دعوت اسلام و ایمان کی تئیں امت محمدی ﷺ کی ذمہ داری

عظمت صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین
نومبر 27, 2018
تری نسبت براہیمی ہے معمارِ جہاں تو ہے
دسمبر 30, 2018

دعوت اسلام و ایمان کی تئیں امت محمدی ﷺ کی ذمہ داری

سیرت نگار انِ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم لکھتے ہیں کہ: جب اہل مکہ کی اذیتوں کاسلسلہ دراز ہونے لگا اورمشرکین وکفار کی اسلام سے کراہت اوراس کی ناقدری اور حقارت بڑھ گئی توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کاقصد فرمایا، وہاں جو کچھ گزری وہ مکہ سے بھی کہیں زیادہ سخت تھی، اہل طائف جن پرمال و دولت کانشہ طاری تھا، انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کامذاق اڑایا اورشہر کے اوباش لوگوں اورغلاموں کوآپؐ کے ستانے پرمامور کردیا، یہ آپؐ کوگالیاں دیتے، شورمچاتے اورآپؐ پرپتھر پھینکتے ، اس بے کسی اورکرب کے عالم میں آپؐ پناہ لینے کے لیے ایک کھجور کے درخت کے سایہ میں تشریف فرماہوئے، طائف میں آپؐ کوجتنا ستایاگیا، وہ مشرکین مکہ کی ایذارسانیوں سے کہیںزیادہ تھا، انھوں نے راستہ کے دونوں طرف اپنے آدمی کھڑے کردیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قدم بھی اٹھاتے تو کسی طرف سے پتھر آپؐ پرپھینکا جاتا ، حتیٰ کہ آپ ؐکے دونوں پیرزخموں سے لہولہان ہوگئے، اس موقع پراللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے فرشتے کوآپؐ کے پاس بھیجا اورا س نے آپؐ سے اس کی اجازت طلب کی کہ وہ ان دونوں پہاڑوں کوجن کے درمیان طائف واقع ہے ملادے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا س سے ارشادفرمایا: کہ نہیں! مجھے امید ہے کہ ان کی اولاد میں سے کوئی ایسا پیداہوگا جوخدائے واحد کی عبادت کرے گا اوراس کے ساتھ کسی اور ہستی کوشریک نہ ٹھہرائے گا۔

اتنی سخت ایذارسانیوں کے بعد بھی کہ راستہ چلنا دشوارتھا، گالی گلوج شوروشرابے سے آگے بڑھ کر پتھروں کی بارش ہورہی ہے ، نہایت بے بسی کاعالم ہے، کوئی پرسان حال نہیں، کوئی یارومددگار نہیں، ہرپڑھنے والا دل پر ہاتھ رکھ کرسوچے کہ اگر اس کے ساتھ ایذا کاایک فیصد بھی پیش آتا تو وہ ان ستانے والوں کے لیے اپنے دل میں کتنی گنجائش رکھتا، اورکیا موقع ملنے پر اورقابو پانے پران کوعبرتناک سزانہ دیتا، لیکن محسن انسانیت کایہ حال ہے کہ جب فرشتہ یہ کہتاہے کہ اجازت ہوتو میںا ن کودوپہاڑوں کے درمیان پیس دوں، توآپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: نہیں!  ایسا کیوں ؟ جسم خون سے لہو لہان ہے ،جوتیاں پائوں میں چپک گئی ہیں، پتھر مارنے والوں اورتحقیر وتذلیل کرنے والوں کی صورتیں سامنے ہیں، پھر بھی آپ فرماتے ہیں: نہیں!

