل و انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ آئینِ ہند مساوات، آزادی اور قانونی تحفظ کے اصولوں کی ضمانت دیتا ہے؛ ان اصولوں کی حقیقی معنویت اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب ان پر بلاامتیاز عمل کیا جائے۔

اسی سلسلے میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا مسئلہ بھی نہایت اہم ہے۔ ہر معاشرے میں اقلیتی گروہ موجود ہوتے ہیں اور ان کے حقوق کا تحفظ ایک منصفانہ ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اکثریت کو اپنی عددی برتری کی بنیاد پر اقلیتوں کے حقوق نظرانداز کرنے کا اختیار نہیں دیا جاسکتا۔ بعض حالات میں تعصب اور اشتعال انگیزی کے نتیجے میں اقلیتی گروہوں کے خلاف ظلم و زیادتی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ متاثرہ افراد کو تحفظ فراہم کرے، مجرموں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے اور کسی بھی گروہ کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہونے دے۔

یقیناً نفرت کی سیاست ملک کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ اس سے ہندوستان کی بین الاقوامی ساکھ اور جمہوری شناخت متاثر ہوتی ہے اور جمہوری نظام کی بنیادیں کمزور پڑتی ہیں۔ حالاتِ حاضرہ پر نظر ڈالنے سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ بعض سیاسی عناصر اپنے سیاسی مقاصد کے لیے نفرت انگیز بیانات اور فرقہ وارانہ تقسیم کو مسلسل ہوا دیتے ہیں۔ مقامی سطح کے بعض رہنما کسی مخصوص برادری کو اپنی اشتعال انگیز تقاریر کا نشانہ بناتے ہیں، لیکن ان کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے سے ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، بعض اوقات ایسے بیانات کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو فوری قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر ایسا امتیازی طرزِ عمل اختیار کیا جائے تو قانون کی غیر جانب داری پر سوالات اٹھنا فطری ہے۔

خواہ معاملہ ہجومی تشدد (Mob Lynching) کا ہو، اقلیتوں کو ہراساں کرنے کا، مسلمانوں کے قتلِ عام کی دھمکیوں کا یا اشتعال انگیز بیانات کا، ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر معاملے میں قانون کے مطابق منصفانہ کارروائی کریں۔ جب کسی شخص یا گروہ کی شناخت اس کے لباس، مذہب یا ظاہری وضع قطع کی بنیاد پر متعین کرکے اسے نشانہ بنانے کا رجحان بڑھتا ہے تو یہ جمہوری اقدار کے لیے تشویش ناک صورتِ حال ہوتی ہے۔

اسی طرح قانونی طریقۂ کار کی پابندی کے بغیر کسی کی جائیداد منہدم کرنا، احتجاج کرنے والوں کو ان کے جمہوری حق سے محروم کرنا یا کسی ملزم کو عدالتی کارروائی سے پہلے سزا دینے جیسا طرزِ عمل اختیار کرنا قانون کی حکمرانی کے منافی ہے۔ جائیداد کے تحفظ، عدالت سے رجوع کرنے اور منصفانہ سماعت کے حقوق کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کسی تعمیر یا جائیداد کے خلاف کارروائی ضروری ہو تو متعلقہ اداروں کو قانونی تقاضے پورے کرنے، متعلقہ فریق کو نوٹس دینے اور اس کا موقف سننے کے بعد غیر جانب دارانہ فیصلہ کرنا چاہیے۔ محض کسی شخص کے ملزم ہونے کی بنیاد پر اس کے بنیادی حقوق ختم نہیں ہوجاتے۔ جرم کا تعین اور سزا کا فیصلہ مجاز قانونی اداروں اور عدالتوں کا کام ہے، نہ کہ ہجوم یا انتظامیہ کی من مانی کا۔

یہ ایک افسوس ناک صورتِ حال ہے کہ بعض اوقات ملک کی بدنامی کا سبب بننے والے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں ہوتی، جب کہ ان کے طرزِ عمل پر تنقید کرنے والوں کے خلاف فوری مقدمات درج کرلیے جاتے ہیں۔ اگر قانون کے نفاذ میں اس نوعیت کا عدم توازن پایا جائے تو اس سے نفرت انگیز ذہنیت کو تقویت ملتی ہے اور شہریوں کا نظامِ انصاف پر اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ سیاسی مقاصد کے لیے کسی ایک برادری کو مسلسل نشانہ بنانا جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔ گجرات، اتر پردیش اور مدھیہ پردیش سمیت مختلف ریاستوں کے سیاسی حالات کے حوالے سے اس طرزِ سیاست پر بحث ہوتی رہی ہے۔ تاہم ملک کے مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی سرگرمیوں کا محور فرقہ وارانہ تقسیم کے بجائے عوامی فلاح، تعلیم، صحت، روزگار، معاشی ترقی اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی ہو۔

ملک کو ہر وقت انتخابی مہم کی فضا میں رکھنے کے بجائے اس کی ترقی اور خوش حالی کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جانی چاہییں۔ توڑنے کے بجائے جوڑنے، تقسیم کرنے کے بجائے یک جہتی پیدا کرنے اور نفرت پھیلانے کے بجائے محبت و رواداری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان کی سالمیت، اتحاد و اتفاق، دوستی و یگانگت، امن و امان اور بھائی چارے کو عزیز رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اسی طرزِ عمل سے شہری آزادیوں کا تحفظ ممکن ہوگا، معاشرے میں امن و امان قائم ہوگا اور ملک ترقی و خوش حالی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہوسکے گا۔ ہندوستان کی حقیقی عظمت اسی میں ہے کہ یہاں اختلاف کے باوجود احترام، تنوع کے باوجود اتحاد اور مختلف مذاہب و ثقافتوں کے باوجود باہمی اعتماد اور بقائے باہم کی روایت مضبوط رہے۔