جانور کی قربانی کی اصل روح

ہمیں بھی یادرکھنا ذکر جب دربار میں آئے!
جولائی 28, 2018
حج اور عفووکرم کی دولت سے مالامال حجاج
اگست 27, 2018

جانور کی قربانی کی اصل روح

قربانی میں بظاہر تویہ معلوم ہوتاہے کہ مسلمان ایک جانورذبح کررہاہے ،لیکن حقیقت قربانی کچھ اورہی ہے جوبندئہ مومن کی تربیت کے لیے اپنے اندر بڑے رموزواسرا رکھتی ہے ،حضرت ابراہیم علیہ السلام کوخواب میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ذبح وقربان کردینے کاجوحکم ملاتھاوہ جسمانی قربانی سے بڑھ کررمزتھابڑی روحانی قربانی کا،انسان کودنیا میں سب سے زیادہ اپنی اولاد عزیزہوتی ہے حتی کہ اس کی زندگی کی ہرمحنت وکوشش اولادہی کے لیے ہوتی ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کااپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گرد ن پرچھری چلادینارمزتھااس کاکہ ان کی پوری زندگی ،تمام خواہشات سب احکام خداوندی کے لیے وقف ہیں ،چنانچہ پہلی قربانی تویہ دی کہ اپنے ہرے بھرے ،شاداب وسدابہار وطن شام کوچھوڑ کرمکہ کی ویران وسنسان جگہ جہاں دوردورتک پانی بھی نہ تھا،آبادہوئے ،اتناہی نہیں بلکہ اسی ویرانہ میں جہاں کوئی آبادی نہ تھی،اپنے شیرخواربچے اوربیوی کوچھوڑ کراپنے رب کے حکم کی تعمیل میں چلے گئے، لکھنا آسان، پڑھنا آسان، لیکن کوئی بھی انسان جس کے سینہ میں دھڑکتاہوادل ہے، کیااپنی بیوی اوربچے کواس طرح بے سہارا چھوڑ کر جاسکتا ہے ؟لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم کی بے تکلف تعمیل کی، عرصہ کے بعد لوٹتے ہیں، تودیکھتے ہیں کہ پانی کاچشمہ بھی جاری ہے ،انسانی آبادی بھی ہوگئی ہے ،اب پہلی قربا نی سے مشکل، بہت مشکل، اس بیٹے ہی کوقربان کردینے کاحکم ملتاہے جس کواس ویرانہ میں چھوڑ کرگئے تھے ۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ قربانی آنے والی نسلوں کے لیے نشانِ راہ ہے، لہٰذااس یادکوزندہ رکھنے کے لیے جانورکی قربانی فرض کردی گئی کہ ہر صاحب نصاب اس کوانجام دے او رجب قربانی کرے تووہ ذبح عظیم اس کے دل میں تازہ ہوجائے جوحضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنی پوری زندگی کواللہ کے نام پراس کی اطاعت وفرمانبردار ی میں گذارکرپیش کی کہ ہربندئہ مومن اس نمونہ کامل کوتازہ کرکے اللہ کے نام کوروشن کرنے کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردے، اگرجاہ و منصب اورشہرت وناموری کی طلب اس کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہوتواس کوچھوڑ دے،مال ودولت کاشوق اس راہ میں رکاوٹ بن رہا ہوجس سے اس زبردست قربانی پرداغ لگ رہاہوتو اس سے بھی ہاتھ جھاڑ لے۔

لیکن ا فسوس کی بات ہے کہ اگرآج ہم اس آئینہ میں اپنی تصویر دیکھنا چاہیں توہماری صورت بہت بگڑی نظرآتی ہے ،عوام توعوام، خواص کایہ حال کہ اپنی اَنا کے لیے ،اپنی شہرت وناموری کے لیے مال ودولت اورشان وشوکت کے لیے ملت کے بڑے سے بڑے مفادکواس ذبح عظیم پرقربان کردیتے ہیں ، براہیمی ہونے کادعویٰ توہے لیکن نظربراہیمی نہیں ہے، غلبہ ہوس رانی کاہے اوراقبال کی زبان میں کہناپڑتاہے    ؎

براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے

ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں

اس سیاق میں اگر ہم اپنی قربانی پرغورکریں تو معلوم ہوگاکہ جانور کی شکل میں مادی قربانی توہم سال میں ایک بارکرتے ہیں اورمعنوی وروحانی قربانی باربار کرتے رہتے ہیں ،بہت معمولی سے نفع اورفا ئدہ کے لیے دین وملت کوقربان کردیتے ہیں اوراس کاذرابھی خیال نہیں آتاکہ ایک بندئہ مومن کامقام کتنا بلند ہے، ایسی شہرت، ایسامنصب ،ایسی دولت سے جوبندئہ مومن کے مقام بلندکوگراتی اورپست کرتی ہو،مرجانابہترہے ،اقبال نے اسی پس منظر میں کہاہے     ؎

اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

عیدالاضحی میں جانوراس لیے نہیں قربان کیے جاتے کہ کھانے کھلانے کی چہل پہل ہوبلکہ یہ تویادگار ہے اللہ کے حکم سے اپنے دل کے ٹکڑے اسماعیلؑ کی گردن پرچھری چلادینے کی کہ جب دل کے ٹکڑے کومالک کے حکم کی تعمیل میں ذبح کیا جاسکتا ہے تودیگرچیزوں کوقربان کرناکیامشکل ہے؟!

اسی لیے قربانی کرنے والا جانور کی گردن پر چھری چلانے سے پہلے اپنے رب کے سامنے اقرار کرتاہے اورکہتاہے کہ میں نے پوری یکسوئی کے ساتھ رخ ٹھیک خداکی طرف کرلیا ہے، جس نے یہ آسمانوں اورزمینوں کو پیدا کیا،اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں،بلاشبہ میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اورموت سب رب العالمین کے لیے ہے، اس کاکوئی شریک نہیں، اسی کامجھے حکم دیاگیا ہے اورمیں مسلم اورفرماں بردارہوں، خدایا! یہ تیرے حضورپیش ہے اورتیراہی دیاہواہے۔

ابھی دنیاایسے مومنین کاملین اوردین کی خاطر سب کچھ قربان کردینے والوں سے خالی نہیں ہوئی ہے، وہ قوی الایمان لوگ موجود ہیں جودین کے مقابلہ میں بڑی سے بڑی پیش کش کوبزبان حال یہ کہہ کرٹھکرادیتے ہیں کہ   ؎

برو ایں دام بر مرغے دگر نہ

کہ عنقا را بلند است آشیانہ

(تم اپنا جال کسی اور پرندے پر ڈالو،عنقا کا گھونسلہ تو بڑی اونچائی پرہوتاہے ،وہاں تمہاری پہونچ کہاں ہوسکتی ہے)۔

ہماری پرواز تمہاری ان پیشکشوں اوربہلاؤں سے کہیں بلندہے ،یہ وہ لوگ ہیں جن کی ترجمانی اقبال نے کیاخوب کی ہے     ؎

دونوں کی ہے پرواز اسی ایک جہاں میں

شاہیں کا جہاں اور ہے، کرگس کا جہاں اور

مال ودولت، عزت وشہرت کے لالچی کرگس ہونے کاثبوت دیتے اورمومنین کاملین شاہینوں کی تصویرمجسم ہونے کاثبوت دیتے ہیں،یہ وہ خوش نصیب ہیں جن کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ: سارے فتنوں اور فساد و بگاڑاورمادیت کاغلبہ ہونے کے باوجودہماری امت میں ایسے لوگ موجود ہوں گے جوحق پرثابت قدم رہیں گے اور دنیا کا سارامال ومتاع ان کے سامنے ریت کے ڈھیر سے زیادہ حیثیت نہیں رکھے گا۔

شمس الحق ندوی