انسانی عقل وفکر کی درماندگی

مسلسل اشاعت کا ۵۷ واں سال
نومبر 19, 2019
آہ! مولوی محمد غفران ندوی مرحوم
دسمبر 15, 2019

انسانی عقل وفکر کی درماندگی

انسانوں کی اکثریت ہر چیز کو عقل کے پیمانے سے ناپنا چاہتی ہے اور واقعہ بھی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو عقل کی نعمت سے سرفراز فرماکر تمام مخلوقات میں اس کو وہ مرتبہ عطا کیا کہ ہر اگلے دن ترقی کی حیرت انگیز منزلیں طے کرتا جارہا ہے لیکن وہ عقل جو عام انسانوں کو عطاہوئی ہے، اس کا دائرہ محدود ہے اور خالق کائنات اور نظام کائنات لامحدود۔
لہٰذا یہ کیسے ممکن ہوسکتاہے کہ محدود لا محدود کو اپنے دائرہ عمل میں لے لے، اس لیے جو ذات لامحدود ہے اس کے ادراک وعرفان کے لیے علوم انبیاء کی ضرورت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے وحی والہام کے ذریعہ ان کو عطا کیا ہے کہ وہ ماورائے عقل وگمان باتوں کی تعلیم سے قافلہ ٔانسانی کو اس رخ پر لے چلیں جس پر چل کر وہ عقل کی خام خیالی سے اپنے کو بچاسکتاہے ،علوم انبیاء کی مثال اور عام عقل انسانی کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے ایک شخص سوناتولنے کی ترازو سے یہ امید لگائے کہ اس سے پہاڑ تول سکتاہے ۔
لیکن اس سے یہ بات تو ثابت نہیں ہوئی کہ کانٹا اپنی تو ل میں سچا نہیں ،اسی طرح عقل کے حدود ہیں ،جہاں اس کو ٹھہر نا پڑتا ہے وہ اپنے حدود سے آگے نہیں بڑھ سکتی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کو بھی اپنے دائرہ عقل میں داخل کرلے بلکہ بقول ابن خلدون: ’’بلکہ وہ اللہ کے پیدا کیے ہوئے بے شمار ذرات میں سے ایک حقیر ذرہ ہے ‘‘۔
لہٰذا شارع علیہ السلام کے بتائے ہوئے عقیدہ اور عمل پر قائم رہنا ہی ہو شمندی ہے کیوں کہ وہ انسانوں کی بھلائی کے حریص ہیں اور انسانوں کے لیے نفع بخش چیزوں کو زیادہ جانتے ہیں، انسان کو اپنی حقیقت ومرتبہ اور اشرف المخلوقات ہونے کے منصب کو پہچاننے کے لیے انہیں کی تعلیمات کو اپنا نا پڑے گا، ان کی تعلیمات کے سامنے عقل کی ترازو سے اور اس کے دائرہ کا ر سے نکلے بغیر وہ اپنے اصل مقام کو نہیں پہچان سکتا ہے ،جگر ؔمرحوم نے اسی پس منظر میں کہا تھا :
نہیں جاتی کہاں تک عقل انسانی نہیں جاتی
مگر اپنی حقیقت آپ پہچانی نہیں جاتی
اور اقبال مرحوم نے اس کو اس طرح اداکیا ہے :
اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
مگر جب دل ودماغ میں یہ بات رچ بس جائے کہ عزت ونیک نامی صرف جاہ ومنصب ہی سے حاصل ہوسکتی ہے او زندگی کا مزہ صرف زمانہ اور سوسائٹی کی موافقت میں ہے، یہ وہ مادی منطق اور طرزِ استدلال ہے جو انسانی تجربہ اور مشاہدہ پر مبنی ہے ،لہٰذا اس ذہنیت کے شکار اور ظاہری ترقی اور چمک دمک کے غلام یہ سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں کہ ان اسباب اورسائل کے سوا جو حصول جاہ اور اونچی سوسائٹی کے تصرف میں نظر آتی ہیں، ایک سبب اور ہے وہ ہے ارادۂ الہٰی ،جو مختلف اوقات میں ’’وَتُعِزُّ مَنْ تَشَائُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَائُ‘‘کی صورت میں اپنا جلوہ دکھاتارہتاہے، پھر بھی جو مسلمان موجود ہ ماحول وتہذیب کی ظاہری چمک دمک پر فداہورہے ہیں اور اس سے دور رہنے والے اور بچنے والے مسلمانوں کو کمترو ناعاقبت اندیش سمجھتے ہیں، ان کو سمجھانے اور دولت اسلام وایمان کی قدر وقیمت کو دودوچار کی طرح بتانے کے لیے قرآن کریم سے بڑھ کر اور کون سی یقینی اور قطعی بات بیان کی جاسکتی ہے جس پر روشن خیال مسلمانوں کا بھی ایمان ہے، اس حقیقت کو قرآن سے بڑھ کر کیسے سمجھاجاسکتا ہے،ایسے لوگوں کو دھوکا یہ ہوتاہے کہ آخر دوسری قومیں اسلام اور پیغمبر اسلام کی منکر ہوتے ہوئے کیوں ترقی کررہی ہیں ؟