اس کی وجہ یہ تھی کہ دوزخ وجنت کانقشہ آپؐ کے سامنے تھا، خداکوجھٹلانے والے آگ میںکودتے نظرآرہے تھے ، جہنمیوں کے اس ہیبت ناک منظر کے سامنے اپنے اوپر جوکچھ بیت رہی تھی، اس کااحساس کم تھا، فکر تھی تویہ کہ ان آگ میں کودنے والوں کوکیسے بچایاجائے، لہٰذاآپ اپنی تکلیف بھول کر فرشتہ کوجواب دیتے ہیں: نہیں، ممکن ہے کہ ان کی نسلوں میںکوئی ایمان لائے، دراصل داعی کی مثال اس ملاح کی سی ہوتی ہے جو انسانی کنبہ کی کشتی کو طوفانی موجوں میں ہچکولے کھاتے ہوئے دیکھتاہے اوریہ نظرآتاہے کہ کشتی اب ڈوبی تب ڈوبی تو وہ اپنی ہرتکلیف وخطرہ کوبھول کر اس کشتی کے بچانے کے جتن کرتاہے، انسانیت سے محبت اور اس کی نجات کاسودااس کے سرمیںایسا سمایاہوتاہے کہ دیکھنے والا اس کااندازہ لگا ہی نہیںسکتا جب تک اس کوبھی اس کی تڑپ وبے کلی کی کوئی چنگاری نہ نصیب ہوجائے، بانیٔ جماعت دعوت تبلیغ حضرت مولانا محمدالیاس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ نے جب دعوت کاکام میوات جیسے سنگ لاخ علاقہ سے شروع فرمایا تولوگوں کی سمجھ میںنہیںآرہاتھا، بعض مخلصین فرماتے کہ اپنے علم کو ان دیہاتوں میں کہاںضائع کررہے ہو؟ مگرمولانا پر دعوت کی بے کلی طاری ہوچکی تھی، مولانا وراثت نبوت کے اس مقام کوپہنچ چکے تھے جہاں بدیر ومشکل پہنچاجاتاہے، لہٰذ ا دعوت کی تڑپ وبے چینی کسی کروٹ چین نہیںلینے دیتی تھی، اسلام کاکلمہ پڑھنے والوں کایہ حال کہ وہ گوبر تک کوپوج رہے ہیں، اسلام سے وہ کوسوں دورہیں، مولانا کو مارگزیدہ کی طرح تڑپارہاتھا، اوردعوت کامولانا پرایسا حال طاری ہوگیا تھا کہ کسی کل چین نہیںپڑتاتھا، اورعجب انداز سے لوگوں کواس کا م کی طرف بلاتے اوررغبت دلاتے تھے ، ایک موقع پرلکھنؤ میںحاضرین سے مخاطب ہوکرفرمایا:

’’بھائیو! میںایک ابتلاء میںگرفتار ہوں،دعاکیجیے کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو اس سے نکالیں ، جب سے میںیہ دعوت لے کر کھڑا ہوا ہوں ،لوگ مجھ سے محبت کرنے لگے ہیں ، مجھے یہ خطرہ ہونے لگاہے کہ مجھ میں اعجاب نفس نہ پیداہوجائے، میںبھی اپنے کوبزرگ نہ سمجھنے لگوں، میںہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعاکرتاہوں کہ مجھے اس ابتلاء سے بسلامت نکال لیں، آپ میرے حق میںدعا فرمادیں‘‘۔[یاد رفتگاں : علامہ سیدسلیمان ندویؒ]

داعی امت کاایک فرد ہوتاہے جونیابت رسولؐ کافریضہ انجام دیتاہے، لہٰذا اس میں وہ تڑپ وبے چینی بھی ہونی چاہیے جوداعی اول میںتھی، علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تبلیغی احوال وکیفیات کاذکرقرآن پاک میںباربارآیاہے اورہربار یہ ظاہر ہوتاہے کہ حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم کوامت کاکتنا غم تھا ایسا غم کہ جس کے بوجھ سے پشت مبارک ٹوٹی جارہی تھی ارشاد ربانی ہے: ’’اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ وَوَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَ الَّذِیْ أنْقَضَ ظَھْرَکَ‘‘ [شرح:۲،۳](کیا ہم نے تمہارے سینہ کونہیںکھول دیا اورتم سے اس بوجھ کونہیںاتارلیا جس نے تمہاری پیٹھ کو توڑدیاتھا)۔امت کے غم سے یہ حال تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کواپنا جینا دوبھر معلوم ہوتاتھا، اللہ تعالیٰ نے تسلی دی اورفرمایا:’’ لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ ألَّایَکُوْنُوْا مُؤمِنِیْنَ‘‘[شعراء:۱-۳] (توکیا اس بات پرآپ اپنی جان گھونٹ ڈالیںگے کہ یہ ایمان نہیںلاتے۔ [مقدمہ ’ حضرت مولانا محمدالیاسؒ اوراُن کی دینی دعوت]

