نسلِِ نو کی تربیت میں گھر کا کردار
اگست 25, 2025نفاقِ عملی اور چند اہم باتیں
حضرت مولانا سید بلال عبدالحی حسنی ندوی (ناظم ندوۃ العلماء)
منافقین کی دوسری قسم عملی منافق کی ہے، احادیث میں آنحضرتﷺنےاس کی بہت سی صفات بیان کی ہیں، ایک حدیث میں ہے:
’’أَرْبَعٌ مَنْ کُنَّ فِیہِ کَانَ مُنَافِقًا، أَوْ کَانَتْ فِیہِ خَصْلَۃٌ مِنْ أَرْبَعٍ کَانَتْ فِیہِ خَصْلَۃٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّی یَدَعَہَا: إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا عَاہَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ.‘‘(صحیح البخاری، کتاب المظالم، باب إذا خاصم فجر: ۲۳۲۷)
(چار خصلتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں ہوں وہ منافق ہے، یا جس میں ان چار میں سے ایک خصلت ہو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے؛جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے۔جب عہد کرے تو دغا دے۔جب جھگڑا کرے تو حد سے بڑھ جائے (گالی گلوچ اور بے انصافی پر اتر آئے۔)
حدیث کے اندر مذکورہ باتوں میں نفاق کا تذکرہ اسی لیے ہے کہ عمل میں اندر اور باہر کی یکسانیت نہیں ہے، نفاق کا لغوی مفہوم یہ ہے کہ اندر کچھ ہے اور باہر کچھ، اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کہہ کچھ کر رہا ہے اور کر کچھ رہا ہے، اس کو امانت دار سمجھ کر امانت دی جا رہی ہے لیکن وہ اس میں خیانت کر رہا ہے، گویا وہ اظہار امانت کا کر رہا ہے لیکن اندر سے خائن ہے۔ اسی طرح باہر سے اظہار کرتا ہے کہ ہم ایسا کریں گے لیکن اندر یہ بات چھپی ہوئی ہے کہ نہیں کریں گے، گویا اندر اور باہر کا فرق ہے۔
ایک مرتبہ حضرت حنظلہؓ نے حضرت ابوبکرؓ سے عرض کیا کہ حنظلہ تو منافق ہو گیا انھوں نے کہا: ایسا کیا ہوا؟ بولے کہ جب میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں تو ایک الگ کیفیت ہوتی ہے لیکن جب باہر نکلتا ہوں تو گھر بار میں ایسا لگ جاتا ہوں کہ کیفیت ہی بدل جاتی ہے، گویا یہ تو نفاق ہے کہ وہاں کیفیت کچھ ہے اور یہاں کچھ۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: اگر تم اس کیفیت کو نفاق سمجھتے ہو تب تو ابوبکر بھی منافق ہے، پھر یہ دونوں حضرات حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ بات پیش کی تو آپﷺ نے فرمایا:
’’وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ! إِنْ لَوْ تَدُومُونَ عَلَی مَا تَکُونُونَ عِنْدِی وَفِی الذِّکْرِ، لَصَافَحَتْکُمُ الْمَلَائِکَۃُ عَلَی فُرُشِکُمْ وَفِی طُرُقِکُمْ، وَلَکِنْ یَا حَنْظَلَۃُ سَاعَۃً وَسَاعَۃً.‘‘
( مسلم: ۷۱۴۲)
(اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم ہمیشہ اسی کیفیت پر قائم رہو جس کیفیت میں میرے پاس ہوتے ہو اور ذکر الٰہی میں مشغول رہتے ہو تو فرشتے تمہارے بستروں پر اور تمہارے راستوں میں تم سے مصافحہ کریں لیکن اے حنظلہ! یہ تو وقت وقت کی بات ہے۔)
اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ اس طرح کی کیفیت کا آنا جانا نفاق کی علامت نہیں ہے۔
ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ بعض صحابہ اللہ کے رسولﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ ! ہمیں ایسے ایسے وسوسے آتے ہیں جنھیں ہم اپنی زبان پر نہیں لا سکتے، ایسا لگتا ہے کہ ہم منافق ہوگئے، آپﷺ نے فرمایا:اگر واقعی تمہارے اندر ایسے وسوسے آتے ہیں تو یہی عین ایمان ہے کہ تم اس کو برا سمجھ رہے ہو، اب تم اگر اس کو دل میں بسا لیتے اور تمہارا عمل اس کے مطابق ہوتا تو یقینا یہ نفاق اور فسق وکفر ہوجاتا لیکن تم اس کو برا سمجھ رہے ہو اور یہی برا سمجھنا‘ عین ایمان ہے۔
( مسلم: ۲۰۹)
حاصل یہ کہ ہمارے سامنے یہ سارے حقائق کھول دیے گئے ہیں کہ ایک نفاق اعتقادی ہے اور ایک نفاق عملی ہے یعنی اندر کچھ ہے اور باہر کچھ، ایک روایت میں اسی عملی نفاق کے متعلق یہ الفاظ بھی آتے ہیں کہ
’’اَلْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ یُعْطَ کَلَابِسِ ثَوْبَیِ زُورٍ۔‘‘
(جو شخص ایسی چیز کا دعویٰ کرے جو اسے دی ہی نہیں گئی، وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے)
بعض لوگ دو طرح کے لباس پہنتے ہیں، ایک لباس دکھانے کا اور دوسرا ان کے اندر کا یعنی اوپر کچھ ہوتے ہیں اور اندر کچھ، ان کے بارے میں روایت میں سخت الفاظ ہیں، اسی لیے ہمیں اپنی زندگی کا جائزہ لینا چاہیے کہ ہم کو کیا سمجھا جا رہا ہے اور ہم کیا ہیں؟ جو حضرات علماء ہیں اور جن کو بڑا دین دار سمجھا جاتا ہے، ان سب کو اپنا اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ دنیا ہمیں کیا سمجھ رہی ہے اور فی نفسہٖ ہم کیا ہیں؟ پھر کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اپنے آپ کو صحیح رخ پر لائیں، اگر ہمارے اندر واقعۃً کوتاہیاں ہیں تو ہم ان کوتاہیوں کو دورکریں۔
ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ہمارے اندر کہیں نفاق کی کوئی شکل نہ آجائے مثلاً: ہم اپنی بزرگی کا ڈھنڈورا پیٹیں، یا بزرگی کا مظاہرہ کریں جب کہ ہم اپنے آپ کو خوب جانتے ہیں، اگر کوئی اپنی بزرگی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ خواب بیان کر رہا ہے اور اس کے ذریعہ اپنی بزرگی کا چرچہ کر رہا ہے، یا واقعات وکرامات کا مظاہرہ کر رہا ہے تویہ بھی نفاق ہی کی ایک شکل ہے، وہ جانتا ہے کہ ہم کیا ہیں؟ پھر بھی وہ بزرگی کا اظہار کر رہا ہے، اہل اللہ کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آخری درجہ کے متواضع ہوتے ہیں اور وہ کبھی بھی اس بات کا اظہار نہیں کرتے کہ ہم کچھ ہیں بلکہ وہ مشیخت سے دور ہوتے ہیں۔
منافقین کے متعلق حضرت حسن بصریؒ کا جملہ مشہور ہے وہ فرماتے تھے کہ
