انسانیت کے کام آنے کی ضرورت

محرم الحرام سے نئی ہجری سال کا آغاز
ستمبر 13, 2018
تعلیمات محمدیﷺ پر مکمل عمل پیرا ہونے کی ضرورت
نومبر 17, 2018

انسانیت کے کام آنے کی ضرورت

’’میں شہادت دیتاہوں کہ انسان انسان بھائی ہیں‘‘،جس کے منہ سے یہ بول نکلے تھے، یہ اسی کی پیدائش کادن ہے، اس نے آکردنیاکویہ پیغام دیا تھا،بتایاتھاکہ نسل کی ،رنگ کی یا وطنی تقسیم کی بناپرکسی سے جنگ کرنایاکسی کوحقیروذلیل سمجھناحماقت ہے، یہ ساری چیزیں غیراختیاری ہیں، انسان کے کردارکا،اس کے شرف وعظمت کا،ان سے کیا سروکار اوراسی نے آکریہ منادی کی تھی کہ:’’ الخلق عیال اللّٰہ فأحب الخلق الی اللّٰہ من أحسن إلی عیالہ‘‘(مخلوق اللہ کاکنبہ ہے تومخلوق میں اللہ کی نظرمیں محبوب ترین وہی ہے جواس کے کنبہ کے ساتھ بہترین سلوک سے پیش آئے)۔

مہرومحبت کے اس پیامبرکو،شفقت والفت ،ہمدردی وانسانیت کے اس سچے پیام رساں کورسول بناکربھیجنے والے مالک و خالق نے اس کو ’’وَمَاأرْسَلْنٰکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ‘‘[انبیاء:۱۰۷]کے الفاظ سے مخاطب فرمایاہے،چنانچہ دنیانے دیکھاکہ اس نے مصائب ومشکلات کے ناقابل قیاس مرحلوں سے گزرکرپورے عالم کے لیے بارانِ رحمت بن کرانسانیت کی سوکھی ہوئی کھیتی کوگل وگلزاربنادیا۔

ذراتصورکیجیے کہ طائف کے لڑکے اس کے پیچھے لگادیئے گئے ہیں اورپتھروں کی بارش ہورہی ہے، جب وہ لہولہا ن ہوکر نڈھال ہوجاتاہے ، تاب برداشت نہ رکھتے ہوئے زمین پربیٹھ جاتاہے تویہی اوباش لڑکے اس کا بازو پکڑکرکھڑاکرکے پھرپتھروں کی بارش شروع کردیتے ہیں، مولانامناظراحسن گیلانیؒ کے الفاظ میں: گھٹنے چورہوگئے ،پنڈلیاں گھاؤہوگئیں، کپڑے لال ہوگئے، معصوم قدم خون سے لال ہوگئے،یہ وہ مرحلہ تھا جہاں وہ بے قرارہوکراس طرح فریاد کرتاہے:اللّٰھم إلیک أشکوضعف قوتی وقلۃ حیلتی وھوانی علی الناس الخ۔میرے اللہ! تیرے پاس اپنی بے زوری کاشکوہ کرتاہوں ،تیرے سامنے اپنے وسائل وذرائع کی کمی کاگلہ کرتاہوں، دیکھ!انسانوں میں میں ہلکاکیاگیا،لوگوں میں میری کیسی سبکی ہورہی ہے،اے سارے مہربانوں میں سب سے مہر بان مالک! میری سن میرا زور میرا رب توہی ہے، مجھے تو کن کے سپرد کرتا ہے، جوہم سے دورہوتے ہیں تومجھے ان سے نزدیک کرتاہے یا تونے مجھ کومیرے سارے معاملات کو دشمنوں کے قابومیں دے دیاہے؟پھربھی اگرمجھ پرتیراغصہ نہیں ہے تومجھے ان باتوں کی کیاپرواہ، مگرکچھ بھی ہو،میری سمائی تیری عافیت کی گود میں ہے، تیرے چہرے کی وہ جگمگاہٹ جس سے تاریکیاں روشنی بن جاتی ہیں، میں اسی نورکی پناہ میں آتاہوںکہ اسی سے دنیاوآخرت کا سدھار ہے، مجھ پرتیراغصہ بھڑکے اس سے پناہ مانگتاہوں، مجھ پر تیرا غضب ٹوٹے اس سے تیرے سایہ میں آتاہوں، مناناہے ،اس وقت تک مناناہے جب تک توراضی نہ ہو جائے،نہ قابوہے نہ زورہے، مگر علی وعظیم اللہ ہی ہے۔

اس بے کسی اوربے چارگی کی صدائے دل دوزسے ملأاعلیٰ میں جنبش ہوتی ہے، جبرئیل امین پکاررہے ہیں، سن لیا، اللہ نے سن لیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوجوکچھ کہا،اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس پہاڑوں کو نہیں بلکہ پہاڑوں کے فرشتوں کوبھیجاہے ،اس پہاڑکے فرشتہ نے سلام کیا،پھراجازت مانگی ،کیاان پر (طائف کے ان پتھرمارنے والوں پر)ان دونوں پہاڑوں کو(جس سے طائف گھراہواہے)الٹ دوں؟

اس دل دکھے اورکچلے ہوئے کاجواب سنئے:’’میں مایوس نہیں ہوں کہ ان کی پشت سے ایسی نسلیں نکلیں جواللہ ہی کی عبادت کریں اوراس کے ساتھ کسی کوشریک اورساجھی نہ بنائیں ‘‘۔

