اللہ کی بندگی یا مال و اسباب کی غلامی

خاتمہ بالخیر سے محروم کرنے والے اسباب
اگست 25, 2025
خاتمہ بالخیر سے محروم کرنے والے اسباب
اگست 25, 2025

اللہ کی بندگی یا مال و اسباب کی غلامی

عبدالرشید راجستھانی ندوی(استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ُؓ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمِ، وَالْقَطِيفَةِ ، وَالْخَمِيصَةِ، إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ، وَإِنْ لَمْ يُعْطَ لَمْ يَرْضَ۔(البخاری:۲۸۸۶)

ترجمہ:سونے کے سکے کا بندہ برباد ہوا، چاندی کے سکے کا بندہ برباد ہوا، مخملی چادر کا بندہ برباد ہوا اور نفیس عمدہ لباس کا بندہ برباد ہوا؛ اگر اسے دیا جائے تو خوش ہو جائے، اور اگر نہ دیا جائے تو ناراض ہو جائے۔

تشریح:اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف اپنی بندگی کے لیے پیدا فرمایا ہے: ﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾ (الذاریات: ۵۶) توحید کی سب سے بڑی برکت یہ ہے کہ یہ انسان کو ہر طرح کی غلامی سے نکال کر صرف ایک رب کے سامنے جھکا دیتی ہے۔ بقولِ شاعر:

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے

ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات

یہ بندگی خدائی، وہ بندگی گدائی

یا بندۂ خدا بن، یا بندۂ زمانہ!

جو سر ایک اللہ کے سامنے جھک جاتا ہے، وہ دنیا کی کسی چیز کے آگے نہیں جھکتا۔ لیکن جب انسان اللہ کی بندگی چھوڑ دیتا ہے تو وہ ہزاروں چیزوں کا غلام بن جاتا ہے۔ انھی میں ایک بڑی غلامی مال، دولت، ساز و سامان اور مادیت کی غلامی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں ایسے انسان کو دنیا کا پجاری اور بندہ قرار دیا ہے۔ آپ ﷺ نے مال اور روپے پیسے کے لیے دینار و درہم کا نام لیا، اور مال و اسباب کے لیے قطیفہ (روئیں دار مخملی چادر) اور خمیصہ (نفیس دھاری دار چادر) کا ذکر فرمایا۔ جو شخص ان چیزوں کا بندہ بن جاتا ہے، اس کی ساری دوڑ دھوپ صرف مال اور ساز و سامان کے لیے رہ جاتی ہے۔ وہ ہر وقت اسی کی فکر میں گھلتا، اسی کے پیچھے بھاگتا اور رات دن اسی کی پریشانی میں مبتلا رہتا ہے۔ اس کی حالت یہ ہو جاتی ہے کہ اگر اسے مال و دولت ملے تو وہ خوش ہو جاتا ہے، اور اگر نہ ملے یا کچھ چھن جائے تو وہ رنجیدہ ہو کر اپنے رب سے شکوہ کرنے لگتا ہے۔ اس کی خوشی اور ناراضی کا مدار محض دنیا کے ملنے اور نہ ملنے پر ہوتا ہے۔

اس کے برعکس، جو شخص سچے دل سے اللہ کا بندہ بن جاتا ہے، وہ اللہ کی یاد اور اس کی بندگی میں یکسو رہتا ہے۔ اس کا دل ہر حال میں مطمئن رہتا ہے۔ پھر دنیا کی چمک دمک، روپیہ پیسہ اور عمدہ سامان اسے اپنی طرف کھینچ نہیں پاتے۔ مال اس کے پاس ہو تو بھی ٹھیک، نہ ہو تو بھی اس کے دل کا سکون ختم نہیں ہوتا۔

قرآنِ مجید میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا واقعہ اس کی بہترین مثال ہے۔ اللہ نے انہیں عظیم بادشاہت اور بے انتہا مال عطا فرمایا تھا، لیکن جب ملکۂ سبا کے تحائف ان کے سامنے آئے تو انہوں نے بغیر کسی لالچ کے فرمایا:

﴿أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَا آتَانِيَ اللَّهُ خَيْرٌ مِمَّا آتَاكُمْ بَلْ أَنْتُمْ بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ﴾’’کیا تم مال کے ذریعے میری مدد کرنا چاہتے ہو؟ اللہ نے مجھے جو دیا ہے، وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے، بلکہ تم ہی اپنے تحفے پر خوش ہوتے ہو گے۔‘‘

اسی طرح ذوالقرنین نے یاجوج و ماجوج کے سامنے دیوار بنانے کے لیے لوگوں کی مالی پیش کش ٹھکرا دی اور فرمایا:’’ما مَكَّنِّي فِيهِ رَبِّي خَيْر‘‘ (الکہف: ۹۵)’’میرے رب نے مجھے جو کچھ دیا ہے، وہی سب سے بہتر ہے۔‘‘

اسی قلبی بے نیازی کی مثال مغلیہ دور کے ایک بزرگ، حضرت مرزا مظہر جانِ جاناں رحمہ اللہ کے واقعے میں ملتی ہے۔ جب بادشاہ نے ان کی خدمت میں بڑی جاگیر کی پیش کش کی تو انہوں نے لینے سے انکار کر دیا۔ اور اصرار پر فرمایا کہ اللہ کا فرمان ہے: ﴿قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ﴾، یعنی دنیا کا سارا سامان ہی بہت تھوڑا ہے۔ جب پوری دنیا ہی تھوڑی ہے تو اس میں ہندوستان اس سے بھی تھوڑا ہوا، اور ہندوستان میں تمہارے چند گاؤں تو بالکل ہی معمولی ہوئے۔ پھر میں اس ذرا سی چیز کے لیے اپنے رب کو چھوڑ کر تمہارا احسان کیوں لوں؟

فائدہ:توحید کا ثمرہ یہ ہے کہ انسان کا دل دنیا کی غلامی سے چھوٹ جاتا ہے۔ دنیا اس کے ہاتھ میں رہتی ہے، دل میں نہیں بستی۔ مال زندگی گزارنے کا ایک ذریعہ ہوتا ہے، اصل مقصد نہیں بنتا۔ مومن اسباب کو کام میں لاتا ہے، مگر اسباب کا غلام نہیں بنتا۔ اسے مال ملے تو وہ اللہ کا شکر کرتا ہے، اور نہ ملے تو صبر کرتا ہے اور شکوہ نہیں کرتا۔ اس کا بھروسا، اس کی امید اور اس کی اصل خوشی صرف اللہ کی ذات سے وابستہ رہتی ہے۔