آہ! مولوی محمد غفران ندوی مرحوم

انسانی عقل وفکر کی درماندگی
دسمبر 6, 2019
شہریت ترمیمی قانون۔ تجزیہ، اندیشے اور امکانات
دسمبر 29, 2019

آہ! مولوی محمد غفران ندوی مرحوم

تسلسل حوادث کاایک اثر ہمارے دارالعلوم ندوۃ العلماء کے نوجوان استاد مولوی سیدمحمدغفران ندوی کی اچانک موت اورایک طرح سے شہادت کے طور پرہواجب وہ ہتھوراباندہ سے رائے بریلی میں اپنی قیام گاہ کی طرف آتے ہوئے لال گنج میں گاڑی کے ڈس بیلنس ہونے کے نتیجہ میں وفات پاگئے، انا للّٰہ وانا الیہ راجعو ن، للّٰہ ما أخذ ولہ ما أعطی، وکل شئی عندہ بأجل مسمّی، اللّٰھم اغفرلہ وارحمہ وأدخلہ فی العلیین مع الأبرار المقرّبین۔
عزیزی مولوی سیدمحمدغفران ندوی کاتعلق ہتھوراباندہ اوراس کے مضافات میں آباد سادات کے اس خاندان سے تھا‘ جو سیدناحضرت حسین رضی اللہ عنہ سے نسبت رکھتا ہے اوراس آخری دورمیں جس کی برگزیدہ شخصیت حضرت مولانا قاری سیدصدیق احمدباندوی رحمتہ اللہ علیہ کی مقبول بار گاہ اوربڑی ہردل عزیزودلآویز اورمقبول شخصیت تھی، جنہوں نے مظاہرعلوم سہارنپور سے تعلیم حاصل کرنے کے بعدوہاں کے استادہونے پرعلاقہ میں کام کرنے اورارتدادکا مقابلہ کرنے کے عمل کوترجیح دی اورایک عظیم دینی درسگاہ جامعہ عربیہ کی بنیاد ڈالی جس کا فیض دنیابھر میں عام ہورہا ہے، ا وردینی دارالعلوموںمیں ایک شہرت اورمقام رکھتا ہے،انہیں حضرت سیداحمدشہید رحمتہ اللہ علیہ سے اوران کے خاندان اورمقام تکیہ کلاں(رائے بریلی) سے بڑی عقیدت تھی، اوریہ عقیدت ومحبت حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی سے بہت بڑھی ہوئی تھی اورجانبین سے اس محبت وعقیدت کااظہار نہ صرف اپنے کانوں سے سنابلکہ مشاہدہ بھی بارباربھی کیا،اپنے وطن میں اعتکاف اورنماز عید کے بعدسب سے پہلے حضرت مولانارحمۃ اللہ علیہ سے رائے بریلی آکر ملنے کا اہتمام کرتے،اور اپنے ایک خط میں اس کا اظہار بھی فرمایا کہ :’’مجھے آپ سے سب سے زیادہ تعلق ہے‘‘۔
انہیں ندوہ کے طریقۂ تعلیم اور فکرومنہج سے بڑا تعلق تھا، اور حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ سے غیر معمولی عقیدت و محبت تھی، اسی لیے اپنی بڑی صاحبزادی کے محبوب فرزند کو ندوہ کی تعلیم دلائی۔انہوں نے اپنے ان عزیزنواسہ کواپنے مدرسہ عربیہ ہتھورا باندہ سے جہاں نو(۹)پارے وہ حفظ کرچکے تھے،مدرسہ سیداحمدشہید کلاں رائے بریلی میں منتقل کرکے حفظ قرآن کرایا اورحضرت کے ذریعہ مکمل کرایا،پھروہیں عربی تعلیم کے لیے مدرسہ ضیاء العلوم میں داخل کرایا اوردارالعلوم ندوۃ العلماء کے منہج تعلیم پرڈالا۔ عا لمیت اورحدیث میں فضلیت کے بعد تکمیل کاایک سال مزیدلگاکرپھرناظم ندوۃ العلماء حضرت مولاناسیدمحمدرابع حسنی ندوی نے ان کی صلاحیت ولیاقت کے ساتھ حضرت قاری صاحبؒ کی شخصیت کوسامنے رکھتے ہوتقررکیا ۔حدیث وفقہ اورتفسیر کی کتابیں انہوں نے محنت سے پڑھائیں ۔اس کے ساتھ درس قرآن وجمعہ میں خطاب وغیرہ معمولات اختیار کرتے ہوئے تصنیف وتحقیق کا کام بھی جاری رکھا۔اپنے جلیل القدر نانا حضرت مولانا قاری سیدصدیق احمدباندوی قدس سرہ کے متعلق کتاب’’صدیقِ دوراں‘‘اور اصول الشاشی پرمولاناعبدالرشید فرنگی محلی کے حاشیہ پرتحقیق کاکام اور ایک اہم تفسیر زبدۃ التفاسیر للقدماء المشاہیر لقاضی القضاۃ شیخ الاسلام الشیخ عبدالوھاب پرکام سامنے آیاتو خوشی کی ایک لہر دوڑگئی، مفردات القرآن پر بھی کام کیا جو ابھی سامنے نہیں آیاہے۔ ان کاموں اور ان کی رشدوصلاح اورلیاقت وصلاحیت کودیکھتے ہوئے بڑی آرزئیں اور تمنائیں تھیں کہ وہ آگے چل کر اچھا کام انجام دیں گے کہ عنفوانِ شباب میں اسلامی تقویم کے اعتبار سے ۳۴؍بہاریں دیکھ کرانہوں نے داعیٔ اجل کولبیک کہااوراپنے مالک حقیقی کے حضور میں حاضر ہوگئے، جہاں سب کوجاناہے لیکن ایمان،عمل صالح اورتواصی بالحق و تواصی بالصبر کے عمل کے ساتھ جانامبارک بات ہے، اوراپنے اس سفرکے دوران جس سے ان کا سفرآخرت شروع ہوا،یہ عمل کرتے آئے تھے ۔
والدین کے بڑے خدمت گذار تھے، اور اس کے لیے روز لکھنؤ رائے بریلی کا سفر کرتے اور اہلیہ(صاحبزادی مولانا سیدمحمد سہارنپوری) جن کا تعلق سہارنپور کے سادات کے حکیمی خاندان سے ہے ‘ کو حدیث شریف کی تعلیم کے ساتھ حفظِ قرآن بھی کرارہے تھے، ۲۶؍ پارے ہوچکے تھے، اشاعتِ علم کے اور بھی منصوبے تھے کہ شب دوشنبہ ۲۷؍ربیع الاول ۱۴۴۱ھ؁ کووفات ہوئی۔ اپنے عظیم القدرناناحضرت مولاناقاری سید صدیق احمدباندوی ؒکے قریب سپرد خاک ہوئے ، ایک ننھا بچہ محمدسمعان چھوڑا۔والدمحترم جناب قاضی عتیق احمد ،والدہ صاحبہ(بارک اللہ فی حیاتھما) اہلیہ اور سبھی افرادخاندان کوادارہ’تعمیرحیات‘ تعزیت پیش کرتا ہے اوران سے بڑے بھائی سیدمحمد عمران (جوسفرمیں ساتھ تھے)کی صحت وشفاء کے لیے دعاکرتاہے۔ ٭٭٭

شمس الحق ندوی