نئے سال میں اپنے اعمال کا جائزہ لیں!

عزم و ہمت اور قوت ایمانی کی تجدید کا پیغام
ستمبر 1, 2019
ستارے جس کی گر دِ راہ ہوں وہ کارواں تو ہے
اکتوبر 12, 2019

نئے سال میں اپنے اعمال کا جائزہ لیں!

یہ محرم الحرام کاوہ مہینہ ہے ،افق پرابھرنے والے جس کے چاند نے بزبان حال یہ اعلان کیا کہ اے اپنے علم وہنر ، نئی نئی ایجادات اور سائنس کی ناقابل قیاس ترقی کرجانے والے انسانو! صدی دوصدی بلکہ(چودہ سوچالیس) سال گذرگئے ، اس ذات گرامی کی ہجرت پر،جویتیم پیدا ہواتھا اورجوان ہوکربھی وہ یتیم ہی رہا، قوم وقبیلہ کے وہی لوگ جن میںبڑے بڑے سردارانِ قریش اوررؤسائے مکہ شامل تھے، اس یتیم کو صادق وامین کے لقب سے نہ صرف پکارتے،بلکہ اپنی امانت اسی کے پاس رکھتے اور اس اعتماد کے ساتھ رکھتے کہ جیسے بہت دشوار گزار پہاڑ کی چوٹی پرکوئی چیز رکھ دی ہو جہاں کسی کاہاتھ نہیںپہنچ سکتا۔
لیکن اسی صادق وامین نے جب ان لوگوں کوجووہم گمان کے بے شمار بندھنوں میںبندھے ہوئے تھے یقین واعتماد اور ایک قادر مطلق ذات پر ایمان لانے کی بات کی توسبھی کے تیور بدل گئے، بدل ہی نہیںگئے بلکہ اس پر اورجس نے اس کی بات مانی اورحقیقت اس کے دل میں اتر گئی، سب پر پتھر کی بارش ہونے لگی، جس کی انتہاء اس پرہوئی کہ اپناگھربار، مال و جائیداد، اورسب سے عزیز ومحبوب خانۂ خداکعبۃ اللہ کوچھوڑ کر مکہ سے نکلنا پڑا اورمدینہ منورہ کی قسمت جاگی ،وہاںجاکر مقیم ہوناپڑا،یہ اتناغیرمعمولی واقعہ تھا کہ یہیںسے اسلامی تاریخ کا آغاز ہوا۔
ابتدائی عہد میںجوکچھ ہواہوا، لیکن اس پورے (۱۴۴۰) سالوں میںاب تک اس صدائے حق کے خلاف کس کس طرح کی سازشیں کی گئیں اور کی جارہی ہیں ،ان بے شمار سازشوں کے باوجودنبی کا نام وپیغام زندہ ہے اورزندہ رہے گا،شاعر کی زبان میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ :
چلی شوخی نہ کچھ بادِ صبا کی
الجھنے میں بھی زلف اس کی بنا کی
اس نئے سال کے آغاز پرجائزہ ہم مسلمانوں کولیناہے کہ گذرے ہوئے سال میںہم نے کیا کھویا کیاپایا اورسال رواں میںہم کو کیاکرناہے اورزندگی کے ان لمحات کوجن کے بارے میں قطعاً نہیںکہاجاسکتا کب تک حاصل رہیںگے ،اس اگلی زندگی کے لیے ہمیںکیاکرناہے جس کوسنوارنے کی راہ دکھانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تھے ، ہم غور سے کام لیں تومحسوس ہوگا کہ ہر آنے والادن، طلوع ہونے والی ہرصبح بزبان حال کہہ رہی ہے کہ اے ابن آدم !میںلمحۂ تازہ ہوں اورمیںتمہارے عمل پرگواہ ہوں، مجھ سے جو چاہو حاصل کرلو میںچلاگیا توپھرقیامت تک دوبارہ نہیںآئوںگا۔
لہٰذا ہم کواس نئے سال کاآغاز نئے عزم وارادہ اورہمت وحوصلہ کے ساتھ کرناہے، یہ کتنی حیرت کی بات ہے کہ ہم اپنی عارضی زندگی سے ہرلمحہ دوراوردائمی وابدی زندگی سے ہرآن قریب ہورہے ہیں،پھرکیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ جس زندگی سے برابردور ہوتے جارہے ہیں ساری توانائیاں اسی میںلگادیں، ہم سنجیدگی اورغوروفکر سے اپناجائزہ لیں ، سوچیں اورغورکریں تومعلوم ہوگا کہ جہاں سے دور ہورہے ہیں ، ساری توجہ ادھر ہے اورجدھر جارہے ہیں ادھر قدم توچل رہے ہیں، نظرنہیں جارہی ہے ، شاعر نے اپنی زبان میں اس غفلت سے ان الفاظ میںمتنبہ کیاہے:
قدم سوئے مرقد ، نظر سوئے دنیا