وجہ وہی ہے کہ وہ سونا تولنے کی ترازو سے پہاڑ تولنا چاہتے ہیں،وہ عقل کے اس دائرہ سے باہر نکل کر اس ارشاد قرآنی پر غور کریں تو یہ دھوکا اور فکر ی خام خیالی دور ہوجائے ،اللہ تعالیٰ فرماتاہے: ’’أیَحْسَبُوْنَ أنَّمَا نُمِدُّہُمْ بِہِ مِنْ مَالٍ وَّبَنِیْنَ، نُسَارِعُ لَہُمْ فِی الْخَیْرَاتِ بَلْ لَا یَشْعُرُوْنَ‘‘ [مؤمنون] یعنی کیا یہ لوگ گمان کررہے ہیں کہ ہم ان کو جو کچھ مال واولاد دیتے چلے جاتے ہیں ،تو ہم ان کو جلدی جلدی فائدے پہنچارہے ہیں نہیں بلکہ یہ لوگ سمجھتے نہیں ۔
یہ دھوکا عام وعالم گیر ہے، آج تک ہزاروں، لاکھوں مذہب اسی میں مبتلا ہیں ،تکوینی عیش وراحت کو اپنی حقانیت ومقبولیت کی دلیل سمجھ رہے ہیں، حالا نکہ نظام تکوینی میں قانون ربوبیت کے تحت سانپوں، بچھوئوں سبھی کی پرورش وکفالت ہوتی رہتی ہے ۔[تفسیر ماجدی]
ایک مسلمان کو جو معمولی سوجھ بوجھ بھی رکھتاہے، اس فریب عقل اور فکر کی خام خیالی سے قطعا ًدھوکہ نہ کھانا چاہیے جس کو آیت بالا میں بہت کھول کر بیان کردیا گیا ہے ۔
ماحول کے اثر سے ہماری نئی نسل نہایت شک وتذبذب کا شکار ہے، اور قوموں کی ظاہری ترقی اور بے راہ روی کی زندگی سے دھوکا کھاکر ایمان واسلام کی دولت بے بہا سے دور ہوتی جارہی ہے، ہمیں ترقی سے نہیں روکا گیا ہے بلکہ ترقی کے غلط طریقوں اوران کے غلط استعمال سے روکا گیا ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:’’ اخلاص اور نیک نیتی کے ساتھ اس دنیا کے کاموں کو خدا کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق انجام دینا دین ہے‘‘،جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ شریعت کے اصول کے مطابق دنیا داری ہی دین داری ہے ،جن لوگوں نے دین میں غلو کی وجہ سے یہ سمجھا کہ تنہائی میں بیٹھ رہنا، کسی غار اور پہاڑ کے کھوہ میں بیٹھ کر خدا کو یاد کرنا دین داری ہے ،اور آل و اولاد، دوست احباب، ماں باپ ،قوم وملک اور خود اپنی آپ مدد، روزی روٹی ،ضروریات زندگی کی فکر اور پرورش اولاد دنیاداری ہے، حالانکہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم یہ ہے کہ خدا کے حکم کے مطابق ان حقوق وفرائض کو بخوبی اداکرنا عین دینداری اور عبادت ہے ۔
لہٰذا یہ کہنا کہ دین دنیا کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ دنیا جھوٹ ودغابازی، رشوت وچوربازاری سے حاصل کی جائے ،دنیا حاصل کرنے کا یہ وہ طریقہ ہے جولوٹ مار،قتل وغارت گری کی راہ پر لے جاتا ہے، اور باہمی پیار ومحبت، صاف ستھرا معاشرہ اور سوسائٹی ، باہمی میل ملاپ سب اس کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں، جو اس وقت ہم کھلی آنکھوں دیکھ رہے ہیں،لہٰذا اس طرح کی ترقی کو ترقی سمجھنااور اس راہ پر چلنے اور بڑھنے والوں کو دیکھ کر دھوکا کھانے کے بجائے ایک بندئہ مؤمن کواوپر ذکر کی گئی آیت شریفہ کو باربار پڑھتے رہنا چاہیے اوراس حقیقت کو آئینہ کی طرح سامنے رکھے کہ اس طرح کی ترقی پانی کے بلبلے اور سمندر کے جھاگ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی ، اقبال مرحوم نے اسی پس منظر میں کہا تھا :
