ہمیں بھی یادرکھنا ذکر جب دربار میں آئے!

حجاج کے ادائے عاشقانہ کا پس منظر
جولائی 16, 2018
جانور کی قربانی کی اصل روح
اگست 12, 2018

ہمیں بھی یادرکھنا ذکر جب دربار میں آئے!

حج کے تمام شعائر اس محبوبِ حقیقی کی محبت میں دیوانہ وار پھرنے کی ان عاشقانہ ادائوں کو تازہ کرتے ہیں ، جو حضرت ہاجرہ کی صفا و مروہ کے درمیان سات چکر لگانے، اسماعیلؑ ذبیح اللہ کو ذبح کے لیے لے جانے کے وقت ابلیس کے بہکانے پر حضرت ابراہیم ؑ کے کنکری مارنے ، منی و مزدلفہ اور قیام عرفہ کی صورت میں ادا ہوتے ہیں ،چنانچہ امام غزالی ؒ فرماتے ہیں: ’’ اگر اللہ تعالیٰ سے لقا کا شوق ہے تو مسلمان اس کے اسباب و وسائل اختیار کرنے پر لا محالہ مجبور ہوگا، عاشق اور محب ہر اس چیز کا مشتاق ہوتا ہے، جس کا تعلق اس کے محبوب سے ہو ، کعبہ کی نسبت اللہ عز و جل کی طرف ہے ،اس لیے مسلمان کو قدرتی طور پر اس کا سب سے زیادہ مشتاق ہونا چاہیے ، علاوہ اس اجر و ثواب کے جس کا اس سے وعدہ کیا گیا ہے ‘‘۔

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ بھی اسی نکتہ کو حج کی بنیادی حکمت بتاتے ہوئے لکھتے ہیں ’’ کبھی کبھی انسان کو اپنے رب کی طرف غایت درجہ اشتیاق ہوتا ہے ، اور محبت جوش مارتی ہے ، اور وہ اس شوق کی تکمیل کے لیے چاروں طر ف نظر دوڑاتا ہے ، تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا سامان صرف حج ہے‘‘ ۔

مفکراسلام حضرت مولانا سیدابوالحسن علی ندوی ؒ اپنی کتاب’ ارکان اربعہ‘ میں لکھتے ہیں:’’ اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ اس امت کے نازک سے نازک دور اور تاریک سے تاریک زمانہ میں بھی وہ حج کو ان با برکت ہستیوں سے کبھی محروم نہ رکھے گا، جن کو ہم علماء حق ، مقبولین بارگاہ ، اہل دعوت واصلاح او راہل باطن و اہل قلوب کہتے ہیں اور جن کی وجہ سے حج کی فضاروحانیت اور نورانیت سے اس قدر بھر جاتی ہے کہ سخت سے سخت دل بھی موم اور پتھر جیسے جگر بھی پانی ہو جاتے ہیں ، باغی اور نافرمان بھی توبہ وانا بت کی طرف مائل ہونے لگتے ہیں ، وہ آنکھیں جن سے خوف یا محبت کے دو قطرے بھی نہ ٹپکے تھے ، یہاں پہنچ کر بے ساختہ اشکبار ہوجاتی ہیں ، دل کی سر د انگیٹھیاں ایک بار پھر سلگ اٹھتی ہیں ، رحمت الٰہی کا نزول ہوتا ہے ، اور سکینہ پورے ماحول کو اپنے آغوش میں لے لیتی ہے ، شیطان کو منہ چھپانے کی بھی جگہ نہیں ملتی ‘‘۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قدرتی حسن وجمال سے مالا مال سر سبز وشاداب ملک چھوڑ کر یہاں آنے کا حکم ملاتھا، اور ننھے اسماعیل کو اسی ویرانے میں بے سہارا چھوڑ کر چلے جانے کاحکم ملا ، تعمیل حکم فرمائی، حضرت ہاجرہ نے بھی مالک کے حکم پرا سی کے بھروسہ یہاں رہنے کوقبول فرمایا، لیکن اس عالم اسباب میں پانی کی فکر میں صفاو مروہ کے چکر لگائے اورنبی کی بیوی اور نبی کی ماں ہونے کے باوجود ظاہری اسباب اور سعی و تدبیر کوایمان اورتوکل کے خلاف نہیں سمجھا ،وہ پریشان ضرورتھیں، لیکن ناامیدی کے بغیر خدا پر پورا بھروسہ رکھتی تھیں، تعطل اوربے عملی کے بغیر اللہ تعالیٰ نے اس مجبور کی سعی کو قیامت تک حاجیوں کے لیے ایسا بنادیا کہ سعی کے بغیر حج مکمل ہی نہیں ہوسکتا، اللہ کے گھرکے مہمان یہ حاجی منیٰ وعرفات گئے ، قربانی بھی کی، رمی جماربھی کی، یہ وہ وقت ہے جب شیطان اس دن سے زیادہ کبھی ذلیل نہیںہوتا، ایک حدیث میں ہے کہ جب عرفہ کا دن ہوتاہے ، تواللہ تعالیٰ سب سے نیچے کے آسمان پر اترکر فرشتوں سے فخر کے طور پر فرماتے ہیں کہ میرے بندوں کو دیکھو کہ میرے پاس ایسی حالت میں آئے ہیں کہ سر کے بال بکھرے ہوئے ہیں، سفر کے سبب بدن اورکپڑے پرغبار پڑاہواہے، ’’لبیک اللّٰہم لبیک‘‘ کاشور ہے ، دور دور سے آرہے ہیں،میں تمہیں گواہ بناتاہوں کہ میںنے ان کے گناہ معاف فرمادیے، فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ! فلاں شخص توبہت گنہ گار ہے ،اورفلاں مرد اورفلاں عورت (کے گناہ توبہت ہیں) اللہ تعالیٰ جواب میں فرماتے ہیں کہ میں نے سب کی مغفرت کردی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فر ماتے ہیں: اس دن سے زیادہ کسی دن لوگ جہنم کی آگ سے آزاد نہیںہوتے۔[مشکوٰۃ]