کدھر جارہا ہے ، کدھر دیکھتا ہے؟
مالک کائنات نے اس عالم فانی کودارالاسباب بنایاہے، اس لیے بقدر ضرورت اورمطابق شریعت اس سے لگائو اوردلچسپی کوئی عیب نہیں اجرو ثواب ہے کہ مالک حقیقی نے خودارشادفرمایاہے:’’ فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلَوٰۃُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ وَاذْکُرُوْا اللّٰہَ کَثِیْراً لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ‘‘[جمعہ:۱۰](پھرجب نماز ہوچکے تو اپنی اپنی راہ لواورخدا کافضل تلاش کرو اورخدا کو بہت بہت یاد کرتے رہو تاکہ نجات پائو)۔
دوسری جگہ فرمایا:’’وَآخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ‘‘[مزمل: ۲۰](اوربعض خدا کے فضل (یعنی معاش ) کی تلاش میںملک میںسفر کرتے ہیں)۔
لیکن اس سے اتنا لگائو اوراتنی دلچسپی کہ آقا کے حکموں کوبھلا کر اسی میںلگ جانا اوراتنالگ جانا کہ حرام وحلا ل کابھی خیال نہ رہے، حق تلفی، ظلم وزیادتی کے ساتھ اس میں لگ اورڈوب جائے بڑے خطر ے کی بات ہے، اگرہم اپنی زندگی کاحقیقت پسندانہ جائزہ لیں توہم میںسے اکثریت کایہی حال ہے ، نیاسال شروع ہونے کادستور یہی ہے کہ دنیا کے ہرشعبہ کے لوگ گذرے ہوئے سال کاحساب لگاتے اور نفع ونقصان کاجائزہ لیتے ہیں، پھرنئے سال کاآغا زعزم وحوصلہ اوردوراندیشی ودوربینی کے ساتھ کرتے ہیں۔
توہمیںبھی یہ سوچ کر کہ اس فانی دنیا سے ایک سال دور اورباقی رہنے والی دائمی زندگی سے ایک سال قریب ہوگئے ہیں، جس دنیا سے قریب ہورہے ہیں اس سے کتنے غافل اورجس سے دور ہورہے ہیں اس میںکتنے منہمک اورڈوبے ہوئے ہیں اس پر غور کرنا چاہیے،اوراعمال وکردار کا پوراجائزہ لیناچاہیے اوریوم الحساب سے پہلے اپناحساب درست کرلیناچاہئے ، اسی لیے ہم کوتوجہ دلائی گئی ہے کہ’’حاسِبوا قبل ان تحاسَبوا‘‘ حساب لیے جانے سے پہلے اپناحساب درست کرلو کہ اس عالم فانی کاسب کیاکرایا آنکھوں کے سامنے آجائیگا، جس کوقرآن کریم نے اس طرح بیان کرکے ہم کوآگاہ کیاہے:’’فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْراً یَّرَہُ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرّاً یَّرَہُ‘‘[زلزال:۷،۸] (توجس نے ذرہ بھرنیکی کی ہوگی وہ اس کودیکھ لے گا اورجس نے ذرہ بھربرائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا)۔
اچھے برے عمل کاذرہ ذرہ سامنے آجائے گا، دل ہلادینے والی یہ وہ آیت ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ النعمان رحمۃ اللہ علیہ جن کی طرف مسلک حنفی کی روشنی میں مسلمانوں کی بڑی تعداد زندگی گذاررہی ہے، عشاء کی نماز میںایک دن امام نے یہی آیت پڑھی تو امام صاحب پر ایساخوف طاری ہوا کہ پوری رات گریہ وبکا میں گزاردی اس طرح کہ نمازیوں کے چلے جانے اور پھر صبح ہوجانے کاہوش نہ رہا، صبح کومؤذن نے نماز فجر کی اطلاع دی تب ان کومحسوس ہوا کہ رات گزرگئی، مؤذن سے کہا: ہماری اس کیفیت کی خبردوسروںکونہ کرنا۔
ہم ذرا پیچھے مڑکردیکھیں کہ اب تک ہمارے اعمال نامہ میںکیاکیالکھاگیاہے اورآگے ہمیں اس کی تلافی کس طرح کرنی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کواس سال نو کے سفر کواپنی مرضی کے مطابق طے کرنے کی توفیق دے،آمین۔
٭٭٭٭٭

شمس الحق ندوی