حج کی سعادت کے مشتاق حجاج

رمضان المبارک اور عبد الفطر
جون 18, 2019

حج کی سعادت کے مشتاق حجاج

کتنے خوش نصیب ہیں وہ حضرات جن کو یہ شرف حاصل ہوگا کہ حج وزیارت کی سعادت کرنے کی تیاری وکارروائی میں مصروف ہیں،ان کو اس کعبہ کے طواف کا شرف حاصل ہوگا جس کی طرف رُخ کرکے نمازیں پڑھتے رہے،ان کو سعادت نصیب ہوگی صفا و مروہ کے درمیان سعی کی جونقل ہے اُس ماں کی جس نے آقا کے حکم کی تعمیل میں اس ویرانہ میںجہاں آدم نہ آدم زاد ، شیرخوار بچے کے ساتھ رہنا گوارہ کیا، اوراس کے لیے پانی کی تلاش میں ، بے تابانہ دونوں پہاڑوں کے درمیان دوڑیں اورچڑھ چڑھ کر جھانکا اوردیکھا کہ شاید کوئی قافلہ گزرتا نظرآئے اورپانی مل جائے، کتنا کڑاتھا یہ امتحان کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنی اہلیہ اوردودھ پیتے بچہ اسماعیل کوا س سنسان اورچٹیل وادی میں تنہا چھوڑ کر شام جانے کا حکم ملا، اللہ اکبر! نہ دانہ، نہ پانی، نہ پھل فروٹ اورنہ سبزہ وہریالی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قدرتی حسن وجمال سے مالا مال سر سبز وشاداب ملک چھوڑ کر یہاں آنے کا حکم ملاتھا، اور ننھے اسماعیل کو اسی ویرانے میں بے سہارا چھوڑ کر چلے جانے کاحکم ملا ، تعمیل حکم فرمائی، حضرت ہاجرہ نے بھی مالک کے حکم پرا سی کے بھروسہ یہاں رہنے کوقبول فرمایا، لیکن اس عالم اسباب میں پانی کی فکر میں صفاو مروہ کے چکر لگائے اورنبی کی بیوی اور نبی کی ماں ہونے کے باوجود ظاہری اسباب اور سعی و تدبیر کوایمان اورتوکل کے خلاف نہیں سمجھا ،وہ پریشان ضرورتھیں، لیکن ناامیدی کے بغیر خدا پر پورا بھروسہ رکھتی تھیں۔اللہ تعالیٰ نے اس مجبور کی سعی کو قیامت تک کے حاجیوں کے لیے ایسا بنادیا کہ سعی کے بغیر حج مکمل ہی نہیں ہوسکتا، اللہ کے گھرکے مہمان یہ حاجی منیٰ وعرفات جائیں گے ، قربانی بھی کریں گے، رمی جماربھی کریں گے،یہ وہ دن ہے کہ شیطان اس دن سے زیادہ کبھی ذلیل نہیںہوتا، ایک حدیث میں ہے کہ جب عرفہ کا دن ہوتاہے ، تواللہ تعالیٰ سب سے نیچے کے آسمان پر اترکر فرشتوں سے فخر کے طور پر فرماتے ہیں کہ میرے بندوں کو دیکھو کہ میرے پاس ایسی حالت میں آئے ہیں کہ سر کے بال بکھرے ہوئے ہیں، سفر کے سبب بدن اورکپڑے پرغبار پڑاہواہے، ’’لبیک اللّٰہم لبیک‘‘ کاشور ہے ،ہمارے یہ بندے دور دور سے آرہے ہیں،میں تمہیں گواہ بناتاہوں کہ میںنے ان کے گناہ معاف فرمادیے، فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ! فلاں شخص توبہت گنہ گار ہے ،اورفلاں مرد اورفلاں عورت (کے گناہ توبہت ہیں) اللہ تعالیٰ جواب میں فرماتے ہیں کہ میں نے سب کی مغفرت کردی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فر ماتے ہیں: اس دن سے زیادہ کسی دن لوگ جہنم کی آگ سے آزاد نہیںہوتے۔[مشکوٰۃ]
ایک حدیث میں تو یہاں تک ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: یہ میرے بندے بکھرے ہوئے بالوں کے ساتھ میرے پاس آئے ہیں ، میری رحمت کے امیدوار ہیں، (اس کے بعد بندوں سے فرماتے ہیں) اگرتمہارے گناہ ریت کے ذروں کے برابر ہوں، اورآسمان کی بارش کے قطروں کے برابر ہوں اور تمام دنیا کے درختوں کے برابر ہوں تب بھی بخش دیے جائو، بخشے بخشائے اپنے گھر چلے جائو۔[فضائل حج]
