ایمان اور عمل صالح

ایمان و عزیمت کی حامل بے نظیر شخصیت
اکتوبر 12, 2019

ایمان اور عمل صالح

دنیا کی قومیں جس عظیم غلطی کاشکاررہی ہیں ، وہ ہے ۱۲؍ربیع الاول کوپیداہونے والے محمدعربی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو نہ ماننا جودنیا کی ساری قوموں کے لیے نسخۂ شفا ء ہے، اس پیغام میں جوسب کے لیے ہے ،سب جگہ کے لیے ہے، اس میںمرد وعورت، بوڑھے جوان ، کنبہ وخاندان ،حاکم و محکوم سب کے لیے راحت وآرام اورسکون واطمینان کاسامان ہے، اوراس کاعملی نمونہ بھی خلافت راشدہ کے زمانے میںپورے ۳۶؍سال تک دنیا دیکھ چکی ہے، اوراس کامیٹھا پھل کھاچکی ہے۔
بارہ ربیع الاول کوآنے والے رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کوانسانوں کے لیے جودستورحیات دیاگیا، وہ صرف دستور کی حدتک نہیںرہا، بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ایک ایک حکم پرعمل کرکے اورعملی طورپر نافذ کرکے دکھادیاحتیٰ کہ یہ اعلان کردیاگیا کہ جوکوئی اس دستور کاعملی نمونہ دیکھناچاہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میںدیکھ لے اور اس کی روشنی میںچلے،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے تکوینی طور پر جو غلطیاں کرائی گئیں،اور ان پر شرعی حکم نافذ کیاگیا،وہ اسی لیے تھا کہ اسلام صرف نظری طور پر نہیں بلکہ عملی طور پر سامنے آئے:’’لَقَدْکَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أسْـوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُواللّٰہَ وَالْیَوْمَ الآخِرَ‘‘ [احزاب :۳۱](تم کوپیغمبر خدا کی پیروی (کرنی) بہتر ہے (یعنی) اس شخص کوجسے خدا (سے ملنے) اورروزقیامت (کے آنے) کی امید ہو)۔
کیااچھاہوتا کہ ہم مسلمان دوسری قوموں کے سامنے پیغام محمدیؐ کاوہ عملی نمونہ پیش کرتے جس کودیکھ کران کے منھ میںپانی آجاتا اوروہ اس کی طرف بے تابانہ بڑھتیں اور اس کاکلمہ پڑھنے لگتیں، آج کی بے چین وسرگرداں دنیاکومعلو م ہوتا کہ ہمارے دردکادرماں اس دستورحیات میں ہے جس کو انسانوں کے پیداکرنے والے اس خالق نے اتاراہے جو ان کے مزاج وطبیعت، ضرورتوںاورتقاضوں اوران کی ان کمزوریوں کوبھی خوب جانتا ہے جوانھیں آمادۂ شرکرتی ہیں، ’’ألاَیَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ‘‘[ملک:۱۴](کیا وہ نہ جانے گاجس نے اس کوپیداکیاہے)۔
اسی لیے اس خالق نے اس کو وہ اصول وضابطے بتائے ہیں جواس کی فطرت کے عین مطابق ہیں،انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین توبرابر بدلتے رہتے ہیںمگر محمدعربی صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے انسانوں کوجودستورحیات ملاہے ،اس میںکسی تبدیلی اورردوبدل کی ضرورت نہیں پیش آتی ، ہاں چونکہ یہ اس خداکابنایاہوا دستورحیات ہے جو مستقبل میں پیش آنے والے تغیرات کوبھی جانتاہے اورتغیرات پیدابھی اسی کی قدرت و مرضی سے ہوںگے، اس لیے اسلامی دستور حیات میں وہ لچک رکھ دی ہے جس کے ذریعہ ماہرین اصول سے فروع اورکلیات سے جزئیات کا استنباط کرکے آسانی پیدا کردیں تاکہ کہیں کسی زمانہ میںدشواری نہ پیش آئے ، چنانچہ اسلام کی چودہ سوسالہ تاریخ نے اس بات کا کھلا ہوا ثبوت پیش کردیاہے، جب انسان ایسے اعلیٰ اوراٹل قانون اورضابطۂ حیات سے روگردانی کرے گا، اوراپنے عقلی گھوڑے دوڑائے گا، اوراپنی بہیمانہ خواہش و چاہت کے مطابق قانون بنائے گا، تویقینی بات ہے کہ دنیا میں فساد وبگاڑ پیداہو،اورانسان اپنے ہاتھوں اپنی تباہی کاسامان پیداکرے، جس کواس وقت کھلی آنکھوں دیکھاجاسکتاہے۔
اسلام نے بندوں کاتعلق براہ راست خداسے جوڑدیاہے،وہ ان تعلیمات کی روشنی میں جومحمدعربی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ انسانوںتک پہنچائی گئیں ،بلاکسی واسطہ کے اپنے رب سے راز و نیاز کی باتیں کرسکتاہے ،رودھوکر براہ راست اپنی خطائیں معاف کراسکتااوراس کی رحمت و عنایت کواپنی طرف متوجہ کرسکتاہے، اس میں برابری اور مساوات ایسی رکھی گئی ہے کہ ہرشخص جو مسلمان ہے وہ مسائل سے واقف ہے تونماز کا امام بن سکتاہے، روزہ ہرایک رکھ سکتاہے ، اس میں امیرو غریب ،اعلیٰ وادنیٰ کا کوئی فرق نہیں ، نما ز میں ایک غریب وادنیٰ درجہ کا مسلمان اورایک بادشاہِ وقت دونوںکاندھے سے کاندھا ملاکر کھڑے ہوسکتے ہیں:
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود وایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
اسلامی مساوات کایہ وہ نمونہ ہے جس کو دیکھ کر بہت سی سعیدروحوں کواسلام اورایمان کی دولت نصیب ہوگئی۔
پیغام محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم( اسلامی تعلیمات) کے وسیع و ہمہ گیر دفتر کوبطورخلاصہ ’’ایمان اورعمل صالح‘‘ دولفظوں میںبیان کیا جا سکتا ہے، ایمان اورعمل صالح یہی دوچیزیں ہیںجوہرقسم کے محمدی پیغام پرحاوی ہیں اور قرآن پاک میںان ہی دونوں چیزوں پر انسانی نجات کامدار ہے۔
جب حقیقت یہ ہے توہم ربیع الاول کے جشن اورجلسوں کے وقت اپناجائزہ لیں کہ ہمارے اندر پیغام محمدی (اسلامی تعلیمات) کا عملی حصہ کتناپایاجاتاہے؟!
٭٭٭٭٭
شمس الحق ندوی