حفیظ ؔجالندھری کے الفاظ میں     ؎

الٰہی فضل کر کہسار طائف کے مکینوں پر

الٰہی پھول برسا پتھروں والی زمینوں پر

پھردنیانے دیکھاکہ جواس طرح کچلاگیاتھا،پامال ونڈھال کیاگیاتھا،وہ کس طرح بڑھاکہ وہی ستانے والے پھرسننے لگے اورجوسننے لگے سردھننے لگے اور اس کی محبت میں ایسے سرمست وسرشارہوئے کہ اب اس کے وضوکاپانی بھی زمین پرنہیں گرنے پاتا،گرنے سے پہلے وہ اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں اورچہروں پر ملتے ہیں ،اب اس کاہربول بانسری کی سریلی آوازسے بھی زیادہ دلکش وسروربخش معلوم ہوتاہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عم محترم سیدالشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کاکلیجہ چبانے والی اور ناک کان کاٹ کراس کاہارپہننے والی ہندہ بھی خدمت میں حاضرہوتی ہے اور آپ کی آوازپرلبیک کہتی ہے توکہتی ہے:اے اللہ کے رسول! آج سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ سے زیادہ کوئی خیمہ مجھے مبغوض اوردل کو جلانے والانہیں تھااورآج کے بعدآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ سے بڑھ کرکوئی خیمہ مجھے محبوب ،دل کو ٹھنڈک اورآنکھوں کو سرور بخشنے والا نہیں۔

ضعیفوں ،مسکینوں، یتیموں، بیماروں کے ساتھ حسن سلوک اورمدارات کی جوہدایتیں اس ہادی کی لائی ہوئی کتاب اورخوداس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ میں ملتی ہیں،وہ اس کثرت سے ہیں کہ جمع کی جائیں توخودایک کتاب بن جائیں ۔

بڑائی اورچھوٹائی اس عالم آب وگل کابنیادی قانون ہے، کوئی امیررہے گاکوئی غریب ،لیکن بڑے کوچھوٹے کے دبانے کااورامیر کوغریب کے پیسنے کا،حاکم کو محکوم کے ستانے کاکوئی حق نہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سودی لین دین کوناجائزاورپوری انسانی زندگی کے لیے ناسوربتایا۔مولاناعبدالماجددریابادیؒ کے الفاظ میں:’’آج سود درسودکے چکرمیں دنیاجن مصیبتوں میں گرفتارہوتی چلی جارہی ہے، وہ سب پرروشن ہے ،غریبوں کاخون چوسنااوراپنے اندر بجائے ہمدردی و شفقت کے سنگدلی اوربے دردی کے جذبات کوپرورش کرتے رہناسودخوار(سودی قرض لینے والے)غریب کی قسمت کانوشتہ ہے‘‘۔

دنیامیں جوبڑی بڑی خونریزلڑائیاں ہوتی رہتی ہیں، سوچ کردیکھئے کہ اگربڑے بڑے سودی قرضے نہ ملتے رہتے تویہ ہولناک اورانسانیت سوز جنگیں کبھی واقع بھی ہوسکتی تھیں۔

اس وقت پوراعالم انسانی جن خطرناک ا وروحشت ناک حالات سے گزررہاہے، وہ ہرشخص دیکھ اورمحسوس کررہاہے؛ لیکن راہ نجات نہیں دکھائی دیتی، دکھائی دے تو کیسے؟ ذراغورسے کام لیاجائے توصاف محسوس ہوگاکہ مادہ پرستی کے جوع البقرنے آج کی ترقی یافتہ دنیاکوپھروہیں پہنچا دیاہے جہاں وہ بعثت نبوی سے پہلے تھی، اب اگر وہ اس بلائے بے درماں سے نجات حاصل کرناچاہتی ہے تواس کوپھررحمت عالم کے دامن رحمت سے وابستہ ہوناپڑے گا،جس نے آگ میں کودنے والوں کو آگ سے بچانے کے لئے پتھرکھاکردعائیں دی ہیں، اس لئے کہ پیغمبرہی انسانی جہاز کے ناخداہیں، انسانوں کی کشتی ہرزمانہ میں انہیں کی ناخدائی سے ساحل تک پہنچی ہے ،مفکراسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ کے الفاظ ہیں:’’یہ صرف حضرت نوحؑ کے فرزندہی کی خصوصیت نہ تھی ،ہرزمانہ میں جس نے بھی دعویٰ کیاکہ:’’سَآوِیْ إلیٰ جَبَلٍ یَعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَائِ‘‘[ہود:۴۳](میں توپہاڑپرپناہ لے کرطوفان سے محفوظ رہ جاؤں گا)اس کویہی جواب ملا:’’لاَعَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ أ مْرِ اللّٰہِ‘‘(آج کوئی بچانے والانہیں)۔

محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعدافراداورقوموں ،اہل مشرق اوراہل مغرب ،اولین وآخرین سب کے لیے اللہ کافیصلہ یہ ہے کہ سعادت وفلاح انھیں کے دامن سے وابستہ ہے، ان سے علیحدہ ہوکرشقاوت وہلاکت اور محرومی و نامرادی کے سواکچھ نہیں‘‘۔

٭٭٭٭٭

شمس الحق ندوی