حاجی روانہ ہورہے ہیں اوردیکھنے اوررخصت کرنے والے ہاتھ اٹھااٹھا کر دعائوں کااشارہ کررہے ہیں، حج کی نیت سے نکلتے ہی گویامقدس و بابرکت ہوگئے ہیں اوردیکھنے والے رشک کی نگاہوں سے ان کو نہ صرف دیکھ رہے ہیںبلکہ ان کی ایک نظر کوباعث سعادت سمجھتے ہوئے بہ زبان حال گویا ہیں   ع

اِدھر دیکھ لینا اُدھر جانے والے

اس وقت یہاںجوکوئی بھی ہے ، جس مقصد سے بھی ہے اس کے فکروخیال میںمکہ ومدینہ ہی کی نادیدہ تصویرگھوم رہی ہے، ایسے بھی بہت سے ہیں جن کووہاں ایک دوبار اوربہتوں کو تو باربار جانے کی سعادت حاصل ہوچکی ہے،، مگر یہ تصویر جاناں ہے ہی ایسی کہ جتنا دیکھو اتنا ہی آتش شوق بھڑکتی جاتی ہے ، ندوہ کے علمی اور روحانی ماحول کے ساتھ اس پراللہ کامزید کرم کہ ندوہ کاتعلق یہاںسے حجاز مقدس کے لیے براہ راست روانہ ہونے والے حاجیوں کے ذریعہ اس دیار پاک سے جڑگیاہے۔

اللہ ہی بہتر جانتاہے کہ ان جانے والے سادہ دل بندوں میںکتنے مقبول بارگاہ ہوںگے اورکتنوں کے جسم یہاں اوردل وہاں ہوںگے اور کتنے توبہت سے حجاج سے بہتر ہوںگے۔

یہ سفر عشق ہے، ادھر بس نے روانگی کاہارن بجایا،سڑک کے دنوں کنارے کھڑے اور چھتوں سے حسرت بھری نگاہوںسے دیکھنے والوں کے ہاتھ سلام کے لیے اٹھے اوررومال وداع کے لیے ہلے، جانے والے خوش نصیبوں نے اشاروں میں جواب دیا اتناتونظرآیا مگربہتے ہوئے آنسوئوں کو کس نے دیکھا؟اور گلوگیر آواز کو کس نے سنا؟ جانے والو! حج وزیارت تم کو مبارک ہو ، مومن کی معراج تم کو مبارک ہو، ہم مہجوروں کونہ بھولنا   ع

ہمیں بھی یاد رکھنا ذکر جب دربار میںآئے

٭٭٭٭٭

شمس الحق ندوی