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مؤمن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق
٭٭٭٭٭
انسانوں کی اکثریت ہر چیز کو عقل کے پیمانے سے ناپنا چاہتی ہے اور واقعہ بھی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو عقل کی نعمت سے سرفراز فرماکر تمام مخلوقات میں اس کو وہ مرتبہ عطا کیا کہ ہر اگلے دن ترقی کی حیرت انگیز منزلیں طے کرتا جارہا ہے لیکن وہ عقل جو عام انسانوں کو عطاہوئی ہے، اس کا دائرہ محدود ہے اور خالق کائنات اور نظام کائنات لامحدود۔
لہٰذا یہ کیسے ممکن ہوسکتاہے کہ محدود لا محدود کو اپنے دائرہ عمل میں لے لے، اس لیے جو ذات لامحدود ہے اس کے ادراک وعرفان کے لیے علوم انبیاء کی ضرورت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے وحی والہام کے ذریعہ ان کو عطا کیا ہے کہ وہ ماورائے عقل وگمان باتوں کی تعلیم سے قافلہ ٔانسانی کو اس رخ پر لے چلیں جس پر چل کر وہ عقل کی خام خیالی سے اپنے کو بچاسکتاہے ،علوم انبیاء کی مثال اور عام عقل انسانی کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے ایک شخص سوناتولنے کی ترازو سے یہ امید لگائے کہ اس سے پہاڑ تول سکتاہے ۔
لیکن اس سے یہ بات تو ثابت نہیں ہوئی کہ کانٹا اپنی تو ل میں سچا نہیں ،اسی طرح عقل کے حدود ہیں ،جہاں اس کو ٹھہر نا پڑتا ہے وہ اپنے حدود سے آگے نہیں بڑھ سکتی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کو بھی اپنے دائرہ عقل میں داخل کرلے بلکہ بقول ابن خلدون: ’’بلکہ وہ اللہ کے پیدا کیے ہوئے بے شمار ذرات میں سے ایک حقیر ذرہ ہے ‘‘۔
لہٰذا شارع علیہ السلام کے بتائے ہوئے عقیدہ اور عمل پر قائم رہنا ہی ہو شمندی ہے کیوں کہ وہ انسانوں کی بھلائی کے حریص ہیں اور انسانوں کے لیے نفع بخش چیزوں کو زیادہ جانتے ہیں، انسان کو اپنی حقیقت ومرتبہ اور اشرف المخلوقات ہونے کے منصب کو پہچاننے کے لیے انہیں کی تعلیمات کو اپنا نا پڑے گا، ان کی تعلیمات کے سامنے عقل کی ترازو سے اور اس کے دائرہ کا ر سے نکلے بغیر وہ اپنے اصل مقام کو نہیں پہچان سکتا ہے ،جگر ؔمرحوم نے اسی پس منظر میں کہا تھا :
نہیں جاتی کہاں تک عقل انسانی نہیں جاتی
مگر اپنی حقیقت آپ پہچانی نہیں جاتی
اور اقبال مرحوم نے اس کو اس طرح اداکیا ہے :
اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
مگر جب دل ودماغ میں یہ بات رچ بس جائے کہ عزت ونیک نامی صرف جاہ ومنصب ہی سے حاصل ہوسکتی ہے او زندگی کا مزہ صرف زمانہ اور سوسائٹی کی موافقت میں ہے، یہ وہ مادی منطق اور طرزِ استدلال ہے جو انسانی تجربہ اور مشاہدہ پر مبنی ہے ،لہٰذا اس ذہنیت کے شکار اور ظاہری ترقی اور چمک دمک کے غلام یہ سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں کہ ان اسباب اورسائل کے سوا جو حصول جاہ اور اونچی سوسائٹی کے تصرف میں نظر آتی ہیں، ایک سبب اور ہے وہ ہے ارادۂ الہٰی ،جو مختلف اوقات میں ’’وَتُعِزُّ مَنْ تَشَائُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَائُ‘‘کی صورت میں اپنا جلوہ دکھاتارہتاہے، پھر بھی جو مسلمان موجود ہ ماحول وتہذیب کی ظاہری چمک دمک پر فداہورہے ہیں اور اس سے دور رہنے والے اور بچنے والے مسلمانوں کو کمترو ناعاقبت اندیش سمجھتے ہیں، ان کو سمجھانے اور دولت اسلام وایمان کی قدر وقیمت کو دودوچار کی طرح بتانے کے لیے قرآن کریم سے بڑھ کر اور کون سی یقینی اور قطعی بات بیان کی جاسکتی ہے جس پر روشن خیال مسلمانوں کا بھی ایمان ہے، اس حقیقت کو قرآن سے بڑھ کر کیسے سمجھاجاسکتا ہے،ایسے لوگوں کو دھوکا یہ ہوتاہے کہ آخر دوسری قومیں اسلام اور پیغمبر اسلام کی منکر ہوتے ہوئے کیوں ترقی کررہی ہیں ؟