’’لو ہلک المنافقون لاستوحشتم فی طرقاتکم من قلۃ السالک‘‘
(مدارج السالکین: ۱/۳۵۸)
(اگر منافقین ہلاک ہو جائیں تو تم اپنے راستوں میں چلنے والوں کی کمی کی وجہ سے وحشت محسوس کرو گے)
گویا منافقین کی تعداد اس حد تک تھی کہ اگر منافق نہ رہیں تو راستوں میں سناٹا چھا جائے، بہت سے لوگ اس قول کی یہ تشریح بھی کرتے ہیں کہ اس جملہ سے نفاق اعتقادی ہی نہیں بلکہ نفاق عملی بھی مراد تھا۔
نفاق اعتقادی کے جاننے پہچاننے کا اب کوئی راستہ نہیں ہے، اسی لیے یہ بات کہی گئی کہ اللہ کے رسولﷺ کے زمانہ میں نفاق تھا لیکن اس کے بعد اب یا تو کفر ہے یا ایمان، اگر کوئی منافق ہے تو ہم اس کو پہچان نہیں سکتے، آپﷺ کے زمانہ میں تو وہ ٹولہ پہچانا جاتا تھا، اس لیے کہ آپ ﷺ کو بذریعہ وحی معلوم ہوجاتا تھا کہ فلاں منافق ہے اور آپ بتا بھی دیتے تھے، گویا عہد نبوی ﷺ میں تین گروہ تھے:
(۱)مومنین(۲)منافقین(۳)مشرکین۔
حضورﷺکی وفات کے بعد دنیا میں ایسا کوئی طریقہ نہیں ہے جس کی بنیاد پر آدمی یقینی طور پر یہ جان لے کہ فلاں منافق ہے، ہاں! کبھی طرز عمل سے اندازہ کیا جاسکتا ہے جیسا کہ بعض لوگ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر آتے ہیں، مستشرقین اس کی بہترین مثال ہیں جو منافقین ہی کا کام کرتے ہیں، وہ علم کا خوب اظہار کرتے ہیں، بعض مرتبہ تفسیر وحدیث اور علوم فقہ میں ان کو ایسی مہارت نظر آتی ہے کہ اچھے اچھے علماء پیچھے رہ جائیں لیکن وہ مسلمان نہیں ہوتے۔
نواب چھتاری نے عجیب قصہ لکھا ہے کہ جب وہ لندن گئے تو ان سے ایک صاحب نے کہا کہ ہم آپ کو ایک ایسی جگہ لے جائیں گے جہاں آپ حیرت میں پڑ جائیں گے لیکن یاد رہے کہ آپ وہاں اپنی زبان نہ کھولئے گا، وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں سامنے دروازہ تھا اور اس پر جلی حروف میں کسی جامعہ کا نام لکھا ہوا تھا جو دیکھنے میں کوئی بڑا مدرسہ معلوم ہوتا تھا، جب ہم اندر داخل ہوئے تو وہاں ہمیں جبہ ودستار میں لوگ نظر آئے، وہاں کہیں بخاری کا درس ہو رہا ہے تو کہیں مسلم اور ترمذی کا، ہمیں یہ سب دیکھ کر تعجب ہوا کہ یہاں انگلستان میں یہ کیا تماشہ ہو رہا ہے؟ لیکن جو صاحب ہمیں لے گئے تھے انھوں نے خاموش رہنے کی تاکید کر دی تھی اس لیے ہم خاموش رہے، جب ہم باہر نکل آئے تو ان صاحب نے بتایا کہ یہ سارے لوگ عیسائی یا یہودی تھے، ان کا کام یہ ہے کہ وہ اسلام کی بھرپور معلومات حاصل کریں اور پوری طرح سے شریعت کا علم حاصل کریں، قرآن وحدیث اور سیرت وفقہ کی جزئیات پر گہری نگاہ رکھیں تاکہ وہ اس میں خامیاں نکال سکیں اور دوسروں کے لیے شکوک وشبہات پیدا کرسکیں پھر اس کے نتیجہ میں اسلام پر لوگوں کا اعتماد متزلزل کر سکیں۔
ظاہر ہے ان سے بڑا منافق کون ہوسکتا ہے جن کو دیکھ کر لگتا ہے کہ مسلمان ہیں لیکن آخری درجہ کے کافر ومشرک اور مسلمانوں کے دشمن ہیں، گویا اس دور میں بھی ایسے لوگ ہوسکتے ہیں۔