دعوت وتبلیغ کااصل محرک بندگان خدا پرشفقت ورحمت اورخیرخواہی کاجذبہ ہے جودل میںیہ کسک وٹیس پیداکرتاہے کہ امت کی اصلاح کیونکر ہو، لہٰذا داعی کااولین فرض یہ ہوتاہے کہ وہ دعوت کی بانسری محبت واخلاق کریمانہ کی لے میں بجائے اوردلوں کوگرمائے، حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے جب یمن کی سمت دوصحابیوں کو اسلام کاداعی بناکربھیجا توان کویہ نصیحت فرمائی :’’یسّرا ولا تعسّرا، بشّرا ولا تنفّرا‘‘ (تم لوگوں کوآسانی کی راہ بتانا ان کو دقت میں نہ ڈالنا،انھیں خوشخبری سنانا اور نفرت نہ دلانا)۔

خصوصاً وہ حضرات جن کواللہ تعالیٰ نے دعوت وتبلیغ کے کام سے جوڑا، اوراس فکرو ولگن کے ساتھ ان کومختلف شہروں اورملکوں میںپھرایاہے، ان کوخصوصاً اس کاخیال رکھناچاہیے کہ ان کے کسی قول وعمل سے کسی کی دلآزاری نہ ہو، ان کے وہ اوقات جوسفر سے واپس آکراپنے گھر اورماحول میںگزرتے ہیں، ان میں کوئی ایسی بات نہ پیش آنے پائے جو لوگوں میںبدگمانی اوربددلی پیداکرے کہ زبانی دعوت سے کہیں بڑھ کرعمل وکردار کی دعوت ہوتی ہے جوا ز خود دلوں کو کھینچتی ہے ، اور اس میں معمولی کوتاہی بڑے غلط اثرات چھوڑتی ہے، ہمارادوسرے شہروں اورملکوں میںجانا اور نکلنا جہاں دوسروں کوخیر کی طرف بلانے کی خاطرہوتاہے ،وہیں اپنی سیرت واخلاق کواسلامی سانچہ میں ڈھالنا مقصود ہوتاہے، دعوت کاکام ایسامبارک کام ہے کہ معمولی سے معمولی آدمی کومحبوب بنادیتاہے، ہرجگہ وہ عزت واکرام کی نظرسے دیکھاجاتاہے وہیں یہ خطرہ اوراندیشہ ہوتاہے کہ دعوت کاکام کرنے والاکہیں فریب نفس میں نہ مبتلا ہوجائے، یہی وجہ تھی جس کی بناء پر حضرت مولانا محمدالیاس ؒنے فرمایا تھا کہ بھائیو! میںآج کل امتحان میںمبتلاہوں، میرے لیے دعا کریں کہ مجھ میںغرور نہ پیدا ہوجائے، میںاپنے کو بزرگ نہ سمجھنے لگوں، بہت ڈرنے کی بات ہے کہ مولانا جیسا ولی کامل اگریہ کہہ سکتاہے توہم جیسے ان کے نقش قدم پرچلنے والوں کواپنی کس درجہ فکر رکھنی چاہیے کہ خدانخواستہ کہیں ہماری کسی کوتاہی سے کوئی شخص نفس دعوت کے کام سے بدگمان ہوجائے جوبڑے خسارے کی بات ہوگی، خصوصاً حقوق العباد کا پہلو ہمارے دیندار گھرانوں میں اور دین کے نمائندہ طبقہ تک میں بہت کمزورہوگیا، باہمی لین دین اور آپسی معاملات ،حقوق کی ادائیگی اورایک دوسرے کا خیال اتنا کم ہوگیاہے کہ بڑے بڑے مجاہدات کوبے اثربنادیتاہے اورہمارے ذکروتسبیح کو فریب کاجال ثابت کرتاہے، یہی وجہ تھی کہ بانیٔ جماعت دعوت وتبلیغ اور مولانامحمد یوسف کاندھلویؒ کے ملفوظات وتقریروں میں ادائیگی فرض ،حقوق العباد کی رعایت اورصفائی معاملات پربڑازوردیاگیاہے۔

حضرت مولانا محمدالیاس رحمۃ اللہ علیہ اپنے ایک ملفوظ میںفرماتے ہیں:

’’بھائیو! مومنین کی خدمت عبدیت کااصل مقام ہے، عبدیت کیاہے؟ جومومنین کے لیے ذلیل ہونے کی عزت کوحاصل کرلے، یہی ہماری تحریک کا اولین اصول ہے اوریہ ایک ایسااصول ہے کہ کوئی اجتہادی (یعنی علمائے کرام تقلیدی (عوام الناس) یامادی (جولوگ ہرکام کودولت یادنیا کے حصول کے لیے کرتے ہیں) اس کی تردید نہیںکرسکتا‘‘۔[مولانا محمد الیاسؒ اوراُن کی دعوت]