موسمِ ربیع اور ظہورِ قدسی
اگست 25, 2025شمع بجھ کر رہ گئی…
محمدعمیر الصدیق دریابادی ندوی
’’تعمیرِ حیات‘‘ کے گذشتہ شمارہ میں ندوہ کی بزمِ دوشیں کی آخری شمع کے خاموش ہونے کی خبر تھی۔ ’اداریہ‘ میں مدیرِ محترم مولانا شمس الحق ندوی کے قلمِ دل سے کچھ جذبات بھی تھے ‘ جو بتارہے تھے کہ یادگار رونقِ محفل کے اٹھ جانے کے بعد محفل کس طرح احساسِ محرومی سے اپنی ویرانی پر ماتم کناں ہے۔
شمع بجھ کر رہ گئی، پروانہ جل کر رہ گیا
یادگارِ حسن و عشق اِک داغ دل پر رہ گیا
مرزا محمد ہادی عزیزرسواؔ لکھنوی
حقیقت بھی یہی ہے کہ مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی ؒ کی پوری زندگی ایک ادارہ کی علمی و عملی ترجمان اور نشان ہی نہیں تھی، ایک ملت کی نمائندگی بھی تھی۔ علامہ شبلیؒ کے انتقال کے بعد ان کے باکمال شاگرد رشید اور علوم شبلی کے حقیقی وارث اور مسندِ شبلی کے جانشین مولانا سید سلیمان ندویؒ نے اپنے استاد کا ماتم کرتے ہوئے لکھا تھا کہ: انھوں نے بتیس سال اپنی نوا سنجیوں سے ملت کو پُر شور رکھا۔ علامہ شبلیؒ نے ستاون سال کی عمر پائی تھی، جس میں بتیس سال ، گویا نصفِ عمر سے زیادہ کا حصہ قوم و ملت کے مسائل کو سمجھنے سمجھانے اور سلجھانے میں گذر گیا۔ مولانا سعید الرحمٰن اعظمی ندویؒ نے قریب چورانوے سال کی عمر پائی، جس میں قریب ستر سال انھوں نے ندوہ کے ذریعہ قوم کی خدمت، خبر گیری اور رہنمائی میں وقف کردیے۔ مولانا مرحوم کے درازئ عمر کے ساتھ ان کے کارناموں کا سلسلہ بھی اسی طرح دراز ہوا، اور ان کے انتقال کے بعد جس طرح علمی و دینی دنیا میں ان کے رخصت ہونے کا ماتم بپا ہے‘ وہ بتاتا ہے کہ مولانا کی زندگی دوسروں کی زندگی پر کتنی اثرانداز تھی، اور یہ اثر اندازی اب ان کی ظاہری زندگی کے پورا ہونے کے باوجود شاید پہلے کی طرح یا اس سے زیادہ ہی اثر آفریں ہے۔ مولانا کی خدمات کا تقاضا ہے کہ ندوہ کا ہرشعبہ خصوصاً ’’تعمیرِ حیات‘‘ ان کی یادوں اور کارناموں ، بلکہ ایک مکمل سعید زندگی کے نقوش کو سمیٹنے اور پھر عام افادہ کے لیے ان کو پیش کرنے کی کوشش کرے۔ ندوہ کی روایتوں میں ہے کہ وہ ملت کے مخلص خدمت گزاروں اور اپنی محسن شخصیتوں کی زندگی اور اسلام کی تبلیغ اور انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے اسلام کے پیغامِ انسانیت کی اشاعت کے لیے ان کی کاوشوں اور جہادِ زندگانی میں ان معرکہ آرائیوں کی داستانوں کو سمیٹنے کر پیش کرے۔ ادارہ ’’تعمیرِ حیات‘‘ نے اپنے بزرگوں کے کمالات کے اعتراف اور ان کی خدمات کے فیض کو جاری رکھنے کی غرض سے اعلان کردیا ہے کہ جلد ہی مولانا سعید الاعظمی ندویؒ کی قابلِ رشک اور قابلِ قدر اور لائقِ تقلید زندگی کا ایک مرقع شائع کرے گا۔ مولانا مرحوم کے انتقال کے فوراً بعد ہی عوام و خواص ہر طرف سے تاثرات کی ایک لہر آئی ہوئی ہے۔ ان تاثرات کے ساتھ مولانا کے عمل اور افکار کی معنویت اور ضرورت پر بھی تحریروں کی توقع ہے۔
مولانا اعظمیؒ کی زندگی ہی میں اصحابِ نظر‘ اس حقیقت کا برملا اظہار کرتے تھے کہ زمانہ کے تغیرات اور مسلسل گردشِ روز گار کے فطری اثرات کے باوجود‘ مولانا مرحوم کے مضامین اور خیالات کی خوبی یہ نظر آتی ہے کہ ان کے مضامین میں زمانہ کی طویل فاصلوں کا احساس نہیں ہوتا۔ فکر، طرز، انداز اور رنگ ‘ سب میں جو اسلام کے لیے تڑپ اور درد، اور حق بات کہنے کی جرأت و کیفیت شروع میں تھی‘ آخر تک موجود اور برقرار رہی۔ یہ خوبی مولانا کی عربی تحریروں میں تو بدرجۂ اتم تھی ہی، اور جو ان کے قلم کی سب سے بڑی پہچان رہی؛ لیکن اردو میں بھی ان کی تحریروں کی بلاغت، زورِ بیان، تاثیر اور دل میں اتر جانے کی خوبی کا عام اقرار ہوتا رہا۔ ایک جگہ ایک صاحبِ عمل کی یہ بات بھی نظر آئی کہ مولانا اعظمی مرحوم کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ مولانا کبھی مایوس اور نا امید نہیں ہوتے تھے۔ ان کے لیے اندھیروں اور تاریکیوں کا وجود در اصل روشنی اور کرنوں کے ظہور کی اطلاع بن جاتا تھا۔ آج کے دور میں اسی ’رجائیت‘ بلکہ ’رجولیت‘ کی ضرورت ہے۔
مولانا مرحوم کی زندگی کے مطالعہ کی کوشش کی جانی چاہیے، اور اس کے اظہار کے لیے ’’تعمیرِ حیات‘‘ کی خصوصی اشاعت کے اوراق طالب بھی ہیں اور منتظر بھی… ٭٭