ایک حدیث میںہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غزوۂ بد رکا دن چھوڑ کرکوئی دن عرفہ کے دن کے علاوہ ایسا نہیں ہے، جس میں شیطان بہت ذلیل ہورہاہو، حقیر ہورہاہو، غصہ میں بری طرح پیچ وتاب کھا رہاہو، (تلملا رہاہو) اور یہ اس وجہ سے کہ عرفہ کے دن اللہ کی رحمتوں کو کثرت سے نازل ہوتے دیکھتاہے، بندوں کے بڑے بڑے گناہوں کو معاف ہوتے ہوئے دیکھتاہے ، (اس لیے کہ کتنی محنتوں سے تواس نے گناہ کرائے تھے اورمعاف ہوئے جارہے ہیں) ۔اس لیے وہ حاجیوں کو بہکانے کے لیے بھی اپنے شریر لشکر کولگادیتاہے کہ ان سے حج کے دوران گناہ کرانے کی محنت کریں۔
ایک روایت میں ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کی شام کو عرفات کے میدان میں امت کی مغفرت کی دعا مانگی اوربہت الحاح وزاری سے دیر تک مانگتے رہے، رحمت الٰہی بھی جوش میںآئی اوراللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا کہ میںنے تمہاری دعا قبول کرلی، اوروہ گناہ جوان بندوں نے کیے ہیں وہ معاف کردیے، لیکن جس نے کسی پرظلم کیا ہے، اس کابدلہ لیاجائے گا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر درخواست کی اوربار بار یہ درخواست کرتے رہے کہ اے اللہ! تو اس پربھی قادرہے کہ مظلوم کے ظلم کا بدلہ تو عطا فرمادے اورظالم کے قصور کومعاف فرمادے، مزدلفہ کی صبح کواللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمالی، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے، صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ آپ نے (الحاح وزاری کی) حالت میں تبسم فرمایا، ایسے وقت تبسم کی عادت شریفہ نہیںہے، حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ جل شانہ نے میری دعا قبول فرمالی، اور شیطان کو اس کاپتہ چلا،وہ چیخنے چلانے لگا، اوراپنے سرپرمٹی ڈالنے لگا۔[ترغیب]
جن حاجیوں کواللہ تعالیٰ اس طرح نواز ے گا،اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رو رو کر ، گڑگڑا کر اس طرح ان سے گناہ معاف کرائے ہیں،انھیں حاجیوں سے یوم النحر کو اس طرح خطاب فرمایاہے: ’’تمہارا خون ، تمہارا مال، تمہاری عزت تم پرایسے ہی حرام ہے ، جیسے تمہارے آج کے دن ،تمہارے اس شہر میں، تمہارے اس مہینہ میں، جلدی تم اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہوگے اورتم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا، سن لو ہمارے بعد تم غلط راہ پر نہ پڑجانا کہ ایک دوسرے کو قتل کرو۔[مشکوٰۃ]
کتنے خوش نصیب ہیں وہ حضرات جو گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہوکرآئے جیسے آج پیدا ہوئے ہوں۔مالک کی اس نوازش کاتقاضا یہ ہے کہ اب زندگی قرآن و حدیث ہی کی روشنی میں گزرے، اللہ تعالیٰ نے شیطان کو قیامت تک کی مہلت دی ہے، وہ عرفات میںذلیل ورسوا ہونے اورسرپیٹنے کے بعد چین سے نہیںبیٹھے گا،اس لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جیسے دوران حج ایک دوسرے کی جان، مال، عزت و آبرو تم پرحرام ہے، ایسے ہی پوری زندگی حرام ہے، اور زندگی کے جھمیلوں میں تمہیں بہت سنبھل سنبھل کر قدم رکھنا ہے کہ مبادا شیطان سجھائے اورگناہ کرائے کہ توبہ کرلینا ،پھر حج کرلینا۔
شمس الحق ندوی