وجہ وہی ہے کہ وہ سونا تولنے کی ترازو سے پہاڑ تولنا چاہتے ہیں،وہ عقل کے اس دائرہ سے باہر نکل کر اس ارشاد قرآنی پر غور کریں تو یہ دھوکا اور فکر ی خام خیالی دور ہوجائے ،اللہ تعالیٰ فرماتاہے: ’’أیَحْسَبُوْنَ أنَّمَا نُمِدُّہُمْ بِہِ مِنْ مَالٍ وَّبَنِیْنَ، نُسَارِعُ لَہُمْ فِی الْخَیْرَاتِ بَلْ لَا یَشْعُرُوْنَ‘‘ [مؤمنون] یعنی کیا یہ لوگ گمان کررہے ہیں کہ ہم ان کو جو کچھ مال واولاد دیتے چلے جاتے ہیں ،تو ہم ان کو جلدی جلدی فائدے پہنچارہے ہیں نہیں بلکہ یہ لوگ سمجھتے نہیں ۔
یہ دھوکا عام وعالم گیر ہے، آج تک ہزاروں، لاکھوں مذہب اسی میں مبتلا ہیں ،تکوینی عیش وراحت کو اپنی حقانیت ومقبولیت کی دلیل سمجھ رہے ہیں، حالا نکہ نظام تکوینی میں قانون ربوبیت کے تحت سانپوں، بچھوئوں سبھی کی پرورش وکفالت ہوتی رہتی ہے ۔[تفسیر ماجدی]
ایک مسلمان کو جو معمولی سوجھ بوجھ بھی رکھتاہے، اس فریب عقل اور فکر کی خام خیالی سے قطعا ًدھوکہ نہ کھانا چاہیے جس کو آیت بالا میں بہت کھول کر بیان کردیا گیا ہے ۔
ماحول کے اثر سے ہماری نئی نسل نہایت شک وتذبذب کا شکار ہے، اور قوموں کی ظاہری ترقی اور بے راہ روی کی زندگی سے دھوکا کھاکر ایمان واسلام کی دولت بے بہا سے دور ہوتی جارہی ہے، ہمیں ترقی سے نہیں روکا گیا ہے بلکہ ترقی کے غلط طریقوں اوران کے غلط استعمال سے روکا گیا ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:’’ اخلاص اور نیک نیتی کے ساتھ اس دنیا کے کاموں کو خدا کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق انجام دینا دین ہے‘‘،جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ شریعت کے اصول کے مطابق دنیا داری ہی دین داری ہے ،جن لوگوں نے دین میں غلو کی وجہ سے یہ سمجھا کہ تنہائی میں بیٹھ رہنا، کسی غار اور پہاڑ کے کھوہ میں بیٹھ کر خدا کو یاد کرنا دین داری ہے ،اور آل و اولاد، دوست احباب، ماں باپ ،قوم وملک اور خود اپنی آپ مدد، روزی روٹی ،ضروریات زندگی کی فکر اور پرورش اولاد دنیاداری ہے، حالانکہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم یہ ہے کہ خدا کے حکم کے مطابق ان حقوق وفرائض کو بخوبی اداکرنا عین دینداری اور عبادت ہے ۔
لہٰذا یہ کہنا کہ دین دنیا کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ دنیا جھوٹ ودغابازی، رشوت وچوربازاری سے حاصل کی جائے ،دنیا حاصل کرنے کا یہ وہ طریقہ ہے جولوٹ مار،قتل وغارت گری کی راہ پر لے جاتا ہے، اور باہمی پیار ومحبت، صاف ستھرا معاشرہ اور سوسائٹی ، باہمی میل ملاپ سب اس کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں، جو اس وقت ہم کھلی آنکھوں دیکھ رہے ہیں،لہٰذا اس طرح کی ترقی کو ترقی سمجھنااور اس راہ پر چلنے اور بڑھنے والوں کو دیکھ کر دھوکا کھانے کے بجائے ایک بندئہ مؤمن کواوپر ذکر کی گئی آیت شریفہ کو باربار پڑھتے رہنا چاہیے اوراس حقیقت کو آئینہ کی طرح سامنے رکھے کہ اس طرح کی ترقی پانی کے بلبلے اور سمندر کے جھاگ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی ، اقبال مرحوم نے اسی پس منظر میں کہا تھا :
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مؤمن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق
٭٭٭٭٭